آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

22مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کا لاہور میں اجلاس ہماری تاریخ کا روشن مینار اور اہم ترین سنگ میل اس لئے ہے کہ اس اجلاس میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد مملکت کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز تھا۔ قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان کی منظوری سے قبل اس اجلاس میں قائد اعظم نے دو گھنٹوں پر محیط جامع خطاب کیا جو اُن کے سیاسی تجربے اور تاریخی مطالعے کا نچوڑ تھا۔ اپنی تقریر میں جہاں قائد اعظم نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ چھ ماہ مسلمانوں کی تاریخ اور قانون کے مطالعے میں صرف کئے ہیں وہاں یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے طور پر قرآن مجید کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ مطلب یہ تھا کہ ان کا مطالبہ پاکستان قرآن مجید، مسلمانوں کی تاریخ اور قانون کے مطالعے کا نچوڑ ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کی الگ شناخت، ہندو مذہب اور کلچر سے تضادات اور مسلم قومیت پر زور دیا۔ قائد اعظم کی تقریر پڑھتے ہوئے ان کا ایک فقرہ میرے دل کو چھو گیا اور مجھے یوں لگا جیسے اُن کے باطن سے نکلا ہوا یہ فقرہ اُن کے تصور پاکستان کا بنیادی ستون تھا۔ فقرہ کچھ یوں تھا ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے عوام اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اپنے آئیڈیلز کے مطابق بہترین انداز میں ترقی

دیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر زندگی گزاریں۔ ظاہر ہے کہ ایک ہندو اکثریتی ریاست اور ہندو غلبے میں اس مقصد کا حصول ممکن نہیں تھا۔ اپنے آئیڈیلز کے مطابق کا مطلب اسلامی اصول حیات ہیں جن پر قائد اعظم ہمیشہ زور دیتے رہے اور انسانی برابری، معاشی و معاشرتی عدل، مساوات اور قانون کی حکمرانی کا سبق قوم کے ذہن نشین کراتے رہے۔ اسی پس منظر میں قائد اعظم نے بار بار ایمان، نظم اور اتحاد پر زور دیا اور قوم میں یہ احساس بیدار کرنے کی کوشش کی کہ اتحاد اور نظم و ضبط (ڈسپلن) کے بغیر وہ اپنی منزل حاصل نہیں کر سکتے لیکن ڈسپلن اور اتحاد سے پہلے ایمان (Faith) کا مقام یا درجہ ہے کیونکہ ایمان ہی سے نظم و ضبط اور اتحاد کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ مختصر یہ کہ قائد اعظم کے نزدیک حصول پاکستان کا مقصد محض ایک ریاست کا قیام نہیں تھا بلکہ وہ ایسی ریاست کا خواب دیکھ رہے تھے جس میں مسلمان اپنی روحانی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو بلاروک ٹوک ترقی دے سکیں۔ گویا ریاست ایسا ماحول، حالات اور مواقع پیدا کرنے کی پابند تھی جس میں زندگی کے ان شعبوں کو خوب سے خوب تر ترقی دی جا سکے۔ ذرا غور کیجئے تو احساس ہو گا کہ قائد اعظم کا زور صرف مادی زندگی کی ترقی پر نہیں تھا انہوں نے سب سے پہلے لفظ روحانی استعمال کیا۔ ظاہر ہے کہ روحانی ترقی کا براہ راست تعلق انسانی باطن اور انسانی مذہب سے ہے اور روحانی بالیدگی اللہ سبحانہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر ہی چلنے سے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس راستے کے موٹے موٹے اصول رزق حلال، احترام انسانیت، حسن اخلاق، خدمت، ایمانداری، عدل و انصاف اور خوفِ الٰہی ہیں۔ گویا قائد اعظم کے بیان کردہ اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پاکستان میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر معاشرے کا قیام ناگزیر تھا۔ ذرا سوچئے کہ کیا ہم ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ اگر کامیاب نہیں ہوئے تو اس کی وجوہ کیا ہیں؟
23مارچ 1940ء کے تاریخ ساز اجلاس کے حوالے سے کچھ بنیادی حقائق کا اعادہ ضروری ہے کیونکہ ہماری نوجوان نسلوں کی اپنی تاریخ میں دلچسپی واجبی سی ہے۔ یہ اجلاس 22مارچ کو شروع ہوا اور وقفوں کے ساتھ 24مارچ تک جاری رہا۔ قراردادِ لاہور یا قراردادِ پاکستان 24مارچ کو منظور ہوئی لیکن مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے 22فروری 1941ء کو اپنی میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ اس قرارداد کے حوالے سے ہر سال 23مارچ کو یوم پاکستان منایا جائے گا۔ چنانچہ مسلم لیگ قیام پاکستان سے قبل ہر سال 23مارچ کو یوم پاکستان مناتی رہی۔ بعد میں سرکاری سطح پر منایا جانے لگا۔ پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے 2مارچ 1941ء کو ایک خصوصی پاکستان ڈے کانفرنس منعقد کی تھی جس میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نے کہا کہ حصول پاکستان مسلمانوں کے لئے زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ (بحوالہ خورشید یوسفی۔ قائد اعظم کی تقاریر۔ جلد دوم صفحہ 1339)۔ تحقیق کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے والے کچھ حضرات کا یہ دعویٰ بے بنیاد ہے کہ مسلم لیگ قرارداد منظور کرنے کے بعد اسے بھول گئی اور یوم پاکستان منانے کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد شروع ہوا۔ یہ پروپیگنڈہ کرنے والے گروہ کے سربراہ ایک ڈاکٹر ہیں جو تحریک پاکستان اور قائد اعظم کے بارے میں بنیادی حقائق سے بھی آگاہ نہیں اور جو صرف جناب ولی خان کی کتاب سے راہنمائی لیتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہو چکا کہ ولی خان نے تاریخی حقائق کو مسخ کیا ہے۔ اسی کتاب سے متاثر ہو کر گزشتہ سال انہوں نے ایک معاصر روزنامہ میں یکم اپریل کو خط لکھا تھا کہ وائسرائے لنلتھگو نے قرارداد لاہور سر ظفر اللہ خان سے لکھوائی اور قائد اعظم کو دے دی جنہوں نے 23مارچ 1940ء کے اجلاس میں مسلم لیگ سے منظور کروا دی۔ اس سے بڑا جھوٹ شاید ہی کبھی تاریخ کے نام پر بولا گیا ہو۔ قراردادِ پاکستان کا اصلی مسودہ کراچی یونیورسٹی کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور اس میں کوئی چودہ پندرہ ترمیمات اور اضافے کئے گئے تھے جنہیں پڑھا جا سکتا ہے۔ ایک اضافہ قائد اعظم نے خود کیا۔ پس منظر کے طور پر ذہن میں رہے کہ مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے 21مارچ 1940ء کو قرارداد ڈرافٹ کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دی تھی جو گھنٹوں قرارداد پر کام کرتی رہی۔ بنیادی ڈرافٹ پنجاب کے پریمیئر سر سکندر حیات نے تیار کیا تھا جس میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں اراکین کمیٹی نے کیں۔ سر سکندر حیات نے گیارہ مارچ 1941کو پنجاب قانون ساز اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے بتایا کہ قراردادِ پاکستان کا بنیادی ڈرافٹ انہوں نے تیار کیا تھا لیکن اس میں اتنی زیادہ تبدیلیاں کی گئیں کہ اس کی شکل ہی بدل گئی۔ اس حوالے سے سر ظفر اللہ خان کا اپنا بیان اہم ہے جو 21دسمبر 1981ء کو اخبارات میں چھپا۔ قراردادِ پاکستان کی منظوری کے 41برس بعد انٹرویو دیتے ہوئے سر ظفر اللہ نے وضاحت کی کہ اُن کا قراردادِ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی اُن کی تیار کردہ کوئی قرارداد قائد اعظم قبول کرتے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے وائسرائے کے حکم پر برطانوی حکومت کے لئے نوٹ لکھا تھا جس میں فیڈریشن کی تجویز دی تھی نہ کہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کی۔ ان بنیادی شواہد کے بعد اس پروپیگنڈے کو اپنی موت آپ مر جانا چاہئے کہ قرارداد پاکستان انگریزوں کی اسکیم تھی۔ مقصد قارئین کو بنیادی معلومات فراہم کرنا اور انہیں مخالفانہ پروپیگنڈے سے آگاہ کرنا تھا۔
میں جب تحریک پاکستان کا مطالعہ کرتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ قراردادِ پاکستان کا سب سے بڑا کارنامہ قومی اتحاد تھا۔ اس سے قبل مسلمانانِ ہند کے سامنے نہ کوئی واضح منزل تھی اور نہ ہی وہ متحد تھے بلکہ مسلمان انتشار اور گروہ بندی کا شکار تھے۔ قراردادِ پاکستان نے مسلمانوں کو اُن کے خوابوں کی تعبیر اور اُن کی منزل کی روشنی دکھائی اور قائد اعظم نے ایمان، نظم و ضبط اور اتحاد کا درس دیا تو قوم مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اور قائد اعظم کی قیادت میں متحد ہو گئی۔ چودہ اگست 1947ء کو قیام پاکستان اسی اتحاد کی کرامت تھی۔
موجودہ سیاسی منظر پر نظر ڈالتا ہوں تو دل شکنی ہوتی ہے۔ قومی اتحاد تو دور کی بات ہے قوم باطنی طور پر تقسیم اور انتشار کا شکار ہے اور قیادت نے نفرت کے ایسے بیج بوئے ہیں جو موجودہ تقسیم اور دھڑے بندی کو مزید تقویت دیں گے۔ نظریے اور نشانِ منزل قوم کو متحد کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری قیادت نہ کوئی آئیڈیالوجی دینے کی اہل ہے نہ ہی مستقبل کے حوالے سے ان کے ذہنوں میں کوئی نشانِ منزل یا واضح روڈ میپ ہے۔ جس پاکستان کا خواب قوم نے دیکھا تھا اس کی تعبیر کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں