میں نے کل ہی ایک کتاب میں یہ واقعہ پڑھااور پھراس کے راوی کی تصدیق کی تو احساس ہوا کہ راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔ محمود غزنوی اور اس کے خادم ایاز کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں اور علامہ اقبال نے تو اسلامی مساوات کا اصول واضح کرنے کے لئے ایک شعر بھی لکھا ہے جو زبان زدِ عام ہے کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگے محمودوایاز، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔ گویا مالک حقیقی کے دربار میں بندہ اور بندہ نواز یعنی مالک و غلام برابر ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ماشاء اللہ دانشوروں میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو ہمہ وقت محمود غزنوی کو لٹیرا ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ انہیں اس کی وہ خدمات نظر نہیں آتیں جو محمود غزنوی نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے سرانجام دیں اور مسلمانوں کی دشمن اور جان لیوا قوتوں کو پاش پاش کرکے مسلمانوں کے بقا کی ضمانت دی۔ محمود غزنوی کاخادم خاص ایاز تھا اور ایاز کے بیٹے کا نام محمد تھا۔محمد بھی محمود غزنوی کے خادموں میں شامل تھا۔ ایک روز محمود غزنوی نے ایاز کے بیٹے کو آواز دی ”اے ابن ایاز وضو کے لئے پانی لانا“ایاز پریشان ہوا اور بادشاہ سے پوچھا ”حضور! ابن غلام سے کیا غلطی ہوئی کہ حضور نے اسے اپنے نام سے بلانے کی بجائے ابن ایاز کہا۔“ محمود غزنوی نے جواب دیا ”میں وہ نام وضو کے بغیر زبان پر نہیں لاتا“ یہ محض ادب کی بات ہے اور ادب کا تقاضا ہے ورنہ عام لوگ ہر وقت اس طرح کے نام پکارتے رہتے ہیں۔ یہ ادب صرف انہی دلوں میں ہوتا ہے جو عشق رسول سے منور ہوتے ہیں اور ادب کے تقاضے سمجھتے ہیں کیونکہ ایک سطح پر ادب اور عشق میں فرق مٹ جاتا ہے۔ امام مالک وعظ میں مصروف تھے اور سیرت النبی کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ سامنے بیٹھے دیرینہ سامعین نے دیکھا کہ دوران گفتگو امام مالک کے چہرے کا رنگ کئی بار بدلا ہے اور کئی بار رنگ پیلا پڑا ہے۔ وعظ کے خاتمے پر انہوں نے پوچھا تو امام مالکنے جواب دیا کہ مجھے بچھو نے کئی بار کاٹا لیکن میں نے مارے ادب کے نہ گفتگو منقطع کی اور نہ ہی بچھو کو مارنے کی کوشش کی ۔ میں نے گزشتہ ایک کالم میں لکھا تھا کہ مدرسے کا استاد اپنے دس گیارہ سالہ شاگرد کو مار رہا تھا اورحکم دے رہا تھا کہ درودشریف سناؤ ۔ وہ شاگرد مار کھاتا جارہا تھا لیکن درود شریف نہیں سناتا تھا۔ استاد نے پوچھا ”کیا تمہیں درود شریف نہیں آتا؟“ جواب ملا ”آتا ہے لیکن میرا وضو نہیں“ یہ تھے امام ابوحنیفہ۔ حضرت شیخ علی ہجویری المعروف حضرت داتاگنج بخش نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”کشف المحجوب“ میں لکھا ہے ”حضرت عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ اپنے بچپن کے زمانے میں، میں نے ایک عابدہ عورت کو دیکھا۔ نماز کی حالت میں ایک بچھو نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ ڈنگ مارا لیکن اس نے ذرا جنبش نہ کی۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئی تو میں نے کہا : ”ماں ! آپ نے بچھو کو اپنے سے الگ کیوں نہ کیا؟“ اس نے کہا: ”بیٹا! تو بچہ ہے،خدا کے کام میں، میں اپنا کام کیسے شروع کردیتی“ (صفحہ 310) یہ ادب کی ایک انتہاتھی اور یہی وہ ادب تھا جس نے حضرت اسماعیل کو آداب ِ فرزندی سکھائے اور وہ باپ کے حکم پر ذبح ہونے کے لئے لیٹ گئے۔ ہماری نماز، حضوری اور ادب کا یہ حال ہے کہ نماز کے دوران دنیا کی ہر بات اور ہر کام کو یاد کرتے ہیں اور پھر اللہ سبحانہ تعالیٰ سے اس کا قرب بھی مانگتے ہیں۔ آج سے 34 برس قبل ایک ولی اللہ کی خدمت میں تقریباً باقاعدگی سے حاضر ہو اکرتا تھا۔ ان کا وصال ہوئے عرصہ گزرا۔ وہ نہ پیر تھے اور نہ ہی پیشہ ور صوفی۔ ان کے محدود عقیدت مندوں میں لاہور کے ایک صنعتکار بھی شامل تھے جو کبھی کبھار وہاں تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ ان کے آستانے سے ملحق مسجد میں نماز ادا کرتے۔ وہ نماز اداکرتے ہوئے اپنے پاؤں کے ساتھ ڈائری اور بال پوائنٹ رکھ لیتے تھے اور جب دوران نماز دوزانو بیٹھتے تو ڈائری پر چند لفظ لکھ دیتے۔ دراصل یہ ان کے ان کاموں کی فہرست ہوتی تھی جو انہیں دوران نماز یاد آتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ علم کی وجہ سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے اور دولت کی وجہ سے دشمنوں میں۔ وہ صنعتکار بھی دولت کے سبب بھائیوں کی ”دشمنیوں“ اور مقدمات میں پھنسے ہوئے تھے اور دعا کے لئے وہاں تشریف لایا کرتے تھے۔ میں نے زندگی میں بے شمار دولت مند دیکھے اور ان میں سے کسی کو بھی ”سکون“ میں نہ پایا۔ رہا علم تو علم سچا ہو تو احترام لاتا ہے اور جعلی ہو تو احترام کو بھگاتا ہے۔
میرے ایک بزرگ دوست اکثر یہ فقرہ دہرایا کرتے تھے ”با ادب با مقصود۔ بے ادب بے مقصود“ یہاں ادب سے مراد وہ سطحی یا جعلی احترام نہیں جس کا مظاہرہ ہم اپنے باس، افسران، دولت مندوں، بااثروں او ر حاکموں سے کرتے ہیں بلکہ یہاں ادب سے مراد وہ ادب ہے جس سے محمود غزنوی کا قلب روشن تھا اور وہ بغیر وضو ”محمد“ کا لفظ زبان پر نہ لاتا تھا۔ میں پرانی وضع کا نیم خواندہ انسان ہوں اس لئے مجھے غلام احمد بلور کے دل کے کسی گوشے میں اسی ادب کی چھوٹی سی موم بتی فروزاں نظر آتی ہے جس ادب کا میں ذکر کر رہا ہوں ورنہ وہ حکمرانوں کے ساتھی اور اے این پی کے وفاقی وزیر ہو کر اس بدترین گستاخ فلمساز کے قتل کے لئے ایک لاکھ ڈالر انعام کے اعلان کی جرأت نہ کرتے اور نہ ہی امریکہ سے دشمنی مول لیتے۔ وہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی ادب اور عشق رسول کا دعویٰ کرتے ہیں جو بلور صاحب کی مذمت کر رہے ہیں یا ان کے قلندرانہ اعلان سے علیحدگی کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ مجھے جناب غلام احمد بلور سے بہت سے اختلافات ہیں اورمیں ان کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتا رہا ہوں لیکن انہوں نے سچے ادب کا مظاہرہ کرکے میری دعائیں جیت لی ہیں۔ ادب اور عشق رسول اندرونی و بیرونی نتائج سے بے پرواہ ہوتا ہے اور جب مقصود اللہ کے حبیب کی خوشنودی ہو تو پھر دنیاوی دشمنوں کی کیاپرواہ… عشق تو نمرود کی آگ میں بھی بے خطر کود پڑتا ہے اور عقل والے آگ سے ڈراتے رہ جاتے ہیں۔
میں غزوہ ٴ احد کے احوال پڑھ رہا تھا اور شمع رسالت کے پروانوں کے ایثار و قربانی بلکہ عشق اور ادب کی داستانوں سے روح گرما رہا تھا تو خیال آیا کہ ایک ادب یہ بھی ہوتا ہے کہ جب حضورنبی کریم پر کفار ہر طرف سے حملہ آور ہوئے تو صحابہ کرام آپ کی ڈھال بن گئے اور چاروں طرف سے آپ کو گھیرے میں لے لیا۔ حضرت مصعب بن عمیر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے، ایک صحابیہ نے بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ صحابی حضرات بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے۔ جب آپ زخمی ہو کر خندق میں گر پڑے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے علم سنبھالا اور نہایت بے جگری سے داد شجاعت دی۔ ” مشرکین کے علمبردار ابو سعد بن ابی طلحہ نے للکارا… شیرخدا نے آگے بڑھ کر ایسا وار کیا کہ وہ زمین پر گرا اور بدحواسی کے عالم میں برہنہ ہو گیا۔ حضرت علی کو اس کی بے بسی پر رحم آیا اور اسے زندہ چھوڑ کر چلے گئے۔ جب مشرکین کا زور کم ہوا تو حضرت علی بمعہ دیگر صحابہ کرام حضور نبی کریم کو پہاڑ پر لے گئے۔ ڈھال میں پانی بھر بھر کر لائے جس سے حضرت فاطمہ نے آپ کے زخم دھوئے اور چٹائی جلا کر اس کی راکھ زخم پر رکھی کہ خون بند ہو جائے“ (نقوش:رسول نمبر صفحہ 251) یہ اس ادب اور عشق کا شاندار مظاہرہ تھا جس کے بغیر مسلمان سچا مسلمان نہیں ہوتا۔ بن ادب دنیا میں تو ترقی بھی مل جاتی ہے اور دولت و عہدہ بھی اور اس کے ساتھ وابستہ عزت و احترام بھی لیکن بن ادب اللہ کی بارگاہ میں نہ عہدہ ملتاہے اور نہ عزت و احترام۔ ظاہر ہے کہ رضائے الٰہی ہر کسی کا مقصود نہیں ہوتا اور دنیا کے بندوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا اس لئے میں جس ادب کی بات کر رہا ہوں وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ کشف المحجوب کے مطابق حضرت ابو یزید سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے جو کچھ پایا کیسے پایا؟ آپ نے جواب دیا کہ ”میں نے جو کچھ پایا اللہ عز ّوجل کے ساتھ ادب اور حسن صحبت سے پایا“(صفحہ 337) رہے نام اللہ کا…