آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بزنس کی دنیا میں ’’وہ‘‘ اور ’’ہم‘‘ کی تفریق

گرائمر کے تمام تر الجھائو، اور پیچیدگیاں، جو مجھے درحقیقت پریشان کرتی ہیں،میں سے کوئی بھی مجھے ’’وہ‘‘(صیغہ جمع غائب ) کے غلط استعمال سے سے زیادہ تکلیف دہ نہیں لگتی۔ آپ کسی سیلز پرسن سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے ، ’’سوری، اُنھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس برانڈ کو مزید نہیں چلائیں گے۔‘‘ آپ ایئرپورٹ ٹرمینل پر پہنچتے ہیں تو ایئرلائن کا ایجنٹ آپ کو بتاتا ہے ۔۔۔’’اُنھوں نے ابھی اعلان کیا ہے کہ فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ ہے ۔‘‘

یہ پراسرار اور بے نام ’’وہ‘‘ گروپ تمام مسائل کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے ۔ عام طور پر تمام بری خبریں اسی ’’چینل‘‘ سے آتی ہیں، جبکہ اچھی خبریں واحد متکلم کے صیغے سے بیان کی جاتی ہیں(کاش میرے گرائمر کے استاد یہ کالم پڑھ لیں۔ 

اُنہیں ہمیشہ شکایت رہتی تھی کہ میں اُن کی بات توجہ سے نہیں سنتا۔)اگر مطلوبہ چیز سٹاک میں موجود ہے تو سیلز پرسن فوراً کہے گا، ’’ہاں، میرے پاس یہ موجود ہے۔‘‘ جب فلائٹ وقت پر ہو تو اعلان سنائی دیتا ہے،’’ میں یہ اعلان کرنا چاہوں گا کہ فلائٹ نمبر ۳۲۱ اپنے ٹھیک وقت پر جارہی ہے ۔‘‘

مینجرز اور بزنس لیڈرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس رجحان پر نظر رکھیں۔ ایک کمپنی جس کا اسٹاف صیغہ جمع غائب کا زیادہ استعمال کرتا ہے ، وہ ضرور مسائل کا شکار ہوگی۔ اگر کمپنی کے ملازمین اجتماعیت کا احساس دلانے والا صیغہ جمع متکلم ’’ہم ‘‘ استعمال نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ کمپنی میں اونچے اور نچلے درجوں میں رابطے کا فقدان موجود ہے ۔ اس کمپنی کو عام طو ر مسائل کا سامنا ہوگا۔ اجتماعی ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے کسٹمر سروس متاثر ہورہی ہوگی۔

کسی کمپنی کے ملازمین اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتے ہیں۔ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں میں اُن کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔ جب کوئی کمپنی کاروبارکے سادہ اصولوں کی پیروی کرنے میں ناکام رہتی ہے تو معاملہ ’’ہم اور وہ ‘‘ کے بیچ اٹک جاتا ہے ۔ 

یہ صیغے مینجمنٹ اور فرنٹ لائن اسٹاف کے درمیان موجودفرق کو ظاہر کرتے ہیں۔ کسٹمرز کی شکایات پر فرنٹ لائن اسٹاف کی فون کالز سنیں تو اس قسم کے جملے سننے کو ملیں گے۔۔۔’’ وہ (مینجمنٹ ) احمق ہیں۔ وہ ہماری بات ہی نہیں سنتے ، اور نہ ہی رائے لیتے ہیں۔‘‘یا ’’اگر وہ ہماری رائے لیتے تو ہم اُنہیں بتاتے کہ یہ چیز مطلوبہ جگہ پر کام نہیں دے گی۔‘‘اس دوران آپ کو مینجرز اور ایگزیکٹو کی زبان سے بھی ایسے ہی جملے سننے کو ملیں گے۔۔۔’’ وہ (ملازم) یہ بات نہیں سمجھتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ آج کل یہ چیز کہاں استعمال ہوتی ہے اور اس کے صارفین کون ہیں؟‘‘

ایک غلطی دوسری غلطی کا جواز نہیں بنتی ہے ۔ دو متحارب جمع حاضر کبھی بھی’’ ہم‘‘ نہیں بن پاتے ہیں۔ اس مسلے کا حل بہت سادہ ہے ۔ اگر ملازمین محسوس کرتے ہیں کہ وہ کمپنی کے اندرونی حلقے میں شامل نہیںہیں اور وہ مسائل کی صورت میں لفظ ’’وہ ‘‘ استعمال کرتے ہیں تو اس پر کس کو قصوروار ٹھہرایا جائے ؟ 

ہوسکتا ہے کہ مینجرز اور ایگزیکٹوز اسٹاف کو اعتماد میں لینے اور اُنہیں کمپنی کے اندورنی معاملات میں شریک کرنے کے لیے کچھ نہ کررہے ہوں۔ مثال کے طور پر اپنے ملازمین سے پوچھیں کہ اُنہیں کسی نئی پراڈکٹ اور کمپنی کے بارے میں دیگر اہم خبروں کا کہاں سے پتہ چلا ہے۔ اگر اُن کا جواب ہے کہ اخبار سے ، یا کسی ہمسائے سے تو سمجھ جائیں کہ اُن کی طرف سے صیغہ جمع غائب استعمال کرنے کی کیا وجہ ہے ۔

’’ہم ‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی خلیج کو کم کرنے کے لیے کچھ روایات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے ملازمین کو کمپنی کے معاملات میں زیادہ عمل دخل دینے کی اجازت دینی ہوگی۔ میرا تجربہ ہے کہ درمیانی مینجمنٹ وہ جگہ ہے جہاں سے اس مسلے کا درست ادراک ہوسکتا ہے ۔ 

مرکزی مینجمنٹ میں کوئی ایک ضرور ہوتا ہے جس کے پاس نچلی صفوں سے شکایات اور اوپری صفوں سے احکامات آتے ہیں۔ وہ ’’آگاہی کی طاقت کی کمزوری ‘‘ کا شکار ہوسکتا ہے ۔ ایسے مسلے کی شناخت اور اس کا تدارک کرنے سے کام کی فعالیت درست ہوسکتی ہے ۔ یہ ایسا ہی جیسے خون کی شریانوں سے کسی رکاوٹ کا دور کردینا۔

ورجن اٹلانٹک میں اگر ہم مثال کے طور پر نیا کیبن بنارہے ہیں تو ہم اس کی مارکیٹنگ، ڈیزائن اور مینجمنٹ کے لیے سب سے نچلی سطح سے مشورہ لیں گے ۔ پراڈکٹ کی ترسیل کی ذمہ داری رکھنے والے نمائندے ، یا کیبن کے نمائندوں کو وہاں کام کرنا ہوتا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی یا ناکامی کی صورت میں اُن کے مشورہ پر ذمہ داری آئے گی۔ 

اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو چاہے کئی ملین ڈالر خرچ کرکے کوئی کبین بنائیں لیکن جب آپ سٹاف کو وہاں کام کرنے کی ذمہ داری سونپیں گے، تو شاید اُن میں سے کوئی کہہ اٹھے گا، ’’ٹھیک ہے لیکن کافی میکر کہاں ہے ؟‘‘تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کمپنی کے ہر ملازم کو مشاورت کے عمل میں شریک رکھیں۔ ایسا کرنا ناممکن ہے ،اور اس کا فائدے کی جگہ نقصان ہوجائے گا۔ تاہم کچھ کی مشاورت کے بعد بھی آپ یہ فقرے سنیں گے ، ’’ ہم نے اس منصوبے پر بہت غور کیا۔‘‘ اس میں سب کی جیت ہے ۔

’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کا مسلہ کاروباری دنیا میں ہر جگہ موجود ہوتا ہے ۔ چنانچہ بزنس لیڈرز کو چاہتے کہ وہ ہر مرحلے پر اس کا دھیان رکھیں۔ غیر جذباتی اور معروضی پیغام رسانی اس مسلے کو دوچند کردیتی ہے ۔ آج کے بزنس لیڈر کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے سٹا ف کو اپنے ساتھ، اور ایک دوسرے کے ساتھ انگیج رکھنا ہے ۔ 

اس کے لیے پرانے وقتوں کی با لمشافہ ملاقات سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔ معلومات کے بہائو کو بہتر بنانا اس چیلنج کا ایک پہلو ہے ۔ لیکن ملازمین کی بات کسی مشین کے بغیر سننا اہم ہے ۔ یاد رہے، ’’وہ‘‘ کے علاوہ ’’میں ‘‘ بھی اس مسلے کابہت بڑا حصہ ہے ۔ لیکن ’’ہم ‘‘ اس پر بعد میں بات کریں گے ۔

© 2018 رچرڈ برنسن (نیویارک ٹائمز سنڈیکٹ کا تقسیم کردہ) 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں