آپ آف لائن ہیں
بدھ 8؍ شعبان المعظم 1439ھ 25؍ اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
غزل: عارف شفیق

غزل: عارف شفیق

مجھ سے کنارہ کر گیا، اندر کا آدمی

تالاب میں تھا قید، سمندر کا آدمی

x
Advertisement

سائے کو اپنے قد سے بڑا دیکھ کے ہوں خوش

میں ڈھونڈتا تھا، اپنے برابر کا آدمی

ہے ٹوٹ کے بکھرنا ہی، اُس کے نصیب میں

شیشے کا آدمی ہو کہ پتھر کا آدمی

حق مار کے ہمارا، سکندر بنا تھا وہ

خود کو جو کہہ رہا تھا، مقدر کا آدمی

کیسے بھلا بچے گا وہ، اندر کے تیر سے

ہر وار روک سکتا ہے، خنجر کا آدمی

کٹھ پتلیوں کا کھیل ہے، یہ دھوپ چھائوں کا

ہر آدمی ہے، اپنے مقدر کا آدمی

اُڑتا ہے آگ، پانی کی تاثیر، اوڑھ کر

اپنی ہوا میں، خاک کے پیکر کاآدمی

انجام زندگی کا، ہمیشہ سے موت ہے

آغاز سے اسیر ہے، اس کا ڈر کا آدمی

عارف شفیق، کھوکھلی بنیاد، جس نے کی

سب جانتے ہیں وہ تھا، اُسی گھر کا آدمی

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں