• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

فنون لطیفہ کے اُفق پر چمکتا ستارہ ’’سلیمہ ہاشمی‘‘

’’سلیمہ ہاشمی‘‘

سلیمہ ہاشمی فنون لطیفہ کا ایک واضح اور جگمگاتا نام ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ’’شبنم کا قطرہ اگرخاک میں گرے توگارا بن جاتا ہے جس سے لوگ اپنا دامن بچاتے ہیںاوریہی قطرۂ شبنم اگر سیپ میں گرے تو موتی بن جاتا ہے جس سے لوگ اپنے وجود کو سجاتے ہیں۔ یہی حال برش کا ہے، کہ اگر یہ کسی رنگ سازکے ہاتھ میں آجائے تو وہ رنگوں کوجا بجا بکھیر کران کی ’’توہین‘‘ کرتا ہے اور یہی برش اگر مصور کے ہاتھ میں آجائے تو وہ رنگوں میں اپنے جذبات کی ’’تضمین‘‘کرتا ہے،،سلیمہ ہاشمی بھی ایک ایسا ہی ساز ہیں جو نہ صرف ایک بہترین مصور ہبلکہ فن مصوری کے طالب علموں کے لئے ایک ’’قیمتی خزانے‘‘ کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔اور کیوں نہ ہو آخر وہ درجنوں نادر و نایاب شعری مجموعوں اور تصنیفات کے مصنف فیض احمد فیض کی صاحبزادی جو ٹھہری۔ بے شمار صلاحیتوں کی ملکہ سلیمہ ہاشمی کی زندگی کا مختصر مطالعہ تحریر کا موضوع منتخب کیا گیاتاکہ اپنے تئیں معروف مصورہ کو خراج تحسین پیش کیا جاسکے ۔

پروفیسر سلیمہ ہاشمی مقبول شاعر فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہیں وہ 1942 میں ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئیں۔ والدہ کانام ایلس تھا جو کہ برطانوی نژادخاتون تھیں۔ابتدائی زندگی کا کچھ عرصہ شملہ اور کچھ عرصہ دہلی میں گزرا۔قیام پاکستان کے بعدفیض صاحب لاہور منتقل ہوئے اور سلیمہ ہاشمی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز لاہور سے کیا ۔چونکہ شروع سے ہی آرٹ سے خاصا لگاؤ تھا اس لئے 1962میں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فن مصوری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔اور اسی مضمون میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے انگلینڈ چلی گئیں۔ دوران تعلیم پینٹنگ اور فوٹوگرافی سلیمہ ہاشمی کے پسندیدہ مضامین تھے 1965میں باتھ اکیڈمی آف آرٹ(کورشم) سے آرٹ ایجوکیشن میںڈپلومہ حاصل کیا۔

رہوڈے آئی لینڈاسکول آف ڈیزائن امریکا سے تعلیم بھی حاصل کی ۔وطن واپس لوٹیں تعنیشنل کالج آف آرٹس کے کھلے دروازوں کی جانب قدم بڑھائے اور درس وتدریس کے ایک طویل سفر کا آغاز کیا ۔نیشنل کالج آف آرٹس میں انھوں نے تقریبا 31برس درس وتدریس کے فرائض انجام دیے چار برس پرنسپل کے عہدے پر بھی رہیں۔ ۔ان کی بنائی گئی مصوری کو ملکی سطح کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سطح پر بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی انھوں نے دنیا بھر کے ممالک کا سفر کیا اور انگلینڈ ،یورپ،امریکا ،آسٹریلیا ،جاپان اور بھارت میں ان کی بنائی ہوئی پینٹنگ کے لئے نمائش کا انعقاد کیا گیا ۔وہ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کیوریٹر اور کنٹیمپریری آرٹ کی تاریخ نویس بھی ہیں۔

پاکستانی خواتین پینٹرز کو بین الاقوامی طور پر متعارف کروانے کا سہرا بھی سلیمہ ہاشمی کو ہی جاتا ہےانھوں نے بیرون ملک پاکستانی مصوروں کا مختلف طریقوں سے پیش کیا جس کے باعث بیرون ملک میں پاکستانی خواتین سے متعلق لوگوں کے منفی خیالات بدلنے میں مدد ملی۔جس کے بعد پاکستانی مصوروں کا کام دنیا بھر میں نمائش کےلیے پیش کیا گیا ۔

سلیمہ ہاشمی مصورہ ہونے کے ساتھ چار مستند کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔مصورہ ہونے کے ناتے انھوں نے بیشمار تبصرے اور تنقیدی مضامین بھی لکھے جوفن مصوری کے طالب علموں کے لئے ایک ’’قیمتی خزانے‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی خواتین مصوروں کی حیات اور فن کے بارے میں کتابیں لکھیں۔بھارت اور پاکستان کے ایام آزادی میں صرف ایک دن کا فرق ہے ایک ہی وقت شروع ہونے والے اس سفر میں پاکستان کی مصورات کئی مراحل سے گزری ہیں۔

اس مشکل سفر کو معروف مصورہ سلیمہ ہاشمی نے اپنی کتاب Unvailing the Visible کا موضوع بنایا ۔پاکستان کی خاتون مصوروں کی زندگی اور کام پر کتاب لکھنے کی وجوہات سے متعلق سلیمہ ہاشمی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ’’ ضیاالحق کے زمانے میں جب پاکستان میں انسانی حقوق پامال کئے جارہے تھے اور خاص طور پر عورتیں اسکا نشانہ بن رہی تھیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ میں دیکھ رہی تھی کہ عورتوں کا فن اس کے باوجود پختہ ہوتا جارہا تھا۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خواتین خراب ترین حالات میں بھی اچھا کام کررہی ہیں؟ لہٰذامیں نے سوچا کہ یہ ایک کہانی ہے اور یقینًا کہی جانی چاہیے۔

سلیمہ ہاشمی نےپاکستان ٹیلی ویژن کے مزاحیہ پروگرام ٹال مٹول اور سچ گپ میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شعیب ہاشمی کے ہمراہ اسٹیج ڈراموں میں کام کیا اور1965 میں شعیب ہاشمی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔ان کا ایک بیٹا یاسرحسنین اور ایک ہی بیٹی صدف ہاشمی ہے۔ 

سلیمہ ہاشمی کے گھر میں مہمان بننے والے افراد ان کی شخصیت کی طرح ان کے گھر سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے کیونکہ آرٹسٹ کی سوچ نہ صرف اس کی شخصیت اور اسٹائل میں نظر آتی ہے بلکہ اس کا پرتو گھر کی سجاوٹ اور رہن سہن سے بھی اجاگر ہوتا ہے۔اور سلیمہ ہاشمی کا گھر ان کی شخصیت کی طرح آرٹسٹک ہے۔قدیم طرز تعمیر،قدیم اور علاقائی ستکاریاںاور فرنیچر ان کے گھر کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہیں۔

14 اگست 1998ء کو حکومت پاکستان نے ان کی قلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ۔آرٹ اینڈ ایجوکیشن کے لئے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا ۔2012میں’’وویمن آف انسپریشن ایوارڈ ،،کے لئے بھی منتخب کی گئیں 2013میں ایک مختصر دورانیے کے لیے پنجاب کی نگراں کابینہ میں بھی شامل رہیں جبکہ 2016یں پروفیسر سلیمہ ہاشمی کو برطانیہ کی باتھ اسپا یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔

خواتین کا جنگ سے مزید
شخصیت سے مزید