• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

انتخابات 2018: سندھ میں سیاسی جماعتوں نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلیں

انتخابات 2018: سندھ میں سیاسی جماعتوں نے امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلیں

سندھ میں انتخابی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں قومی سطح کے لیڈر سندھ خصوصاً کراچی کے دورے کررہے ہیں کارکنوں سے رابطے تیز تر کردیئے گئے ہیں کراچی کی قومی اسمبلی کی 21 نشستوں پر تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں گڑی ہوئی ہیں سندھ سے باہر اثرورسوخ رکھنی والی جماعتوں کے رہنماؤں کے دورے پر پی پی پی سیخ پا ہے انہیں اپنے خلاف سندھ میں پی این اے طرز کاانتخابی اتحاد بنتا نظرآرہاہے سیاسی جماعتوں نے 2018 کے ممکنہ انتخابات کے لیے امیدواروں سے درخواستیں طلب کررکھی ہیںامیدواروں کے ناموں کو مئی میں حتمی شکل دے دی جائے گی جبکہ اے این پی نے سندھ میں امیدواروں کے ناموں کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے اور کئی حلقوں میں امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیئے ہیں گزشتہ ہفتے مسلم لیگ(ن) کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے آٹھ دنوں میں کراچی کا دوسرا دورہ کیا وہ مئی میں سندھ کے دیگر شہروں کا بھی دورہ کریں گے قبل ازیں انہوں نے مسلم لیگ(ن) سندھ کی تنظم نوکرتے ہوئے شاہ محمدشاہ کوپارٹی کا صوبائی صدر اور سینیٹرسلیم ضیاء کو جنرل سیکریٹری نامزد کردیا تنظم نو کےفیصلے سے مسلم لیگ کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی، کہاجارہا ہے کہ سندھ میں پارٹی کی تنظم نو سے مسلم لیگ(ن) مضبوط ہوگی شہبازشریف نے اپنے دورہ کراچی کے دوران اے این پی کے صوبائی صدرشاہی سید کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے میں بھی شرکت کی جبکہ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ بہادرآباد گروپ کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اس ملاقات میں شہبازشریف نے انتخابات میں ٹاؤن کے لیے ایم کیو ایم بہادرآباد اور اے این پی سے مذاکرات کئے ۔شہبازشریف نے کراچی میں اپنے حلیفوں کی نشاندہی کردی انہوں نے اتحادیوں کے ساتھ اس دورے کے دوران روابط کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر انہیں موقع ملا تووہ کراچی کونیویارک بنادیں گے انہوں نے پی پی پی کے گڑھ لیاری میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلاول ہاؤس اور بنی گالا ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہے۔ شہبازشریف جہاں جہاں بھی گئے انہیں کراچی کی تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کی جانب سے طویل لوڈشیڈنگ پر سوالات کا سامنا کرنا پڑا کراچی کی سیاست کا محور اس وقت طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ ہے اے این پی کے صوبائی صدرشاہی سید کی جانب سے دیئے گئے ظہرانے کے موقع پر شہبازشریف نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دینے سے گریز کیا شہبازشریف کی جانب سے آٹھ دنوں میں کراچی کے دو دورے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وہ کراچی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ورکنگ ریلیشن بنانا چاہتے ہیں ان کے دورے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کے ساتھ مل کر کراچی میں الیکشن لڑنا چاہتے ہیں یہ بھی کہاجارہا ہے کہ سندھ میں موجود پہلے سے سیاسی جماعتوں کے اتحاد گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) میں مسلم لیگ (ن) کی شمولیت پر جے ڈی اے کے کئی رہنماؤںکواعتراض ہے جی ڈی اے تحریک انصاف کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹ کرے گی جس کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کی جی ڈی اے میں شمولیت پراعتراض کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف نے اپنے دورے کے دوران فنکشنل لیگ کے رہنماؤں سے ملاقات نہیں کی یہی نہیں انہوں نے اپنے دورے کے دوران کراچی میں تیزی سے ابھرتی سیاسی قوت پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے بھی ملاقات نہیں کی۔ کہاجارہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سے یہ طے کیا گیا تھا کہ شہبازشریف اگر ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں تو پھر وہ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سے ملاقات نہیں کریں گے دوسری جانب کراچی میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیارکرتاجارہا ہے جماعت اسلامی، پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (پی آئی بی)نے احتجاجی ریلیاں منعقد کیں، جماعت اسلامی احتجاجاً وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینا چاہتی تھی تاہم وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی سے مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا گیا ہے ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کااجلاس کراچی میں منعقد ہو ا اس اجلاس میں لوڈشیڈنگ کے بحران پر قابوپانے کے لیے حکمت علمی ترتیب دے دی گئی ہے ۔ ادھر مہاجرقومی موومنٹ نے بھی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے ایک طویل عرصے بعد مہاجرقومی موومنٹ نے متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز لیاقت آباد میں فلائی اوورپر 29 اپریل کو جلسہ عام کا اعلان کیا اس جلسہ عام سے مہاجرقومی موومنٹ کی سیاسی قوت کا صحیح اندازہ ہوگا دوسری جانب ایم ایم اے نے بھی انتخابی سرگرمیاں تیز کردی ہیں راشدسومرو کو ایم ایم اے کا صدر بنائے جانے پر بعض حلقوں نے ان کی کم عمری کی وجہ سے تحفظات کا اظہار کیا تھا تاہم انہوں نے ابتدائی چند روز میں ان تحفظات کو غلط ثابت کردیا ہے راشد سومرو انتخابات میں پی پی پی کو ٹف ٹائم دینے کے لیے جی ڈی اے سمیت سندھ کے بااثر شخصیات ، علماء کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں راشد سومرو سندھ کی قوم پرست جماعتوں سے بھی رابطہ کررہے ہیں تاکہ عام انتخابات میں پی پی پی کے خلاف بڑا اتحاد تشکیل دیاجاسکے۔ کہاجارہا ہے کہ راشدسومرو کو ایم ایم اے کا صدر اس لیے بنایاگیا ہے کہ انہوں نے ناصرف بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی کو بڑی کامیابی دلائی تھی بلکہ ان کے سندھ میں سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی استوار ہیں ۔

تازہ ترین
تازہ ترین