آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ جو بڑے بڑے سیاسی خاندان ہیں کہ جنہیں آپ جاگیردار اور وڈیرہ بھی کہہ سکتے ہیں، کئی نسلوں سے اپنے اپنے علاقوں سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ میں نے پنجاب کے ایک سیاستدان کا بیان پڑھا تھا جس میں انہوں نے پاکستان کے قیام سے پہلے کی بھی بات کی تھی کہ تب سے ان کے خاندان کے افراد اپنے حلقے کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، جیسے وہ کسی جائیداد پر اپنے مالکانہ حقوق کا ثبوت پیش کر رہے ہوں اور ظاہر ہے کہ یہ اعلان انہوں نے فاتحانہ انداز میں فخر کے ساتھ کیا تھا لیکن سچّی بات یہ ہے کہ انہیں یہ اقرار کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ایک ترقی کرتے ہوئے جمہوری معاشرے میں کسی ایک خاندان یا طبقے کا مسلسل غلبہ شاید ممکن ہی نہیں۔ جمہوریت کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور ان سب کو آگے بڑھنے اور خود کو منوانے کے یکساں مواقع میسّر ہیں۔ کوئی بھی اشرافیہ محض اپنے موروثی اختیارات کے حصار میں رہ کر اپنی حیثیت قائم نہیں رکھ سکتی۔ یہ دراصل سماجی تبدیلی کا مسئلہ ہے، اس کی بنیاد یہ ہے کہ ترقی کے زینے کا دروازہ کھلا رہے اور میرٹ اور کارکردگی کے جنگلے کو پکڑ کر اوپر چڑھنے والوں کا کوئی راستہ اس لئے نہ روک سکے کہ ان کے خاندان کی حیثیت تو زمین پر رکھی ہے۔ یہاں ایک کہانی یاد آ گئی اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سچّی ہے۔ 2013کے انتخابات کے بعد جب مسلم

لیگ ن کے ایک اجلاس میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی نامزدگی کی بات ہوئی تو ایک نام عبدالمالک کا تھا کہ جو ایک عام سیاسی کارکن رہے ہیں۔ ان کے مدّمقابل نے اعتراض کیا کہ میں فلاں کا بیٹا ہوں، ان سے پوچھیں کہ ان کا باپ کون تھا؟ عبدالمالک ایک خاص وقت کیلئے وزیراعلیٰ بن گئے اور یہ ضرور ایک تاریخی واقعہ تھا اور بلوچستان کی حد تک تو بالکل اچھوتا۔ افسوس کہ یہ رویّے یا رواج میں کسی بنیادی تبدیلی کی علامت نہ تھا۔ بلوچستان کی سیاسی بساط پر جو کھیل حال میں ہی کھیلا گیا وہ کسی بھی راستے پر آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے جانے کا اشارہ ہے۔
آپ کہیں گے کہ یہ باتیں کرنے کا اس وقت کیا موقع…؟میں تو صحافتی ضابطوں کے مطابق گزرے ہوئے ہفتے کی کسی خبر یا ذاتی تجربے کی کھونٹی پر اپنا کالم لٹکاتا ہوں۔ تو جی ہاں، جو کچھ میں کہنا چاہ رہا ہوں اس کا جائز عذر یہ ہے کہ پیر کے دن برطانیہ کی وزیراعظم نے ساجد جاوید کو اپنا وزیر داخلہ بنانے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے کی خاتون وزیر داخلہ نے کیوں استعفیٰ دیا، وہ ایک الگ بات ہے۔ ساجد جاوید کے والد پاکستانی تھے اور انہوں نے برطانیہ میں مستقل سکونت حاصل کر لی تھی۔ یہاں میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک بس ڈرائیور تھے اور ان کے بیٹے نے اب برطانوی کابینہ کا اتنا بڑا عہدہ حاصل کیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ صادق خان کہ جو لندن کے منتخب میئر ہیں اور یوں شاید برطانوی وزیراعظم کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت ہیں، ان کے والد بھی پاکستان سے برطانیہ گئے تھے اور لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ کتنا عجیب اتفاق ہے لیکن برطانیہ میں یہ کوئی اچھوتی بات نہیں ہے کہ کوئی بڑا آدمی نچلے طبقے یا غریب خاندان میں پیدا ہوا ہو۔ یہ حقیقت سوانحی خاکے میں نمایاں ہو سکتی ہے۔ کوئی چھپانے والی بات نہیں ہوتی اور نہ یہ ہوتا ہے کہ جب صادق خان یا ساجد جاوید کسی محفل میں ہوں تو لوگ ایک دوسرے کو کہنی مار کر کھسرپھسر کریں کہ دیکھو، بس ڈرائیور کا بیٹا۔ صادق خان کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ ساجد جاوید کے پاکستان سے رشتے کا حوالہ بھی دیا جا چکا ہے البتہ ان کے سیاسی خیالات سے کم از کم مجھے تو بہت اختلاف ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ ایک ترقی یافتہ جمہوری معاشرے میں سماجی انصاف کی نوعیت کیا ہوتی ہے اور جسے ہم سیکولرازم کہتے ہیں، اس کی عملی شکل کیا ہے؟ ہاں، مغربی معاشروں میں اب مذہب اور نسل کی بنیاد پر تعصّب کی سیاست بھی کی جا رہی ہے لیکن جو بنیادی سچّائیاں ہیں ان معاشروں کی ان کا پرچم، مثال کے طور پر برطانیہ میں صادق خان، ساجد جاوید اور سعیدہ وارثی جیسی شخصیات کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر آپ کا جی چاہے تو یہ طنز بھی کردیں کہ برطانیہ کا طبقاتی نظام ہمیشہ سے مستحکم رہا ہے۔ ہاں ’’کلاس‘‘ کا ایک خاص مقام ہے کہ جس کا امریکہ میں تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب کچھ ہے اور صادق خان لندن کے میئر ہیں اور ان پر لندن کے شہریوں نے کس امیدوار کے مقابلے میں اتنا اعتبار کیا؟ وہ آپ جانتے ہیں اور اب ساجد جاوید برطانیہ کے وزیر داخلہ ہیں۔
یہاں آپ کیلئے ایک سوال ہے۔ یہ بتایئے کہ اگر صادق خان اور ساجد جاوید کے والدین اتنے برسوں پہلے ترک وطن کا فیصلہ نہ کرتے اور یہیں رہتے اور صادق خان اور ساجد جاوید کی پرورش بھی یہیں ہوتی تو یہ دونوں کہاں ہوتے اور کیا کر رہے ہوتے؟ ذرا ذہن پر زور ڈالیے۔ اپنے آس پاس کی دنیا دیکھئے۔ کسی افسانہ نویس کیلئے یہ ایک اچھا پلاٹ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس موضوع پر کئی ناول اور عمرانیات کے شعبے میں تحریریں موجود ہیں۔ بے شمار کہانیاں ہیں کہ ہجرت کے سفر میں خاندانوں اور افراد پرکیا گزری؟ ہجرت کا یہ پہلو قابل غور ہے کہ لوگ یا تو اپنی جان بچانے کی فکر میں پناہ کی تلاش میں نکلتے ہیں یا انہیں بہتر زندگی کے خواب اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سن 60کی دہائی میں برطانیہ میں روزگار کی کشش نے اپنا کام دکھایا۔ بہرحال جو مشق میں نے آپ کیلئے تجویز کی ہے اس کی طرف آتے ہیں۔ یہ فرض کیجئے کہ ساجد جاوید، صادق خان اور سعیدہ وارثی کے والدین برطانیہ نہیں گئے۔ یہ تینوں جتنی عمر کے اب برطانیہ میں ہیں اتنی ہی عمر اور اسی خاندانی پس منظر کے ساتھ وہ آج پاکستان میں کہاں ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ معاشرے میں ان کی عزت اور ان کا مقام کیا ہے؟ بات دولت کمانے کی نہیں ہو رہی۔ پاکستان میں ہر طرح کے لوگوں کیلئے دولت کمانے کے کئی نسخے موجود ہیں۔ توممکن ہے کہ یہ تینوں کراچی یا لاہور کے ڈیفنس میں رہتے ہوں لیکن قومی سطح پر، خاص طورپر سیاست میں، وہ کس مقام پر کھڑے ہیں؟ ایک اور بات ذہن میں آئی… دولت تو امیر ملکوں ہی میں زیادہ کمائی جا سکتی ہے لیکن حکمرانی اور اقتدار کی اعلیٰ منزلوں تک رسائی تو بہ ظاہر صرف اپنے ہی ملک میں ممکن ہے۔ سعیدہ وارثی کا گھرانہ تو ایسا تھا کہ وہ یہاں ہوتیں تو کسی کالج کی پرنسپل تو ضرور ہوتیں لیکن کیا وہ اپنے ہی ملک کی مرکزی کابینہ کی اہم وزیر بھی بن جاتیں؟ یہ مقام انہوں نے ایک ایسے ملک میں حاصل کیا جس کے خیالات اور انداز زندگی کو ہمارے قدامت پرست دن، رات گالیاں دیتے ہیں اور ہاں، توجّہ تو ساجد جاوید اور صادق خان پر ہے۔ وہ پاکستان میں کہاں ہیں؟ آپ ذرا قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بحران پر نظر ڈالیں۔ ان افراد کو دیکھیں جو نواز شریف، عمران خان یا زرداری کے آس پاس ہیں۔ وہ لوگ جن کی کہی ہوئی باتیں خبروں کی سرخیاں بنتی ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ کچھ عرصہ بعد ان باتوں کی تردید بھی وہ خود کرتے ہیں تو ایسے لوگوں میں ساجد جاوید اور صادق خان کہاں ہیں؟ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ جہاں بھی ہوں اپنا ہاتھ کھڑا کر دیں۔ ان سے کچھ نہیں کہا جائے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں