آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گرمی کا توڑ،  سندھ کا من پسند مشروب ’’شربتِ تھادل‘‘

سندھ کی ثقافت قدیم ترین تہذیب کی حامل ہونے کی وجہ سےاپنے اندر بے پناہ وسعتیں سمیٹے ہوئے ہے، ایک جانب قدیم عمارتیں، شہر ودیگر مقامات ہیں تو دوسری جانب اس دھرتی کے لوگوں کے رہن سہن اور طرز زندگی میں بھی قدیم تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ سندھ کی ثقافت کا ہر پہلو اپنے اندر ایک منفرد داستان سمیٹے ہوئے ہے، یہاں کے پکوان میں آج بھی قدیم دور کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ 

ایسی ہی ایک خاص چیز ہے ’’تھادل کا شربت‘‘، جسے سندھ کے ثقافتی مشروب کا درجہ حاصل ہے۔یہاں کے لوگ صدیوں سے اس مشروب کو پیتے آئے اور پسند کرتے ہیں۔ اس میں مغزیات، بادام، سونف، مصری، زیرا،نمک، چینی، خشخاش ودیگر مسالہ جات ڈالے جاتے ہیں، اسی لیےیہ فرحت بخش ہونے کے ساتھ ساتھ صحت کے لیے بھی مفید گردانا جاتا ہے۔ 

خوش بودار پھول پتیوں، مربوں، مغزیات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ اس شربت کی نہ صرف خوش بو آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہے، بلکہ اس کا رنگ ایک خوش گواراحساس دلاتاہے ۔ تھادل کا یہ مشروب سندھ کے لوگ گرمی کے موسم میں کثرت سے استعمال کرتے ہیں، کیوں کہ اس کا ذائقہ لذیذ اور مزے سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ کئی سو سال سے روایتی انداز سے لکڑی کے ڈنڈے سے بندھی گھنگھرو کی آواز کے ساتھ صاف کونڈے میں تھادل بناتے ہیں۔ اس میں ڈالے جانے والے مسالا جات گرمی کادشمن تصور کیا جاتا ہےاسی لیےتھادل کو گرمی کا بہترین توڑ سمجھا جاتا ہے۔ 

اس کی مقبولیت اور استعمال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں سندھ کے کسی بھی علاقے کے کسی بھی لنک روڈ، بازاروں یا قومی شاہراہ پر سفر کے دوران جگہ جگہ تھادل کے ٹھیلے نظر آتے ہیں ،جو لوگوں کو گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچانے کے علاوہ روزگار کا ذریعہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی سندھ بھر میں چھوٹے و بڑے مقامات، بس اسٹینڈ و دیگر علاقوں میں تھادل فروخت کرنے والوں کے اسٹال سج جاتے ہیں۔ اور گرمی بڑھنے کے ساتھ ہی یہ لوگوں کا پسندیدہ مشروب بن جاتا ہے۔ تھادل کے شربت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ فی گلاس کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے غریب بھی مستفید ہوتے ہیں۔ 

گرمی کا توڑ،  سندھ کا من پسند مشروب ’’شربتِ تھادل‘‘

تھادل گرمیوں کا مشہور اور دلفریب مشروب ہے جسے پینے سے نہ صرف ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے بلکہ دن بھر گرمی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔یہ قیمت میں بھی کم ہے جسے سخت دھوپ میں کام کرنے والے بالخصوص غریب افراد اور ٹرانسپورٹرانتہائی شوق سے پیتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں مختلف مفید اشیاء سے بنائے جانے والے تھادل کا شربت 20سے 30روپے فی گلاس میں فروخت ہوتا ہے۔ ویسے تو ملک بھر میں گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی چھوٹے بڑے شہروں میں مختلف مشروبات کا استعمال کثرت سے بڑھ جاتا ہے، لیکن سندھ کے عوام کسی اور مشروب کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے، کیوں کہ وہ صرف تھادل ہی کو پینا پسند کرتے ہیں۔ 

تھادل بنانے والوںکا کہنا ہے کہ اس کی تیاری ایک کونڈے میں مسالا جات کو گھونٹ کر کی جاتی ہے، تھادل کی تیاری میں 12سے زائد مصالحے ڈالےجاتے ہوتے ہیں، جن میں مغزیات، بادام، وغیرہ سے تیار ہونے والے تھادل کے ایک گلاس کی قیمت 20روپےہے، جب کہ بعض اسٹال پر یہ 10سے15روپے میں بھی فروخت ہوتاہے۔تھادل پینے والے افراد کا یہ کہنا ہے کہ سخت گرمیوں میں تھادل انتہائی مفید ، فرحت بخش اور طاقت ور ترین مشروب ہے جو نہ صرف سندھ کا ثقافتی مشروب ہے بلکہ ہر خاص و عام کی قوت خرید میں بھی ہے۔ 

گرمی کی شدت میں اضافےکے ساتھ ہی سکھر سمیت گردونواح کے علاقوں میں گنّےکے جوس سمیت دیگر پھلوں کے جوس اور لسی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے، تاہم عام طور پرسب سے زیادہ استعما ل ہونے والا مشروب تھادل ہی ہے، جو سخت گرمی میں لوگ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں، گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی تھادل بنانے اور فروخت کرنے والے افراد کے روزگار میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ 

ایک اندازے کے مطابق ہر سال گرمیوں میںسکھر میںایک سو سے زائد تھادل کے اسٹال قائم کیے جاتے ہیں، ایک اسٹال پر چارسے پانچ افراد کام کرتے ہیں،اس طرح ایک ضلع میں تقریباًپانچ سو افراد کو تھادل کے کاروبار سے روزگار میسر آتا ہے۔ سکھر سے بیرون شہر آنے،جانےوالی مسافر گاڑیاں بھی تھادل کے اسٹاپ پر رکتی ہیں، تاکہ مسافر اور ڈرائیورز ، تھادل کا شربت پی کر تازہ دم ہو جائیں۔ گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی سکھر سمیت گردونواح کے علاقوں میں بھی تھادل کے اسٹال قائم کر لیے جاتے ہیں، جہاں صبح سے شام تک تھادل کی تیاری اور فروخت کا عمل جاری رہتا ہے، تھادل بنانے والے افراد کا کہنا ہے کہ سندھ کاقدیم ثقافتی مشروب گرمیوں کے موسم میں بہت زیادہ فروخت ہوتا ہے، لوگ نہ صرف تھادل کے اسٹالوں پر آکر خود تھادل پیتے ہیں بلکہ وہ یہاں سے اپنے گھروں میں اہل خانہ کے لیے بھی لے کر جاتے ہیں۔ 

گرمی کا توڑ،  سندھ کا من پسند مشروب ’’شربتِ تھادل‘‘

تھادل کا اسٹال مختلف مشروبات کی دکانوں یا اسٹال سے باکل مختلف ہوتا ہے، مخصوص انداز میں بنائے جانے والے اس اسٹال پر رنگ برنگے کپڑوں سے بنی ہوئی بڑی چھتری کو دیکھ کر دور سے ہی یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ تھادل کا اسٹال ہے۔ سندھ کے لوگ نہ صرف خودیہ شربت کثرت سے استعمال کرتے ہیں ،بلکہ ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے مہمانوں، دوست و احباب، عزیز و اقارب کو بھی سندھ کا یہ روایتی و ثقافتی مشروب پلاتے ہیں، اسے پینے کے بعد بار بار ، پینے کی فرمائش کرتا ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے ،کہ مختلف کمپنیوں کی جانب سے بھی تھادل کا مشروب تیار کرکے اسے بوتلوں میں بھرا جاتا ہے، مختلف کمپنیاں تھادل کا شربت بناکر ملک کے مختلف شہروں میں بھیجتی ہیں،بلکہ بیرون ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے ۔

سندھ کے باسی جو کہ اپنی مہمان نوازی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں، ان کے پاس جب کوئی مہمان، دوست، رشتہ دار بیرون شہر یا بیرون ملک سے ملنے کے لیے آتا ہے تو اسے بھی خاص طور پر تھادل کا مشروب پلاتے ہیں، بہ طور سوغات بھی مہمان کو دیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنے علاقے میں جاکر اپنےگھر والوں کو سندھ کے اس روایتی و ثقافتی مشروب کا ذائقہ چکھا سکے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں