آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عالمی معاشی بحران میں پاکستان کی صورتِ حال کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آتے ہی پہلے تو چینی مصنوعات کا امریکا پر یلغار کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ آزاد تجارت اور فری مارکیٹ اکانومی نے امریکی معیشت کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ اس وقت امریکا 16ٹریلین ڈالر کا قرض دار ہے، جبکہ فری مارکیٹ اکانومی کے تعارف سے پہلے امریکا کی مالیاتی طاقت کے آگے دنیا سرنگوں تھی۔ ٹرمپ نے چینی درآمدات کو روکنے کے لیے 50 ارب ڈالر کی کسٹم ڈیوٹیز بھی نافذ کردیں۔ ٹرمپ کے اس موقف کی جرمنی ، چین ، روس اور فرانس نے بھی مخالفت کی۔ ٹرمپ کا کہنا ہےکہ جرمنی نے عالمی تجارت کے ذریعے 300 ارب ڈالر فاضل کمائی کی ہے اور چین نے 200 ارب ڈالر زیادہ کمایا ہے، اس لیے ان کی بچتیں عالمی مارکیٹ میں نہیں آئیں۔ اُنہوں نے اسی منافع کو بہ الفاظ دیگر توازن ادائیگیوں کے سرپلس کو ہی عالمی آزاد منڈی میں دوبارہ سرمایہ کاری کی ہے، یعنی امریکا اور یورپ کےبعض ممالک سے منافع کما کر دوبارہ اسی کو انویسٹ کرکے مزید کمانا ،یہ کس قسم کی سرمایہ داری ہے۔ یہ آزاد تجارت ہے، لیکن منڈی کی آزاد معیشت سے ابتدا میں جو جی 8ممالک نے فائدہ اٹھایا اس کا ذکر نہیں کیا۔ ادر 70سال سے سابق سوویت یونین کے خاتمے کے لیے مغرب نے اربوں ڈالر کی اسلحہ سے ایک ابھرتی ہوئی عالمی سطح پر عوامی معیشت کو شکست دینے کے لیے دنیا کے سر مایہ دار ممالک اکٹھے ہوگئے، البتہ سابق سوویت یونین کے خوف سے ٹریڈ یونین کو بہت سی مراعات دی گئیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے سرمایہ دار ممالک نے سوشلزم کے انقلاب اور شکاگو کے محنت کشوں کی قربانی کے تناظر میں طاقتوروں کو مجبور کیا کہ محنت کشوں کے اوقات کار، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، انجمن سازی و ہیلتھ اور سیفٹی جیسے قوانین مرتب کریں اور کیےگئے۔ پاکستان کے آئین میں محنت کشوں کے حقوق کے بارے میں کئی مشقیں موجود ہیں،لیکن ان پر کسی حکومت نے عمل درآمد نہیں کیا۔ اس کی واضح مثال ہے کہ ریاست پاکستان نے ملک کے دستور میں آرٹیکل 17میں تمام شہریوں کو ضمانت فراہم کی گئی ہے کہ ہر شہری انجمن سازی کا حق رکھتا ہے، اسی طرح آرٹیکل 3میں ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ اور اس کے بنیادی اصولوں کی تدریجی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا ، آرٹیکل 25میں ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ تمام شہری برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے برابر کے حقدار ہیں، اسی طرح سب سے نمایاں آرٹیکل38 کے تحت ریاست کو پابند کیا گیا ہےکہ عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کرکے دولت اور وسائل پیداوار کی تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں ارتکاز دولت کو روکے، جس سے مفاد عامہ کو نقصان پہنچے اور ریاست آجرو ایمپلائرز اور زمیندار اور مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلا لحاظ جنس و ذات مذہب یا نسل عوام کے فلاح و بہبود کے حصول کی کوشش کرے، اگر آئین کی ان شقوں پر کوئی عوام دوست حکومت عمل کرلیتی تو پاکستان اس وقت انتشار سے دُور ایک فلاحی مملکت کی طرف بڑھ جاتا۔ سابق سوویت یونین کے خوف سے مغرب نے بھی محنت کشوں کو ہر قسم کی مراعات دیں۔ لیکن مغرب نے ایک توسوویت یونین کو عالمی مارکیٹ میں نہیں آنے دیا، دوسرا اسے جنگوں میں مصروف رکھا، تیسرا اپنا کیڈر ختم ہوگیا ۔روس کا جب انہدام ہوا تو دنیا کا غریب لاوارث ہوگیا ۔ مغرب میں امریکیوں کا کہنا ہے کہ ایک فیصد کے پاس امریکا کی 60فیصد دولت ہے۔ دنیا کے 100 کم مالدار ترین سرمایہ داروں کے پاس آدھی دنیا سے زیادہ دولت ہے، جو بڑھتی جارہی ہے۔ غریب ممالک کی دولت لوٹی جارہی ہے، اسلحہ اور نیوکلیئر کے انبار لگ رہے ہیں۔ برآمدات کے مقابلے نے امریکا کو800 ارب ڈالر کا عالمی تجارت میں خسارہ ہے۔ پاکستان انرجی کے بحران اور لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے 21.4 ارب ڈالر کی برآمد کرنے کے قابل ہے، تجارتی خسارہ 35ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ انرجی کا مسئلہ حل نہیں ہوا، حالانکہ ابتدا میں 400 ارب روپے سے زیادہ گردشی قرضے کی مد میں دیا گیا، اس کے باوجود آج ایک ہزار ارب روپے کا گردشی قرضہ سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ ادائیگی کرو۔ پی آئی اے کا نقصان جو 2013ء میں 170.3 ارب روپے تھا، آج ڈیل ہو کر 340ارب روپے ہوگیا ہے۔ حیرت کی بات ہے ایل این جی کا قرضہ بھی 45ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مزید براں بجٹ میں 1620 ارب روپے سود کے لیے رکھے گئے ہیں اور 90ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چینی قرضہ 51 ارب ڈالر ہے۔ یورو اور سکوک بانڈ 400روپے کے الگ قرضے ہیں ۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس ملک کو کس طرح چلایا جائے گا؟جس معاشی نظام پر صدر امریکا، آنسو بہا رہے ہیں،اس کو بھی بھونڈے طریقے،بیڈ گورننس اور بدعنوانی سے پاکستان میں چلا رہا ہے پھر سوچا جا سکتا ہے کہ اس ملک کو معاشی طور پر کیسے چلایا جائے گا۔ یہ گیارہ پوائنٹ کے ذریعے نہیں چل سکتا، اس میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ روس کی شکست وریخت کے بعد مغرب نے ٹھان لیا کہ دنیا میں کہیں بھی سوشلزم کا نام لیوا نہیں رہنا چاہئے۔ اس کے لیے نیو ورلڈ لایا گیا۔ دراصل یہ نظام سوشلزم کی خود کفالتی کی اس لہر کو ختم کرنا تھا ،جس کے تحت سوشلسٹ ممالک سامراجی سرمائے کے درآمدی استحصال کے خلاف اپنی منڈی کو تحفظ دے کر مینو فیکچرنگ کی اپنی استعداد میں اضافے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھے، جس کا نتیجہ صاف ظاہر تھا کہ اس کی زد میں سامراجی صنعت کی برآمدات پر براہ راست پڑتی تھی، اس کا احساس آج صدر ٹرمپ کو ہوا،جو سابق سوویت یونین کا عالمی تجارت کا نظریہ تھا۔ پاکستان جیسے ملکوں کو صنعت کار ملکوں نے لوٹا، پھر اپنے حکمرانوں نے لوٹا اور پھر صنعت کار ملکوں کا آپس میں مقابلہ ہوا تو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے ’’منی بسوں‘‘ والی مالیاتی دوڑ لگ گئ اور 2008میں عالمی مالیاتی انہدام ہو گیا ۔خام مال برآمد کرنے والے ممالک میں پاکستان انرجی بحران کو ختم نہ کر سکا، جس سے مینو فیکچرنگ لاگت بڑھ گئی اور عالمی مسابقت میں بنگلا دیش سے بھی پیچھے رہ گیا۔ امریکی دہشت گردی کی جنگ نے پاکستانی معاشرے کے تارو پود تتر بتر کر دیئے ۔ اب پاکستان کی مخالفت پر امریکا اُتر آیا ہے۔ نتیجتاً ہندوستان اور افغانستان کو پاکستان کے مخالف استعمال کر رہے ہیں، اسی لیے ملک کی معیشت بڑے انتشار کا شکار ہے۔ قرضوں اور خساروں کا انبار لگ گیا ہےاور پاکستان پر امریکا جو دبائو ڈال رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سوویت یونین ختم ہو گیا ہے، کیونکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اپنی پہلی فرصت میں سا مر ا جیوں نے عالمی بینک، آئی ایم ایف، اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ ،گیٹ پھر عالمی تجارتی تنظیم اور ملٹی نیشنلز کے لیور استعمال کرتے ہوئے منڈیوں کو آزاد کرانے کے لیے کسٹم ڈیوٹیز سے آزادی، اندرونی سطح پر سیلز ٹیکس ،سرمائے کی آزاد ٹریفک آزاد مقابلے، نج کاری، ڈی ریگو لیشن اور ڈی کنٹرول کی شرائط قرضوں کے نظام عالم کا حصہ بنا دیا، لیکن ٹرمپ کو بہت تاخیر سے پتہ چلا کہ چین کی ترقی اس نظام سے فائدہ اٹھا لے گی۔ تیسری دنیا تو ویسے بھی جدوجہد ہی کرتی رہی ہے۔ اب عالمی سطح پر چین مغرب کی صنعت کو بھی اپاہج کردے گا، اس لیے نیو ورلڈ کے نفاذ کے کچھ سالوں کے بعد ہی نتائج اس کے بالکل الٹ برآمد ہونا شروع ہو گئے ۔حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ سرمائے کا سائنسی اور معاشی ارتقا، جس مرحلے پر آ پہنچا ہے، اس میں سلوشلزم کی شراکت کے بغیر دنیا میں سرمائے کی تخلیق کا نظام منصفانہ نہیں ہو سکتا ایسے میں انصاف نہ ہوا تو جمہوریت ،لبرل ازم، شہری آزادیاں، اور انسانی حقوق کا حصول ممکن نہیں۔ ایک طرف ایک درجن ترقی یافتہ ممالک مغرب کے ہیں،جو سائنس صنعت اور ٹیکنالوجی کی قوت سے مسلح ہیں، دوسری طرف بھارتی اکثریت تیسری دنیا کے نادار ملکوں کی ہے، جو سائنس اور ٹیکنالوجی میں انتہائی پس ماندہ ہیں، اس لیے یورو اور ڈالروں کے عاشقوں نے جو پاکستان جیسے ملکوں کے حکمران ہیں، اُنہوں نے آزاد سرمائے کے ٹریفک کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور نجکاری کے ذریعے ملکوں کے اثاثے فروخت کرنا شروع کر دیئے ،حالانکہ ملکی سطح پر ووکیشنل تربیت کی ضرورت ہے۔ چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو لگانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اسکولوں کو 50اور 60کی دہائی کی طرح چلانے کی ضرورت ہے۔ صاف پینے کے پانی کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ نجی اسپتالوں نے منافع کی منڈی بنا دی ہے ،اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے مریض کو کسٹمر سمجھ رکھا ہے۔ تدفین انتہائی مہنگی ہو گئی ہے، اسی لیے ہر روز عجیب و غریب خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ یاد رکھیے،سرمائے کے لحاظ سے موجودہ غیر متوازن نظام میں آزاد مقابلے کا مطلب اجارہ داری کا تسلط ہے اور کون نہیں جانتا کہ اجارہ داریوں کا فروغ جمہوریت کا اور عوام کے حقوق کا ازلی دشمن ہے۔ کرونی کیپٹلزم کے خلاف خود لندن اکنامسٹ نے اسے بھیڑیوں کا نظام قرار دیا ہے۔ اپنے سرورق پر خونخوار جانوروں کے سر اور دھڑ سرمایہ داروں کے دکھا کر سامنے میز پر ڈالروں کے انبار دکھا کر دیکھنے والوں کو باور کرایا کہ کرونی کیپٹلزم میں جمہوریت صنعتی و تجارتی اشرافیہ کے لیے ہےاور تیسری دنیا میں یہ ایک مذاق کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان نے سوچنا ہے کہ اسے انقلابی اقدامات کس طرح کرنے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نیو ورلڈ آرڈر بند گلی میں بند ہو چکا ہے اور کھلنے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ جوزف اسٹگلٹنر کا کہنا ہےکہ نکلنے کے لیے ادھورے سوشلزم کی شراکت ضروری ہے، جہاں تک پاکستان سمیت تیسری دنیااور دیگر مسلمان ممالک کی حالت زار ہے، وہ موجودہ نظام کو اپنا نہ سکے۔ سرمایہ دارانہ معاشیات کے سائنسی ارتقا کا راستہ متعین ہے، جو پہلے مسلمان طاقت ور تھے، وصول کرتے تھے ۔آج مغربی دنیا کو سب سے زیادہ خراج ،جزیہ اور ٹیکس مسلمان تجارتی ذرائع سے ادا کر رہے ہیں۔ معیشت بھی سائنس کو باہر رکھنے سے مسلم ممالک کی انڈسٹری ،فنانس اور پیدا نہیں کر سکے، اس لیے ذرائع پیداوار، مواصلات اور نقل و حمل میں دب کر مسلمان مغرب کے تجارتی استحصال کا شکار ہو گئے۔ بازار زر میں سود اور سٹے کے لیورج کے جن اوزاروں کو بدی سمجھا گیا ہے، وہ ہی موجودہ نظام زر کی طاقت کا راز ہے، جس کا توڑ سوشلزم تھا، جسے توڑ دیا گیا ،اب نیو ورلڈ آرڈر کے ایجاد کنندہ بھی اسی کی شراکت چاہتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں