آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امیج اینڈ وارڈروب کنسلٹنٹ، حامد سعید کی دِل چسپ باتیں

امیج اینڈ وارڈروب کنسلٹنٹ، حامد سعید کی دِل چسپ باتیں

عکّاسی : عرفان نجمی

بات چیت: رئوف ظفر، لاہور

آج سےکوئی15برس قبل تائیوان کا ایک بزنس مین نیو یارک پہنچا۔ امریکا آمد کا مقصد تائیوان کی مشینری کو مقامی فرمز کو فروخت کرنا تھا، لیکن تین، چار ماہ کی دوڑ دھوپ کے بعد بھی وہ اپنے مقصد میں کام یاب نہ ہو سکا کہ کوئی سیکریٹری اُسےاپنے باس سے ملوانے پر آمادہ نہیں تھی۔ اس اثنا میں اُسے انٹرنیٹ کے ذریعےایک ایسے فرد کا پتا چلا، جو اس قسم کی مشکلات کا حل بتاتا تھا۔ وہ کاروباری شخص اُس سے ملا اور اپنی مشکل سے آگاہ کیا۔ مسئلہ سُننے کے بعد اُس شخص نے بزنس مین کو چند مشورے دیے، جن پر عمل درآمد سے کاروباری شخص کو نہ صرف آرڈرز ملنے لگے، بلکہ جو ایگزیکٹیو زاُس سے ملنے سے کتراتے تھے، وہ بھی اُس سے ملاقات کے متمنی نظر آنے لگے۔ تائیوان کی یہ کاروباری شخصیت مسٹر چنگ ہان تھی اور انہوں نے جس شخص سے ملاقات کی تھی، وہ نیویارک میں وارڈ روب کنسلٹنٹ کے طور پر شُہرت رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی شہری، حامد سعید تھے۔ آخر انہوں نے چنگ ہان کو ایسا کون سا مشورہ دیا تھا کہ اُن کے کاروبار کو چار چاند لگ گئے؟ جب ہم نے حامد سعید سے یہ سوال پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ ’’ اُن دِنوں مَیں فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، نیویارک سے تازہ تازہ فارغ ہوا تھا اور امیج اینڈ وارڈ روب کنسلٹنٹ کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا۔ مَیں مسٹر ہان کو دیکھتے ہی اُن کی ناکامی کا سبب جان گیا ۔ انہوں نے ایک خستہ حال جیکٹ پہن رکھی تھی۔ شرٹ میلی میلی سی اور اُس کے کالرز آئوٹ آف فیشن تھے۔ نیز، کثرتِ استعمال سے جینز اُدھڑنا شروع ہو گئی تھی۔ گرچہ اُن کی شخصیت کشش سے عاری نہیں تھی، لیکن غیر مناسب لباس نے اُسے بالکل گہنا دیا تھا۔ مَیں نے اُنہیں ناکامی کا سبب بتایا اور ملبوسات کے ایک بڑے اسٹور پر لے گیا۔ اعلیٰ قسم کے ملبوسات خریدنے کے بعد مَیں نے ہان کو مختلف فرمز سے رابطے کا مشورہ دیا اور اُن کی خواہش پر اُن کے ساتھ اُن فرمز میں بھی گیا، جہاں پہلے انہیں کسی نے درخورِ اعتنا نہ سمجھا تھا۔ تاہم، ہان کا حلیہ دُرست ہونے کے بعد اب ایگزیکٹیوز کی سیکریٹریز اُن کے آگے بِچھی جا رہی تھیں۔ ہان کے شان دار و پُر وقار لباس نے اُن پر جادو سا طاری کر دیا تھا۔ پہناوا بدلتے ہی ہان کو آرڈرز ملنے لگے، جس نے اُن کی کایا پلٹ دی اور وہ شاہ راہِ کام یابی پر سفر کرنے لگے۔‘‘


لاہور سے تعلق رکھنے والے حامد سعید نے یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا کا قصد کیا۔ وہاں انہوں نے نیو یارک کو اپنا مسکن بنایا اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی، مگر ایک روز برسوں سے دِل میں مچلنے والی خواہش نے انہیں انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی عمارت کے سامنے لا کھڑا کیا۔ وہ بچپن ہی سے خوش لباس ہیںاور جب عُمدہ پوشاک زیبِ تن کر کے کالج جاتے، تو ستائشی نظروں سے دیکھنے والوں کا پہلا سوال یہی ہوتا کہ’’ آج کہاں کے ارادے ہیں؟ کیا کسی شادی میں جا رہے ہو ؟‘‘ یہی شوق اور رُجحان انہیں فیشن کے اعلیٰ ترین تعلیمی ادارے میں لے گیا، جس نے اُن کا خواب حقیقت میں بدل دیا۔ فیشن انسٹی ٹیوٹ سے فارغ التّحصیل ہونے کے بعد حامد نے اپنا برانڈ متعارف کروانے کی بہ جائے فیشن سے متعلق نِت نئے تصوّرات پیش کرنے اور ’’ڈریس فار سکسیس‘‘(Dress For Success) کے سلوگن سے مَردوں کو مشورے دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس مقصد کے پیچھے یہ سوچ کار فرما تھی کہ خواتین کو ملبوسات سے متعلق مشورے دینے والے تو بے شمار ہیں، لیکن مَردوں کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ لہٰذا، انہوں نے مَردوں کے ’’امیج اینڈ وارڈ روب کنسلٹنٹ ‘‘کے طور پر کام شروع کر دیا اور آج 25سال بعد وہ بین الاقوامی سطح پر ایک ڈیزائنر اور امیج کنسلٹنٹ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس عرصے میں حامدنے اپنے مشوروں سےمعروف فرمز کے ایگزیکٹیوز سمیت دفاتر میں کام کرنے والے کم و بیش 50ہزار مَردوں کی زندگی میں انقلاب پربا کیا۔ پاکستانی نژاد امریکی امیج کنسلٹنٹ کی مقبولیت کا بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے لباس کے ذریعے شخصیت کو اُجاگر کرنے کے سائنسی طریقے اپنائے۔


حامد سعید ان دِنوں پاکستان میں مقیم ہیں اور اپنے مشوروں سے پاکستانی مَردوں کی کی زندگی بدلنے میں مصروف ہیں۔وہ ایک نئی سوچ کے ساتھ پاکستان آئے ہیں، جس کے پس پُشت کسی قسم کی مالی منفعت کار فرما نہیں۔ وہ پاکستانی عوام، بالخصوص متوسّط طبقے میں یہ شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں کہ اگر وہ اپنی شخصیت اور مزاج کے مطابق اپنے لباس پر رقم خرچ کریں گے، تو اس میں ڈریس فار سکسیس کا عُنصر بھی شامل ہو جائے گا، جو ان کی عملی زندگی کو کام یاب بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔ اُن کا ماننا ہے کہ اگر وہ چند افراد ہی میں یہ شعور بیدار کرنے میں کام یاب ہو گئے، تو سمجھیں گے کہ اُن کی جدوجہد رائیگاں نہیں گئی۔ ہم سے خصوصی ملاقات کے دوران انہوں نے بتایا کہ ’’امریکا میں قیام کے دوران دیگر کام یاب پاکستانی تارکینِ وطن کی طرح میرے دِل میں بھی اکثر یہ خیال آتا تھا کہ مُجھے اپنی اُس مٹی کا قرض ادا کرنا ہے، جس نے مُجھے شناخت دی ۔ سو، آج سے تقریباً ایک سال قبل پاکستانی مَردوں کو لباس کی نئی جہات اور اُن کے کرشماتی فواید سے آگاہ کرنے کی نیّت سے اپنی دھرتی پر قدم رکھا۔ میرا سلوگن ہے کہ اگر کام یابی مقصود ہے، تو اچّھا لباس زیبِ تن کریں۔ مَیں اپنے ہم وطنوں کواپنے تجربات سے فیض یاب کرنا چاہتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے سیمینارز، ریڈیو اور ٹی وی سمیت دیگر ذرایع ابلاغ کا سہارا لے رہا ہوں اور الحمد اللہ، ریسپانس بھی اچّھا مل رہا ہے۔‘‘ ہمارے اس سوال پر کہ جس مُلک میں عوام کو روٹی، کپڑے اور مکان کے لالے پڑے ہوں، مہنگائی نے ناک میں دَم کر رکھا ہو، وہاں خوش لباسی ترجیحات میں کیسے شامل ہو سکتی ہے؟حامد سعید نے جواب دیا کہ ’’جس طرح انسان خوراک اور چھت کے بغیر نہیں رہ سکتا، اسی طرح جسم ڈھانپنا بھی اُس کی ضرورت ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ ہمہ وقت بیش قیمت مغربی لباس ہی زیبِ تن کیے رکھیں اور روایتی ملبوسات کو خیر باد کہہ دیں۔ لباس ایسا ہونا چاہیے کہ جو آپ کی شخصیت میں نکھار پیداکرے ۔ ایسا پہناوا کم لاگت میں بھی تیار ہو سکتا ہے اور ایک عام فرد بھی اسے خرید سکتا ہے۔ یاد رکھیں، سادگی کی بھی اپنی ایک دِل کَشی ہوتی ہے۔‘‘ پُرکشش لباس کی افادیت بتاتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’’آج کارپوریٹ کلچر کا دَور ہے۔ جامعات سے فارغ التّحصیل نوجوانوں کی فوج ظفر موج ملازمت کے لیے مختلف اداروں کا رُخ کر رہی ہے۔ ان کے لیے لباس دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر وہ پُر وقار لباس پہن کر انٹرویو دینے نہیں جائیں گے یا انٹرویو میں کام یابی کے بعد دفتر میں اپنے پہناوے کا خیال نہیں رکھیں گے، تو اُن کے لیے پیشہ ورانہ کام یابیوں کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔ مسابقت کے اس دَور میں با وقار شخصیت ناگزیر ہو چُکی ہے۔ چاہے کاروبار ہو یا ملازمت، آج لباس ایک مؤثر آلۂ کارکی حیثیت اختیار کر چُکا ہے۔ دراصل، آپ کی وضع قطع ہی سے لوگ آپ کی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ ‘‘


انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ ترقّی یافتہ ممالک میں ہر چیز کو سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھا، پرکھا جاتا ہے۔ مَیں آپ کو ایسی بے شمار اسٹڈیز کا حوالہ دے سکتا ہوں، جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہمارا لباس نہ صرف ہماری سوچ اور شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے، بلکہ یہ ہمارے ہارمونز اور حرکتِ قلب کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یعنی جب ہم اپنی شخصیت سے مطابقت رکھنے والا لباس پہنتے ہیں، تو ہمارے اندر مثبت نفسیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ امریکی جریدے، سوشل سائیکالوجیکل اینڈ پرسنیلٹی سائنس نے اپنے 2015ءکے شمارے میں ایسی کئی تحقیقی رپورٹس شایع کی ہیں۔ مثلاً ایک جگہ لباس کی اہمیت اُجاگر کرنے کے لیے یہ مثال دی گئی کہ اگر کسی کیفے یا ہوٹل میں عام سے لباس میں ملبوس کوئی شخص آ کر عمارت میں آتش زدگی کی اطلاع دے، تو وہاں موجود افراد اس کی بات پر کم توجّہ دیں گے، لیکن اگر فائر فائٹر کی وردی میں ملبوس کوئی شخص یہی اطلاع دے، تو لوگ فوراً باہر چلے جائیں گے۔ یعنی فائر فائٹر کی بات میں وزن اس کی وردی یعنی لباس کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اسی طرح مختلف تجربات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ صاف سُتھرا لباس پہننے والے افراد کی کارکردگی میلے کُچیلے کپڑے پہننے والوں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، 2013ء کے جرنل آف اسپورٹس اینڈ سائیکالوجی میں ایک ایسی ریسرچ کا حوالہ دیا گیا، جس میں ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں شریک سُرخ جرسی والے ایتھلیٹس کی کارکردگی نیلی جرسی میں ملبوس ایتھلیٹس سے بہتر تھی۔ غرض یہ کہ سائنس اب یہ ثابت کر چُکی ہے کہ ہمارا پہناوا، ہمارے دِل و دماغ پر مثبت یا منفی اثرات مرتّب کرتا ہے اور اس سے ہمارے رویّوں اور افعال میں بھی تبدیلیاں رُونما ہوتی ہیں۔ اگر کوئی فرد اپنی شخصیت سے مطابقت رکھنے والے رنگوں کے ملبوسات پہنے گا، تو اس کی سوچ اور طرزِ عمل میں یقیناً خوش گوار تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ واضح رہے کہ ہر رنگ کی اپنی ایک فریکوئنسی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرد نے کوئی ناگوار یا کشش سے عاری لباس پہن رکھا ہو، تو اس کے آس پاس کا ماحول بھی نا خوش گوار ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اپنی شخصیت اور مزاج کے مطابق ہی ملبوسات کا انتخاب کرنا چاہیے۔ سائنس یہ ثابت کر چُکی ہے کہ سُرخ رنگ، جسے دُنیا کی نصف آبادی پسند کرتی ہے، توانائی، جوش و ولولے اور خطرے کی علامت ہے۔ نارنجی رنگ تازگی، تخلیقی قوّتوں اور مُہم جوئی کا مظہر ہے۔ پیلا رنگ امید، خوشی اور روشنی کی دلیل ہے۔ سبز رنگ ٹھنڈک، قوّت، وقار، تسکین اور دولت کی علامت ہے۔ نیلا رنگ، جو دُنیا میں سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے، قابلِ اعتماد اور پُر سکون ہونے کا مظہر ہے۔ ارغوانی رنگ پُر اسرار، شریف، مہذّب اور روحانی ہونے کی علامت ہے۔ گلابی رنگ خواتین میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔ سیاہ رنگ وقار، طاقت اور سوگ کی علامت ہے، جب کہ سفید رنگ سادگی، معصومیت، پاکیزگی اور کاملیت کا مظہر ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر رنگ ہمارے مزاج اور شخصیت سے میل کھا جائیں، تو ہمارے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ہماری شخصیت کو بہتر بنا کر ہماری کام یابیوں کا راستہ ہم وار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رنگ باتیں کرتے ہیں اور ہمیں ان کی باتوں کو سمجھنا چاہیے۔ رنگوں کے اثرات کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ہی اب ان سے ذہنی امراض کا علاج کیا جا رہا ہے۔ سو، فطرت کے حُسن کی طرح یہ رنگ ہماری شخصیت اور لباس میں بھی جھلکنے چاہئیں۔ ‘‘


مَردوں کے لباس سے متعلق اصولوں کے بارے میں بتاتے ہوئے حامد سعید کا کہنا تھا کہ ’’ مَردوں کو اپنی جسامت کی مناسبت سے لباس کا انتخاب کرنا چاہیے۔ گرچہ اس ضمن میں ماہرین بھی مشورے دے سکتے ہیں، لیکن اپنے سراپے پر نظر ڈال کر آپ خود اپنے لباس کے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ نیز، آپ کو اپنے پروفیشن کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی کمپنی کے سربراہ ہیں، تو آپ کے لباس کی نوعیت کچھ اور ہو گی اور استاد ہیں، تو کچھ اور۔ یعنی پھر آپ کو شوخ کی بہ جائے سنجیدہ رنگ کا لباس پہننا چاہیے۔ اسی طرح انجینئرز، ڈاکٹرز اور اینکرز کا لباس بھی ایک دوسرے سے مختلف ہونا چاہیے۔ نیز، لباس کا انتخاب کرتے وقت خود سے میل جول رکھنے والے افراد کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ صحافیوں اور سیاست دانوں کے لیے ایسا لباس مناسب ہے، جسے دیکھ کر لوگ اُن سے بات چیت کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ یعنی ان کا لباس تکلفات سے عاری ہونا چاہیے۔ امریکی صنعت کار اور سرمایہ دار جنوبی ایشیا سمیت دیگر ترقّی پزیر ممالک کے تاجروں سے متعلق اچّھی رائے نہیں رکھتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ عموماً باضابطہ لباس میں ملبوس نہیں ہوتے۔ فیشن انسٹی ٹیوٹ میں ہمیں بنیادی تعلیم ہی یہی دی گئی تھی کہ کوئی فرد محض چند سیکنڈز ہی میں صرف آپ کی وضع قطع ہی سے آپ کی کلاس، رہن سہن اور مزاج کے بارے میں رائے قائم کر لیتا ہے۔علاوہ ازیں، مَردلباس کا انتخاب کرتے وقت اپنے چہرے اور آنکھوں کی رنگت، ہیئر اسٹائل اور رائج فیشن کا بھی خیال رکھیں، کیوں کہ اب ہمیں خود کو دورِ جدید کے رُجحانات سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔ کالر کا سائز بھی چہرے کی مناسبت سے ہونا چاہیے۔ اپنی شخصیت کو جاذبِ نظر بنانے کے لیے لباس کے ساتھ جوتوں کا بھی خاص خیال رکھیں، کیوں کہ لباس کے بعد انہی پر نظر پڑتی ہے۔ جوتے آرام دہ اور صاف سُتھرے ہونے چاہئیں۔ مَیں نے پاکستان میں اکثر پینٹ شرٹ میں ملبوس افراد کو موزوں کے بغیر جوتے پہنے دیکھا ہے۔ میرے نزدیک یہ پیروں کو بے آبرو کرنےکے مترادف ہے۔ بیش تر افراد اس کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ گرمی میں جرابیں پہننا ممکن نہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آج کل تو لوگوں کا زیادہ تر وقت ایئر کنڈیشنرز اور رُوم کولرز کے سامنے گزرتا ہے اور وہ پُر کشش نظر آنے کے لیے یہ قربانی دے سکتے ہیں۔‘‘جب ہم نے حامد سعید سے استفسار کیا کہ’’ انہوں نے لباس کے معاملے میں پاکستانی مَردوں کو کیسا پایا؟‘‘ تو انہوں نے کچھ یوں جواب دیا، ’’مُجھے 80فی صد پاکستانی مَرد لباس کے معاملے میں بے ذوق نظر آئے۔ گرچہ ایگزیکٹیوز اور منیجرز اپنی ڈریسنگ پر خصوصی توجّہ دیتے ہیں، لیکن چُوں کہ وہ کوئی پلاننگ نہیں کرتے، لہٰذا اُن کا لباس بھی کوئی بھرپور تاثر نہیں چھوڑتا۔ اسی طرح انٹرویو دینے والے اکثر نوجوان مطالعہ تو خُوب کرتے ہیں، لیکن لباس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً، انٹرویو لینے والے ان سے متاثر نہیں ہوتے۔ اکثر پاکستانی مَرد اپنی بیگمات کے ملبوسات پر تو ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن اپنے کپڑوں کی شاپنگ یہ سوچ کر ٹالتے رہتے ہیں کہ’’ گزارہ تو ان کپڑوں میں بھی ہو جاتا ہے۔‘‘ بیش تر پاکستانی مَردوں کے نزدیک لباس کا مقصد صرف تن ڈھانپنا ہے۔ ڈریسنگ کو کاروبار یا کیریئر میں ترقّی کے لیے استعمال ہی نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ اگر ایک دُکان دار بھی جاذبِ نظر شلوار قمیص اور واسکٹ میں ملبوس ہو، تو گاہکوں پر اس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔ گر چہ ہم محدود وسائل کے ساتھ بھی پُر کشش لباس پہن سکتے ہیں، لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں خوش لباس مَردوں کا طبقہ نہایت محدود ہو گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے صفائی نصف ایمان ہے ۔ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔ مَیں اپنے لیکچرز میں بھی اکثر یہ بات دُہراتا رہتا ہوں۔‘‘ بین الاقوامی شہرت یافتہ امیج کنسلٹنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ’’ضروری نہیں کہ صرف مغربی لباس ہی آپ کی شخصیت کو نکھارے، بلکہ آپ کی شخصیت سے مطابقت رکھتی شلوار قمیص بھی آپ کو جاذبِ نظر بنا سکتی ہے۔ عموماً پاکستانی مَرد پیسے بچانے کی خاطر سیل سے ایسے ملبوسات خرید لیتے ہیں، جو ان پر بالکل بھی نہیں جچتے۔ پھر یہ جلد ہی خراب بھی ہو جاتے ہیں اور ان کی دُھلائی اور مرمّت پر اتنے پیسے خرچ ہو جاتے ہیں کہ جن سے معیاری اور پائے دار ملبوسات خریدے جا سکتے ہیں۔ یعنی مہنگا روئے ایک بار، سستا روئے بار بار، مگر ایسا صرف پاکستان ہی میں نہیں، بلکہ پوری دُنیا میں ہوتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ امریکا میں جب کوئی کروڑ پتی سرمایہ دار شرٹ سلواتا ہے، تو اس کے ساتھ اضافی کپڑے کا بھی تقاضا کرتا ہے، تاکہ جب کالر اور آستینیں پَھٹ جائے، تو انہیں تبدیل کروا سکے۔‘‘


پاکستانی مَردوں کے خوش لباس نہ ہونے کا سبب بتاتے ہوئے حامد سعید کا کہنا تھا کہ ’’ہمارا کلچر ہی کچھ ایسا ہے کہ یہاں مَرد اپنی پسند کا پہناوا نہیں پہن سکتے۔ پچپن میں ماں کی مرضی چلتی ہے، جوانی میںلباس کے چُنائو میں ماں اور باپ دونوں کا عمل دخل بڑھ جاتا ہے اور شادی کے بعد بیوی کی پسند، نا پسند کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یوں مَرد کی نفسیات کچھ اس انداز سے نمو پاتی ہے کہ وہ اپنے لباس سے بے نیاز ہو جاتا ہے، لیکن جاذبِ نظر اور پُر کشش نظر آنے کے لیے عُمر کی کوئی قید نہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ "It's never too late to look good"۔ پُر کشش نظر آنا ہر مَرد و عورت کا بنیادی حق ہے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں، تو پتا چلے گا کہ اللہ تعالیٰ نے کتنے خُوب صُورت پُھول، درخت، پہاڑ، دریا، آبشاریں اور جھیلیں بنائی ہیں اور اشرف المخلوقات ہونے کے ناتے انسان کو بھی فطرت کی طرح خُوب صُورت نظر آنا چاہیے۔البتہ گزشتہ چند برسوں کے دوران مُجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ تعلیم یافتہ پاکستانی نوجوان اپنے لباس اور شخصیت کے بارے میں زیادہ حسّاس ہوتے جارہے ہیں۔ وہ جاب انٹرویوز اور پریزینٹیشنز دینے کے لیے خُوب سج دھج کر جاتے ہیں، کیوں کہ اب انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ لوگ اُن کی ظاہری شخصیت کے مطابق ہی اُن سے سلوک کرتے ہیں۔ دراصل، ہمارا لباس ہمارے لیے ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم شادی یا کسی دوسری تقریب میں تو بن ٹھن کر جاتے ہیں، لیکن اگر یہی طرزِ عمل ہمارا معمول بن جائے، تو ہماری کام یابیوں کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ پھر ایک ریسرچ کے نتیجے میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ خوش لباس افراد ،خوش باش زندگی بسر کرتے ہیں، لوگ اُن پر بھروسا کرتے ہیں اور انہیں ملازمت بھی جلدی مل جاتی ہے۔‘‘ ڈریسنگ اور عُمر کے درمیان تعلق کے بارے میں معروف وارڈ روب کنسلٹنٹ نے بتایا کہ ’’ جیسا کہ مَیں نے پہلے بتایا کہ پُرکشش نظر آنے کے لیے عُمر کی کوئی قید نہیں۔ مَیں نے ماڈل ٹائون میں مارننگ واک کے دوران ریٹائرڈ افراد کو بھی انتہائی نفیس لباس میں ملبوس دیکھا ہے۔ وہ دُور ہی سے بہت شان دار نظر آتے ہیں، پھر اپنی شخصیت پر توجّہ دینے سے آپ کی صحت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔‘‘ سیاست دانوں کے لباس سے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’بیش تر پاکستانی سیاست دان عُمدہ لباس کا ذوق نہیں رکھتے۔ چند برس قبل ایک وفاقی وزیر کی ٹائیوں کے عجیب و غریب رنگ اُن کی رسوائی کا باعث بنے تھے۔ گرچہ ہمارے سیاست دان انتہائی بیش قیمت لباس پہنتے ہیں، لیکن یہ اُن کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے۔ اسی طرح ہمارے بیش تر اینکرز عموماً خوش لباس دِکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ تسلسل برقرار نہیں رکھ پاتے اور کبھی کبھار تو نہایت عجیب وغریب دِکھائی دیتے ہیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید
شخصیت سے مزید