آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ کالم میں چار ممالک کی مثال دی تھی، جو ایشین ٹائیگرز کہلائے۔ اُن وجوہات کا بھی ذکر ہوا جن کی بناء پر ہم ایشین ٹائیگرز کا راستہ نہیں اپنا سکے۔ سرد جنگ کے زمانے میں، اِن چاروں ملکوں میں یا تو فوج حکمران رہی یا امریکی نگرانی میں جمہوریت کو ایک مخصوص دائرے تک محدود کر دیا گیا۔ اِس دوران اندرونی اور بیرونی ذرائع سے سرمایہ کاری کے عمل کی بھرپور انداز میں اعانت جاری رہی۔ اِسی وجہ سے ترقی کی سالانہ رفتار بہت تیز تھی۔ یہ بھی سرمایہ کاری کا کمال تھا کہ مجموعی قومی پیداوار میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ اِن ملکوں کی حکومتوں کو اضافی وسائل دستیاب ہوئے۔ رسل و رسائل کے ذرائع کو ترقی ملی۔ مزدوروں کو اعلیٰ اداروں میں تربیت دے کر ہنرمند بنایا گیا۔ اِن حکومتوں نے سرمائے کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ مگر کیا ہم نے اِن ملکوں کی مثال سے کچھ سیکھا؟ کیا ہم نے سرمایہ کاری کے لئے صنعت کاروں کو سازگار ماحول فراہم کیا؟ اِس بات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ایک دفعہ صدر پرویز مشرف نے سرمایہ کاروں کے حوالے سے ایک عمدہ مثال دی۔ اُن کے خیال میں سرمایہ کار پرندوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ڈرے ڈرے اور سہمے ہوئے۔ خطرہ محسوس ہونے پر یکدم، سب کے سب اُڑ جاتے ہیں۔ اگر ایک دفعہ اُڑ جائیں تو آسانی سے واپس نہیں آتے۔ اُنہیں واپس لانے کے لئے

لاکھ جتن کرنے پڑتے ہیں۔ واپس آئیں بھی تو اکٹھے نہیں آتے۔ ایک ایک کر کے نیچے اُترتے ہیں۔ جو پہلے اُترتا ہے، اُس کے کان غیر معمولی آہٹ پر لگے رہتے ہیں۔ خطرے کی بُو سونگھ کر ذہن گھبراہٹ کا شکار ہوتا ہے اور معمولی سا اندیشہ اُنہیں دوبارہ اُڑان بھرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اگر حالات معمول پر رہیں تو آہستہ آہستہ اُن کا خوف دُور ہوتا ہے۔ اُن کو سکون میں دیکھ کر ایک ایک کر کے اُن کے ساتھی بھی نیچے آتے ہیں اور دوبارہ غول بن جاتا ہے۔
پرویز مشرف کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ کاری کو بے یقینی کی فضا راس نہیں آتی۔ اِس حوالے سے ہم اپنی تاریخ کے مختلف ادوار کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ پاکستان کے پہلے نو سال، مستقل آئین کی عدم موجودگی میں گزرے۔ نوآموز ہاتھوں میں ایک نوزائیدہ جمہوری نظام جاری رہا۔ مگر اُس وقت تک انگریز کا بنایا ہوا انتظامی ڈھانچہ مضبوط تھا۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر معاشی پالیسیوں کا تسلسل قائم رہا۔ آہستہ آہستہ سرمایہ کاری ہونے لگی۔ پہلے پہل وہ شعبے چُنے گئے جن کی مقامی پیداوار سے برآمدات میں کمی آتی۔ مارشل لاء کے پہلے چند سال نئے آئین کے انتظار میں گزرے۔ پھر فوجی حکومت نے جمہوری لبادہ اوڑھ لیا۔ مگر خوش قسمتی سے اِس دوران پاکستانی سول سروس کے انتظامی ڈھانچے پر انحصار جاری تھا۔ معاشی پالیسیوں کے تسلسل سے سرمایہ کاروں کو اعتماد حاصل رہا۔ معیشت ترقی کر رہی تھی۔ سرمایہ کاری کی شرح صحت مند تھی۔ کاروباری منافع کا بیشتر حصہ دوبارہ صنعت کاری میں استعمال ہوتا رہا۔ اقتصادیات میں اِس صحت مند رحجان کو (Re-investment quotient) سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ علامت ملکی صنعت کاروں کے اعتماد کی عکاس ہوتی ہے۔ اِسی سے معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ کار، ملک کے استحکام، دفاعی استعداد اور کاروباری مستقبل کے بارے میں کتنے مطمئن ہیں۔ پھر یکایک 1965ء کی مختصر جنگ نے اٹھارہ سال کے سفر کا رُخ تبدیل کر دیا۔ کاروباری لوگ ازلی بزدل ہوتے ہیں۔ کسی قسم کی جنگ، اندرونی خلفشار یا عدم تحفظ کا احساس اُن کے ذہنی اطمینان کو برباد کر دیتا ہے۔ پاکستانی صنعت کاروں اور کاروباری لوگوں نے جو کچھ کمایا تھا اُسے ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کرنا شروع کر دیا۔ اگر پرویز مشرف کی دی ہوئی مثال کا ذکر کریں تو پرندے اُڑ چکے تھے۔ 1965ء کی جنگ نے پاکستانی معیشت پر جو منفی اثرات مرتب کئے اُن کا عمیق جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے حوالے سے اعداد و شمار جو کہانی سناتے ہیں، اُن کی روشنی میں یہ جنگ ہماری معیشت کے لئے ایک ناخوشگوار موڑ تھا۔ نجی شعبے میں سرمایہ کاری رُک گئی۔ مقبولِ عام لیڈر، ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی اور مشرقی پاکستان میں سیاسی بے چینی نے سر اُٹھایا۔ نئی صنعت کاری کا عمل رُکا تو بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے ہنگامے پھوٹ پڑے۔ سیاسی استحکام ختم ہو چکا تھا۔ یحییٰ خان کا مارشل لاء لگانا، 1962ء کا آئین منسوخ ہونا اور ون یونٹ کا ٹوٹنا، اِس آئینی اور سیاسی اکھاڑ بچھاڑ میں کون سرمایہ کاری کرتا۔ 1970ء کا سال الیکشن میں گزرا اور 1971ء کا خانہ جنگی میں۔ سقوطِ ڈھاکہ سے پہلے ہندوستان سے ایک اور جنگ ہوئی۔ سہما ہوا صنعت کار مزید خوفزدہ ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت سنبھال کر عوام کا اعتماد تو بحال کیا، مگر صنعت کاروں کا ذہنی سکون تہہ و بالا کر دیا۔ بہت سی صنعتیں قومیائی گئیں، سرمایہ کاروں کے پاسپورٹ ضبط کرلئے گئے۔ نئی صنعت کاری کی حوصلہ افزائی نہ ہوئی۔ بھٹو حکومت نے آخری دو سال میں حد ہی کر دی۔ چاول چھڑنے اور روئی صاف کرنے کے چھوٹے چھوٹے کارخانے بھی سرکار کے قبضے میں چلے گئے۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہ ہوا۔ بھٹو کی قومیائی ہوئی بڑی صنعتوں میں اِکا دُکا اصل مالکان کو واپس کی گئیں۔ بینک سرکاری ملکیت میں رہے۔ بار بار اسلامی نظام کے نفاذ کی خبریں میڈیا کی زینت بنیں۔ اِن اطلاعات نے، سودی نظام پر اُستوار معیشت کو مستقل طور پر بے یقینی سے دو چار کئے رکھا۔ اگر اِس دور میں معاشی حالات نہیں بگڑے تو اِس کی ایک وجہ امریکی امداد اور دوسری وجہ بھٹو دور کے بھیجے ہوئے محنت کشوں کی مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے بھجوائی گئی رقوم تھیں۔
ضیاء الحق کا دور ختم ہوا تو سیاسی شطرنج کی بساط، نئے سرے سے بچھائی گئی۔ کھیل کے ماہرین، مہرے آگے پیچھے کرتے رہے۔ پینترے بدل بدل کر شاہ مات کے نت نئے تجربات ہوئے۔ 1990ء کی سیاسی دہائی، حکومتوں کے قبل از وقت خاتمے اور سیاسی اکھاڑ بچھاڑ کے باعث ملکی معیشت میں بہتری نہ لا سکی۔ 1998ء میں واجپائی کی بس یاترا نے علاقائی امن کی قرارداد پیش کی۔
ہو سکتا تھا کہ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول پیدا ہوتا، مگر کارگل کی پہاڑیوں نے اِس عمل کو ویٹو کر دیا۔ مشرف نے مارشل لاء لگایا تو حسنِ اتفاق سے ضیاء الحق کے دور کی طرح، ہم ایک بار پھر امریکہ کے حلیف بنے۔ کسی حد تک ہماری معاشی ضروریات پوری کی گئیں۔ قرضوں کی واپسی مؤخر ہونے سے معیشت کی اکھڑتی سانسیں تو بحال ہوئیں مگر ساتھ ہی دہشت گردی کا آسیب نمودار ہو گیا۔ بیرونِ ملک سے درآمد کئے گئے ماہرین، خوشنما داستانیں رقم کرتے رہے، مگر نجی شعبے نے صنعت میں سرمایہ کاری سے اجتناب کیا۔
اِس مختصر جائزے کا مطالعہ، سنجیدہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرے گا۔ اگر سیاسی بے یقینی اور معاشی پالیسیوں کا عدم تسلسل نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لئے زہرِقاتل ہے تو ہم اُس سے اجتناب کیوں نہیں کرتے۔ کیا ہم معاشی ترقی نہیں چاہتے؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہم اُس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ہمارے پَر جلنے کا احتمال ہے۔ بہتر ہے کہ مزید خیال آرائی سے اجتناب کیا جائے۔ یہی کہنا کافی ہے کہ اگر سڑک پر چلتا ہوا عام آدمی، مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہو تو ایک صنعت کار اپنی پونجی سے سرمایہ کاری کا خطرہ کیوں اٹھائے گا؟ ہماری آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اُس کے لئے روزگار فراہم کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ حکومتی وسائل محدود ہیں۔ نجی شعبے کی شراکت کے بغیر معاشی ترقی کے لئے ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں سی پیک جیسے منصوبے سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل رہا ہے۔ اِس منصوبے کے تحت، سرمایہ کاری کے لئے انڈسٹریل زون قائم کئے جائیں گے۔ اگر ہم نجی شعبے کے لئے مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنے اور ملک میں سیاسی بے یقینی ختم کرنے میں ناکام رہے تو ایشین ٹائیگر بننے کا یہ موقع بھی ضائع ہو جائے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں