Zafar Mahmood - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
پیر یکم ربیع الاوّل 1439ھ 20 نومبر 2017ء
ظفر محمود
November 17, 2017
پردیپ کمار کیا سوچ رہا ہو گا؟

دہلی سے آگرہ جانے والی مصروف سڑک کے دونوں طرف جگہ جگہ چائے خانے اور کھانے کے ڈھابے تھے۔ ایک ڈھابے کے اندر پردیپ کمار میرے سامنے بیٹھا آلو کا پراٹھا کھانے میں مصروف تھا۔ ’’پردیپ تمہیں پتا ہے کہ میں نے پہلی دفعہ تمہارا نام کب سنا۔‘‘ میرے سوال پر اُس کے جبڑے ہلنے بند نہیں ہوئے۔ مگر اُس نے کندھے اُچکا کر اپنی لاعلمی کا اظہار کر...
November 10, 2017
پن بجلی اور مختلف خطوں سے غیر یکساں سلوک

جب پاکستان بنا تو مقامی کمپنیاں بجلی پیدا کرتی تھیں، جو محدود علاقے کو فراہم کی جاتی۔ بجلی کی کل پیداوار بہت کم تھی۔ پورے ملک میں صرف پچاس میگا واٹ۔ آج شاید ہمارے موبائل فونز کو چارج کرنے میں ناکافی ہو۔ کینیڈا کی حکومت نے مدد کی اور پن بجلی کا پہلا بڑا منصوبہ وارسک ڈیم وجود میں آیا۔ 1951ء میں شروع ہونے والے منصوبے کا افتتاح ایوب...
November 03, 2017
ہاشم مسعود اسلم کی معصوم آنکھوں کا سوال

بہت سے قارئین ہاشم مسعود اسلم کے نام سے واقف نہ ہوں گے۔ یہ کہانی ہے ایک نوعمر لڑکے کی۔ والدین کا اکلوتا بیٹا، دو بہنوں کا اکلوتا بھائی جس کی پرورش محبت بھرے ماحول میں ہوئی۔ والدین کی بے لوث محبت نے اُسے انسان دوستی اور رحم دلی کا سبق دیا۔ ایچی سن کالج میں تعلیم کے بعد بہت سے ہم جماعت بیرونِ ملک سدھار گئے مگر ماں باپ کے پاس اپنی...
October 27, 2017
کمزور لمحوں کا کفارہ

ہماری مرحومہ والدہ دُعا مانگا کرتی تھیں، ’’یا اللہ ہم کمزور اور تیری آزمائش بہت کڑی۔‘‘ پھر چند لمحوں بعد کہتیں، ’’یا اللہ ہمیں کسی امتحان میں نہ ڈالنا۔ کمزور لمحوں کا کفارہ بہت مشکل ہوتا ہے۔‘‘ بچپن میں یہ دُعا سمجھ نہ آتی۔ زندگی میں تلخ تجربات سے گزرنے پر احساس ہوا کہ کمزور لمحات میں اصول ارزاں ہو جاتے ہیں۔ آزمائش کا طوفان...
August 13, 2016
کالا باغ ڈیم۔مزید گزارشات

پاکستان کے آبی مسائل اور کالا باغ ڈیم کے بارے میں خدشات اور تحفظات دور کرنے کے لئے میرے 26 مضامین کے جواب میں نواب یوسف تالپور صاحب کا مضمون نظر سے گزرا۔ اُن کے اٹھائے گئے نکات میں سب سے پہلا نکتہ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں ہے ۔ پانی کا یہ معاہدہ ایوب خان کے دور ِ حکومت میں ہوا اور انہوں نے اس کی پوری ذمہ داری قبول کی ۔ یہ بات میں اپنے...
June 25, 2016
آبی مسائل کے حل کی تلاش : مواقع اور امکانات

( آخری قسط)گزشتہ 25 اقساط میں پانی کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اُن تمام مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ہماری موجودہ نسل کو درپیش ہیں اور جن کا سامنا ہماری آئندہ نسل کو بھی رہے گا۔ اِسی دوران علم میں آیا اور عالمی تجربات بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ آبی مسائل کا حل سیاسی قیادت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان جیسے ملک میںلوگ آبی...
June 24, 2016
آبی مسائل کے حل کی تلاش : مواقع اور امکانات

(گزشتہ سے پیوستہ)کالاباغ ڈیم کے حامی خصوصاً جن کا تعلق پنجاب سے ہے ، وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ منصوبہ پانی کے انتظام و انصرام ، سیلاب سے بچائو ، پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی کی پیداوار سمیت ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ لیکن اس متنازع منصوبے سے قطع نظر پاکستان کے تمام صوبے عمومی طور پر پانی کے اُن خوفناک مسائل سے لا تعلق رہے ہیں...
June 23, 2016
آبی مسائل کے حل کی تلاش :مواقع اور امکانات

(گزشتہ سے پیوستہ)SMS:#NRC(space)message & send to [email protected]زیرِ نظر مضمون کی گزشتہ 23اقساط میں زیرِ بحث لائے گئے موضوعات کا مرکزی محور یہ امور تھے کہ مختلف ممالک نے اپنے آبی مسائل کو کس طرح حل کیا ہے ، اور کالاباغ ڈیم منصوبے کے بارے میں تصورات اور حقیقی صورت ِحال میں کیا فرق ہے؟ گزشتہ اقساط میں سرکاری ریکارڈ کی مدد سے اس بات کی بھی وضاحت کی...
June 22, 2016
کالاباغ ڈیم ۔ حقیقت کیا ، فسانہ کیا ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)آج جن تصورات کے بارے میں حقیقی صورتِ حال واضح کی جائے گی وہ مندرجہ ذیل ہیں :کالاباغ ڈیم اتنی بجلی پیدا نہیں کرے گا ، جتنی بجلی پیدا کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ارسا چھوٹے صوبوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتی ، کیونکہ پانی سے متعلقہ فیصلہ سازی کے تمام اداروں میں پنجاب کا غلبہ ہے۔واپڈا کے اہلکار سندھ کے اہل کاروں کو مختلف...
June 21, 2016
کالاباغ ڈیم ۔ حقیقت کیا ،فسانہ کیا ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)کالاباغ ڈیم کے بارے میں ایک اور واہمہ جسے بعض لوگ سچ تصور کرتے ہیں ، یہ ہے کہ واپڈا نے آجر کی حیثیت سے اِس منصوبے کے بین الاقوامی کنسلٹنٹس سے مرضی کے نتائج حاصل کئے۔کسی مجوزہ ڈیم کی انجینئرنگ اسٹڈی کیلئے مختلف مقامات پر دریا میں پانی کے بہائو اور مختلف موسموں میں پانی کے بہائو میں تغیر سے متعلق مطالعات کی ضرورت...
June 20, 2016
کالاباغ ڈیم ۔ حقیقت کیا ، فسانہ کیا ؟

ایک اور تصور جسے پشاور ، چارسدہ ، نوشہرہ اور مردان کے اضلاع اور ان کے قرب و جوار کے علاقوں میں قبول عام کی سند کا درجہ حاصل ہے ، وہ یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کی وجہ سے سیم ا ور تھور کا مسئلہ پیدا ہوگا اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوجائے گی جس سے پشاور کی زرخیز وادی بُری طرح متاثر ہوگی۔پانی کا ہر منصوبہ تہلکہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ کالاباغ...
June 19, 2016
کالاباغ ڈیم ۔ حقیقت کیا ،فسانہ کیا ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)زیرِ نظر قسط میں جن تصورات کے بارے میں حقیقی صورت ِ حال واضح کی جائے گی ، وہ درج ذیل ہیں :۔۔۔۔کالاباغ ڈیم منصوبہ تکنیکی اور اقتصادی طور پر قابل عمل نہیں ہے ۔ اس منصوبے کی عمر بہت کم ہوگی کیونکہ منصوبے کے موجودہ ڈیزائن کی وجہ سے مٹی آبی ذخیرے میں آتی رہے گی اور بڑی کم مدت میں مٹی سے بھر جائے گا۔ایک اور تصوّر جو وادیٔ...
June 18, 2016
کالاباغ ڈیم ۔ حقیقت کیا ،فسانہ کیا ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)انجینئرنگ کا تعلیمی پس منظر نہ رکھنے والے ایسے آبی ماہرین جو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف ہیں ،اُن کے یہاں ایک اور مفروضے کو قبول علم کی سند حاصل ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تربیلا ڈیم میں جمع ہونے والی مٹی بہت کم لاگت کے ساتھ آبی ذخیرے سے نکالی جاسکتی ہے۔ یہ مٹی نہ صرف آبی ذخیرے سے باہر نہیں نکالی جارہی ہے بلکہ مزید مٹی بھی...
June 17, 2016
کالاباغ ڈیم ۔ حقیقت کیا ، فسانہ کیا ؟

(گزشتہ سے پیوستہ)زیر نظر مضمون میں درج ذیل چار تصورات کے بارے میں حقیقی صورت ِ حال واضح کی جائے گی :…ہر سال دریائے سندھ کا 35ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر کی نذر کر دیا جاتا ہے۔…اگر کالاباغ ڈیم تعمیر کر لیا جائے تو پاکستان کے پانی کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔اگر کالاباغ ڈیم تعمیر کر لیا جائے تو سیلاب نہیں آئے گا۔…سندھ کو منگلا ڈیم سے پانی...