• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایفل ٹاور

بلند و بالا اور خوب صورت عمارتیں ہر ملک کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر آپ کو کسی قوم کے بارے میں جاننا ہو تو آپ ان کی عمارتوں کو دیکھ لیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں مختلف ادوار میں ایسی کئی یادگار عمارتیں تعمیر ہوئیں کہ وہ ان ممالک کی پہچان بن گئیں۔ دنیا ایسی خوب صورت، یادگار اور حیرت انگیز عمارات سے بھری پڑی ہے، جو صدیوں سے ہر دور کی نسل کو مسحور اور حیران کرتی آئی ہیں۔ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع ایفل ٹاور کا شمار بھی ایسی ہی بلند وبالا اور خوب صورت عمارتوں میںہوتا ہے۔

پس منظر

ایفل ٹاور لوہے سے بنے ایک مینار کا نام ہے، جو فرانس کے شہر پیرس میں دریائے سین کے کنارے واقع ہے۔ 1889ءمیں ایفل ٹاور کی رونمائی انقلابِ فرانس کے ایک سو سالہ جشن کا حصہ تھا۔ اسے 100سالہ تقاریب کے موقع پر ہونے والی نمائش کے دروازے کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس مینار کو عالمی نمائش کے 20سال بعد منہدم کیا جانا تھالیکن بعد ازاں یہ ارادہ منسوخ کر دیا گیا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جب ایفل ٹاور تعمیر کیا جا رہا تھا، اس وقت پیرس کے 300مصوروں اور دانشوروں نے اس کی تعمیر کے خلاف حکومت سے احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس دیوہیکل ٹاور کی تعمیر غیر ضروری ہے۔آج یہ ٹاور دنیا میں فرانس کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی یادگار ہے اور اس کا شمار دنیا کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔ اسے ہر 7سال بعد نیا پینٹ کیا جاتا ہے، جس کے لیے 60ٹن پینٹ درکار ہوتا ہے۔

ایفل ٹاور

بلندی کی دوڑ

1889ء میں مکمل ہونے کے 41برس تک ایفل ٹاور کو دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل رہا۔ 1930میں نیویارک، امریکا میں تعمیر ہونے والی کرائسلر بلڈنگ نے ایفل ٹاور سے یہ اعزاز چھینا۔ تاہم اس دوڑ میں ایک اور دل چسپ موڑ اس وقت آیا، جب ایفل ٹاور کے اوپر براڈکاسٹنگ ایریل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس تعمیر کے بعد ایفل ٹاور، کرائسلر بلڈنگ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پھر سے دنیا کی بلند ترین عمارت بن گیا۔ایفل ٹاور، کرائسلربلڈنگ سے 5.2میٹر (17فٹ) بلند ہے۔ ایک سال بعد 1931میں نیویارک، امریکا میںایک اور بلند و بالا عمارت ’ایمپائر اسٹیٹ‘ تعمیر ہوئی۔ 443میٹر کے ساتھ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ، ایفل ٹاور سے 19 میٹر بلند ہے۔ ہر چند کہ اب دنیا میں ایفل ٹاور سے زیادہ بلند و بالا اور فلک بوس متعدد عمارتیں تعمیر ہوچکی ہیں، تاہم خوب صورتی اور انفرادیت کے لحاظ سے ایفل ٹاور کا کوئی ثانی نہیں۔

ایفل ٹاور کا آرکیٹیکچر

ایفل ٹاور 324میٹر یا 1,063فٹ بلند اور 10,100ٹن وزنی ہے۔اس کی تعمیر میں لوہے اور اسٹیل کے 18,000ٹکڑوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر 25لاکھ کیلوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔بنیادوں میں 40فٹ تک پتھر اور لوہا بھرا گیا اور 12ہزار لوہے کے شہتیر کام میں لائے گئے۔ یہ مینار چار شہتیروں پر کھڑا ہے، جن میں سے ہر ایک 279مربع فٹ رقبہ گھیرے ہوئے ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے لوہے اور اسٹیل کا مجموعی وزن 7,300ٹن ہے۔ اس کے چاروں طرف ستونوں کے درمیان ایک محراب بنی ہوئی ہے، جس کے تین پلیٹ فارم یا منزلیں ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 189فٹ، دوسرا 380 اور تیسرا سطح زمین سے 906فٹ بلند ہے۔ اس کی چوٹی پر موسمیاتی رسدگاہ اور ریڈیو ٹیلی ویژن کے انٹینے نصب ہیں۔ایفل ٹاور کی تعمیر دو سال، دو ماہ اور پانچ دن میں مکمل ہوئی۔ سردیوں میں یہ ٹاور تقریباً 6انچ سُکڑ جاتا ہے، جب کہ شدید ہواؤں میں یہ دو سے تین ا نچ ہوا کے رُخ میں جھول مارتا ہے۔ اس کا ڈیزائن فرانس کے نام ور انجینئراور آرکیٹیکٹ گستاف ایفل نے تیارکیا تھا، جس کے نام پر اسے ’ایفل ٹاور‘پُکارا جاتا ہے۔

ایفل ٹاور کے افتتاح کے 125برس پورے ہونے کے موقع پرمینار کی کشش میں اضافے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے، ان میں پلیٹ فارم کے فرش پر لگائی گئی موٹے لیکن شفاف شیشے کی وہ پلیٹیں ہیں، جن میں سے سیاح اپنے پاؤں کے نیچے زمین کا منظر واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ ٹاورکے چاروں کونوں میں چار بڑے بڑے گلاس فلور پینل لگائے گئے ہیں، جنھیں گزشتہ سال 6اکتوبر کو سیاحوں کے لیے کھول دیا گیاتھا۔ منصوبے پر3کروڑ یورو لاگت آئی۔

سیاحوں کا پسندیدہ ترین مقام

ایفل ٹاور، دنیا بھر میں سیاحوں کا پسندیدہ ترین مقام ہے۔ یہاں ہر سال 70لاکھ سے زیادہ سیاح گھومنے آتے ہیں۔ ایفل ٹاور کو دیکھنے اب تک 30کروڑ سے زائد سیاح آچکے ہیں۔ شفیع عقیل اپنے سفرنامے ’پیرس تو پھر پیرس ہے‘ میں لکھتے ہیں کہ ایفل ٹاور کے تیسرے پلیٹ فارم پر واقع ریستوران میں ہر وقت سیاحوں کا ہجوم دیکھنے میں آتا ہے کہ جیسے اس کے علاوہ پیرس میں کہیں اور کھانے کی چیزیں نہیں ملتیں۔

ایفل ٹاور کا گھومنا مفت کا سودا نہیں، اس کے لیے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔وسط جولائی سے اختتامِ اگست تک یہاں سیاحوں کی آمد اپنے عروج پر ہوتی ہے اور ٹکٹ خریدنے کے لیے عموماً دوگھنٹے لائن میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جس وقت سیاحوں کی آمد عروج پر نہیں ہوتی، ان دنوں بھی، ہفتے کے اختتامی دو دنوں میں ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے کم از کم آدھے گھنٹے کا انتظارکرنا پڑتا ہے۔ آن لائن خریدی گئی ٹکٹ کے لیے بھی سیاحوں کو گھومنے کا وقت بتانا اور بتائے گئے وقت پر پہنچنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی سیاح بتائے گئے وقت کے 30منٹ کے اندر اندر نہ پہنچ پائے تو امکان یہی ہے کہ اسے داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 2017میں داخلہ ٹکٹوں سے ہونے والی آمدنی73ملین یورو (پاکستانی کرنسی میں تقریباً 10ارب روپے) رہی تھی۔

سیڑھیاں چڑھنے کی دوڑ

ایفل ٹاور کے ٹاپ فلور تک پہنچنے کے لیے تقریباً ہر شخص ہی لفٹ کا استعمال کرتا ہے، کیوں کہ 665 سیڑھیاں چڑھنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اس لیے اب ہر سال ایفل ٹاور کو پیدل سر کرنے کے لیے ’ورٹیکل ریس‘ کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں سیکڑوں ایتھلیٹ حصہ لیتے ہیں۔ ٹاور کو 7منٹ 48 سیکنڈ  کے مختصر ترین وقت میں سر کرنے کا ریکارڈ Piotr Lobodzinski نامی ایتھلیٹ کے پاس ہے۔

تازہ ترین