آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان دنوںجاپان بھر کی تمام مساجد و پاکستانی ریستورانوں میں ہر روز افطار ڈنر کا اہتمام کیا جارہاہے ،مسلمان ماہ صیام کی برکتوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔اس حوالے سے معروف پاکستانی ریستوران میں پاک کمیونٹی کی ہر دلعزیز ادبی شخصیات ٹیپو برادران کی جانب سے دوستوں کے اعزاز میں ایک گرینڈ افطار ڈنر کا اہتمام کیاگیا، جس میں جاپان بھر سے ہر مکتبہء فکر کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔اس افطار پارٹی میں برطانیہ سے تشریف لائے ہوئے عالم دین صاحبزادہ فیاض الحسن نے خصوصی شرکت فرمائی۔ 

جاپان میں افطار پارٹی

معزز مہمان نے افطار ونماز مغرب کے بعد مختصر درس دیتے ہوئے ماہ رمضان المبارک کے فضائل پر گفتگو فرمائی ۔انھوں نے کہا کہ اسلام دیگر مذاہب کی طرح فقط ایک مذہب ہی نہیںہے بلکہ ایک دین ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل ضابطہء حیات ہے۔ معز ز مہمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگ اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو ہمارے لئے لمحہء فکرہے،ہمیں چاہئے کہ دین اسلام کو اپنی زندگیوں میں داخل کریں اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں ،ہرمسلمان کو اپنی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے اور جو لوگ دین اسلام کا شعور رکھتے ہیںوہ دوسروں کو نہایت ہی اخلاق و نرم لہجے میں اسلام کی تلقین کریں اور اپنے خیالات یا اپنی رائے کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔ معزز مہمان نے ریستوران کی انتظامیہ و ٹیپو برادران کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے یہ سنہری موقع فراہم کیا کہ وہ جاپان میں پاکستانی کمیونٹی سے اظہار خیال کرسکیں۔واضح رہے کہ معزز مہمان صاحبزادہ فیاض الحسن عرصہ دراز سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور وہ پاکستان کے صوبے پنجاب کے تاریخی شہر جھنگ میں واقع دربار حضرت سلطان باہو کے سجادہ نشین بھی ہیں۔ آخر میں ٹیپو معوز، نوید امین اور محمد شاہد عون نے تمام دوستوں کی آمد کاشکریہ ادا کیا۔ اس افطار ڈنر میں ہم خیال دوستوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔

جاپان میں افطار پارٹی

جاپان بھر کی سو سے زائد مساجد میں روزہ داروں کی کثیر تعدادشرکت کرتی ہے ۔گزشتہ دنوں سائتاما پریفکچر کے شہر یاشیو میں قائم مسجد غوثیہ میںتقریباً ایک سال بعد جانے کا موقع ملا ۔مسجد ہذاکا شمار سائتاما پریفکچر کی قدیم مساجد میں ہوتا ہے جو ٹوکیو سے فقط چند کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہے ،جسے پاکستانی مسلمانوں کی کاوشوں سے تعمیر کیاگیاہے۔مسجدمیں بیک وقت ڈیڑھ سو سے زائد نمازی عبادت کر سکتے ہیںجبکہ خواتین وبچوں کے لئے علیحدہ انتظام کیا گیا ہے اور مسجد کے احاطے میں بیت الخلاء اور وضو خانے بھی تعمیر کئے گئے ہیں ۔مسجد کی انتظامی کمیٹی کے ارکان ملک ریاض جیلانی اورا لیاس بٹ نے خصوصی طور پر شرکت کرنے کی دعوت دی تھی۔روزہ افطار کرنے کے لئے انتظامیہ کمیٹی کی جانب سے افطار ی وڈنر کا اہتمام کیا گیاتھا جو مسجدکے خدام نے بڑی دل جمعی اور خلوص سے مسجد سے ملحق نعمت خانے میں تیار کیاتھا۔ روزہ افطار سے قبل مسجد کے نوجوان امام وخطیب حافظ مفتی محمد رضوان یوسفی نے ماہ صیام کے حوالے سے خطاب بھی کیا۔ روزہ افطار کے بعد نماز مغرب اداکی گئی۔ بعد ازاں حافظ محمد رضوان یوسفی سے گفتگو کا موقع ملا تو انھوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ چھ سال سے یہاں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور مسجد سے متصل گھر میںاپنے کنبے کے ساتھ مقیم ہیں۔ 34سالہ حافظ رضوان کا تعلق لاہور سے ہے جنھوں نے فقط تیرہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کیاتھا اور چودہ سال کی عمر سے متواتر نماز تراویح میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہے ہیں۔

جاپان میں افطار پارٹی

یاشیو مسجد یاشیو شہر کے ایک آبادی والے علاقے کے مرکزی حصے میں قائم ہے جہاں گھروں کے علاوہ چھوٹی چھوٹی صنعتیں بھی قائم ہیں ، روزانہ پنج وقتہ نماز میں نمازیوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی مگر جمعہ یا ماہ رمضان میں نمازیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتاہے اور گاڑیوں پر سوار ہو کر نماز کے لئے تشریف لانے والے مسلمان اپنی گاڑیاں مسجد کے سامنے یا نزدیک پارک کرنے میں کوئی تکلف نہیں برتتے جس کی وجہ سے عموماً اڑوس پڑوس کے لوگ غلط پارکنگ کی وجہ سے فوری طور پر پولیس میں رپورٹ بھی کردیتے ہیں۔انتظامیہ نے تمام نمازیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ کوشش کیا کریں کہ ایک گاڑی میںجتنے بھائی سوار ہوسکتے ہیں ہو کریا پیدل تشریف لائیں اور جو بھائی گاڑی کے بغیر نہ آسکیں انھیں چاہئے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو کرائے کی پارکنگ میں پارک کریں یا ایسے مقامات پر گاڑیاں کھڑی کریں جہاں کسی جاپانی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ کسی بھی گھر کے سامنے یا کمپنی یا دکان کے سامنے گاڑی کھڑی کرنا جرم ہے خواہ وہ دفتر یا کمپنی بند ہی کیوں نہ ہو،اگر ہم جاپان کے ان قوانین پر عمل نہیں کریں گے تو خدشہ ہے جاپان میں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں مساجد قائم ہیں وہاں کے لوگوں پر اسلامی تعلیمات کا غلط تاثر پڑ سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں