• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جی این مغل
(گزشتہ سے پیوستہ)
گزشتہ کالم میں، میں نے اس کالم نویس کی شناخت نہیں دی تھی جس نے ایک زہر آلود کالم لکھا ہے‘ پتہ نہیں ان کا ایسا کالم لکھنے کا مقصد کیا تھا؟ کس کے کہنے پر انہوں نے ایسا کالم لکھا۔مجھے جنگ کے قارئین کے کئی ٹیلی فون آئے ہیں کہ یہ کالم نویس کون ہے ؟ ان کی شناخت کیوں نہیں کی جاتی۔ میں نے اس سے پہلے بھی جنگ میں ان کا ایک کالم پڑھا تھا جس میں بھی انہوں نے اسی کمیونٹی کے خلاف زہر اگلا تھا مگر چونکہ اس وقت اس کے زہریلے جملے مختصر تھے اس وجہ سے ان کے اس کالم کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اس سے پہلے کہ میں ان کے اس کالم کے زہر بھرے جملوں کو من و عن یہاں شائع کرکے ان کے بارے میں اپنی طرف سے حقائق پیش کے کروں،مناسب ہوگا کہ پچھلے کالم میں‘ میں نے جو حقائق پیش کئے ہیں ان کی وضاحت کے لئے مزید حقائق پیش کروں‘ گزشتہ کالم میں‘ میں نے کالم نگار کے اس غلط الزام کے جواب میں کہ سندھ میں دیہی شہری کوٹہ پی پی کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نافذ کیا تھا اس بات کو درست کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ یہ کوٹہ یحییٰ خان کے زمانے میں سندھ کے پختون گورنر جنرل رخمان گل نے نافذ کیا تھا،بعد میں اس کوٹہ کو من و عن 1973 ء کے آئین کا حصہ بنایا گیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس آئین کا مسودہ بھٹو کی اس وقت کی حکمران پارٹی پی پی نے متعارف کیا تھا مگر بعدمیں بشمول اس کوٹہ سسٹم کے سارا آئین اتفاق کرنے سے قومی اسمبلی نے منظور کیا۔و اضح رہے کہ اس آئین کی منظوری دینے والوں میں سندھ کے شہری علاقوںسے منتخب ممبران بھی شامل تھے جن میں سے فی الحال میں جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد اور جے یو پی کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی کے نام یہاں پیش کررہا ہوں۔ اس کالم میں سب سے جو زہر بھری ٹرم استعمال کی گئی ہے وہ ہے ’’متروکہ سندھ‘‘ یہ ٹرم سندھ کے لئے استعمال کی گئی ہے‘ ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین تو بڑے پیمانے پر پنجاب میں بھی آباد ہوئے کیا پنجاب کے لئے کبھی ایسا ٹرم استعمال کی گئی؟ سندھ کے عوام بار بار سوال کرتے ہیں کہ آخر ان کے بارے میں ایسی زبان کیوں استعمال کی جاتی ہے‘ کیا پاکستان بنانے اور اپنے بھائیوں کے لئے دل کے دروازے تک کھولنے کا یہ انعام دیا جارہا ہے‘ اس جملے میں کہا گیا ہے کہ سندھ سے جو ہندو گئے تھے وہ ’’متروکہ سندھ ‘‘ہے یعنی دل کے دروازے کھولنے کا یہ انعام دیا گیا ہے ‘ مجھے بتایا جائے کہ 1950 ء میں کئے گئے لیاقت نہرو معاہدے میں کہاں ایسی بات لکھی گئی ہے‘ آخر اس قسم کے غلط حقائق کیوں پیش کئے جارہے ہیں؟ کیا کسی سندھی نے ہندو کی طرف سے ترک کی گئی املاک پر قبضہ کیا ؟ اگر ایسا ہے تو جگہ اور سال کا ذکر کرکے بات کو واضح کیا جائے‘ حقیقت یہ ہے کہ کسی سندھی نے ان املاک میں سے کسی پربھی قبضہ نہیں کیا‘ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے کئی مقامات پر جہاں ہندو اپنی املاک چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے تو وہ اپنی عمارتوں اور گھروں کی چابیاں محلے کے سندھیوں کے حوالے کرگئے مگر کیا سندھی نے کسی ایسے گھر پر بھی قبضہ کیا؟ تو پھر حقائق کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا حقیقت یہ نہیں کہ حکومت نے ملکی سطح پر متروک املاک کا ٹرسٹ بنایا‘ ہندو جو گھر اور عمارتیں چھوڑ گئے تھے وہ حکومت کے احکامات کے تحت ہر ضلع کی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیں‘ بعد میں یہ املاک ہندوستان سے آنے والے ہمارے مسلمان بھائیوں کو الاٹ کی گئیں‘ کیا کسی مرحلے پر سندھ کے لوگوں نے اس عمل میں رکاوٹ ڈالی‘ اعتراض کیا‘ ان میں سے کسی گھر یا عمارت پر اپنا کلیم داخل کیا اس کے برعکس اگر میں غلط نہیں ہوں تو لیاقت نہرو معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ جو لوگ ہندوستان میں اپنے گھر اور جائیداد چھوڑ کر آئیں گے پاکستان میں آکر اپنے ان گھروں اور عمارتوں کے بارے میں اپنی ملکیت ثابت کرنے کے سلسلے میں ہندوستان میں چھوڑی گئی املاک کے بارے میں مالکانہ کاغذات یہاں کی انتظامیہ کو پیش کریں گے‘ بعد میں ،اس معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کا فرض تھا کہ وہ ان کاغذات کی تصدیق ہندوستان کی حکومت سے کراتی‘ کیا ایسا ہوا؟ اگر ہوا تو کس حد تک ہوا‘ مجھے افسوس ہے کہ مجھے جو لیاقت نہرو معاہدہ ملا ہے وہ نامکمل ہے میں کوشش کررہا ہوں کہ مکمل معاہدہ حاصل کرکے اس کا معائنہ کرنے کے بعد مزید حقائق پیش کروں۔ غلط حقائق اس حد تک مذکورہ کالم میں پیش کئے گئے ہیں کہ آزادی سے پہلے سندھ میں 45 نشستیں ہندوئوں کی ہوتی تھیں اور 55 نشستیں سندھی بولنے والے مسلمانوں کی ہوتی تھیں یعنی وہ اس مرحلے پر سندھیوں کو مسلمان کہنے کے لئے بھی تیار نہیں‘ بھائی اگر سندھی مسلمانوں اور ہندو سندھیوں کی نشستوں میں فقط دس کا فرق تھا‘ تو مسلم لیگ سندھ اسمبلی سے قرار داد اتفاق رائے سے منظور کرانے میں کیسے کامیاب ہوگئی؟ حقائق یہ ہے کہ جب ہندو ممبران نے دیکھا کہ اسمبلی میں مسلمان ممبران کی ہندو ممبران کے مقابلے میں بھاری اکثریت تھی حالانکہ کچھ مسلمان ممبران ہندو ممبران کا ساتھ دے رہے تھے۔ براہ مہربانی آئندہ ایسے غلط حقائق شائع کرنے سے پرہیزکیا جائے ‘ سب سے زہر آلود فقرہ یہ ہے کہ اس کالم میں ایک مرحلے پر سندھ کے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ ’’سندھی سوچ سے باہر آکر مسلمان بن کر سوچئے‘‘ کیا یہ مہربان سندھی سوچ یا سندھیوں کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے! براہ مہربانی ایسے مہربانوں کو بتایا جائے کہ اسلام برصغیر میں سب سے پہلے سندھ میں آیا تھا اور بعد میں برصغیر کے دوسرے علاقوں میں پھیلا‘ کیا ان کو یہ پتہ نہیں کہ قرآن شریف کا سب سے پہلے جس غیر عربی زبان میں ترجمہ کیا گیا وہ سندھی زبان ہے اور یہ ترجمہ کرنے والا سندھی عالم مولانا ہدایت اللہ (مٹیاری) تھے‘ کیا ان کو یہ پتہ نہیں کہ سارے ہندوستان میں ایک مرحلے پر چلائی گئی ’’سفید رومال‘‘ تحریک سندھ کے مقام ٹھٹھہ سے چلائی گئی تھی‘ ہمیں علماء نے بتایا کہ حدیث شریف ہے کہ ایک بار ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے اصحابہ کو بتایا کہ انہیں سندھ سے آنے والی ہوا سے راحت ملتی ہے‘ کیا ایسے سندھ اور ایسی سندھی سوچ کی اس حد تک توہین کرنا مناسب ہے؟
تازہ ترین