آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرا کیس صرف یہ تھا کہ کیلکولیشن میں معمولی غلطی ہوگئی تھی، شیخ رشید

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہاہے کہ میں پہلے دو عدالتوں سے جیت چکا تھا اب تیسری عدالت سے بھی کیس جیت گیا ہوں، میرا کیس صرف یہ تھا کہ کیلکولیشن میں معمولی غلطی ہوگئی تھی، نہ میں پاناما ہوں نہ میرا اقامہ ہے نہ میں منی لانڈرر ہوں نہ میں نے کوئی چیز چھپائی ہے، اگر کسی چیز کی ویلیو کم ہے تو میں نے انہیں پیشکش کی تھی کہ اتنے پیسے دے کر آپ یہ مکان لے لیں، میں نے سوچا نہیں تھا کہ میرا کیس اتنا اہم ہوگا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں ن لیگیوں کی سیاسی موت کا نام ہوں ، میں اسمبلی میں آرہا ہوں ، آرٹیکل 62اور 63میں ان کیلئے دس نمبر کا لتر لے کر آرہا ہوں، یہ خانہ نمبر دو کے لوگ تھے جو خانہ نمبر ایک میں آگئے ہیں، مریم نواز سے درخواست کرتا ہوں میں بچوں پر کبھی تبصرہ نہیں کرتا، میں چوہدری نثار نہیں کہ کہوں بولوں کہ نہ بولوں، میں تین سال انتظار کرنے والا آدمی نہیں ہوں، تین منٹ میں ایسا پوسٹ مارٹم کروں گا کہ مریم سیاست سے بھاگ جائیں گی، میں

مریم نواز کو آخری وارننگ دیتا ہوں، میرا نام نواز شریف نہیں شیخ رشید ہے، میں مفاہمت کرنے پر یقین نہیں رکھتا فرنٹ فٹ پر کھیلتا ہوں، میں نے مریم نواز پر کبھی تبصرہ نہیں کیا نہ کروں گا، نواز شریف کی تباہی کی ذمہ دار مریم نواز ہیں،آج نواز شریف جہاں کھڑے ہیں اس کا کریڈٹ مریم بی بی کو جاتا ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 60اور 62 سے قلم دوات کے نشان پر الیکشن لڑرہا ہوں، عمران خان کے ساتھ مل کر الیکشن لڑرہا ہوں، میری پوری کوشش ہوگی کہ عمران خان حکومت بنائے، اگر معلق پارلیمنٹ کی صورتحال پیدا ہوئی تو اتحاد کا حامی ہوں، پاکستان میں آئندہ شریف خاندان کی سیاست نہیں دیکھ رہا ہوں، یہ ویسے ٹارزن بنے ہوئے ہیں لیکن اندر لوگوں کے قدموں میں بیٹھے ہوئے ہیں، ان کی پوری کوشش ہے کہ کوئی راستہ نکلے مگر امید ہے کوئی راستہ نہیں نکلے گا،ن لیگ تو نااہل ہوگئی جو نئی لیگ آئے گی اس سے بات کریں گے، مجھے یقین ہے عمران خان حکومت بنائیں گے، شہباز شریف ہمیشہ درمیانی راستہ کی تلاش میں رہتے ہیں، اس وقت ن لیگ کی سیاست نواز شریف اور مریم نواز کے پاس ہے، شہباز شریف ہمیشہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، پرویز مشرف کو بیوقوف بنانے میں بھی شہباز شریف کا کردار تھا، آج بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے رشتہ داروں کے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عید کے بعد انتخابی مہم شروع ہونے پر پتا چلے گا کون کتنے پانی میں ہے، ن لیگ کا صرف عمران خان اور پی ٹی آئی مقابلہ کرسکتے ہیں، پیپلز پارٹی پنجاب کی سیاست میں ڈینٹ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، عمران خان نے مجھے لاہور سے لڑنے کیلئے کہا مگر میں نے معذرت کرلی کہ میرے لئے دو نشستیں کافی ہیں، پنڈی ڈسٹرکٹ میں پی ٹی آئی جیتے گی۔ ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید نااہلی کیس میں عدالت نے بہت ہی مناسب فیصلہ دیا ہے، اس معاملہ میں بہت سادہ واقعات تھے کوئی قانونی پیچیدگی نہیں تھی ، اگر اسے دیگر کیسوں کے فیصلے کے سامنے رکھ کر دیکھاجائے تو کوئی نئی روش نظر نہیں آتی ہے، ایک تو جمع تفریق کا معاملہ تھا جبکہ دوسری طرف جائیداد کی قیمت کم بتانے کا معاملہ تھا لیکن اس حوالے سے کوئی مستند ثبوت سامنے نہیں آیا۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دیگر بڑے آئینی معاملات کی طرف اشارہ کیا وہ واقعتاً اس مقدمہ میں نہیں اٹھتے تھے، جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنی رائے ظاہر کی ہے کہ فیصلوں میں عدم تسلسل ہے بظاہر کچھ ایسے معاملات ہیں جن کے حوالے سے مربوط نظرثانی ہونی چاہئے ، ایک بڑا بنچ ان معاملات کو دیکھ کر ان تمام فیصلوں کی رو سے جو اصول وضع ہوتے ہیں ان کا اظہار کرے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پاناما فیصلے میں نااہلی اور اثاثے چھپانے یا اثاثے ظاہر کرنے کا کیا معیار استعمال ہوا اس پر بحث ہوسکتی ہے، جہانگیر ترین اور عمران خان کے فیصلوں میں بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ کب کس اثاثے کا ظاہر نہ کیا جانا اہلیت یا نااہلیت کا باعث نہیں بنتا ہے، عمران خان کے فیصلے میں ان کی طرف سے اثاثے کا اظہار کرنا کافی سمجھا گیا اس لئے انہیں نااہل قرار نہیں دیا گیا، جہانگیر ترین کے فیصلے میں آیا کہ کسی اثاثے کی بینیفیشل ملکیت ظاہر کرنا بہت اہم ہے اور اس کا کاغذات نامزدگی میں اظہار کرنا بہت ضروری ہے، جسٹس فائز عیسیٰ نے 184/3کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ اس آرٹیکل کے تحت اہلیت اور نااہلیت کے معاملہ اٹھایا جاتا ہے تو اپیل کا حق ختم ہوجاتا ہے ، اس اعتراض کا جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے فیصلے میں دیدیا ہے، ان کا موقف ہے کہ آئین میں جب 184/3ہے تو اس کا استعمال جب بھی ہوگا تو اپیل نہیں ہوگی۔سیکرٹری جنرل آل پاکستان مسلم لیگ ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق مشاورت جاری ہے، پرویزمشرف کی صحت کی صورتحال سے متعلق بھی بات ہورہی ہے، عدالت سے ایسی کوئی یقین دہانی نہیں مانگی کہ پرویز مشرف کو کیسوں سے بری کردیا جائے یا انہیں کبھی گرفتار ہی نہ کیا جائے۔ ترجمان ایف بی آر محمد اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق آج رات بارہ بجے سے موبائل کارڈ سے جتنا بیلنس لوڈ کیا جائے گا اتنے ہی پیسے ملیں گے، عدالتی حکم کی روشنی میں ہمیں اب ایسا میکنزم بنانا ہے کہ جن لوگوں کی آمدنی ٹیکس ایبل نہ ہو ان سے موبائل کارڈز پر ٹیکس وصول نہ کیا جائے۔نمائندہ خصوصی جیو نیوز زاہد گشکوری نے کہا کہ زلفی بخاری کو بیرون ملک جانے سے روکنے جانے پر تین ٹیلیفون کالز کی گئیں، ایک اہم کال وزارت داخلہ میں آئی جس کے بعد چھبیس منٹ میں زلفی بخاری کو باہر جانے کی اجازت دینے کا پراسس مکمل ہوگیا، نگراں وزیرداخلہ نے زلفی بخاری کے معاملہ پر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کیے، قانون کے مطابق جس ادارے کی سفارش پر کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اس سے پوچھا جاتا ہے لیکن زلفی بخاری کے معاملہ پر نیب سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اختلافی فیصلے کے ساتھ شیخ رشید کو بھی اہل قرار دیدیا، اب شیخ رشید 2018ء کے انتخاب لڑسکیں گے، جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس سجاد شاہ پر مشتمل بنچ کا فیصلہ بہت اہم ہے ،کیس کا فیصلہ جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے اختلافات کرتے ہوئے اپنا فیصلہ لکھا جس کی تائید جسٹس سجاد شاہ نے بھی کی جس کے بعد جسٹس عظمت سعید شیخ کا فیصلہ ہی اکثریتی فیصلہ قرار پایا، اہم بات یہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ ضرور لکھا لیکن انہوں نے بھی شیخ رشید کو نااہل نہیں کیا یعنی تینوں ججوں نے شیخ رشید کو نااہل نہیں کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں اراکین اسمبلی کی اہلیت کا معاملہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو بھجوانے کا کہا اور لکھا کہ سات سوالوں کے جوابات کا جائزہ لیا جائے، انہوں نے مزید لکھا کہ جو اصول نواز شریف کے کیس میں لاگو کیے گئے اگر شیخ رشید کے کیس پر لاگو کیے جائیں تو وہ بھی نااہل ہوجاتے ہیں، جسٹس فائز عیسیٰ کے فیصلے پر مریم نواز کا ٹوئٹ بھی سامنے آیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے وفاق پر خدشات اٹھادیئے ہیں، نواز شریف کی نااہلی کا جائزہ فل بنچ کو کرناچاہئے،سپریم کورٹ میں بلوچستان سے اٹھنے والی واحد آواز خاموش نہیں ہونی چاہئے، مریم نواز نے مزید لکھا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا ہے کہ ہمیں یہ تاثر دور کرنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے کہ مختلف لوگوں کو مختلف انداز میں نہ نمٹا جائے۔شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ میں بہت سے اہم نکات کی نشاندہی کی گئی ہے، انہوں نے اپنے فیصلے میں غلط بیانی کا اصول واضح کردیا کہ اگر غیرقانونی فائدہ پہنچتا ہے تو نااہلی ہوگی مگر معمولی غلطی پر جس سے کوئی غیرقانونی فائدہ نہ پہنچتا ہو وہاں نااہلی نہیں بنتی اور اس قسم کے معاملات میں مزید توجہ اور چھان بین کی ضرورت ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے واضح کیا کہ اگر ذمہ داری کے سخت اصول کو لاگو کیا جاتا تو شیخ رشید نااہل ہوجاتے، انہوں نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ذمہ داری کے سخت اصول کیا ہیں اور کن عدالتی فیصلوں میں طے کیے گئے، اس حوالے سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاناما کیس کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور لکھا کہ سپریم کورٹ کے ایسے فیصلے موجود ہیں جہاں سخت ذمہ داری کے اصولوں کو لاگو کیا گیا اور یہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی غلط بیانی اور جائیداد کے چھپانے کا نتیجہ نااہلی بنتی ہے،ایک رکن اسمبلی جسے پارلیمنٹ کی اکثریت نے ووٹ دے کر وزیراعظم بنایا اسے نااہل کردیا گیا اور ان کی وزارت عظمیٰ بھی چلی گئی کیونکہ انہوں نے اپنی آمدنی جو اقامہ کے ذریعہ انہیں ملتی تھی وہ ظاہر نہیں کی، یوں پاناما کے دوسرے اور تیسرے فیصلے میں سخت ذمہ داری کے اصول لاگو کیے گئے حالانکہ یہ فیصلے سپریم کورٹ کے اپنے ہی فیصلوں کے مطابق نہیں کیونکہ عدالت کے دیگر فیصلے یہ بتاچکے ہیں کہ غلط بیانی اور اثاثے چھپانے کے ایسے معاملات پر نااہلی ہوگی جو قانون اور نااہلی سے بچنے کیلئے کی گئی ہو، یعنی جسٹس فائز عیسیٰ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کے کیس میں بھی عدالت کو واضح کرنا چاہئے کہ نواز شریف نے قانونی یا نااہلی سے بچنے کیلئے اثاثے چھپائے یا غلطی کی، اگر ایسا نہیں تو ان کی نااہلی کا فیصلہ درست نہیں ہے، عدلیہ کو یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ اہلیت کے معاملہ میں مختلف لوگوں سے مختلف طریقے سے نمٹا جاتا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز انتخابات سے متعلق کیسز سن چکے ہیں اس لئے چیف جسٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بنچ بنائیں بہتر ہوگا کہ وہ فل کورٹ بنچ ہو ، اس بنچ کے سات سوالات رکھے جائیں، جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کی آرٹیکل 62/1Fکی تشریح ماضی میں آنے والے فیصلوں میں کی جاچکی ہے، ان میں سے ایک فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی دائر کی گئی جسے مسترد کرنے والے بنچ کا حصہ خود جسٹس فائز عیسیٰ بھی تھے، جسٹس عظمت سعید شیخ نے اپنے فیصلے کے 23میں سے 16 نکات میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سوالات کا جواب دیا ہے۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ شیخ رشید سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نظر آئے، انہوں نے بھرپور انداز میں سیاسی جدوجہد کا اعلان بھی کیا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہاکہ عمران خان کے قریبی دوست اور پاکستانی نژاد برطانوی تاجر زلفی بخاری کو ای سی ایل کی بلیک لسٹ میں ہونے کے باوجود پاکستان سے باہر جانے دینے کے وزارت داخلہ کے فیصلے پر نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے رپورٹ طلب کی تھی جو وزیراعظم ہاؤس بھجوادی گئی ہے، ذرائع کے مطابق زلفی بخاری کو جب سعودی عرب جانے سے روکا گیا تو عمران خان نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ کرنے پر وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام سے شدید احتجاج کیا تھا کہ ایک آدمی جس کا پاکستان میں کوئی اسٹیک نہیں اسے بلیک لسٹ پر رکھنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، عمران خان نے زلفی بخاری کیلئے ذاتی ضمانت دی جس پر نگراں وزیرداخلہ نے اپنی صوابدید پر زلفی بخاری کو جانے کی اجازت دی، ذرائع کے مطابق صرف چھبیس منٹ میں زلفی بخاری کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں