آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پچھلی دہائی میں جدید مشینوں کی تخلیق میں حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے ۔ برقی آلات مختصر ترین صورت میں تشکیل ہو رہے ہیں۔جن کا استعمال جاسوسی اور دفاعی مقاصد کے لیے بھی ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک دریافت robot کیڑے ہیں۔ یہ کیڑے آدھی مشین اور آدھا زندہ جسم پر مشتمل ہوتے ہیں، ان کو میلوں دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ان زندہ کیڑوں کے جسموں کے ساتھ کیمرے اور مائیکرو فون کو نصب کردیا جاتا ہے اور پھر میلوں دور سے ریموٹ آلات کے ذریعے ان کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔یہ کیڑے اُڑتے ہوئے کسی بھی ننھے سے جھروکے سے اندر جا کر دیوار پر بٹھائے جا سکتے ہیں۔ جہاں ہمارے صدر، وزیرِاعظم یا آرمی چیف بیٹھے ہوں اور قومی حکمتِ عملی کی اہمیت پر خفیہ گفتگو کررہے ہوں، تو اُن کی تصاویر اور آوازیں وہاں سے میلوں دور کسی بھی غیر ملکی سفارتخانے تک پہنچ سکتی ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔یہ مشینی کیڑے Caltechکی Jetpropulsion لیب Pasadenaمیں تیار کئے گئے ہیں اور اس پروجیکٹ کے لیے فنڈز ناسا (NASA) نے فراہم کیے ہیں۔ (www.tinyurl.com/ojwmdq) ان کیڑوں کی ٹیکنالوجی یہ ہے کہ ایک (Chip) ان کے دماغ میں لگا دیا جاتا ہے جو ان کے اعصابی خلیات سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ ان مشینی کیڑوں کو پھر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کسی بھی جگہ بھیجا جا سکتا ہے۔اس قسم کے دفاعی ہتھیار امریکہ کی

دفاعی ایجنسیوں سے کی جانے والی فنڈنگ کے ذریعے تیار کئے جارہے ہیں جو کہ کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ اقوام اپنی حفاظت کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کریں۔
اس مکھی ہی سے مطابقت رکھتے ہوئے جاسوس بھونر ے اور ننھے چوہے بھی ایک جاپانی سائنسدان (جامعہ برائے زراعت و ٹیکنالوجی، ٹوکیو) نے بھی تخلیق کر لیے ہیں۔ روبوٹ کے استعمال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے گاڑی کی صنعت کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔جہاں ہر مخصوص کام کو انجام دینے کے لیے روبوٹک ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔فارمیسی کی صنعت کو بھی تیز رفتار روبوٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔تا کہ ایک دن میں 50,000 سے زائد مرکبات کے اثرات کو جانچا جا سکے۔FRAC سینٹر اورلینOrleanفرانس کے سائنس دانوں اور انجینئروں نے ایسے اُڑنے والے روبوٹ Quadrocopterکے نام سے تیار کرلیے ہیں جو اس ٹیکنالوجی کی بقاء کے لیے اپنی مثال آپ ہیں۔ان ہوائی روبوٹ کے ذریعے ایک بلڈنگ تیار کی گئی ہے تا کہ تعمیراتی مقاصد میں ان کے کامیاب استعمال کو متعارف کرایا جا سکے۔اس ٹاور کی تیاری میں بہت سارے اُڑنے والے روبوٹوں کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ اینٹوں کو اس طرح اٹھا کر ٹھیک جگہوں پر رکھتے ہیں جیسا کہ کسی موسیقی کی محفل میں رقص کر رہے ہوں۔ ان میں کئی قسم کے سینسر نصب ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں مدد دیتے ہیں اور کام کے دوران آپس میں ٹکراؤ سے روکتے ہیں۔یہ انتہائی برق رفتار اورمشاق ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کی پیچ دار اور خم داراُڑان کر سکتے ہیں ۔مستقبل میں بلڈنگوں کی تعمیر کے لیے شاید اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔
ایک اور دلچسپ ترقی یہ ہے کہ جراثیم (bacteria) کو کچھ مخصوص کاموں کی انجام دہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پرپروفیسر سلویان مارٹل (Prof. Sylvian Martel) اور ان کے ساتھی NanoRobotics Laboratory of Ecotle Polytechnique de Montreal, Canada
یہ پتہ لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ایک مخصوص مقناطیسی آلے کے ذریعے کچھ جراثیم کی اقسام کوقابو کیا جاسکتا ہے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ان (Magnetotectic) جراثیم کو مقناطیسی کشش کے ذریعے اپنا تابع کیا جاتا ہے۔ایک فرانسیسی سائنسدان نے بیرونی مقناطیسی کشش کے ذریعے 5,000 بیکٹیریا کے جھنڈ کو قابو کر کے Epoxy (ایک حصہ آکسیجن اور دو حصے کاربن کا مرکب) کی اینٹوں سے ایک چھوٹا سا اہرام صرف 15 منٹ میں تیار کروا لیا۔ اسی طرح جراثیم کو اپنی نگہداشت میں خون کی نالیوں میں بھی سرایت کرنے کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے۔اب سائنسدانوں کا پلان ہے کہ ان ننھے کام کرنے والے گھوڑوں (Bacteria)کو مخصوص دوائیوں کے ساتھ زخم کی جگہ تک پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ ایک اور حیرت انگیز ایجاد ایسے بلب ہیں جو بیکٹیریا سے جلتے ہیں اور روشنی مہیا کرتے ہیں۔صوبہ پنجاب میں موسم گرماکی راتوں کو پائی جانے والی” آگ کی مکھیاں“ جنہیں ہم” جگنو “کہتے ہیں وہ بھی اسی عمل کے تحت روشنی کی چنگاری پیدا کرتی ہیں اور یہی عمل گہرے سمندر میں رہنے والی جیلی فش بھی کرتی ہیں۔ڈچ سائنسدان فلپس الیکٹرونک کمپنی میں ایسے ہی ایک عمل کے ذریعے بیکٹریا بلبوں کو روشن کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گزشتہ دہائی میں سائنس و انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں تحقیق اور ترقی کے فروغ کے لیے جو اقدامات کئے ، بین الاقوامی تحقیقی اشاعتوں کی شرح میں حد درجہ اضافہ بلاشبہ ان کاوشوں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کی شرح 2000 ء ء میں 600 تحقیقی اشاعتیں سالانہ سے بڑھ کر آج0 800 تحقیقی اشاعتیں سالانہ تک پہنچ گئی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کی تحریرو تحقیق کی ترقی کے لیے انتھک جدو جہد اور کاوشوں ہی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان نے اب ہندوستان جیسے بڑے ملک کو آبادی کی شرح کے لحاظ سے تحقیقی اشاعتوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ٹیکنالوجی سے متعلقہ شعبوں میں انقلاب محض اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی سرپرستی میں نہایت مربوط انداز میں ان شعبوں کی نشو ونما اور ترقی کے لیے عوامل تلاش کئے جائیں۔پاکستان میں موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی کی مثال آپ کے سامنے ہے۔جب میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی تھا اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن بھی اسی وزارت کا حصہ تھے۔ اس وقت ملک بھر میں صرف تین لاکھ موبائل ٹیلی فون تھے اور موبائل فون کا استعمال گزشتہ آٹھ سالوں سے وسعت حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔لوگ اس لیے موبائل استعمال نہیں کر رہے تھے کہ نہ صرف کال کرنے کے نرخ ایک آدمی کی پہنچ سے دور تھے بلکہ کال موصول ہونے پر بھی انہیں معاوضہ ادا کرنا پڑتا تھا۔نہایت باریک بینی سے سوچ بچار اور چند ساتھیوں سے مشورے کے بعد ہم نے کچھ مخصوص اقدام اٹھانے کا ارادہ کیا۔ ایک موبائل فون سروس کا افتتاح کیا گیاجس میں کال کرنے کا معاوضہ حد درجہ کم رکھا گیا اور کال وصول کرنے پر معاوضہ ادا کرنے کا نظام تبدیل کر دیا گیا۔ اب صارف کو کال وصول کرنے کے لیے کوئی معاوضہ نہیں ادا کرنا پڑے گا ”بلکہ اسے جو کال کرتا ہے وہ ادا کرتا ہے“۔اس نظام کو (CPP-Calling Party Pays) کے نام سے منسوب کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دھماکہ خیز ترقی کا معجزہ رونما ہوا۔ اور جہاں ملک بھر میں صرف تین لاکھ موبائل فون تھے آج ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے جسے اب معاشی ترقی کے اعتبار سے نہایت تیزی سے ترقی پانے والا شعبہ گردانا جاتا ہے۔
2000ءء تک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اسی قسم کی پسماندہ صورتِ حال کا سامنا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ مناسب تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی تھی کیونکہ اس وقت شاذو نادر ہی جامعات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے تھے اور نہ ہی جامعات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کی سطح کے اہل اساتذہ موجود تھے۔ لہذا ایک بڑی تعداد میں روشن دماغ اور ذہین طلبا و طالبات کو پی ایچ ڈی کی سطح پر تربیت کے لیے بیرونِ ممالک بھیجا گیا تاکہ جامعات کو مستحکم کیا جا سکے۔ آئی ٹی کی صنعت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 2001 میں IT کی صنعت کو 15سالہ ٹیکس کی چھوٹ دی گئی۔ اور اسی قسم کے کئی اقدام اٹھائے گئے نتیجہ یہ ہوا کہ سوفٹ وئیر کی صنعت نے گزشتہ دہائی میں شاندار وسعت اخیتار کر لی جو کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2001ءء میں تین کروڑ ڈالر سالانہ سے بڑھ کر آج ایک ارب ڈالر سالانہ ہو گئی ہے۔ IT کی صنعت کی پیداوار کا کل تخمینہ 2.5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو کہ تقریباََ 20% سالانہ کی شرح سے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ Pak Sat 1بھی 2001میں خلاء میں بھیجا گیا جو کہ خلاء میں ایک اہم جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔2001 میں پاکستان کے تمام بڑے ہوائی اڈوں کو وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولت سے لیس کیا گیا جو کہ اس وقت یورپ کے بڑے بڑے ہوائی اڈوں پر بھی موجود نہیں تھی ۔ انٹیل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO)کے ساتھ میری ایک میٹنگ میں باہمی تعاون سے انٹیل کے فنڈ سے انٹرنیٹ KIOSKSقائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ جس کے تحت تمام بڑے ہوائی اڈوں پر انٹرنیٹ KIOSK قائم کئے گئے۔ اور 2000ءء سے 2002ءء کے قلیل عرصے میں جدید IT کی صنعت کی بنیاد رکھ دی گئی۔
اگر پاکستان تیزی سے بدلتی دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو اُسے کم از کم اپنی GDP کا 7%حصہ تعلیم ، سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مختص کرنا ہو گا، کیونکہ دورِ جدید میں محض یہی تیز رفتار اور دیر پا ترقی کی بنیاد ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں