آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کریڈ ٹ تومیاں شہباز شریف کو ہی جاتا ہے دہشت گردی سے خون میں اٹے پاکستانی چہرے کا بین الاقوامی طور پر کچھ تو سافٹ امیج بنے گا۔ 14عالمی ریکارڈ دنیا کو بتانے کے لئے کافی ہیں کہ جس قوم کے کھیلوں کے میدان اجاڑ دیئے گئے۔ اس کے نوجوان خود کو تائب کرنے کے تمام ہنر جانتے ہیں ۔ یہ چھوٹے چھوٹے عالمی ریکارڈ اس وقت پاکستان کی ضرورت ہیں۔ ویسے عالمی ریکارڈوں کے معاملے میں ہم تھوڑے بدقسمت ہیں ورنہ جو ریکارڈ ہماری قوم نے اور اس معاشرے کے سورماؤں نے بنائے ہیں ان تک عالمی میڈیا کی توجہ نہیں دلائی گئی۔ کچھ عالمی ریکارڈ ملاحظہ فرمائیں۔
بے وقوف بننے کا عالمی ریکارڈ
پاکستانی قوم غالباً 2013ء کے انتخابات میں اگر انہیں کسی (ماہییچھیل چھبیلے کی نظر نہ لگی تو) یہ عالمی ریکارڈ بنانے جا رہی ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ عالمی ریکارڈ بہتر بنانے جا رہی ہے اس ریکارڈ کے تحت 18کروڑ افراد ایک دن میں بے وقوف بنیں گے اور وہ باقاعدہ اہتمام کے ساتھ اس یقین سے ووٹ ڈالیں گے کہ بیلٹ بکس سے ان کا مینڈیٹ برآمد ہوگا۔ انسانی تاریخ میں اس سے قبل 18کروڑ افراد کبھی اس طرح بے وقوف نہیں بنے یہ اعزاز بھی پاکستانی قوم کو حاصل ہے کہ وہ پچھلے 64سال سے مسلسل بے قوف بن رہے ہیں کبھی جمہوریت کے نام پر کبھی اسلام کے نام پر اور کبھی فوجی احتساب کے نام پر۔
بے شرمی کا

عالمی ریکارڈ
یہ ریکارڈ پاکستان کے سیاستدانوں نے انتہائی محنت اور خلوص سے بنایا ہے۔ دنیا بھر میں اس کی مثال نہیں ملتی اس ریکارڈ میں سیاستدانوں نے انتہائی بے شرمی کے ساتھ کروڑوں عوام کو دھوکہ دیا۔ ان کا مال خزانہ لوٹا، غیر ملکوں میں بینک اکاؤنٹس بنائے، محل چوبارے تعمیر کئے۔ اس ریکارڈ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عوام کو دھوکہ دیتے ہوئے انتہائی بے شرمی سے ان کی راہنمائی کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ پارسائی کے بھیس میں انتہائی بے شرمی سے انسانی خوابوں کو چکنا چور کیا گیا۔ انہیں بے دردی سے خودکشیاں کرنے پر مجبور کیا گیا اور ان خودکشیوں کے بعد لاشوں پر نوٹ تھامے کھڑے ہو کر تصاویر بنوائی گئیں۔ بے شرمی کے اس ورلڈ ریکارڈ میں ایسے ایسے جھوٹ بولے گئے کہ غریب مخلوق ظالم اور مظلوم لٹیرے اور ہیرو کا فرق تک بھول گئی۔
پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ حکمرانوں کا ریکارڈ
یہ ریکارڈ بھی پاکستان کے پاس ہے کہ آئی ایم ایف ورلڈ بینک کے ملازموں کو پاکستان کے سب سے معتبر عہدوں کی بھینٹ پیش کی گئی۔ انہیں وزیراعظم بنایا گیا۔ ایسے ایسے حکمران درآمد کئے گئے جو تلوار کو گیلس سے سنبھالتے تھے۔ انسانی تاریخ میں یہ ایک منفرد ریکارڈ ہے کہ کسی ملک کا اقتدار اس طرح غیر ملکی کمپنیوں کے ملازموں کو پیش کیا گیا۔انہیں وزیراعظم بنانے کے بعد قومی شناختی کارڈ پاسپورٹ اور ڈومیسائل جاری کئے گئے۔ ان حکمرانوں نے اپنی کمپنیوں کی منشا کے مطابق کبھی ان کی واجب الادا قسطیں سیدھی کرانے کے لئے معیشت کو ڈنڈے کے زور پر انسان بنایا، پیسے نکلوا کر معیشت کو پھر سکتا میں چھوڑ کر اپنے غیر ملکی گھر روانہ ہوگئے۔ اس ریکارڈ کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ جو حکمران پاکستان سے آئے ان کا بھی حلقہ انتخاب واشنگٹن، لندن حتیٰ کہ دہلی رہا۔ انہیں ٹاسک دیئے گئے اور ان کی اس محنت کا صلہ ان کی لوٹ مار قتل و غارت کو تحفظ فراہم کرکے دیا گیا اور جب ان پری پیڈ حکمرانوں سے کام نکلوائے گئے تو انہیں یوں مسل دیا گیا جیسے معمولی کیڑے کو۔
فکرفروشی کا عالمی ریکارڈ
اس ریکارڈ کی بہت محنت سے آبیاری کی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد آج تک ایک ایسا دانشور پیدا نہیں ہونے دیا گیا جس کے خون میں سچائی، وطنیت کے ذرے ہوں۔ اس ریکارڈ میں ایسے چرب زبانوں کو دانشور بنا کر پیش کیا گیا جو اندر سے اتنے کھوکھلے تھے کہ انہیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جاعت اسلامی، دیگر جماعتوں اور ایجنسیوں کی جانب سے دی گئی تنخواہ میں پلاٹ بنگلے اور دیگر مراعات بھی نہ بھر سکیں۔ اس عالمی ریکارڈ میں یہ دانشور اپنی کل کی بات کی اگلے دن اتنی بددیانتی سے نفی کرتے ہیں کہ سیاستدانوں کی بے شرمی کا ریکارڈ بھی دھندلا پر جاتا ہے۔ یہ دانشور شوبز ایکٹروں کی طرح بولتے اور حرکت کرتے ہیں اور قبلہ بدلتے ہیں اور وہ مشرکین مکہ کی طرح اپنے عقائد کے لئے بے شمار دلیلیں اور تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ راتوں کو جن درباروں میں سجدہ کرتے ہیں صبح ان آقاؤں کو غریبوں، مسکینوں، بے بسوں کا بے تاج بادشاہ اور مسیحا تائب کرنے میں جڑ جاتے ہیں۔ اس عالمی ریکارڈ کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ ان دانشوروں کی قیمت ایک عام طوائف سے بھی کم ہوتی ہے۔
قول و فعل میں تضاد کا عالمی ریکارڈ
الحمدللہ یہ عالمی ریکارڈ بھی ہمارے پاس ہے کہ بطور قوم جس قدر ہم قول و فعل کے تضاد کا شکار ہیں شاید کوئی قوم اس کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔ اشفاق احمد نے ایک بار کہا تھا کہ ”ہم وہ لوگ ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں، پر اللہ کی نہیں مانتے“۔ اس عالمی ریکارڈ میں کسی ایک کو ہیرو قرار نہیں دیا جاسکتا، کیا وزیر، کیا مشیر اور کیا فقیر سب اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ دانشور، سیاستدان، علماء، اساتذہ، وکیل، ڈاکٹر، نانبائی، قصائی، کلرک، ٹھیکیدار، دودھ فروش سب ایک سے ہیں۔ اس عالمی ریکارڈ میں سجی دکھا کر کھبی ماری جاتی ہے۔ دودھ کے نام پر کیمیکل ادویات کے نام پر دو نمبر رنگ برنگی گولیاں، پانی کے نام پر ہیپا ٹائٹس ، کینسرکا گٹر آمیز مرکب پیش کیا جاتا ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ سچ کا کوئی لمحہ اس ریکارڈ کے لئے خطرے کا باعث نہ بن سکے۔ ہم مذہب کے ٹھیکیدار تو اس پر عمل نہ کریں، درس تقویٰ کا دیں اور اس عالیشان بنگلوں میں پہنیں اعلیٰ پوشاکیں اور پھریں دیو ہیکل گاڑیوں میں ۔ آقائے نامدار رحمت العالمین کی شان میں جلوس نکالیں اور راستے میں آنے والی ہر چیز تباہ کردیں حتیٰ کہ بینک لوٹ لیں، تیلا نہ چھوڑیں۔ ملک اسلام کے نام پر حاصل کریں اور سود کو معیشت ٹھہرائیں۔ بات غریبوں کی کریں اور اپنے کتوں کو بھی ان سے اچھی زندگی فراہم کریں۔
عظیم سپوتوں کا عالمی ریکارڈ
اس ریکارڈ کے دو حصے ہیں۔ ایک میں ان کی محنت شاقہ شامل ہے، جو حکمران بنے جا رہے ہیں اور دوسرے میں وہ شامل ہیں جو محکوم بنے جا رہے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی بادشاہت کے والی وارث فوج میں عملی سپاہی کی طرح نوکری کر رہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں حکمرانوں کے بچے ”پوت کے پاؤں پالنے میں“ ہیں کے مصداق اوائل عمری میں کرپشن کے ریکارڈ بنا رہے ہیں۔ کیا سیاستدان، کیا بیورو کریٹ اور کیا عدلیہ سب کے بچے اپنی شاندار پرفارمنس سے ریکارڈ کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ مالی سکینڈل کے ساتھ اخلاقی اسکینڈلز ان کے شاندار مستقبل کا پتہ دے رہے ہیں۔ پوری دنیا میں یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے جہاں موروثی سیاست کے امین اتنی بہادری سے کرپشن کرتے ہیں اور پھر تھوڑی بہت عدالتی لعن طعن کے بعد باعزت بری ہوتے ہیں۔ انہیں ہیرو بنانے کے لئے میلے سجائے جاتے ہیں۔ آکسفورڈ میں ان کے روز و شب چھپائے جاتے ہیں۔ ایسے کمیشن بنائے جاتے ہیں جو قانون کو اتنا مشکل بنا دیں کہ مدعی خود ملزم نظر آنے لگے۔ پوری دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں نوجوان ہیرو نہیں پائے جاتے یہ اعزاز بھی پاکستان کو جاتا ہے۔ اس ریکارڈ کا دوسرا حصہ وہ سپوت ہیں جن کے ذمہ بھیک مانگنا، ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جانا، مستقبل کے حکمرانوں کی خاطر گیس شیلنگ، لاٹھیاں، پولیس تشدد برداشت کرنا، جیلیں تھانے، بھگتنا اور پھر حکمرانوں کی دہلیز پر خون تھوکتے تھوکتے مر جانا ہے۔ پوری دنیا میں یہ عالمی ریکارڈ شاید کوئی بھی نہ توڑ سکے کہ جتنے ظالم حاکم ہیں اتنے ہی معصوم اور وفادار محکوم ہیں۔ہر ایشو پر کنفیوژ قوم رہنے کا ریکارڈ اور بے شمار ایسے عالمی ریکارڈ جو خود اس وقت میرے دماغ میں بھی نہیں آرہے شامل ہیں۔ آپ کی نظر میں بھی کوئی ریکارڈ ہوں تو مجھے ضرور لکھ بھیجئے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں