آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترقی ہم چین کی طرز پر کرنا چاہتے ہیں، لیڈر شپ ہمیں سنگاپور جیسی چاہئے، اسلام ویسا ہو جیسا ملائشیا میں نافذ ہے، سیاحت ایسے پھلے پھولے جیسے ترکی میں ہے، ٹیکنالوجی میں ہم جاپان سے آگے نکلناچاہتے ہیں، قانون کی عملداری برطانیہ کی طرح کڑک ہو اور فلاحی نظام اسکینڈے نیوین ممالک جیسا ہو۔ بس اتنا سا خواب ہے۔
حقیقت اور خواہش کرنے کے درمیان ایک فاصلہ ہوتا ہے جسے طے کرکے ہی خواب کو حقیقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو ایکسپائرڈ پاسپورٹ جیب میں ڈال کر دنیا کی سیاحت کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔ چلئے چین سے ہی شروع کرتے ہیں۔ چین کی ترقی کا ماڈل کمیونسٹ پارٹی کی ڈکٹیٹرشپ کے گرد گھومتا ہے۔ اس ڈکٹیٹر شپ میں آزاد میڈیا کی کوئی گنجائش نہیں، چین کے قومی اخبارات کی سرخیاں وہی لگتی ہیں جو حکومت منظور کرتی ہے، اُن ٹاک شوز کی کوئی جگہ چینی میڈیا میں نہیں جس کی لت ہمیں پڑ چکی ہے۔ احتجاج، جلسے جلوس، سیاسی اور شخصی آزادیوں کا بھی کوئی تصور نہیں، آپ صبح فیکٹری آئیں، کام کریں، کمیونسٹ پارٹی کا مقامی لیڈر اُس فیکٹری کا نگران یا دفتر میں باس ہوگا ،بکواس کرنے پر پابندی ہوگی، چپ چاپ کام کی تنخواہ لیں اور گھر جائیں۔ ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ یہ تو اچھی بات ہے، اگر ترقی کی یہ قیمت ہے تو کوئی گھاٹے کا سودا نہیں مگر جو

لوگ یہ سودا بیچتے ہیں انہیں شاید اندازہ نہیں کہ چینی طرز حکومت میں سب سے پہلے ایسے ہی لوگوں کو زنداں میں ڈالا جائے گا۔ سو، چین کا ماڈل اپنانے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں ایک پارٹی کی ڈکٹیٹرشپ ہو، آزاد پریس ختم کر دیا جائے، سیاسی اور شخصی حقوق محدود کر دیئے جائیں، ایک سے زیادہ بچہ پیدا کرنے پر پابندی لگا دی جائے، ریاست کو لا دین قرار دیا جائے، نجی ملکیت کا تصور ختم کر دیا جائے اور یہ تمام اقدامات کرنے کے بعد اندھا دھند کام کیا جائے۔ اگر ہم یہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر چین کی ترقی دیکھ کر اپنے چینی بھائیوں کو مبارکباد تو دے سکتے ہیں ،اُن کی شادی میں شرکت نہیں کر سکتے۔
چین جانے کی کیا ضرورت، ذرا ادھر جاپان بھی تو ہے، وہاں جمہوریت ہے، پارلیمان ہے، وزیر اعظم ہے، سب ایماندار ہیں اور ایسے کہ دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں، پچھلے دنوں کسی حکومتی عہدے دار کی خبر آئی تھی کہ اس بیچارے نے صرف اس لئے خودکشی کرلی کہ اس کے دفتر میں کہیں ایک آدھ کروڑ روپے کی بے ضابطگی نکل آئی تھی۔ یہ ہوتی ہیں قومیں، ایسے ہو تے ہیں لیڈر۔ بات تو ٹھیک ہے مگر ادھورا سچ ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کو شکست ہوئی، امریکہ نے دو ایٹم بم جاپان پر گرائے جس کے بعد جاپانیوں نے ہتھیار ڈال دیئے، بعد ازاں جب جاپان کا آئین لکھا گیا تو اس میں شق نو کا اضافہ کیا گیا جس کے تحت جاپان نے کسی بھی ملک کے خلاف جنگ کا اعلان کرنے کا اپنا اختیار ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔ جاپان کی فوج موجود ہے اور خرچے کے اعتبار سے اس کا بجٹ دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے مگر یہ واحد فوج ہے جس نے اپنی سرحد سے باہر ایک گولی بھی کبھی نہیں چلائی کیونکہ جاپان کا آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ امریکہ اور جاپان کے دفاعی معاہدے کے مطابق امریکہ کے جاپان کی حدود میں فوجی اڈے ہیں، اس معاہدے کی شق پانچ کے تحت جاپان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں امریکہ اس کا تحفظ کرے گا۔ آپ کہیں گے کہ سوال گندم جواب چنا، ان تمام باتوں کا جاپانیوں کی ترقی اور ایمانداری سے کیا تعلق، ہم ایسے کیوں نہیں ہو سکتے جیسے جاپانی ہیں۔ کیونکہ ہم جاپانی نہیں اور نہ ہم جاپان ہیں۔ ہماری سرحد بھارت نام کے ایک ملک کے ساتھ جڑی ہے، ہمارے وجود کا وہ دشمن ہے، تین جنگیں ہم اس کے ساتھ لڑ چکے ہیں، افغانستان ایک علیحدہ درد سر ہے۔ کیا پاکستانی عوام ایسے معاہدے کا سوچ بھی سکتے ہیں جیسا جاپان نے امریکہ کے ساتھ کر رکھا ہے؟ اگر جواب نہیں تو پھر یہ بات بھی سمجھ لیں کہ قوموں کا موازنہ اُن کے مزاج کے مطابق کیا جاتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم جاپانیوں کی ایک عادت تو اپنا لیں اور دوسری کے بارے میں کہیں کہ وہ بے غیرتی ہے۔
ملائشیا پہ ہمیں بہت پیار آتا ہے، مہاتیر محمد ہمیشہ سے ہمارے آئیڈیل رہے ہیں، سنگاپور کے وزیر اعظم لی کیوان بھی ہمیں بہت پسند ہیں اور ترکی کے طیب اردوان تو پوری مسلم امہ کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ آخر ان لیڈران نے بھی تو اپنی قوم کو کہاں سے اٹھا کر کہاں پہنچا دیا۔ ہمیں ایسے لیڈر کیوں نہیں ملتے، ہمارے نصیب میں ہی نالائقی کیوں لکھ دی گئی ہے، ہم ان ملکوں کی طرح ترقی کیوں نہیں کر سکتے؟ یہ سوالات جائز ہیں مگر موازنہ درست نہیں۔ جاپان، چین، ملائشیا، ترکی، سنگاپور..... ہر ملک کا اپنا مزاج ہے، اپنا جغرافیہ ہے، سوسائٹی کی اپنی اقدار ہیں۔ جو کچھ ان ممالک میں نارمل سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں اس کا تصور بھی محال ہے۔ ہم اپنا تقابل اگر کسی سے کر سکتے ہیں تو وہ ہندوستان ہے کیونکہ ستّر برس قبل یہ ایک ہی ملک تھا۔ لوگوں کا مزاج بھی ایک سا ہے، مسائل بھی ایک جیسے ہیں، نالائقی اور کرپشن بھی یکساں ہے اور جغرافیہ بھی سانجھا ہے۔ آبادی کے مسائل کا وہ بھی شکار ہیں اور ہم بھی، غربت ان کے ہاں بھی ہے ہمارے ہاں بھی ،کرپشن ان کے ہاں بھی ہمارے ہاں بھی، سیاست ان کے ہاں بھی گالی ہے ہمارے ہاں بھی، بیوروکریسی ان کی بھی نااہل ہے اور ہماری بھی، اور تو اور موسم کی شدت اور ماحولیاتی آلودگی بھی لگ بھگ برابر ہے لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں وہ ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ پاکستان میں رنگین ٹی وی کی نشریات اس وقت شروع ہوئیں جب بھارت میں ابھی یہ کام نہیں ہوا تھا، ہاکی اور کرکٹ میں ہم ان سے کہیں آگے تھے، ہماری اور ان کی فلموں میں بھی زیادہ فرق نہیں تھا بلکہ الٹا وہ ہماری کہانیاں اور گانے چرایا کرتے تھے، غربت میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا، بھارتی شہروں میں جانے والے پاکستانی کسی رئیس کی طرح برتاؤ کرتے تھے اور ہندوستانی انہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ اب ایسا نہیں رہا۔ 1989-90میں سات ہزار دس پاکستانی طلبا نے امریکی جامعات میں داخلہ لیا جبکہ اُس وقت بھارتیوں کی تعداد انہی جامعات میں چھبیس ہزار دو سو چالیس تھی، یعنی پاکستانیوں کے مقابلے میں بھارتیوں کی شرح ایک کے مقابلے میں چار گنا تھی جو آبادی کے لحاظ سے ٹھیک تھی۔ 2014-15میں پاکستانی طلبا کی امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کی تعداد پانچ ہزار تین سو چون ہے جبکہ ہندوستانیوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ بتیس ہزار آٹھ سو اٹھاسی ہو چکی ہے، گویا ایک کے مقابلے میں پچیس۔ کہاں سے چلے تھے کہاں آگئے۔ آج امریکہ کی نو دیوقامت کمپنیوں کے سی ای او بھارتی ہیں جن میں نوکیا، مائیکروسافٹ اور گوگل شامل ہیں۔ ہندوستان کی فلمیں ریلیز ہوتی ہیں تو لاس اینجلز سے لے کر دبئی تک کئی سو کروڑ اکٹھا کرتی ہیں، ان فلموں میں بھارت کا خوبصورت چہرہ دکھایا جاتا ہے، دنیا بھر میں لوگ ہندوستانیوں کو شاہ رخ خان اور ایشوریا رائے جیسا سمجھتے ہیں، ان فلموں کا میوزک ان ممالک میں بھی سنا جاتا ہے جہاں ہندی سمجھی ہی نہیں جاتی، کشمیر میں بھارت کیا بربریت کر رہا ہے دنیا نہیں جانتی، پریانکا چوپڑا Quanticoمیں کام کرتی ہے یہ لوگ جانتے ہیں۔
اسّی کی دہائی تک ہم ہندوستان سے آگے تھے، بہت سے شعبوں میں اب بھی آگے ہیں ،باقیوں میں بھی اسے پچھاڑ سکتے ہیں، اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا، یہ بات پھر کبھی!
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں