آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پالیسی سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت ضروری ہے

’’خواتین پارلیمان کوقوانین پر عمل درآمد کروانے میں کٹھن صورت حال کا سامنا ہے، جمہوری عمل میں خواتین ارکان ِپارلیمان کی کارکردگی کا جائزہ‘‘

پاکستان کی مجموعی آبادی میں خواتین کا تناسب نصف سے بھی زائد ہے۔ اگرچہ پاکستانی خواتین کو کسی حد تک حقوق بھی حاصل ہیں لیکن اب بھی خواتین کو معاشرتی سطح پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباًہرشعبہ زندگی میں خواتین اپنا لوہا منوا رہی ہیں ،یہاں تک کہ سیاسی میدان میںبھی پیچھے نہیں لیکن دیگر اقوام سے موازنہ کیا جائے تو ابھی کرنے کو بہت کچھ باقی ہے۔سیاست میں خواتین کے اسی کردار کی جانچ کے لیے عالمی اقتصادی فورم نے 2017میں ایک فہرست مرتب کی تھی جس میں جائزہ لیا گیا تھاکہ کس ملک کی پارلیمنٹ میں خواتین کی کتنی تعداد ہے۔فہرست میں حیرت انگیز طور پر امریکا، برطانیہ یا کسی دوسرے یورپی ملک کے مقابلے میں افریقی ممالک کے ایوانوں میں خواتین نمائندگان کی زیادہ تعداد تھی۔اس فہرست میں افریقی ملک روانڈا سرفہرست رہا جس کی پارلیمنٹ میں خواتین ارکان اسمبلی کی شرح 63.8 فیصد ہے۔بدقسمتی سے عالمی اقتصادی فورم کی مذکورہ فہرست میں صف اول کے 10 ممالک میں کوئی ایشیائی ملک شامل نہیں۔اس بارے میں دنیا بھر کی پارلیمان اور ایوانوں کا ریکارڈ مرتب کرنے والے ادارے انٹر پارلیمنٹری یونین کی ویب سائٹ کا جائزہ لیا گیا تو پارلیمنٹ میں خواتین کی تعداد کے حوالے سے موجود فہرست میں پاکستان 89 ویں نمبر پر نظر آیا۔مذکورہ فہرست کے مطابق پاکستانی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی صرف 20.6 فیصد ہے۔ یعنی 342 نشستوں پر مشتمل پارلیمان میں صرف 70 خواتین ہیں، جو ملک بھر کی تقریباً 10 کروڑ 13 لاکھ سے زائدخواتین کی نمائندگی کر رہی ہیں۔اس معاملے میں افغانستان جیسا قدامت پسند ملک بھی ہم سے آگے ہے جو 27.7 فیصد خواتین اراکین پارلیمان کے ساتھ 53 ویں نمبر پر موجود ہے۔فہرست میں پڑوسی ملک بھارت 147 ویں نمبر پر ہے جس کی 542 نشستوں پر مشتمل لوک سبھا میں صرف 64 خواتین موجود ہیں۔صنفی مساوات کےعلم برداروںکا کہنا ہے کہ پالیسی سازی کے عمل اور قومی اداروں میں خواتین کی شمولیت اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ان خواتین کی نمائندگی کرسکیں جو کمزور اور بے سہارا ہیں۔پاکستان میں بھی اس حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔

2002ء کے انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی تعداد یہ کہہ کر بڑھائی گئی تھی کہ اس اقدام سے زیادہ سے زیادہ خواتین کو ملکی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا ،کسی حد تک ان خواتین نے مواقع ملنے پر کارکردگی تو دکھائی ،مگرسیاسی تربیت سست رہی،کیونکہ اگر پاکستانی سیاست کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تواس میں عورت کی شمولیت نئی بات نہیں ہے تاہم ان خواتین کی تعداد کم ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان، شائستہ اکرام اللہ جیسی قدآور خواتین پاکستانی سیاست کا حصہ رہیں ہیں۔ اسی طرح تاریخ میں مسلم دنیا کی پہلی وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کا نام قابل ذکر ہے تاہم یہ خواتین تعلیم یافتہ طبقے کے ساتھ موروثی سیاسی پس منظر رکھتی تھیں لہٰذا ان کے لیے سیاست میں آنا اور مقام پیدا کرنا، نسبتاً آسان تھا لیکن متوسط طبقے سے خواتین کا قومی دھارے میں شامل ہونا اور قابل ذکر کردار ادا کرنا، یقیناً کٹھن تھا۔ اس طرح یہ خواتین مقامی سیاست میں بھی نمایاں کردار ادا نہ کرسکیں۔ ایسے حالات میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ بات ضرور ہے کہ مخصوص نشستوں پر پارلیمان میں آنے والی خواتین کوئی نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے زیادہ تر رائے شماری میں تعدادپوری کرنے کی حد تک قانون سازی کے عمل میں شریک ہوتی ہیں۔تاہم گزشتہ پندرہ برسوں میں جمہوری عمل کےآگے بڑھنے کے ساتھ خواتین خواہ مخصوص یا جنرل نشستوں پر منتخب ہوکر آئی ہوں ،ان کی حوصلہ افزائی ضرور ہوئی ہے اور کسی حد تک خواتین کے حقوق کے لیے پارلیمانی خواتین نے آوازبھی اٹھائی ہے۔پارلیمنٹ میںبل پیش کرنا ہو ،قانون بنانا ہو،سوالات اٹھانے ہوں یا بحث کرنی ہو ،وہ ان میں پوری اتری ہیں۔

342ارکان پر مشتمل بارھویں قومی اسمبلی 2002-07میں 56ارکان اسمبلی خواتین جبکہ 10اقلیتی ارکان کی نشستیں مخصوص تھیں۔قانون سازی کے عمل میں خواتین ارکان مکمل اعتماد کے ساتھ سامنے آئیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین سے تعلق رکھنے والی شیری رحمٰن اور ان کی سیاسی جماعت کی دیگر اراکین نے 2003ء میں ’’تحفظ و بااختیار خواتین بل 2003ء‘‘ کے نام سے واحد پرائیویٹ ممبرز بل پیش کیا۔ 2004ء میں شیری رحمٰن نے ’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل کے معاملے سے متعلق بھی ایک بل پیش کیا۔ اسی سال 30؍جولائی کو ’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل کے خاتمے کا ایک سرکاری بل پیش کیا گیا۔ بل پر اس وقت کے وزیراعظم کی مشیر برائے ترقی نسواں نیلوفر بختیار، نجی سیکٹرکے ساتھ اشتراک سے ایک عرصے سے کام کررہی تھیں۔ بل میں قصاص اور راضی نامے کی دونوں دفعات شامل نہیں تھیں لہٰذا اس وقت کی حکمران قومی جماعت مسلم لیگ (ق) کی ارکان اسمبلی نیلوفر بختیار، مہناز رفیع اور کشمالہ طارق نے ان مثبت ترامیم کو بل کا حصہ بنانے کے لیے آخری وقت تک کوششیں کیں تاہم انہیں بعض جانب سے مزاحمت کی وجہ سے کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ 2005ء میں بھی خواتین پارلیمان نے اہم بل پیش کئے جن میں برابری کے مواقع کا بل 2005ء، گھریلو تشدد کے خاتمےکا بل 2005ء اور حدود قوانین منسوخی بل 2005ء خاتون پارلیمان رکن شیری رحمٰن نے پیش کئے جبکہ عائلی عدالتیں ترمیمی بل، جرم زنا، نفاذ حدود ترمیمی بل، جرم قذف اور نفاذ حدود ترمیمی بل 2005ء کشمالہ طارق نے پیش کئے۔ خاتون وفاقی محتسب اعلیٰ ادارے کے قیام کا بل، بزرگ شہریوں کا بل 2005ء خاتون رکن پارلیمان ممتاز رفیع نے پیش کئے۔ ملازم عورتوں کے تحفظ کا بل 2005ء (دوبارہ پیش ہو)، عورتوں کے لیے وراثت کا بل 2005ء، عورتوں کے معاشی استحکام کا بل، حدود لاز کا موثر نفاذ اور تحفظ بل، سمیحہ راحیل قاضی نے پیش کیا۔ 21؍اگست 2006ء کو حکومت کی طرف سے تحفظ خواتین (فوجداری قوانین ترمیمی) بل 2006ء منظور کیا گیا، جس کی پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز، متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی نے حمایت کی۔ چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بل کی مخالفت کی اور پاکستان مسلم لیگ نواز نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ بل میں جو دو حدود آرڈیننس جو زنا اور قذف کے بارے میں تھے، ان میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی گئیں۔ اس بل میں حد اور تعزیر کے جرائم پر سزائوں کو علیحدہ کیا گیا۔ زنا بالجبر کو زنا بالرضا سے الگ کرتے ہوئے اسے زنا آرڈیننس سے ضابطہ تعزیرات پاکستان (پی پی سی) میں منتقل کیاگیا۔ زنا (شادی سے باہر تمام جنسی تعلقات) کو پی پی سی میں علیحدہ شقوں (496بی اور 496سی) کے طور پر شامل کیا گیا، جس میں پانچ سال تک کی قید اور دس ہزار روپے تک کا جرمانہ رکھا گیا۔ زنا اور قذف کی شکایت کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا اور قذف کے متوازی طور پر نفاذ کو ممکن بنایا گیا۔

2008-13ء کی تیرھویں قومی اسمبلی، منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل پاکستانی تاریخ میں پہلی قومی اسمبلی تھی جو اپنی آئینی مدت اقتدار مکمل کرسکی۔ اس سے قبل جنرل پرویز مشرف کے دور میں قومی اسمبلی نے بھی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کی تھی لیکن اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ اس اسمبلی کو دنیا کے اس پہلے ایوان کا اعزاز بھی حاصل ہوا جس نے ایک فوجی آمر کو بطور صدر ،ایک نہیں، دو مرتبہ اور تین مرتبہ اس کے حمایت یافتہ افراد کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا تھا،تاہم جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میںاس کے کلیدی کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

سول سوسائٹی کی بیالیس مختلف تنظیموں کے اشتراک سے قائم کی گئی تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (FAFEN) کی جانب سے ایوان زیریں 2008-13ء کی پانچ سالہ کارکردگی کے حوالے سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کا مکمل کا جائزہ پیش کیا گیا، جس کے مطابق پانچ سال کے دوران قومی اسمبلی کےپچاس باقاعدہ سیشن میں سے ایک سو چونتیس بل منظور کئے گئے، جن میں اٹھارہ رکن اسمبلی پرائیویٹ بل بھی شامل ہیں۔مذکورہ قومی اسمبلی نے اپنے قانون سازی ایجنڈے کے ذریعے ملک میں گورننس کے ڈھانچے کو تبدیل کیا چنانچہ اس کی بدولت صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ 1973ء کے آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کردیا گیا۔قومی اسمبلی کی پانچ سالہ مدت کے دوران خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے پیشرفت ہوئی اور پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں خاتون کو بحیثیت اسپیکر منتخب کیا گیا۔قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے 134؍بلوں میں سے 81؍بل منظوری کے بعد قوانین کا درجہ اختیار کرگئے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس دور میں خواتین کے حقوق کے بارے میں قانون سازی کی گئی، گھریلو تشدد، کام کرنے کی جگہ اور عوامی مقامات پر ہراساں کرنے، خواتین مخالف مروجہ طریقوں اور خواتین کمیشن کا درجہ بلند کرنے سے متعلق حکومتی اور نجی ارکان کے بلوں کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح خواتین کے حقوق پر چھ قراردادیں بھی منظور ہوئیں۔

’’فافن‘‘ کے مطابق ان پانچ پارلیمانی سالوں میں آٹھ ہزار ایک سو اڑتیس سوالات پچپن خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے پیش کئے گئے جبکہ ان کے مقابلے میں ایک سو آٹھ مرد ارکان کی طرف سے سات ہزار نو سو اٹھارہ سوالات پیش کئے گئے۔مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین ارکان اسمبلی نے بھی کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا اور کل سوالات میں سے تقریباً اڑتالیس فیصد سوالات جمع کروائے۔

ملکی دھارے میں خواتین کو دی جانے والی ذمے داری کے حوالے سے بعض حلقوں خصوصاًخواتین کی سماجی تنظیموں کا ہمیشہ سے ہی مطالبہ رہا ہے کہ خواتین کو پارلیمان میں مساویانہ نمائندگی نہیں دی جاتی۔ ایچ آرسی پی 2016ء میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق عدلیہ اور انتظامیہ کی نسبت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی کی شرح کسی حد تک بہتر ہے، مگر ایسا خواتین کی مخصوص نشستوں کی بدولت ہے۔ 342؍ارکان پر مشتمل قومی اسمبلی میں صرف 70؍خواتین قانون سازبنیں، ان میں سے صرف 9؍خواتین عمومی نشستوں پر انتخاب لڑ کر رکن قومی اسمبلی بنیں، باقی تمام مخصوص نشستوں پر نامزد کی گئی تھیں۔ 100؍اراکین پر مشتمل سینیٹ میں صرف 19؍خواتین شامل ہیں۔ کمیشن کے مطابق قانون سازی کے حوالے سے خواتین قانون سازوں نے پارلیمان میں اپنی تعداد سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔ قانون سازی میں خواتین کے قابل غور کردار کے علاوہ پارلیمان میں ان کی موثر نمائندگی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ اگرچہ معاشرے میں وہ پسماندگی اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں مگر مقننہ میں ان کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جاتا تاہم بدقسمتی سے پارلیمانی عہدوں پر خواتین کی موجودگی ان کی ایوان میں موجودگی سے بھی کم رہی۔ پارلیمانی سیکرٹریز میں سے 3؍خواتین جبکہ 17؍مرد شامل کیے گئے۔ 2008-13قومی اسمبلی کی 32؍قائمہ کمیٹیوں میں سے کسی بھی کمیٹی کی سربراہی کسی خاتون رکن کے پاس نہیں رہی۔ سینیٹ میں صرف 2؍قائمہ کمیٹیوں کی قیادت خواتین اراکین کے پاس جبکہ 28؍کمیٹیوں پر چیئرمین مرد اراکین سینیٹ منتخب کیے گئے۔اگرچہ مردوں کی بڑی تعداد نے 2013ء کے انتخابات میں عام نشستوں پر انتخاب لڑا تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ سیاسی جماعتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی وضاحت کریں کہ انہوں نے پارلیمان میں صنفی مساوات کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کیوں نہیں کیا۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق خواتین کو سماجی اور سیاسی زندگی اور سرکاری شعبوں میں شمولیت کے حوالے سے مسلسل امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ حکومت اور فیصلہ سازی میں خواتین کی کم نمائندگی کی وجوہ کے نہ صرف کئی پہلو ہیں بلکہ یہ پیچیدہ بھی ہیں جن میں معاشی، سماجی اور شناختی مسائل کے علاوہ خواتین کے بارے میں پائی جانے والی رجعت پسندی اور متعین شدہ غیر مساویانہ صنفی کردار شامل ہیں۔

خواتین کے لیے قانون سازی کے حوالے سے 2010ء کے عشرے کا پہلا اہم قانون کام کی جگہ پر جنسی ہراسگی سے تحفظ کا قانون تھا۔ اس کی رو سے ہر ادارے کے لیے اس قانون کی پابندی کرنا ضروری قراردیا گیا۔ اس قانون کے تحت بنائے گئے ضابطہ اخلاق کو اپنے ادارے یا کسی نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا۔ اس قانون کے تحت ہر ادارے کی انتظامیہ کو تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینا لازمی قرار دی گئی، جس میں ایک عورت کا رکن ہونا بھی لازمی تھا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ قانون میں جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی وضاحت کی گئی کیونکہ اس سے قبل ہراساں کئے جانے کو جرم نہیں بلکہ سماجی برائی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کا کوئی قانون موجود نہیں تھا۔ نجی تنظیموں کی طرف سے اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا۔ اس قانون پر عملدرآمد خاصا موثر ثابت ہوا۔ واضح رہے کہ یہ قانون صرف خواتین کے لیےنہیں ہے بلکہ تمام کارکنوں مردوں اور عورتوں کے لیے ہے۔ قانون کے تحت جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کی برائی کے خاتمے کی ذمے داری انتظامیہ کی ہے لہٰذا زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ ادارتی نظام کار کے ذریعے افراد اپنے رویئے کے ذمہ دار ٹھہریں گے۔

قومی اسمبلی میں اہم شعبہ ڈپٹی اسپیکر کا ہوتاہے۔پاکستان میں اس عہدے پر بھی خواتین کو سرفراز ہونے کا موقع ملا۔ بیگم اشرف عباسی جنہوں نے 1970ء میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، وہ 1970-73ء کی قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر رہیں جبکہ موجودہ تاریخ میں پاکستان پیپلزپارٹی ہی کی شہلا رضا کو سندھ اسمبلی کی دو مرتبہ ڈپٹی اسپیکر بننے کا موقع ملا۔ اسی طرح فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 1997ء میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2008-13ء کی اسمبلی میں اسپیکر رہیں۔

2008ء تک ان خواتین ارکان اسمبلی کی سیاسی و پارلیمانی نظام میں خاطرخواہ شرکت ہوچکی تھی۔ اس تربیت نے 2008ء کے انتخابات میں کافی کام کر دکھایا اور کافی تعداد میں باصلاحیت خواتین جنرل اور مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔76خواتین ممبران میںساٹھ مخصوص نشستوں پرجبکہ 17اوپن نشستوں پرمنتخب ہوکر ایوان میں آئیں اور قانون سازی کے عمل میں اپنا کردار ادا کیا۔جس میں پنجاب سے، 35سندھ سے 14 ،بلوچستان سےاور خیبرپختونخوا سےتین،تین ممبر شامل تھیں۔تیرھویں قومی اسمبلی میںخواتین کے حوالے سے جو قابل ذکر بل پاس ہوئے ان میں گھریلو تشددبل 2009،کرمنل لاء بل 2010،خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف بل2010،ایسڈ کنٹرول بل 2010 اورپرویونشن آف اینٹی ویمن پریکٹس بل 2011 شامل ہیں۔

یکم جون 2013ء کو 2013-18کو 342ارکان پر مشتمل چودھویں قومی اسمبلی وجود میں آئی تھی،جن میں 272ارکان براہ راست منتخب ہوکر اسمبلی کا حصہ بنے جبکہ 70 نشستیں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص تھیں۔ بدین سے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والی اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے خود سمیت منتخب ارکان سے حلف لیا اور جب دوروز بعد نئے اسپیکر کا انتخاب مکمل ہوا تو فہمیدہ مرزا نے اسپیکر کی نشست نو منتخب اسپیکر سردار ایاز صادق کو سونپ دی اور واپس اپنی نشست پربیٹھ گئیں۔انہوں نے بہ حیثیت اسپیکر قومی اسمبلی اپنا کردار احسن طریقے سے نبھایا۔

پالیسی سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت ضروری ہے

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک جمہوری حکومت دوسری منتخب حکومت کو اقتدار سونپ رہی تھی۔قومی اسمبلی ہی میں نہیں صوبائی سطح پر بھی خواتین اپنی کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھا۔قومی اسمبلی میں ایوان کی کارروائی میں خواتین نے 60فی صد حصہ لیا۔اس کے ساتھ ہی سندھ اسمبلی نے اپریل 2014 میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ایک بل منظور کیا ،جس کے تحت کم عمری میں شادی قانونی طورپرجرم قرارپائی۔کم عمری میں شادی کی روک تھام کا بل 2013 میں شرمیلا فاروقی اورروبینہ سعادت قائم خانی نے پیش کیا تھا۔ اس بل کے تحت کم عمری کی شادی کے جرم میں شریک ملزمان کو تین سال تک کی قید اور 45 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ سنائی جاسکتی ہیں۔یاد رہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت ملک کی پہلی اسمبلی تھی جس نے خواتین کے تحفظ کے لیے اس نوعیت کا بل پاس کیا۔بلوچستان اسمبلی نے جنوری 2016 میں ایک بل متفقہ طور پر پاس کیا، جس کے تحت خواتین کو کام کے مقام پر ہراسمنٹ کا نشانہ بنانے پر کارروائی عمل میں لانے کی منظوری دی گئی۔یہ بل صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارت وال نے 2015 میں پیش کیا تھا‘ اس سے قبل 2014 میں بلوچستان اسمبلی گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے بھی ایک بل پاس کرچکی تھی اور خواتین کے ساتھ زیادتی اور تیزاب گردی کے حوالے سے ایک بل منظور کیا گیا۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی میں فروری 2016 خواتین کو گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی اور نفسیاتی تشدد، بدکلامی اورسائبرکرائمز سے تحفظ دینے کا بل منظور کیاگیا۔پنجاب میں منظور ہونے والے بل کے تحت خواتین کو جسمانی ، جنسی، ذہنی یا معاشی استحصال کا نشانہ بنانے والے شخص کے لیے جرم کی نوعیت کے حساب سے سزائیں متعین کی گئیں یہاں تک کہ پروٹیکشن آفیسر کو اس کے کام سے روکنے کی صورت میں بھی چھ ماہ کی قید مقرر کی گئی۔خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے 2016 میںخواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بل ڈرافٹ کرکےاسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا تھا جس نے پنجاب کے ویمن پروٹیکشن بل کی طرح اسے بھی مسترد کردیاتھا۔

رواں برس مارچ میں گزشتہ پارلیمانی خواتین کی کارکردگی کے حوالے سے ’’فافن‘‘ نے ایک جائزہ رپورٹ جاری کی جس کے مطابق خواتین ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے 1836؍سوالات پوچھے۔ ان میں قومی اسمبلی کی خواتین ارکان نے 1595؍سوالات پوچھے۔ یہ رپورٹ 12؍پارلیمانی بزنس کے حوالے سے جاری کی گئی۔ 2017-18ء کے دوران پارلیمان کا 39؍فیصد ایجنڈا خواتین ارکان کی جانب سے پیش کیا گیا جبکہ خواتین کی پارلیمان میں نمائندگی صرف 20؍فیصد ہے۔ قومی اسمبلی میں 49؍فیصد ایجنڈا خواتین نے پیش کیا جبکہ سینیٹ میں 15؍فیصد ایجنڈا خواتین کی جانب سے جمع کرایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں ہر خاتون رکن کی اوسطاً 50؍سے 67؍فیصد نشستوں میں حاضری رہی جبکہ مرد ارکان اوسطاً 42 سے 56 فیصد نشستوں میں حاضر رہے۔سینیٹ کی خواتین ارکان اوسطاً ~64 فیصد نشستوں میں حاضر رہیں جبکہ مرد ارکان 59 فیصدنشستوں میں حاضر رہے ۔خواتین ارکان پارلیمان نے اوسطاً فی رکن 23 ایجنڈا آئٹمز ایوان میں پیش کیے جبکہ مرد ارکان نے اوسطاً دس ایجنڈا آئٹمز فی رکن پیش کیے۔قومی اسمبلی کے گذشتہ دس اجلاسوں کی 75نشستوں میں کرن حیدر ہر نشست میں حاضر رہیں۔ سینیٹ کے گذشتہ تیرہ اجلاسوں کی 100 نشستوں میں میں گل بشرہ 92 نشستوں میں حاضری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔قومی اسمبلی میں خواتین نے 31 بل خود اور 22 مرد اراکین کے ساتھ مل کر پیش کیے۔سینیٹ میں خواتین نے 13 بل خود اور پانچ مرد اراکین کے ساتھ مل کر پیش کیے۔قومی اسمبلی میں خواتین نے 36 قراردادیں ازخود اور 16 مرد اراکین کے ساتھ مل کر پیش کیں۔سینیٹ میں خواتین ارکان نے 15 قراردادیں پیش کیں۔خواتین ارکان قومی اسمبلی نے حکومت سے 1595 سوالات اور خواتین ارکان سینیٹ نے 241 سوالات پوچھے۔

خواتین کے حقوق کے لیے قانون سازی اور دوسرے ایشوز پر پارلیمانی ’’کاکس‘‘ (cacus) نومبر 2008میں وجود میں آیا،جسے اس وقت کی قومی اسمبلی کی اسپیکر فہمیدہ مرزا کی سرپرستی میں تشکیل دیا گیا تھا،جس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین پارلیمنٹیرینز شامل ہیں،جوپاکستان میں خواتین کو درپیش مختلف مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی سمیت خواتین کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتی ہیں۔ویمن کاکس نے سیاسی و نظریاتی وابستگی سے بالاتر ہوکر خواتین کے لیے بہت کام کیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین کے حوالے سے قوانین بنائے گئے جس کے لیے کافی عرصے سے جدوجہد کی جارہی تھی۔اس کے علاوہ بھی دیگر قوانین پر کام کیا گیا تاہم اگر مجموعی طور پر ان خواتین کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے یا جماعتوں کے اندر ان کی فعالیت دیکھیں تو کتنی ہی ایسی خواتین ہیں جو اپنے اپنے ادوار میں پارلیمنٹ میں ایک مرتبہ بھی نہ بول سکیں۔ اگر بول بھی لیتیں تو انہیں سنجیدگی سے نہ سنا جاتا۔ ان میں سے اکثریت کے لیے یہی کہا گیا کہ یہ ذاتی کاموں یا مراعات تک ہی محدود رہیں۔ درحقیقت خواتین کو اہم فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں کیا جاتا۔ جماعتوں کے اندر بھی جو گروپ فیصلے کرتا ہے، ان میں بھی خواتین کو شریک نہیں کیا جاتا۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان پر فیصلے مسلط کئے جاتے ہیں۔

مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین کو ترقیاتی فنڈز بھی نہیں دیئے جاتے کیونکہ ان کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں ہوتا۔ چونکہ ان کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں ہوتا لہٰذا وہ حلقے کی سیاست سیکھ نہیں پاتیں اور لوگوں کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ ان کا انتخاب چونکہ جماعتوں کی لیڈر شپ کی مرہون منت ہوتا ہے لہٰذا انہیں اپنے لیڈر کی ہر بات ماننا پڑتی ہے۔ یوں پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور سیاسی جماعتوں کے اندر اچھی خاصی تعداد ہونے کے باوجود بھی ان کا سیاسی کردار کافی حس تک غیر اہم رہا ہے،تاہم تمام زمینی حقائق کے باوجودخواتین ارکان پارلیمان قانون سازی کے عمل میں شریک ہوکر عام پاکستانی عورت کا وقار بلند کرنے اوران کے حقوق سے آگاہی کے لیے کوشاں ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں