• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان اور برطانیہ کی سیاست میں فرق

مریم فیصل،برطانیہ

برطانوی پارلیمنٹ جسے’’ جمہوریت کی ماں‘‘ قرار دیا جاتا ہے، اس کی پُرشکوہ عمارت بڑی شان سے برطانیہ کے دِل، لندن میں موجود ہے۔ 1016ء میں تعمیر ہونے والی اس عمارت نے زمانے کے کئی گرم، سَرد دیکھے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ بنیادی طور پر دو حصّوں پر مشتمل ہے، یعنی ہاؤس آف لارڈز اور ہاؤس آف کامنز۔ انھیں اُردو میں بالترتیب دارالامراء اور دارالعوام کہا جاتا ہے۔ ان دونوں ہاؤسز کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ برطانیہ میں جیسے جیسے شاہی نظام اپنی طاقت کھوتا گیا، ویسے ویسے پارلیمانی نظام پروان چڑھتا گیا اور پھر وہ وقت بھی آگیا، جب بادشاہت کی جگہ، پارلیمانی نظام نے لے لی۔ برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ہاؤسز پارلیمانی نظام قائم ہونے سے قبل موجود تھے، لیکن اُس وقت ہاؤس آف لارڈز کے، جو نوابوں اور دولت مندوں پر مشتمل تھا، اختیارات ہاؤس آف کامنز سے زیادہ تھے۔ 

1832 ء کے ریفامز ایکٹ کے بعد، جس نے انگلینڈ اور ویلز کے الیکٹرول نظام میں اہم تبدیلیاں کیں، ہاؤس آف کامنز کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ اس سے قبل، دارالعوام عام افراد پر مشتمل تھا، لیکن اس ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد اس ایوان کے لیے صحیح معنوں میں انتخابات ہونے لگے۔ اگرچہ، اب بھی اسے لوئر یعنی نچلے درجے کا ہاؤس کہا جاتا ہے، لیکن اس کے 650 منتخب ارکان ہی سے حکومت بنتی ہے اور انہی میں سے ایک رُکن برطانیہ کا وزیرِ اعظم منتخب ہوتا ہے، جو مُلک کے تمام فیصلے کرنے کا مجاز ہے۔ پانچ سال کے لیے بننے والی حکومت کے فیصلے جمہوری اقدار کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہی کیے جاتے ہیں۔

ہر جمہوری مُلک کی طرح، برطانیہ کے پارلیمانی نظام میں بھی اپوزیشن اپنا فرض نبھاتی ہے، وہ حکومتی فیصلوں پر کُھل کر تنقید کرتی ہے، مگر اس کا کردار پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ پاکستان میں تو حکومت بنتے ہی اپوزیشن کا سارا زور صرف اور صرف اسی نکتے پر ہوتا ہے کہ کس طرح حکومت کو قدم جمانے سے پہلے ہی گرانا ہے۔ الزام تراشیاں تو برطانیہ میں بھی کسی نہ کسی شکل میں سُنائی دیتی ہیں، لیکن اس کا دورانیہ صرف انتخابی مہم ہی تک محدود ہوتا ہے۔ اس طرح کی مہم جوئیاں، انتخابات کے اعلان کے ساتھ شروع ہوجاتی ہیں اور سیاسی پارٹیاں اپنے کارنامے گنوانے کے ساتھ، مخالف پارٹیوں کی ناکامیوں کے کھاتے بھی عوام کے سامنے کھولنے لگتی ہیں، تاہم برطانیہ میں الزام تراشی یا بہتان بازی ایک حد سے زیادہ ممکن نہیں، کیوں کہ اس حوالے سے یہاں کے قوانین خاصے سخت ہیں۔ یہاں یہ چلن نہیں ہے کہ انتخابات جیتنے کے لیے ساری حدود پار کر لی جائیں۔ جو دِل میں آئے، منہ سے اگلتے رہیں اور کوئی پوچھ گچھ ہی نہ ہو۔ بیان بازی میں کسی کی کردار کُشی نہ ہو، برطانیہ میں اس کا مکمل خیال رکھنا پڑتا ہے، ورنہ اس پارٹی یا پارٹی ورکر کو معطّل کر دیا جاتا ہے۔ 

نیز، یہاں پیسے دے کر یا ڈرا دھمکا کر ووٹ خریدنے کی روایت کبھی نہیں رہی۔ تمام جماعتوں کو انتخابی ضابطوں کی مکمل پاس داری کرنا ہوتی ہے۔ پھر یہاں کی جمہوریت کا ایک حُسن یہ بھی ہے کہ جیسے ہی انتخابی نتائج منظرِ عام پر آتے ہیں، الزام تراشیاں دَم توڑ دیتی ہیں اور ناکام ہونے والی پارٹیاں کُھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے منتخب ہونے والی جماعت کو مبارک باد پیش کرتی ہیں۔ اگرچہ برطانیہ میں دو بڑی پارٹیوں، لیبر اور کنزرویٹو ہی کو عوام کی زیادہ حمایت حاصل ہے، مگر باقی جماعتیں بھی خاصا ووٹ بینک رکھتی ہیں۔ پھر یہ کہ عوام کے فیصلے بدلتے رہتے ہیں۔ عوام جب محسوس کرتے ہیں کہ کوئی پارٹی ان کی توقّعات کے مطابق کام نہیں کر رہی ہے، تو وہ اُسے اقتدار سے الگ کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتے۔ بلاشبہ یہاں جمہوریت اپنی اصل شکل میں نافذ ہے اور عوام کے ووٹوں کی قدر کی جاتی ہے۔ عوامی عُہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی جیبیں بھرنے کا ’’ہنر‘‘ شاید ہی یہاں کوئی جانتا ہو، اس لیے کرپشن کے واقعات شاذ و نادر ہی سُننے میں آتے ہیں۔

اپوزیشن، حکومت کی پالیسز پر شدید تنقید کرتی ہے، جس کے لیے میڈیا کا بھی بھرپور استعمال کیا جاتا ہے، تاہم تنقید کے ساتھ، متبادل حل بھی پیش کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اِدھر حکومت نے کوئی نئی پالیسی پیش کی، اُدھر اپوزیشن حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور’’ حکومت چھوڑ دو‘‘ کے مطالبے شروع کردے۔ البتہ کچھ واقعات ایسے بھی ہوئے ہیں، جن میں وزیرِ اعظم نے مدّت پوری ہونے سے قبل ہی اپنے عُہدے سے استعفا دے دیا۔ ڈیوڈ کیمرون اس کی واضح مثال ہیں، جنھوں نے برطانوی عوام کے بریگزٹ کی حمایت میں ووٹ کرنے پر رضاکارانہ طور پر عُہدہ چھوڑ دیا تھا۔ مگر، یہ وہ اعلیٰ مثالیں ہیں، جن سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر عوام اپنے ووٹوں سے منتخب کیے جانے والے مُلک کے سربراہ کے بھی کسی فیصلے کو رَد کردیں، تو اُس کا فرض ہے کہ وہ عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے عُہدے سے الگ ہو جائے۔ 

پاکستان کی طرح’’ مَیں نہ مانوں‘‘ کی رٹ لگاتے ہوئے اقتدار سے چمٹے رہنے کی، خواہ اس سے مُلک میں کتنا ہی بڑا سیاسی بحران برپا ہوتا رہے، برطانیہ جیسے ترقّی یافتہ ممالک میں کوئی گنجائش نہیں۔ اور پھر جمہوری مُمالک کی یہی مثالیں آیندہ آنے والی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتی ہیں، جو مُلکی ترقّی کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ پاکستان میں تو’’ مَیں اچھا، تُو بُرا‘‘ کی ایسی رٹ لگی رہتی ہے کہ عوام کی سمجھ سے بھی بالاتر ہوگیا ہے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ سیاست’’ خاندانی کاروبار‘‘ بن چکی ہے، جو نسل در نسل منتقل ہورہا ہے، لیکن اس سے مُلک کو کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا۔

تازہ ترین