آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینے میں اٹھنے والا ہر درد ،دل کا دورہ نہیں ہوتا ، تاہم اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ امراض قلب کی علامات سینے میںدرد کے علاوہ بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ سینے میں جلن ،پٹھوں میں کھنچائو وغیرہ۔ صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں بھی دل کی بیماریاں عام ہیں اور امریکا میں40فیصد اموات کی وجہ دل کا عارضہ ہی ہے۔ اسی لیے ہمیں اس بارے میں جاننا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔

صحت مند دل

صحت مند دل کا تعلق آپ کی عمر سے ہوتاہے، اس لئے کہ ہر عمر کے مطابق اس کا خیال رکھنا پڑتاہے ۔سب سے اہم چیز اچھی غذا،باقاعدہ ہلکی پھلکی ورزش اور معمولات زندگی کو ہموار طریقے سے چلانا ہے۔دل کی اچھی صحت کے لئے سونے اورجاگنے کے اوقات کی پابندی کے علاوہ مثبت سوچ بھی ضروری ہے۔ 

غذا کے حوالے سے سب سے ضروری یہ ہے کہ آپ جو کھائیں، اس سے حاصل شدہ کیلوریز کو جلائیں اور زیادہ کھانے سے بچیں ۔ اس کے علاوہ آپ کی غذا متوازن بھی ہونی چاہئے جس میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، فائبراور نمکیات سمیت تمام اجزاءمناسب مقدار میں پائے جائیں۔ غیرمعیاری کھانوں، زیادہ نمک اور چینی سےبنی اشیا کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

دل کی عام بیماریاں

دل کی عام بیماریوں میں اس کی دھڑکن کا بے قاعدہ یا تیزہونا، دل کی ریومیٹک بیماری (دل کو مستقل طور پر نقصان پہنچانے والی بیماری)، دل کے والوز کی بیماریاں مثلاً ان کا سکڑجانا، لیک یا بند ہونا،ہائی بلڈ پریشر،دل کے سائز کا بڑھ جانا اوردل کے پٹھوں کا موٹا ہوجانا شامل ہیں۔

امراض قلب کی وجوہات اور احتیاط

انجائنا اور ہارٹ اٹیک کی وجوہات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ کورونری شریان کی بیماری(Coronary Artery Disease) یا انجائنا کے چند پہلوایسے ہیں جن سے بچاؤ میں ڈاکٹر آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ان میں سے پہلا یہ کہ بیماری آپ کے خاندان میں پہلے سے موجود ہو اور دوسرا یہ کہ آپ مرد ہوں ۔ اس سلسلے میں تیسری بات آپ کی عمر ہوتی ہے جس سے اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوجاتاہے۔چند عوامل ایسے ہیں جن سے اس بیماری کو تقویت ملتی ہےمثلاً ذیابطیس، تمباکو نوشی،کولیسٹرول کی زیادتی،بے قاعدہ ورزش یا اس کابالکل نہ ہونا ،خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کانہ ہونا،بلڈپریشر،ذہنی دبائو،تفریح کافقدان اورموٹاپا وغیرہ۔ہارٹ فیل کی علامات مختلف ہیں، اس لئے کہ یہ ہمیشہ دل کے دورہ کے بعد ہوتا ہے۔ اس میں دل کی کمزوری، دل کا دورہ ، ہائی بلڈپریشر کا بہت عرصے کے لئے رہنا اور اس کا علاج نہ ہونا،دل کے پٹھوں کا بڑھ جانا یا دل کے والو کا رسنا یا تنگ ہونا شامل ہیں۔

ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیل اور انجائنامیں فرق

ہمارے جسم میں دل ہمیشہ کام کرتارہتا ہے اور وہ دل کی شریانوں کے ذریعے ملنے والے خون سے اپنی ضروریات پوری کرتا ہے۔انہیں کورونری آرٹریز(coronary arteries) کہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خون میں شامل چربی ان شریانوں میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ تنگ ہوجاتی ہیں۔جب یہ تنگی 50یا 60فی صد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو دوران خون میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں جب کوئی جسمانی یا ذہنی سرگرمی مثلاً ورزش وغیرہ کی جائے تو سینے میں عجیب سی تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔اس درد کو طبی اصطلاح میں ”انجائنا“ کہتے ہیں۔جب یہ رگ مکمل طور پر بند ہوجاتی ہے اورخون بالکل نہیں گزر پاتا تو اسے ”ہارٹ اٹیک“ کہتے ہیں۔ اسی طرح جب دل کسی وجہ سے خون کو پمپ کرنا بند کر دیتا ہے تو اس کیفیت کو دل کے ناکام ہوجانے یعنی ہارٹ فیل(heart fail) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

انجائنا،ہارٹ اٹیک اور ہارٹ فیل کی علامات میں فرق

انجائنا کی صورت میں سینے میں دبائویا درد کا ہونانمایاں ہے ۔ یہ درد سینے کے مرکزی حصہ میں ہوتا ہے، جس کا دورانیہ متعین نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے ہونے کے وقت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ یہ درد چلنے ،مشقت والا کام کرنے یا ذہنی دبائوسے بڑھتا اور آرام کرنے یادوالینے سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ہارٹ اٹیک دراصل انجائنا کی زیادہ شدت والی حالت کو کہتے ہیں کیونکہ اس میں خون کی گزر گاہ یعنی شریان کے بند ہونے کی وجہ سے خون کا بہائو متاثر ہوتا ہے۔ اس میں درد ناقابل برداشت حد تک شدید ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ قے اور متلی آنا،پسینے میں تمام بدن کا شرابور ہوجانا، اس کے علاوہ ہاتھ،گردن اور جبڑے میں درد ہوجانا وغیرہ جیسی علامات بھی سامنے آتی ہیں۔عموماًاس درد کا دورانیہ آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک ہوتا ہے۔ ہارٹ فیل کے کچھ مریضوں میں ان میں سے کئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ ایسے میں کچھ بڑی علامات مثلاً سانس پھولنا،جسم میں برداشت کی کمی ( پہلے وہ جتنا کام کر سکتے تھے اب اتنا کام نہیں کر پاتے)،پیروںکا سوجنا، رات کو ہڑبڑاکر نیند سے ایسے اٹھ بیٹھنا جیسے سانس بند ہورہی ہو‘ سامنے آتی ہیں۔

نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کی وجہ

نوجوانوں میں دل کی بیماریاں بڑھنے کے بڑے اسباب میں ان کاغیر صحت مندانہ طرز زندگی، کھانے پینے کی عادات،باقاعدہ ورزش کا فقدان، تمباکو نوشی، ذیابطیس اور موٹاپا نمایاں ہیں۔ جنوبی ایشیاءکے باشندوں میں دیگر ممالک کے مقابلے میں دل کی بیماریاں زیادہ اور وقت سے پہلے دیکھی جارہی ہیں ۔

دل کا بڑا ہونا

دل کا بڑھ جاناہارٹ فیل اور ہارٹ اٹیک کے بعد ہوتا ہے۔ جب دل صحیح انداز میں خون کو پمپ نہیں کر پاتا تو زیادہ زور لگانے کی وجہ سے اس کا اپنا سائز بڑا ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں