آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شمیم غوری

سندھ کیا تھا اور کیا ہو گیا، تاریخ کو کھنگالیں توپتہ چلتا ہے کہ 1500 قبل مسیح یا اس سے بھی پہلے جب آریاؤں نے مشرق کی جانب قدم رکھے تو سب سے پہلے وہ تمام علاقہ جسے دریائے اٹک سیراب کرتا تھا اس پر قبضہ کیا۔یہاں سکونت پذیر ہونے کے بعد اس کا نام سندھو رکھا۔ان کی زبان سنسکرت میں سندھو کے معنی دریا کے تھے،پھر جب وہ آگے پھیلے اور پنجاب کے مزید پانچ دریا جو اس میں شامل ہوتے ہیں ،ان علاقوں پر قبضہ کیا اور مزید ایک سرسوتی ندی جو آج کل سوکھی ہوئی ہے، اس وقت اٹک سے بھی بڑی تھی، دیکھی تو اس علاقے کا نام، سپت سندھو یعنی سات ندیاں رکھ دیا ۔آریہ جہاں جہاں جاتے رہے ان علاقوںکو فتح کر کے قبضہ کر تے گئے وہ سب علاقہ سپت سندھو میں شامل ہوتا گیا۔وادی گنگا پہنچ کر انہوں نے اسے آریہ ورت کہنا شروع کیا۔لیکن ایرانی اسے سندھو ہی کہتے رہے۔

یہ لفظ ایران میں تبدیل ہو کر ہند ہو گیا ۔اس کے رہنے والے ہندو کہلائے۔مغربی علاقوں کے لوگوں نے اسے سندھو سے سندھ بنا دیا۔ایرانیوں کے ہاں یہ غیر قوموں کی زبان پر چڑھ کر ’’اند‘‘ ہوا، یونانی میں اندیا ہوا اور ولایت میں انڈیا بن گیا۔ساڑھے تین ہزارسال میں یہ نام سندھو سے انڈیا بن گیا۔ایران سے مشرق کی جانب جمنا کی وادیوں سمیت ،شمال کی جانب کابل اور کشمیر تک کبھی سندھو تھا۔ایرانیوں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے دیکھا کہ، مغربی بلاد کے لوگ اپنے ملک کو سندھ کہتے ہیں اور ہند اس ملک کا نام ہے جو آریہ ورت کہلاتا ہے،یوں صرف مغربی علاقہ سندھ کہلایا۔محمد بن قاسم کے زمانے میں پورا بلوچستان اور آدھا پنجاب ملتان سمیت سندھ تھا۔آج یہ سکڑ کر ایک چھوٹا سا صوبہ رہ گیا ہے۔زیرنظرمضمون میں پرانے زمانے کے عظیم سندھ کی بندرگاہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

نیرون کوٹ کی بندرگاہ ۔یہ سکندراعظم کی مرہون منت ہے۔سکندر اعظم وہ جوہر شناس شخصیت تھا جس نے انسانوں میں جوہر تلاش کر کے اپنی سلطنت کو وسعت دی ۔دنیا کو فتح کیا۔اپنے وقت کے ماہر سروئیر فوج میں بھرتی کئے۔ان دیکھی جگہوں کے نقشے بنوائے۔جنگی لحاظ سے اہم جگہوں پر شہر بسائے ۔ قلعے بنوائے،لائٹ ہا ؤس بنوائےاور اپنے جرنیلوں کو ان علاقوں میں حکمرانی کے لئے مقرر کیا۔نیرون کوٹ بھی دریائے سندھ کے کنارے اسی کا بسایا ہوا ایک شہر تھا۔کوٹ بمعنی قلعہ تو یہاں اس نے اپنی فوج کی حفاظت کے لئے قلعہ بھی بنوایا تھا۔اس جگہ کا نام رون ،ارون، ارون پور پٹیالہ،پٹال پور اور پٹالہ بندر کے نام سے تاریخوں میں ملتا ہے۔ نیرون ایک ہندو حکمران بتایا جاتا ہے۔اگر یہ بندرگاہ سمندر برد ہو کر ختم ہو گئی تو اس کے نزدیک حیدر آباد آباد ہو گیا یا دریا نے رخ تبدیل کیا تو نیرون کوٹ ہی حیدرآباد میں تبدیل ہو گیا۔تاریخ دانوں کے مطابق سکندراعظم نے یہاں سے اپنے ایک جنرل کو بحری بیڑہ دے کر دریا اور پھر سمندر کے راستے یونان روانہ کیا تھا۔اس لحاظ سے یہ ایک قدیم بندرگاہ تھی ، اس سے سری لنکا ،مالدیپ، سنگا پور،مصر افریقہ اور ان سے ملحقہ ممالک میں تجارت ہوا کرتی تھی۔

نیرون کوٹ سےموجودہ حیدرآباد قائم ہونے تک تاریخ خاموش ہے۔ سر چارلس ایلیٹ کے مطابق یہ نیرون کوٹ ٹھٹھہ اور منصورہ کے درمیان واقع تھا۔ موجودہ حیدرآباد کو میاں غلام شاہ کلہوڑو نے 1738 میں بسایا تھا۔ چھٹی صدی میں رائے سمیرس ماہی،ساتویں صدی میں راجہ رائے ڈاہر اور آٹھویں صدی میں راجہ داہر اور محمد بن قاسم کی اس پر حکومت کا ذکر ملتا ہے۔اس کے مغرب میں ایک جھیل اور سبزہ زار موجود تھا۔یہ ایک گنجی پہاڑی پر واقع تھا ، جسے گنجو ٹکر کہتے ہیں۔ مسلمانوں کی اس پر تین سو سال حکومت رہی بعد ازاں دہلی کے حکمرانوں کے زیر تسلط رہا، پھر سومر،و اپنے زور پر قابض رہے ۔ جام نظام تماچی،مخدوم بلاول اور دریا دولہا خان اس دور کے مشہور ہردلعزیز حکمران رہے ہیں۔ ارغون اور ترخان سلاطین دہلی کی جانب سے قابض رہے ۔ یہ شہر کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن اب یہ بندر گاہ نہیں ہے۔

……کراچی کی بندرگاہ……

5000 قبل مسیح سے اس قدرتی بندرگاہ کا ذکر مقامی ماہی گیروں کے حوالےسے ملتا ہے۔ سکندر اعظم نے اس کو مختلف ناموں سے پکارا ،جس میں’’کروکولا‘‘ نام بھی شامل تھا۔ایک نام’’ مورنتو بارا‘‘ اس کے ایڈمرل نارکوس نے استعمال کیا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ سکندراعظم نے یہاں قیام کیا اور یہاں سے اپنے ایڈمرل نارکوس کو مورنتوبارا بندرگاہ موجودہ منوڑا سے وطن واپس کیا۔مورنتو بارا کے معنی ہیں، عورتوں کی بندرگاہ۔ اسے یونانیوں نے باربوریکون کا نام بھی دیا۔ممکن ہے بارباریکون کراچی کے نزدیک کسی اور بندرگاہ کا نام ہو۔ عورتیں یہاں کام کرتی ہوںگی،مچھلیاں سکھاتی یا جال بنتی ہوںگی، اس لئے اس کا نام ’’ مورنتو بارا‘‘ پڑ گیا ہوگا جو بعد ازاں موجودہ منوڑہ بن گیا ۔ 

راجہ داہر کے زمانے میں آنے والے تمام عرب جہاز ران اس بندرگاہ کو جانتے تھے۔دیبل کی بندرگاہ کو ابھی تک حتمی طے نہیں کہ یہ کراچی کی بندرگاہ تھی ،موجودہ ڈام بندر تھی یا موجودہ بھنبھور تھی یا موجودہ سنہرا تھی۔اس حوالے سے یہ طے ہے کہ کراچی اس وقت جہاز رانوں کے لئے اہم بندرگاہ تھی۔محمد بن قاسم نے اس پر رک کر حملے کی تیاری کی تھی یا اس پر حملہ کیا تھا ۔ایک ترک ایڈمیرل سدی علی رئیس نے دیبل اورمنوڑا کا ذکر اپنی تصنیف مراۃالممالک میں کیا ہے اورایک نقشے میں جو جہاز رانوں کے لئے پرتگال سے خلیج فارس کا بنایا تھا اس میں لکھا ہے کہ سمندری طوفانوں کے زمانے میں قریشی بندر گاہ میں سکون سے قیام کریں۔1568 عیسوی میں پرتگیز جہازوں نے ایڈمرل فرنو مینڈیز کی کمان میں دیبل کی بندرگاہ پر ترک جہاز پر حملہ کیا۔ 760 عیسوی میں اہل بیت مشہور صوفی عبداللہ شاہ غازی یہاں کوفے سے تشریف لائے۔ 

وہ ایک مجاہد،تاجر خاص طور پر گھوڑوں کے تاجر تھے ۔ ۔تالپور دور 1720 عیسوی میں کلاچی جو گوٹھ کے نام سے مسقط اور خلیج فارس تک تجارتی جہاز باقاعدہ شروع کئے۔ایک قلعہ بنایا جس کے دو دروازے تھے میٹھا درا ور کھارا در۔سندھ کے جہاز رانوں نے عمان اور مسقط سے اپنے قلعے کی حفاظت کے لئے توپیں لا کر نصب کیں۔کراچی کا نام کاغذات میں پہلی مرتبہ1742 میں ایک ولندیزی جہاز نے جو یہاں ڈوب گیا تھااپنے کاغذات میں استعمال کیا۔کراچی پر برطانوی میجر جنرل چارلس نیپیئر نے فروری 1843 میں صرف دو گھنٹے گولہ باری کر کے منوڑا پر قبضہ کر لیا ،اس کے بعد کراچی بندر گاہ مکمل طور پر انگریزوں کے قبضے میں آ گئی ،اس میں گوروں اور کالوں کے علاقےالگ الگ کر دئے گئے،پھر یہ بمبئی کے ماتحت آگیا۔انگریز اس کی اہمیت کو جانتے تھے ،انہوں نے اس کو ترقی دے کر ایک بڑے اور اچھے شہر میں تبدیل کردیا۔ کولاچی سے کراچی میں ترقی انگریزوں کی مرہون منت ہے۔میونسپل گورنمنٹ،کنٹونمنٹ ایریا، بندر گاہ،نیٹی جیٹی کا پل اور بے شمار عمارتیں آج بھی گورا راج کی یاد دلاتی ہیں۔اس شہر میں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ 

پاکستان بنتے وقت یہاں ہندو مسلم فساد ہوئے۔بہت سی غیر مسلم آبادی ہندوستان چلی گئی اور وہاں سے مسلمان آبادی یہاں ہجرت کر کے آگئی۔اس شہر نے بہت ترقی کی اور روشنیوں کا شہر کہلایا۔اسے شہروں کی دلہن یعنی عروس البلاد بھی کہتے ہیں۔اب یہ کچھ گہنایا گہنایا سالگتا ہے۔اس کے باجود پاکستان کا سب سے زیادہ بڑا صنعتی شہر ہے جو پاکستان کی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ اس کی تیس ڈرائی برتھیں ہیں جہاں سے12 ملین ٹن سامان چڑھایا اتارا جاتا ہے اور تین مائع سامان کی برتھیں ہیں ،جہاں سے سالانہ 14 ملین ٹن مائع سامان تیل گیس وغیرہ اتارا چڑھایا جاتا ہے۔ ۔ سالانہ 650000 کنٹینر یہاں اتارے اور چڑھائے جاتے ہیں۔

……دیبل کی بندرگاہ……

مشہور اور قدیم دیبل کی بندرگاہ دنیا بھر میں محمد بن قاسم کی نسبت سے جانی جاتی ہے۔اس کی درست نشاندہی نہیں ہو سکی۔یہ تاریخ میں تو زندہ ہے لیکن جغرافیے میں نہیں۔اس کی ایک سے زائد جگہ نشاندہی ہوتی ہے۔ موجودہ سونمیانی ڈام / ڈامب کا علاقہ کسی زمانے میں مشہور بندرگاہ تھا۔ یہاں چھوٹے بڑے جہاز آتے تھے اور سری لنکا مالدیپ سے خلیج فارس اور افریقہ تک جہاز رانی ہوتی تھی،پھر یہ سمندر برد ہو گئی اور اس کا ساحل جہازوں کے قابل نہ رہا۔اب یہ ایک چھوٹی سے ماہی بندر ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہی دیبل کی بندر گاہ تھی۔

اب یہ بلوچستان میں واقع ہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ بُہارو سندھ کے جنوب مشرق میں دیبل شہر کی باقیات سمندر میں موجود ہیں،جو سمندرجب بہت زیادہ اتر جاتا ہے تو نظر آتی ہیں۔ دھابے جی کے علاقے میں بھنبھور کے کھنڈرات واقع ہیں۔ اس میں سمندر کی ایک کھاڑی کے قریب ایک ٹیلے پر قلعہ نما فصیل ہے۔اس کے اندر ایک پرانے شہر اور ایک مسجد کے آثار بھی ہیں ۔زیادہ قیاس کیا جاتا ہے کہ یہی دیبل کی بندر گاہ تھی۔بھنبھور کے باسیوں نے آٹھویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں سے بار بار اپنا دفاع کیا۔ لیکن محمد بن قاسم سے شکست کھا گئے۔مشہور رومانوی داستان سسّی پنّوں کا تعلق اسی بندرگاہ سے ہے۔اس علاقے سے ابھی بھی مکران کے راستے پر اونٹوں اور مویشیوں کے قافلے سفر کرتے ہیں اور سسّی پنّوں کے مزار پر آرام کرتے ہیں۔تاریخ میںاس بندر گاہ کو مختلف ناموں سے بیان کیا گیا ہے۔سکندر کے حملے کے وقت یہ کراچی کے نزدیک پاتال کے نام سے تھی۔دریائے سندھ کے راستے جس سندھو ریشم راستے کا ذکر ملتا ہے اس میں بھنبھور شامل ہے۔تاریخ کے مطابق عدن سے بھنبھور تک 20 دن کا بحری راستہ تھا۔ 

یہ نیل کی تجارت کا ایک بہت بڑا مرکز تھی۔یہ بندرگاہ بارہویں صدی عیسوی میں سندھو دریا کے راستہ بدلنے پر تباہ ہو گئی یا کسی بیرونی حملہ آور نے اس کو لوٹ کر جلا دیا، کیونکہ اس کے جلنے کے آثار اس کے کھنڈرات سے ملے ہیں۔ خیال ہے کہ 1221 عیسوی میں جلال الدین خورازم کے حملے سے یہ تباہ ہوئی۔ ابن بطوطہ نے 1333عیسوی میں ایک ابھرتی ہوئی بندرگاہ کا ذکر کیا ہے جو لاری بندر ہوگا۔بہرحال یہ ایک تاریخی بندرگاہ تھی اور اگر یہ دیبل تھی تو اس کے آثار قابل دید ہیں۔اس کے دامن میں ایک ماہی بندر آج کل فعال ہے جس کا نام’’ ہرجینا‘‘ ہے۔یہ کسی پارسی کی نمک کمپنی ہرجینا سالٹ ورکس کے نام پر ہرجینا کہلاتی ہے۔یہاں قدرت کا ایک معجزہ نظر آتا ہے۔سمندری پانی کے اندر ایک میٹھے پانی کا چشمہ ہے۔جب سمندر اتر جاتا ہے تو اس چشمے سے انسان اور مویشی فیضیاب ہوتے ہیں۔

……شاہ بندر……

اگر کراچی سے سجاول کا سفر کریں تو سڑک کے دائیں جانب جانے والی سڑک پر شاہ یقیق اور جلالی بابا کی درگاہیں آئیں گی ان سے آگے چند کلومیٹر پر شاہ بندر موجود ہے۔ یہ ایک عظیم بندرگاہ تھی ۔ماضی میں یہاں سے یورپ تک مال کی سپلائی ہوتی تھی۔ گھارو سے 80 کلو میٹر کے فاصلے پر یہ ایک چھوٹی سی ماہی بندر ہے۔دریائے سندھ کے عروج کے زمانے میں یہ زیادہ مصروف تھی ۔اب یہاں فلوٹنگ جیٹی بنادی گئی ہے، جس سے ماہی گیروں کو آسانی ہو گئی ہے۔اورنگا بندر ۔ کھارو چھان ، کیٹی بندر اور دیگر چھوٹی چھوٹی بندرگاہیں ریت بھرنے کی وجہ سےاٹھارویں صدی کے وسط تک ختم ہو رہی تھیں۔ 

کراچی میں ایک اچھی پورٹ بنے کی وجہ سے یہاں کے ہندو بیوپاریوں نے کراچی کا رخ کیا،پھر یہ متروک ہو گئی تھی۔غلام شاہ کلہوڑو نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس نے 1759میں اس کو دوبارہ تعمیر کرایا۔اورنگا بندر سے بیوپاریوں کو لایا۔انگریزوں کے ایک بیوپاری کوٹھی یہاں بنوا دی۔ یہ ایک اچھی بندرگاہ بن گئی۔ایک وقت میں اس کے اپنے 15 جہاز یہاں کھڑے ہوتے تھے،ایسے جہاز جن میں تین سو ٹن سامان اٹھانے کی گنجائش ہوتی تھی۔کچھی اور بھاٹیا قوم کے تاجر مسقط اور خلیج فارس تک اپنا مال لے جاتے تھے۔یورپ کو نیل،چینی ،قلمی شورہ ،چاول اور دیگر زرعی اجناس جاتی تھیں,1819 کے ایک زلزلے نے سندھ کی ڈیلٹائی نہروں کا رخ بدل دیا اور یہ بندر گاہ تباہ ہو گئی،اب یہ ایک چھوٹی سے ماہی بندر ہے۔اس کی عظمتوں کے نشان سمندر برد ہوچکے ہیں۔

……کیٹی بندر……

گھارو سے دائیں جانب ایک سڑک ،گھوڑا باڑی کی جانب جاتی ہے، اس سے120 کلومیٹر پر کیٹی بندر کی قدیم بندرگاہ آجاتی ہے۔اس کے بارے میں اُس وقت کےچیف کمشنر ہڈسن نے لکھا تھا کہ، بندرگاہ 1848 سے اسرانجام دے رہی ہے ۔یہاں سے کچھ، کاٹھیا واڑ ،گجرات تک اور زنجبار تک تجارت ہوتی تھی۔یہ اناج کی بہت بڑی منڈی تھی ۔1902 میں 382 جہاز یہاں 8020 ٹن مال لے کر آئے اور 92705 من اناج 2230 من لکڑی اور دوسرا سامان لے کر گئے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ ایک خوشحال علاقہ تھا۔کسی زمانےمیں کراچی میونسپلٹی کو یہاں سے فنڈز دئیے جاتے تھے۔

1935 میں سالانہ لاکھوں ٹن چاول،50 ٹن مچھلی، دودھ،گوشت یہاں سے سپلائی ہوتا تھا۔اس کی تباہی کی وجہ، دریائی پانی کے رخ کی تبدیلی اور بیراجوں سے پانی کا سمندر سے عدم اخراج ہے۔پانی نہ ہونے سے اس کی زمیں سمندر برد ہو گئی اور آبادی پانی کی تلاش میں نقل مکانی کر گئی۔یہاں کی چار رائس ملیں اب کھنڈر بنی گئی ہیں۔کیٹی بندر کی زمیں سمندر نگلتا جا رہا ہے اور یہ اجڑتی بستی بنتی جا رہی ہے موجودہ بندرگاہ تیسری مرتبہ بنی ہے۔ دو مرتبہ سمندر برد ہو چکی ہیں ۔یہاں ایک فلوٹنگ جیٹی قائم ہے جس سے ماہی گیروں کو کشتیاں کنارے لگاکر مچھلیاں اتارنے میں بہت آسانی ہورہی ہے۔ یہ چھوٹی سی ماہی بندر اب پینے کے پانی سے محروم اور تباہی کی داستان لئے ہوئے ہے۔اس کے ارد گرد ،جاکی بندر،رانو کوٹ،شاہ بندر، وگہیو کوٹ ،علی بندر،دیبل بندر،لاری بندر وغیرہ موجود ہیں، جن کو سرکار نے جیٹیوں کی شکل دے کر ماہی گیری کے قابل بنا دیا ہے۔ان سب کی سابقہ عظمت یا تو سمندر برد ہو گئی یا ختم ہو گئی۔

……جھرک کی بندرگاہ……

ٹھٹھہ سے حیدرآباد جاتے ہوئے سڑک کے بائیں جانب جھرک کا چھوٹا سا قصبہ آتا ہے،یہاں کینجھر جھیل کی وہ جگہ ہے جہاں سے دریائے سندھ کا پانی اس جھیل میں داخل کیا جاتا ہے۔کبھی یہاں سمندر تھا اور دریائے سندھ یہاں گرتا تھا۔صدیوں سے یہاں بادبانی جہاز چلتے تھے۔ انڈس سٹیم فلوٹیلا کمپنی نے یہاں لکڑی کے ایندھن سے چلنے والے سٹیمر چلائے۔انہوں نے ایک بندرگاہ تعمیر کی ،ان کے یہ دھواں اڑاتے مال بردار سٹیمر کراچی سے چل کر ملتان اٹک اور کالاباغ تک سامان لےجاتے تھے۔کیپٹن ای ڈی لھوسٹ 1835 میں اس شہر کی خوبصورتی بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ، سامان کراچی سے سستا ہے۔

اسماعیلی خوجوں کے یہاں کوئی ایک ہزار خاندان بستے تھے۔ آغا خان اول یہاں آکر بسے۔میر نصیر خان ان کو گرفتار کرنے شاہ قاچار والی ایران کے کہنے پر آئے ۔ آغا خان کا محل آج بھی یہاں موجود ہے۔اس کی اہمیت کی وجہ سے چارلس نیپئر نے اس کو ہیڈکوارٹر کا درجہ دے کر چھا ؤنی بنایا۔سندھ مدرسہ کے بانی حسن علی آفندی انڈس سٹیم فلوٹیلا کمپنی جھرک میں سٹیمروں پر لکڑی چڑھا نے کا ریکارڈ رکھنے پر یہاںملازم تھے۔ریلوے کے آنے اور دریا کے رخ بدلنے کے بعد یہ بندرگاہ زوال پذیر ہوئی۔

مورنتو بارو یا خواتین کی بندرگاہ۔یہ بندرگاہ موجودہ منوڑہ کی بندرگاہ تھی۔اس کو یہ نام کیوں دیا گیا، یہ تحقیق طلب ہے۔کراچی کی بندر گاہ آباد ہونے سے پہلے یہ موجود تھی۔ 1728 ،تک دریائے حب کے دہانے پر ایک مشہور شہر اور اس کی بندرگاہ کھڑک میں طوفانی بارشوں سے ریت بھر گئی اور پھر یہاں کے باشندوں نے کولاچی نام سے نیا شہر بسایا جو بعد میں کراچی بنا۔اس سے پہلے مورنتو بارا ماجود تھی ۔سکندراعظم کے ایڈمرل نکولس نے یہاں سے واپسی کی تھی۔ اب یہ مورنتوبارا سے منوڑہ ہو گیا ہے،اب یہاں پاکستان نیوی کے دفاتر ہیں۔

کھڑک کی بندرگاہ موجودہ سنہرا کے مقام پر تھی۔یہ ایک بسا بسایا شہر اور اچھی بندر گاہ تھی۔جہاز یہاں آتے جاتے تھے۔لیکن مٹی بھر جانے سے یہ استعمال کے قابل نہ رہی۔شہر کے کھنڈرات سمندر برد ہو گئے اور اب یہ ایک چھوٹی سی ماہی بندر سنہری یا سنہرا کے نام سے موجود ہے۔اس کے باشندے کولاچی منتقل ہو گئے۔ سیاحوں پر یہاں آنےکی مستقل پابندی نے یہاں کے موجودہ باشندوں کو فاقوں پر مجبور کر دیا ہے۔

……دھاراجا بندر……

یہ ایک مشہور اور مصروف بندرگاہ تھی۔اس کو نور محمد کلہوڑو نے راجہ ارجن کو قتل کر کے حاصل کیا تھا۔یہ لاری بندر سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے سندھ کے مغربی ڈیلٹا میں واقع تھی، ا س کی باقیات موجود ہیں۔اس کے مشرق میں جاکھی بندر واقع تھی۔وکار بندر بھی کبھی سندھ کی ایک مصروف بندرگاہ تھی جو انیسویں صدی کے وسط میں ختم ہو گئی۔ایک چھوٹی سی بندرگاہ جاکھی بندر گاہ دھاراجی بندر کے مشرق میں تھی۔

سونمیانی کراچی سے 90 کلومیٹر پر ایک چھوٹی سی ماہی بندر گاہ ہے۔کبھی یہ ایک بہت بڑی اور مصروف بندرگاہ تھی۔کچھ تاریخ دان اس کا دیبل ہونے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں۔یہاں سے افریقہ،خلیج فارس، افغانستان، عرب،سراندیپ اور پرتگال تک جہاز رانی ہوتی تھی۔یہاں سے کھجور چٹائیاں، پیچ، اونٹ گھوڑے بھیڑ بکریاں بھیجی جاتی تھیں۔ افغانستان اور ایران کا مال تجارتی قافلوں کے ذریعے یہاں آکر باہر جاتا تھا۔

1805میں پرتگالی بحری قزاقوں نے نے اسے لُوٹ کر جلا دیا۔کلمتی بلوچ سردار گل جنید نے ان بحری قزاقوں سے سمندر میں دور تک جاکر بہت سی لڑائیاں لڑیں۔اس کی اہمیت اس کے کٹاؤ اور مٹی بھر جانے سے ختم ہو گئی۔اب اس میں کم گہرائی کی وجہ سے جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتے۔ اگر میانی ہوڑ کی پوری خلیج کو سونمیانی سمیت ریت سے پاک کیا جائے تویہ ایک محفوظ ترین اور کراچی سے کئی گنا بڑی بندرگاہ بن سکتی ہے۔

چند مشہور بندرگاہیں، جو ویران ہوگئیں

٭… اوڑماڑہ، جو اب ایک نیول بیس ہے ،یہ کراچی سے 390کلومیٹر پر واقع ہےکبھی یہ ریاست لسبیلہ میں تھی یہاں سے برٹش انڈیا سٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہاز مہینے میں دو بار سامان لاتے لے جاتے تھے۔سری لنکا اور جاپان تک تجارت ہوتی تھی۔اب یہ بلوچستان میں شامل ہے۔ ٭… لاری /لاڑی بندر ایک بندرگاہ تھی جو موجودہ بھنبھور کے نزدیک تھی دیبل کے سمندر برد ہونے کے بعد دریائے سندھ کی بندرگاہ کے طور اسکی ترقی ہوئی۔ کھڑک یا کھراک بندر بھی اس کے نزدیک تھی ۔ دونوں کی تباہی سندھ کے پانی میں کمی یا اس کا راستہ تبدیل ہونے سے ہوئی۔اب ان کی باقیات بھی نہیں ملتی۔٭… سوکھی بندرگاہ جو کھارو چھان نامی جزیرے کے قریب واقع تھی اپنے وقت کی شاندار بندرگاہ کہلاتی تھی۔ علاقے میں چاول کی کاشت ہوتی تھی۔عمارتیں تھیں بندرگاہ کی عمارت تھی قلعہ تھا ،اب یہاں کچھ نہیں۔

قلعے کے آثار پتھروں کے ڈھیر کی صورت میں ایک جزیرے میں ہیں اور سوکھی کی بستی میں دو سو لکڑی کے گھر بنے ہیں۔جاتی شہر کے جنوب میں ایک بندرگاہ ساندو بندر کے نام سے ہوتی تھی ،یہ بھی اب ویران ہے۔مکران میں ستکاگن دڑو ایک بندرگاہ تھی ،ایک بندرگاہ وندر کے قریب بالاکوٹ تھی،ایک سوتکا کوہ تھی اب یہ سب کھنڈرات ہیں۔گوادر کا علاقہ دشت اگرچہ قدیم تاریخی علاقہ ہے لیکن گوادر کوئی قدیم بندرگاہ نہیں۔٭…ملتان کی دریائی بندرگاہ زمانہءقدیم سے ایک اہم بندرگاہ رہی ہے۔ اسے ملتان کے گورنر راجہ مہارس نے582 عیسوی میں بنوایا تھا اور اس کا نام راج گھاٹ تھا۔

دریائےچناب کے کنارے واقع اس بندرگاہ کے بارے میں ابن بطوطہ لکھتا ہے کہ یہ بہت بڑی بندرگاہ ہے بہت سارے کشتیاں یہاں سامان ِ تجارت لاتی لیجاتی ہیں۔یہاں محصول بھی وصول کیا جاتا ہے۔915 عیسوی میں مشہور سیاح مسعودی نے لکھا ہے کہ ملتان سے کشتیوں کے ذریعے تجارت عام تھی۔خلیج فارس، بحرین، مسقط اور عدن تک خوشبودار مصالحےاور صندل کی تجارت ہوتی تھی۔1841 میں چارلس میسن نےلکھا کہ ملتان سے بادبانی کشتیاں مسافر،اون ،کھال،سوتی کپڑا،باجرہ،اور کھجوریں دوسرے شہروں کو بھیجی جاتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں