• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جی ہاں! وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے انتہائی خوبصورت زبان زد عام دو اشعار کے معنی اور مفہوم کو تبدیل کرنے پر مجبور کئے جا رہے ہیں، پہلا شعر ’’ جو چپ رہے گی زبان خنجر‘‘ لہو پکارے گا آستین کا‘‘ دوسرا شعر ’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں، تمام شہر نے پہنے ہوئےہیں دستانے ‘‘ بقول عبیداللہ علیم ’’وقت ظالم ہے ہر اک موڑ پہ ٹکرائے گا ‘‘ اس کی وجہ بہادر شاہ ظفر مرحوم کی شاعری سے زیادہ پرانی مگر اکیسویں صدی کے جدید تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اب نہ تو قاتل کو اپنا جرم چھپانے کے لئے دستانے پہننے کی ضرورت ہے اور نہ ہی واردات کے نشانات اور فرانزک ثبوت پکڑے جانے کا خوف ہے۔

موجودہ صدی کے ابھرتے ہوئے نئے عالمی نظام نے اپنے مخالفین سے نمٹنے کا ایسا منفرد آسمانی طریقہ رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ یہ طریقہ بھی اردو محاوروں اور شاعری سے نابلد قوم کی ایجاد ہے لیکن اس کے تجربات فارسی، پشتو ،اردو شاعری کے علاقوں میں کئے گئے اس کے تمام سائنسی اور مہلک پہلوئوں اور اثرات کے تجربات کی روشنی میں اسے مزید موثر بنا کر مخالف حکمرانوں کے خلاف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کا پہلا تجریہ لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا میں کیا گیا ۔ 4اگست کو وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ملک کے صدر نکولس مادورو فوجی گارڈز کے حصار میں ایک فوجی تقریب سے خطاب کر رہے تھے کہ ان کی تقریر کی لائیو ٹی وی نشریات بندگئیں، اور اسٹیچ پر کھڑے افراد نے آسمان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا وہاں ایک ڈرون اڑتا نظر آیا جو ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ سے پھٹ گیا بقول صدر مادورے ’’ یہ میرے سامنے پھٹا اور یہ مجھے قتل کرنے کے لئے ٹارگٹ شدہ حملہ تھا ‘‘ اس حملہ میں وینزویلا کے صدر تو بچ گئے لیکن انہیں قتل کرنے کی اس ناکام واردات میں وہاں موجود وینزویلا کے سات نیشنل گارڈز سپاہی زخمی ہو گئے۔

صدر مادورو نے پڑوسی ملک کولمبیا کے صدر جوبن مینول سانتور کو اس دہشت گرد حملہ کے پیچھے کارفرما ہونے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر قاتلانہ حملہ کی ’’فنانسنگ‘‘ کرنے والے بعض افراد کے پیچھے کارفرما فلوریڈا میں بیٹھے ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ ان دہشت گردوں کی اپنے ملک میں موجودگی کے خلاف کارروائی کر کے انجام تک پہنچائیں۔ ادھر عالمی ادارہ آئی ایم ایف نے تیل کی گرتی ہوئی قیمت کے تناظر اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر تیل پیدا کرنے والے ملک وینزویلا میں (HYPERINFLATION)یعنی کئی گنا افراط زر اور مہنگائی کی خطرناک پیشگوئی کر دی ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے صدر نے فوری طور پر تنخواہوں میں40فیصد اضافہ کا جو اعلان کیا ہے وہ اس افراط زر کا باعث ہے لیکن سنجیدہ طبقوں کا کہنا ہے کہ 40فیصد اضافہ افراط زر کا باعث ہو سکتا ہے لیکن کئی ہزار گنا’’ہائپر انفلیشن‘‘ کا سبب نہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک وینزویلا کی اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اپوزیشن صدر مادورے کی حکومت کو معاشی مسائل کی ذمہ دار قرار دے رہی ہے۔ وینزویلا وہ ملک ہے جس کے 1999تا2013صدر ہوگو شاویز نے امریکی صدر کو مسلسل ناراض رکھا۔ کیوبا کے دورے کئے۔ محنت کش خاندان کے فرد اور سو شلسٹ نظریات کے حامل اور امریکہ کے مخالف ہوگو شاویز نے اقوام متحدہ میں امریکی صدر پر سخت تنقید کر کے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا اور علیل رہنے کے بعد 2013میں انتقال کر گئے تھے۔ موجودہ صدر مادورے بھی لبرل نظریات کے حامل ہیں مگر امریکہ کی من مانی ’’سپر میسی‘‘کے بارے میں لاطینی امریکہ کے بعض ممالک کی طرح یہ بھی تنقید کرتے ہیں ۔ گزشتہ سال بھی وینزویلا کے ایک پولیس افسر آسکر پیریز نے سرکاری ہیلی کاپٹر چرا کر سرکاری عمارات پر فائرنگ کی ۔بعد ازاں قومی بحران پیدا کرنے والے اس باغی پولیس افسر کو تلاش کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

گو کہ وینزویلا کے صدر اس ڈرون حملے میں بچ گئے۔ اور سات فوجی زخمی ہوئے لیکن یہ واقعہ دعوت فکر و تدبر لئے ہوئے ہے۔ نئے عالمی نظام نے نافرمان حکمرانوں اور اقوام کو سزا دینے کے ایسے جدید طریقے وضع کر لئے ہیں کہ نہ تو کسی کی ملکی سرحدوں کو پار کرنے میں رکاوٹ ہے نہ ہی ٹارگٹ کے ارد گرد انسانی اور جدید سکیورٹی کے مسلح حصار کی کوئی حیثیت ہے۔ ٹارگٹ کے بارے میں بائیو میٹرک اور دیگر ضروری ڈیٹا کی ضرورت ہے اس ڈیٹا کی حامل شخصیات کو سرحد پار کر کے بھی تلاش کر کے اسے نشانہ بنانا ڈرون کا کام ہے۔ ڈرونز کا وسیع پیمانے پر استعمال اور دہشت گردی کو ختم کرنے میں ڈرون کا رول ساری دنیا کے علم میں ہے۔اس کا استعمال دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں افغانستان میں ہوا۔ دہشت گردوں اور طالبان کے ٹھکانوں پر غیر متوقع اور اچانک ڈرونز حملے مطالعاتی اور تجرباتی نوعیت کے بھی تھے اور دہشت گردی کے خلاف بھی تھے اس نے امریکہ کی برتری کو مزید مستحکم کیا اور ڈرونز کی صنعت کو فروغ بھی بخشا ہے۔ اب امریکہ اور بعض ملکوں میں ڈرونز کا کمرشل استعمال بھی ہونے لگا ہے۔ بڑے اجتماعات کی فضائی فوٹو گرافی سے لیکر جاسوسی اور دیگر مقاصد کے لئے بھی ڈرون کا استعمال ہونے جا رہا ہے۔ وینزویلا کے صدر مادورو بچ ضرور گئے بلکہ تازہ اطلاع کے مطابق چھ افراد کو اس سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار بھی کر لیا گیا لیکن ایک نئی تلخ حقیقت بھی آشکار ہو گئی کہ عصر حاضر کی تبدیل شدہ دنیا میں کمزور اور چھوٹی اقوام ابھی عام شہری کو غربت سے نجات دلانے اور تعلیم فراہم کرنے کے مشن کا آغاز کر رہی ہیں لیکن خوشحال اور ترقی یافتہ ملکوں نے پہلے ہی ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل دیکر ایسے نئے طریقے ایجاد بھی کر لئے ہیں جو ملکی جغرافیائی سرحدوں، سکیورٹی کے انسانی حصاروں اور دیگر تمام رکاوٹوں کو پار کر کے کسی گھر، تہہ خانہ اور سیکورٹی انتظامات کی موجودگی کو بھی توڑ کر اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناسکتے ہیں۔

ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں ویرانے میں سفر کرتی کار میں سوار دہشت گرد ملا منصور کی ٹارگٹڈ ہلاکت، پاک افغان علاقوں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے گھروں اور ٹھکانوں میں ہی ڈرونز حملوں سے ہلاک کرنے کے اقدامات دنیا کے لئے ایک نئی ابتدا تھے۔آج ڈرونز کی دنیا اس سے کہیں زیادہ آگےجا چکی ہے۔ اس طرح امریکی انتخابات میں روسی ہیکروں کی مداخلت دنیا کی دو سپر پاورز کے وسائل اور جاسوسی نظام کے باعث دنیا کے سامنے آیا ہے۔ ورنہ دوسرے ممالک کے انتخابات اور جمہوری نظام سے لیکر کن کن شعبوں میں ان کے طاقتور مخالف ملک کس کس طرح دخل اندازی کر رہے ہیں ؟ آرٹی سسٹم کے فیل ہونے کی وجوہات کا سطحی نہیں سائنسی مطالعہ بھی ہمارے لئے فائدہ مندہو گا۔ بعض آئی ٹی ماہرین کی دیانت دارانہ سائنسی رائے بھی مفید رہے گی۔ سیاسی مخالفین سے نمٹنے کے لئے ڈرونز کا استعمال ایک نیا چیلنج ہے جو کمزور اور پسماندہ معاشروں کیلئے مزید بےبسی اور تباہی کا پیغام ہے۔ تدبر اور ترقی کسی کی میراث نہیں، مگر کوشش اور قربانی ضرور مانگتی ہے۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین