آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ14؍ صفر المظفّر1440ھ 24؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ تحریک انصاف آرام سے اسد قیصر کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کرواسکتی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب میں خورشید شاہ کو برتری حاصل ہے، عمران خا ن نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے اسد قیصر کو منتخب کر کے جوا کھیلا ہے، عمران خان نے عاطف خان کے بجائے محمودخان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر کے سمجھوتہ ضرور کیا لیکن نظریے سے انحراف نہیں کیا ،عمران خان کی سمجھوتہ پالیسی کے باوجود کوئی تحریک انصاف نہیں چھوڑے گا،نظریاتی ہو یا غیر نظریاتی کوئی کارکن اس وقت پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑے گا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرا سے بننا چاہئے جو نواز شریف کے بیانیہ کو لے کر لڑے، شہباز شریف نواز شریف کے بیانیہ پر نہیں لڑسکیں گے۔ان خیالات کا اظہار فریحہ ادریس، ریما عمر، ارشاد بھٹی، حفیظ اللہ نیازی، بینظیر شاہ اور زیب النساء برکی نے جیو نیوز کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان عائشہ بخش سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔میزبان کے پہلے سوال کیا امکان ہے کہ خورشید شاہ، اسد قیصر کو ہرا کر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوں گے؟ کا جواب دیتے ہوئے فریحہ ادریس نے کہا کہ نمبرز گیم دیکھیں تو خورشید شاہ اسپیکر منتخب نہیں ہوسکتے لیکن سیاست میں نمبرز کے ساتھ دیگر بہت سے عوامل کارفرما ہوتے

ہیں، قومی اسمبلی میں اسپیکر پی ٹی آئی کا ہی ہونا چاہئے جو حکومت بنانے جارہی ہے۔ریما عمر کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی بننے کا زیادہ امکان اسد قیصر کا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب وزیراعظم کے انتخاب سے زیادہ دلچسپ ثابت ہوگا کیونکہ خورشید شاہ طاقتور حلقوں کیلئے زیادہ متنازع نہیں اور پیپلز پارٹی کے ق لیگ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ وزیراعظم سے زیادہ اہم انتخاب اسپیکر قومی اسمبلی کا ہوگا، عمران خا ن نے اسپیکر قومی اسمبلی کیلئے اسد قیصر کو منتخب کر کے جوا کھیلا ہے، خورشید شاہ کی ذاتی دوستیاں بھی ہیں جبکہ ان کے ساتھ آصف زرداری کی سیاسی مینجمنٹ بھی ہے، لیکن پی ٹی آئی نے بہت محنت کی ہے اس لئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ہی ہوں گے۔زیب النساء برکی نے کہا کہ نمبرز دیکھیں جائیں تو اسد قیصر آرام سے اسپیکر قومی اسمبلی بن جائیں گے۔ بینظیر شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف آرام سے اسد قیصر کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کرواسکتی ہے، اسد قیصر پر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی میں اختلاف ہوسکتا ہے کیونکہ محمود خان کے بعد اسد قیصر بھی پرویز خٹک کی لابنگ کی وجہ سے آگے آئے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ابھی تک باقاعدہ اتحاد نہیں قائم ہوسکا ہے۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب بہت دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آئے گاالبتہ اس میں خورشید شاہ کو برتری حاصل ہے، اس انتخاب میں چار پانچ ارکان اسمبلی بہت اہم ہوں گے اگر انہوں نے خورشید شاہ کے حق میں ووٹ دیدیا تو پانسہ پلٹ جائے گا۔ دوسرے سوال محمودخان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کرنے کے بعد عمران خان کی پہلی چوائس عاطف خان پریشان! کیا عمران خان کی سمجھوتا پالیسی کی وجہ سے نظریاتی کارکن پارٹی چھوڑ دیں گے؟ کا جواب دیتے ہوئے ریما عمر نے کہا کہ پچھلے دس سال میں شاید ہی کوئی معاملہ ایسا ہوگا جس پر عمران خا ن نے یوٹرن نہ لیا ہو،اس صورتحال میں تحریک انصاف میں جو نظریاتی کارکن بچے ہیں وہ پارٹی چھوڑ دیں گے یا نظریہ چھوڑ دیں گے۔فریحہ ادریس کا کہنا تھا کہ عمران خان نے عاطف خان کے بجائے محمودخان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کر کے سمجھوتہ ضرور کیا لیکن نظریے سے انحراف نہیں کیا ہے، عاطف خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہ بننے پر پارٹی نہیں چھوڑنی چاہئے، عاطف خان کو وزیراعلیٰ کیلئے فیورٹ امیدوار عمران خان کی حمایت کی وجہ سے سمجھا گیا، اب اگر عمران خان نے ہی محمود خان کو وزیراعلیٰ بنادیا تو یہ کوئی سمجھوتہ نہیں بلکہ چوائس ہے۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ عمران خان سمجھوتے کرتے رہے تو میرٹ پر قیادت نہیں لاسکیں گے، ممکن ہے چھ مہینے یا ایک سال میں انہیں خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ تبدیل کرنا پڑے، پاکستان کی سیاست میں نظریات کا لفظ بہت بری طرح استعمال کیا جاتا ہے، عمران خان کی سمجھوتہ پالیسی کے باوجود وفادار کارکن پارٹی نہیں چھوڑیں گے ، تحریک انصاف کے اندر بہت زیادہ لڑائی ہے، فواد چوہدری اور علیم خان جپھی دیتے نظر آئے جبکہ چند دن پہلے ان میں شدید جھڑپ ہوئی تھی۔زیب النساء برکی کا کہنا تھا کہ یہ سرپرائزنگ بات ہے کہ ابھی بھی پی ٹی آئی میں نظریاتی کارکن باقی ہیں، میرے خیال میں تو تمام نظریاتی کارکن تحریک انصاف چھوڑ چکے ہیں، عمران خان کی سمجھوتہ پالیسی کے باوجود کوئی تحریک انصاف نہیں چھوڑے گا۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ ہماری سیاست میں صرف دو نظریے نظریۂ ضرورت اور نظریۂ اقتدار ہیں، عاطف خان کہتے ہیں وہ نظریاتی ہیں عہدے کا لالچ نہیں ہے لیکن چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں، عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، کیا محمود خان کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں اور کیا وہ آج کل چلنے والے نظریے پر پورے نہیں اترتے۔بینظیر شاہ کا کہنا تھا کہ نظریاتی ہو یا غیر نظریاتی کوئی کارکن اس وقت پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑے گا، تحریک اس وقت وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حکومت بنانے جارہی ہے کوئی اس وقت انہیں چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ریما عمر نے کہا کہ عمران خان عاطف خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بنانا چاہتے تھے مگر کسی وجہ سے نہیں بناسکے کیا یہ سمجھوتہ نہیں ہے۔تیسرے سوال شہباز شریف کی اپوزیشن لیڈر بننے کی خواہش، پنجاب میں حمزہ شہباز کا اپوزیشن لیڈر بننے کا امکان! کیا ن لیگ کی جانب سے یہ نامزدگیاں درست ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرا سے بننا چاہئے جو نواز شریف کے بیانیہ کو لے کر لڑے، شہباز شریف نواز شریف کے بیانیہ پر نہیں لڑسکیں گے۔فریحہ ادریس نے کہا کہ شریف خاندان نے ہمیشہ اپنی فیملی میں ہی اہم عہدے رکھے ہیں، شہباز شریف ہمیشہ حکومت میں رہے ہیں ان کیلئے اپوزیشن کرنا آسان نہیں ہوگا، پنجاب کے ایم پی ایز بتاتے ہیں کہ وہ شہباز شریف کو فون کرتے رہے کہ ہم لوگ لے کر ایئرپورٹ آجائیں لیکن انہوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں