آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی میں ترقی کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے اور نہ کرسکیں تو جنہوں نے ترقی کی ہے ان کے بارے میں کہنا پڑتا ہے کہ ’’بیکاری کے زمانے میں ہمارے پاس آکر بیٹھا کرتاتھا ہم نے کبھی اسے منہ نہیں لگایا۔ وزیر بننے کے بعد اپنا پرانا زمانہ بھول گیا ہے۔ اب کبھی ملے تو نظریں ہی نہیں ملاتا‘‘۔ پرابلم یہ ہے کہ آپ ایسے لوگوں سے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ بیکاری کے زمانے میں جس کو آپ نے منہ نہیں لگایا تھا وزیر بننے کے بعد وہ آپ کو لفٹ کیوں کرائے؟ ترقی کرنے والوں میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے بیک گرائونڈ کو عیب کی طرح چھپاتے لوگ اپنی ولدیت پر بھی بہت شرمندہ ہیں۔ ایک غریب مالی نے اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنا پیٹ کاٹ کر پڑھایا لکھایا اور جب وہ بیٹا افسر بن گیا تو اپنے والد کو اپنے دوستوں سے چھپانے لگا۔ ایک دن وہ اپنے طبقے کے لوگوں کے ساتھ اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں بیٹھا تھا کہ اس کے سیدھے سادے والد صاحب دھوتی اور بنیان پہنے ڈرائینگ روم میں چلے آئے۔ اس پر صاحب زادے بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے جھینپتے ہوئے دوستوں سے اپنے والد کا تعارف کرایا کہ یہ میرے والد کے دوست ہیں۔ اس پر والد صاحب، جو تنگ آئے بیٹھے تھے، نے کہا انہیں غلطی لگی ہے۔میں ان کے والد کانہیں ان کی والدہ کا دوست ہوں!


میرے ایک دوست ترقی کرنے کے بہت خواہش مند ہیں۔ وہ ماسی برکتے کے تنور سے کھانا کھانے کے بعد کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے باہر کھڑے ہو کر خلال کرتے ہیں۔ کوئی دوست ادھر سے گزرے تو کہتے ہیں کہ ایک اہم شخصیت سے مذاکرات کرنا تھے کھانے کی میز پر بات چیت کر کے بس ابھی فارغ ہوا ہوں ان سے ان کے دن کی مصروفیات پوچھیں تووہ شروع ہو جاتے ہیں اور یہ مصروفیات سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی اہم شخصیات اس ’’گھنٹہ گھر‘‘ کے گرد گھومتی ہیں اور ہمارے یہ دوست واقعی گھنٹہ گھر ہیں کہ پہلے دن سے جہاں کھڑے تھے۔ آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔


اس قسم کے لوگوں کو تقریبات میں پہلی نشستوں پر بیٹھنے کا بھی بہت شوق ہوتا ہے کئی دفعہ تو یہ لائوڈ اسپیکر والے سے پہلے جلسہ گاہ میں پہنچ جاتے ہیں اور پہلی صف میں جا بیٹھتے ہیں۔ اگر کبھی لیٹ ہو جائیں تو پچھلی صفیں چیرتے ہوئے آگے آتے ہیں اور عقابی نگاہوں سے خالی نشست ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ اگر خالی نشست نظر نہ آئے تو تقریباً تقریباً کسی کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔ جب لوگ اخبار میں شائع شدہ تصویر یا ٹیلی ویژن کے خبرنامے میں انہیں پہلی صف میں بیٹھا دیکھتے ہیں تو ان صاحب کو تسلی ہو جاتی ہے کہ ان کی ’’مسلح جدوجہد‘‘ رائیگاں نہیں گئی۔


ترقی کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی محفل میں کسی اہم شخصیت کے برابر میں نشست حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو جائے تو اس کے کان میں بات ضرور کی جائے خواہ وہ بات ’’ہور کیہہ حال اے‘‘ قسم کی ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس شخصیت سے آپ کے انتہائی گہرے مراسم کا احساس ہوتا ہے اور یہ چیز ترقی کے ضمن میں مفید ثابت ہوتی ہے۔


بہت سے لوگ ترقی کرنے کے لئے دامے درمے سخنے قسم کے نسخے بھی استعمال کرتے ہیں خصوصاً کاروباری لوگوں کی اکثریت ان نسخوں پر عمل کرتی ہے اور ان کے تمام کام پوری سہولت سے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ترقی کی منزلیں طے کرتے کرتے کہیں کے کہیں پہنچ جاتے ہیں حتی کہ ان میں سے کچھ اسپتال اور کچھ تو وقت سے پہلے قبرستان تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔


خود میں ترقی کرنے کے لئے بہت پاپڑ بیلتا ہوں مگر میرا ایک دوست ترقی کے بہت خلاف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ترقی کی سمت متعین ہونا چاہئے مثلاًجہالت کی طرف ترقی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ذہنی مفلسی کی طرف سفر کرنا مفید نہیں۔ زندگی گزارنے کا حق آپ کا ہے۔


ایسا نہ ہو کہ ترقی کرنے کی خواہش میں زندگی آپ کو گزارنا شروع کردے۔ کھوکھلی زندگی کی سمت میں ترقی کرتے جانا زندگی کی حقیقی خوشیوں سے ہمیشہ کے لئے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ انا اور خودداری کی قربانی عزیز و اقربا کی قربانی، اصولوں کی قربانی، اعلیٰ قدروں کی قربانی اپنی زندگی کی باگ سیم و زر اور جاہ و حشمت کی خواہش کے سپرد کرنے کی قربانی سے ترقی کی جس منزل تک پہنچا جاتا ہے۔ اس منزل کی حیثیت ایک سراب سے زیادہ نہیں ہوتی۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ افراد کے علاوہ جب قومیں بھی اس قسم کی ترقی کر کے سپر پاور بنتی ہیں تو اپنی ہوس کے نتیجے میں پوری انسانیت کے لئے خطرہ بن جاتی ہیں۔ لہٰذا ترقی کرنے سے پہلے ترقی کی سمت ضرور متعین کر لینی چاہئے لیکن اگر کسی کے نزدیک ترقی کا مفہوم یہی ہے کہ و ہ عقاب سے گدھ بن جائے تو اسے روکنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ عقاب کے ذہن میں اس خواہش کی پیدائش ہی اسے گدھ بنانے کے لئے کافی ہے۔ ہماری قوم اس وقت اسی خواہش میں زندہ ہے چنانچہ وہ اپنا سردار بھی کسی بڑی گدھ کو منتخب کرتی ہے جو بستوں کو آباد نہیں، انہیں ویران دیکھنا چاہتی ہے۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں