آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالم اسلام عید الاضحی کو انتہائی عقیدت و احترام، والہانہ جوش و جذبے سے مناکر حضرت ابراہیمؑ کے اسوئہ حسنہ کی تائید و تجدید کرتے ہیں۔ جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے۔ذی الحج کا چاند نظر آتے ہی دیہی علاقوں سے گائے، اونٹوں، دنبوں اور بکروں کے غول ہانک کر شہروں میں لانے اور ان کی خرید و فروخت دن بہ دن بڑھتی جاتی ہے۔ شہروں معروف شاہراہوں، کاروباری و رہائشی علاقوں، پارکس، کھیل کے میدانوں، سرکاری و نجی اراضی پر جا بجا غیر قانونی مویشی منڈیاں لگ جاتی ہیں، جب کہ مخصوص مقامات پرمویشی یہ منڈیاں لگائی جاتی ہیں، جس کا بیوپاریوں کو باقاعدہ ٹھیکہ دیا جاتا ہے، قوائد و ضوابط ، شرائط طے ہوتی ہیں، لیکن یہ ٹھیکہ باآسانی نہیں ملتا، اس کے لیے ٹھیکے دار ’’بھاری چمک‘‘ کا سہارا لیتے ہیں۔

یونین کونسل، انتظامیہ، متعلقہ پولیس اسٹیشن کے علاوہ پولیس کے مختلف شعبوں سے منڈی لگانے کااجازت نامہ حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ ان مویشی منڈیوں میں پینے کا پانی، روشنی، جانوروں کا ڈاکٹر اور صفائی ستھرائی کی معقول سہولتیں فراہم کرنا مقامی انتظامیہ کی ذمے داری میں شامل ہوتا ہے، تاکہ بیوپاری، خریدار سب ہی ان سہولتوں سے مستفید ہوسکیں، لیکن ہمیشہ سہولتوں کے فقدان پر واویلا ہونے کے باوجود ان سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی تو دور کی بات ہے، کوئی ان کی داد فریاد سننے تک کو تیار نہیں ہوتا، جب کہ منڈیوں میں متعلقہ شعبوں کے علاوہ پولیس اہلکار بھی موجود ہوتے ہیں، یہ امر حقیقت ہے کہ متعین سرکاری عملہ یہاں آنے والے ہر جانور کو چوری کا مال تصور کرتے ہیں، ان مویشی منڈیوں میں آنے والے بیوپاریوں اور خریداروں سے ہر جانور کی خرید و فروخت پر اپنا حصہ گوشت کے بجائے اس کی قیمت کےتناسب سے وصول کرتے ہیں۔ 

اس ضمن میں ایک اہل کار نے انتہائی دل چسپ بات بتائی کہ ’’جناب، اب ہر خریدار کے گھر سے عید الاضحیٰ پر گوشت تو ہمارے گھر نہیں آسکتا، اس لیے خریدار سے اپنے حصے کے گوشت کی قیمت پیشگی وصول کرلیتے ہیں۔ اس سے خریداروں اور ہمارے درمیان کوئی بدمزگی نہیں ہوتی، دونوں ہی خوشی، خوشی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں، چوں کہ جانوروں کی اس خرید و فروخت میں بیوپاریوں کے کردار کو قطعی طورپر فراموش نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اگر افسران یا اہل کاروں کا اس آمدنی سے فرائض، خدمات اور امن و امان برقرار رکھنے پر انعام نہ ملے تو بیوپاریوں کی خوشیاں پھیکی پھیکی محسوس ہوتی ہیں اور یوں بھی ہمیں ڈیزل کی مد میں سرکاری فنڈ نہیں ملتا، اس لیے منڈیوں میں رعب و دبدبے کے لیے پولیس موبائل کھڑی رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس ’’انعام‘‘ کی رقم سے ہمیں تھانے کی گاڑی میں ڈیزل بھروانا ہوتا ہے، کھانے کے پیسے بھی ادا کرنے ہوتے ہیں، مگر اس انعام کا ایک بڑا حصہ نامعلوم اہل کار، افسران، اور کارکن لے جاتے ہیں، یہ انتہائی دکھ کی بات ہے۔‘‘

سندھ میں مجموعی طورپر ایک محتاط اندازے اور اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار سات سو اکتالیس مقامات پر سرکاری مویشی منڈیاں لگائی جاتی ہیں، جب کہ غیر قانونی اور عارضی مویشی منڈیوں کی تعداد سرکاری مویشی منڈیوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ سندھ کے قدیم شہر حیدرآباد کے علاقے ہالا ناکہ میں مستقل، جب کہ باغ مصطفیٰ پارک پریٹ آباد، ہوسڑی، جی ٹی سی گرائونڈ، میں عارضی سرکاری منڈیاں لگتی ہیں، جہاں مختلف شہروں اور ان سے ملحقہ دیہی علاقوں سے جانور ان منڈیوں میں لائے جاتے ہیں، ان میں اونٹوں کی قربانی کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے تھر پار، تھانہ بولا خان اور سندھ کے سرحدی علاقے کاچھو، کے علاوہ بلوچستان کے اونٹوں کی بھی کثیر تعداد ہوتی ہے، ان جانوروں کی قیمتیں عید الاضحیٰ کے موقع پر یوں تو سال ہا سال سے بلند ترین سطح پر ہیں، مگر ملک کے سیاسی و سماجی اور معاشی ماحول کے سبب منڈیوں میں جانوروں کی بھرمار یا کمی کے سبب ان جانوروں کی قیمتوں میں اتار چڑھائو ہوتا رہتا ہے۔ ضلعی حکومت حیدرآباد کے ایک افسرطارق جاوید خانزادہ کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ ’’جانوروں کوتو اپنی قیمت کا پتہ نہیں ہوتا، نہ وہ اپنا معاوضہ مالک سے طے کرتا ہے، اور نہ ہی اس جانور کو یہ قیمت ملتی ہے، یہ انسان ہی ہے، جو ان کی پرورش تک کے اخراجات وصول کرکے خوش ہوتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ قربانی کے جانوروں کی قیمت اور جسامت کے نہیں نیت اور جذبے کو دیکھتا ہے۔ 

اس لیے خوب صورت اور بے عیب جانور ہی خریدے جاتے ہیں، مگر ان منڈیوں میں دھوکے بازی بھی عام ہوتی ہے۔ کہیں سینگ اور دم مصنوعی ہوتی ہے، توکہیں بکروں کی قیمت میں خریداروں کو بکریاں انتہائی چالاکی سے فروخت کردی جاتی ہیں، بیمار، لاغر جانوروں کو صحت مند اور فربہ بنانے کے لیے بھی بیسن ملے پانی و دیگر دیسی ٹوٹکوں کا سہارا لیا جاتا ہے، چنانچہ خریدار ان جانوروں کے وزن، صحت سے متاثر ہوکر منہ مانگے داموں خرید لیتا ہے، لیکن اس کی یہ خوشیاں گھر پہنچتے پہنچتے مایوسی اور تشویش میں بدل جاتی ہیں، ایسے ہی ہر روز خریدار ان بیوپاری نما دھوکے بازوں کو منڈیوں میں تلاش کرتے ہوئے ملتے ہیں، مگر اس جانب کسی خریدار کی توجہ نہیں جاتی کہ متعین جانوروں کے ڈاکٹر کے طبی معائینے کے بغیر مویشی منڈی میں بیمار، لاغر اور عیب دار جانور کس طرح فروخت کے لیے لایاجاتاہے، یہ بات بھی منڈی میں عام ہے کہ اس دھوکہ دہی میں ڈاکٹر اور ٹھیکے داروں کا بھی گہرا عمل دخل ہوتا ہے، اس لیے ایسے دھوکہ بازوں کے خلاف کارروائی کرنے والے اہل کار مصنوعی بھاگ دوڑ کا مظاہرہ کرتے ہوئے خریدار سے مزید اپنی محنت کا محنتانہ وصول کرلیتے ہیں، یعنی آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔‘‘

تمام تر تلخ و شیریں عوامل کے باوجود قربانی کے جانوروں کی سج دھج پر ہمیشہ سے خاص توجہ دی جاتی ہے، پہلے مہندی سے ان جانوروں کی پشت پر عید مبارک لکھا جاتا تھا، تو چاند تارا بھی دکھائی دیتا، موتیوں سے بنے ہار یا گلو بند گلے میں ہوتے تو پیروں میں چھن چھن کرتے کڑے پہنا دئیے جاتے۔ شام ہوتے ہی انہیں صاف پانی سے نہلا کر مٹر گشت کرایا جاتا، اور علاقے کے لوگوں سے جانور کی خوب صورتی پر بھرپور داد وصول کی جاتی، وقت نے کروٹ لی تو ان ہی جانوروں کو خوش بو دار غیر ملکی صابن اور شیمپو سے نہلانے کے بعد ان کے سینگوں اور کھروں پر چمک کے لیے بہترین آئل لوشن لگایا جانے لگا، اس رجحان اور ترجیحات میں بتدریج تبدیلیاں آرہی ہیں، اب جانوروں کی آنکھوں پر کالا چشمہ، سر پر کائو بوائے ہیڈ، سینگوں پر چاندی کے بنے کیپ پہنا کر ان کے ساتھ آخری سیلفی لازمی لی جاتی ہے، اور اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ 

80کی دہائی میں ان جانوروں کو مٹر گشت کرانے کا رجحان دم توڑ گیا تھا، کیوں کہ گشت کے دوران نامعلوم افراد ان جانوروں کو چھین کر فرار ہوجاتے تھے، جب کہ عید الاضحیٰ پر کھالوں کی ملکیت کی کھینچ تان میں قربانی کے جانوروں کو گولیاں تک ماری جاتی تھیں، مگر اب اس خوف میں نمایاںکمی واقع ہوئی ہے، اس کے علاوہ قربانی کے جانوروں کو چھپا کر رکھنے کے بجائے اب لوگوں نے ان کو اپنے گھروں سے باہر باندھنا شروع کردیا ہے، ایک جانب لوگوں کا خوف تو کم ہوا ہے، مگر دوسری جانب صحت و صفائی کی صورت حال ناگفتہ ہوتی جارہی ہے، نالیوں میں جانوروں کا چارہ، فضلہ بہا دینے کے سبب نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے، گٹر ابل رہے ہیں، انتظامیہ عملے کی کمی کا روایتی رونا رو رہی ہے، حتیٰ کہ یہ پلان بھی مرتب نہیں کیا جاسکا کہ عید الاضحیٰ پر جانوروں کی آلائش کو کہاں ٹھکانے لگایا جائے گا؟

سہولتوں کے فقدان، دھوکہ دہی کے خدشات، جانور وںکی خریداری پر بھاری چمک کی ادائیگی و دیگر جھنجھٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروباری افراد نے اس نفسیات سے بھرپور استفادہ کرنے کا راستہ تلاش کرلیا اور انہوں نے جانوروں کی آرام دہ، پر سکون ماحول میں خرید و فروخت کے لیے شادی ہالز اور ائیر کنڈیشنڈ بینکویٹ تک کرائے پر حاصل کیے ہیں، جہاں جانوروں کی فروخت کے لیے بیوپاریوں کو معقول رقم کے عوض جگہ فراہم کی جاتی ہے، جانوروں کو وقت پر چارہ پانی دینے اور صفائی ستھرائی کے کاموں کے لیےعلیحدہ علیحدہ عملہ متعین ہوتا ہے، جب کہ ہر جانور کی خوبی، وزن ، نسل، خوراک کا توازن بتانے کے لیے بھی پیشے کے ماہر اور چرب زبان افراد کی معاوضے پر خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔ 

ان منڈیوں میں آنے والے خریدار اس ماحول اور جانوروں کی سج دھج پر وارفتہ ہوکر متعین قیمت ادا کرکے جانور لے جانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بیوپاریوں کی جانب سے جانوروں کی محفوظ ہوم ڈیلیوری کا بھی بندوبست ہے۔ جس کی فیس یا کرائے میں راستے کی ’’چیکنگ‘‘ کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ یہ اضافی اخراجات خریداروں کے لیے معمولی ہوتے ہیں کہ ان کا خریدے ہوئے جانور کی خوراک بادام ، پستے ، دودھ، شہد ، مربہ جات ہوں اور ایک بکرے کی قیمت لاکھوں میں ہو، سماج کی اس آن بان میں یہ بات نہ جانے کیوں فراموش کردی جاتی ہے کہ خط غربت کی لکیر سے بھی کہیں نیچے لوگوں کی کثیر تعداد اپنی زندگی گزار رہی ہے، بے روزگاری کا عفریت نوجوانوں کو دن بہ دن نگل رہا ہے، اس لیے مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خرید و فروخت کے کاروبار میں بے روزگار نوجوانوں کو کمیشن پر بھی رکھا جاتا ہے، عید الاضحیٰ سے قبل 10دنوں میں وہ اتنی رقم کمالیتے ہیں کہ چند دن تک ان کے گھروں کا چولہا گرم رہتاہے، اسی طرح مویشی منڈیوں میں جانوروں کی آرائش و زیبائش کا سامان بیچنے والوں کا بھی روز گار وابستہ ہوتا ہے۔ یہ محنت کش دن بھر خریداروں کے درمیان دلوں کو موہ لیتی آوازیں لگا کر اپنی مصنوعات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ خریداروں سے بھائو تائو کے دوران خریدار کی پسند کےجانور وںکے انتخاب اور خوب صورتی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے ، اور یہ بات باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ موتیوں سے بنے ہار، گلو بند، گھنگروں اس جانور کی شان و وقار میں مزید اضافے کا سبب ہوتا، مگر یہ محنت کش بھی ان بیوپاریوں سے کم نہیں ہوتے جو اپنی چرب زبانی سے عیب جانور دار فروخت کردیئے ہیں یا جانوروں کی کہیں زیادہ قیمت وصول کرلیتے ہیں، جو ہار یا گلوبند عام دکانوں اورعام دنوں میں 150روپے میں دستیاب ہوتا ہے وہ ان دنوں مویشی منڈیوں میں 400روپے یا اس سے کہیں زیادہ قیمت میں فروخت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

مویشی منڈیوں یا ان کے ملحقہ کھانے پینے کے اسٹال مالکان ، خونچہ فروش بھی اپنی اشیا کو مجبوراور خریداروں کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ قیمتوں کے اس فرق پر سادہ لوح لوگوں اور اسٹال مالکان کے درمیان تلخ کلامی اور جھگڑے معمول ہیں، ان مراحل کو طے کرتے ہوئے خریدار عید الاضحیٰ پر قربانی کے لیے جانور کو ذبح کرنے اور ان کے پارچے خانے کے لیے ماہر قصائی کی خدمات حاصل کی جاتی ہے، جو جانور کے مطابق اپنا معاوضہ پہلے طے کرلیتے ہیں، ان میں اناڑی قصائیوں کی کثیر تعداد نکل کھڑی ہوتی ہے جو مخصوص سامان اور حلیے کے ساتھ گلی گلی گھومتے ہیں۔ ان ہی قصائیوں کے ہاتھوں ذبح سے قبل جانور بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں، حتیٰ کہ متعدد واقعات میں لوگ زخمی بھی ہوجاتے ہیں، جب کہ ماہر قصابوں کے اناڑی معاون پارچے بنانے میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں بس قربانی کے جانور کے جلد سے جلد گوشت کے پارچے بنا کر مالکان کے سپرد کرکے دوسرے جانور کی قربانی اور اپنا فن آزمانے کے لیے دوسرے گھر پہنچ جاتے ہیں، جہاں مالکان کو اپنی مہارت کے قصے سنا سنا کر مرعوب کرلیتے ہیں، اور اس کام میں شدید محنت کا اظہار کرکے طے شدہ معاوضے پر بھاری انعام بھی وصول کرلیتا ہے۔

اب کھالیں چھیننے کی وارداتیں نہیں ہوتیں، جانوروں کی گم شدگی کی رپورٹ بھی درج نہیں ہوتی، عید الاضحیٰ سے قبل بچے اور جوان اپنے جانوروں کو روزانہ مٹر گشت بھی آزادی سے کرارہے ہیں، گھروں میں اس روز نت نئے کھانے بنانے کا بھی خصوصی اہتمام کرکیاجاتا ہے، لیکن عید الاضحٰی کی اصل خوشیوں میں اپنے ارد گرد ان غریب اور پڑوسیوں کو مت بھولیے اور انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرکے سنت ابراہیمی کو ادا کرکے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ، جانور کی قیمت نہیں جذبہ دیکھتا ہے۔

آن لائن خریداری

کمپیوٹر کی پاکستان میں آمد کے بعد روز بہ روز لوگوں کی دل چسپی میں اضافہ ہورہا ہے، نئی نئی ویب سائٹس سامنے آرہی ہیں، ان ہی ویب سائٹس میں قربانی کے جانوروں کی خرید اور فروخت کے صفحات شامل ہیں، آن لائن خرید و فروخت کے سلسلے میں مطلوبہ جانور کی نسل، وزن ، قد و قامت سمیت مختلف تفصیلات تصویر اور حتمی قیمت بھی درج ہوتی ہے، یہاں سے خریداری کرنے والے اسے آسان سمجھتے ہیں، اور جانور کی قیمت بذریعہ بینک، کریڈٹ کارڈ ایز ی پیسہ سے ادائیگی کی جاتی ہے۔ لیکن محض چند دنوں قبل اس ویب سائٹس کا اجرا کرکے لوگوں سے جانوروں کی قیمتیں وصول کرتے ہیں، بعد ازاں اس صفحے کو ہمیشہ کے لیے بند کردیتےہیں، بنیک اکائونٹ میں جعلی شناختی کارڈ پر کھیلا جاتا ہے اس لیے یہ خریداری ایک یاد گار واقعہ بن جاتی ہے، اور بیوپاریوں اور گاہک کے درمیان اعتماد کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے۔

سوشل میڈیا اور قربانی

فیس بک کے اکائونٹ سے متعلق معلومات اکھٹی کی جائیں تو پاکستان میں فروخت ہونے والے موبائل اور مختلف موبائل کمپنیوں کی مجموعی سموں سے بھی کہیں زیادہ ہے، اس سماجی ویب سائٹس پر قربانی کی خریداری کے مختلف مرحلے طے کرنے کے ساتھ ساتھ قربانی سے قبل جانوروں اور جانوروں کے ساتھ سیلفیاں لوڈ کی جاتی ہے، حتیٰ کہ جانوروں کے گلے پر چھری پھیرنے، کھال اتارنے اور ان کے گوشت کے پارچے بنانے، تقیسم کرنے تک کے مرحلہ وار تصویریں بھی لوڈ ہوتی ہیں، تیسرا مرحلہ گوشت سے کباب، کوفتے ، سخیں بنانے اور کڑھائی گوشت سمیت مختلف پکوان و کھانے کی تیاری اور مہمانوں کو پیش کرنے کی تصویریں زینت بنتی ہیں، اور ہاں کھانے کے بعد مہمانوں کے ساتھ گروپ فوٹو تو لازمی ہوتی ہیں۔

مڈویک میگزین سے مزید