آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاستہائے متحدہ امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں واقع ڈنبار سینئر ہائی اسکول کو انسانی جذبات، فطری ماحول اور ثقافت و تمدن پر مبنی ایجوکیشنل آرکیٹیکچرل ڈیزائن کا شاہکار مانا جائے تو قطعی بیجا نہ ہوگا۔ یہاں گھر جیسے ماحول میں طالب علموں کوجدید دور کی اعلیٰ کارکردگی پر مبنی تعلیم و تربیت دی جارہی ہے تاکہ ان کی ذہنی صلاحیتیں جدید دور کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ ڈھل سکیں۔ یہ ماحول مہیا کرنے کے لیے تعمیراتی ڈیزائن کو مستقبل میں تعلیم کے بدلتے انداز کو دیکھ کر تعمیر کیا گیا ہے۔اس میں سب سے اہم نکتہ برادریوں کے مابین ایسے تعلقات کو جنم دینا ہے، جس میں ماحولیاتی تبدیلی اور حفظانِ صحت کے بارے میں بچوں میں یہ شعور اجاگر ہو کہ اگر ہم نے شہروں میں تہذیب و ثقافت کو پروان نہیں چڑھایا تو ہماری ترقی کے تمام اثرات منفی رُخ اختیار کرلیں گے۔

شہریت اور باہمی تعلقات

آج کی دنیا میں ترقی یافتہ شہروں نے ماہرین تعمیرات پر یہ دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ ایسا تعلیمی طرزِ تعمیر تشکیل دیں جہاں صرف طالب علموں کی تعلیم و تدریس کا فریضہ ہی انجام نہ دیا جائے بلکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ سماجی تعلقات استوار کرتے ہوئے تعلیم کے ساتھ دنیاوی مسائل کو بھی سمجھ سکیں اور ایک دوسرے کے دکھ میں ساجھے دار ہوکر ذمہ دار شہری کا کردار ادا کریں۔ طالب علموں میں شہریت کا احساس اجاگر ہو، وہ اپنی کامیابیوں پر خوش ہونے کے ساتھ ہم جماعت ساتھیوں کی کامیابیوں پر بھی خوش ہوں۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی اندازِ تعمیر وسیع ذہن اور فراخ دل رویے کے ساتھ کشادگی اور فطرتی جمالیات سے ہم آہنگ کرسکتی ہے۔ 

اس کی بہترین مثال ڈَنبارسینئر ہائی اسکول کا تعمیراتی ڈیزائن ہے، جسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کہیں پر بھی اجنبیت کا احساس نہ ہو اور طالب علم اسے اپنے گھر جیسا ماحول محسوس کریں۔ اس سے طالب علموں کوبیرونی دنیا کےسماجی مسائل کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور وہ تعلیم کے ساتھ سماجی شعور سے بھی آگاہ ہوکر تعلیم کے بعد عملی میدان میں درپیش مشکلات کا مقابلہ کرسکیں گے۔ ہمیں اسکول کے نصاب کو بھی اوپن مارکیٹ کی رائج ضروریات سے ہم آہنگ کرکے ایسے مضامین متعارف کرانے ہوں گے جو مستقبل میں ملازمت کی ضمانت فراہم کریں۔ آرکیٹیکچر ڈیزائن کا بنیادی کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسکول کی عمارات کا ڈیزائن بناتے وقت انسانی تعلقات میں سہولیات مہیا کرتے ہوئے ایسے ماڈل تیار کریں جو شہری زندگی کے اجزائے ترکیبی سے مماثل ہوں، وگرنہ ان کی حیثیت کرائے پر لیے جانے والے ڈبے سے زیادہ نہ ہوگی۔

ماحول دوست عمارتیں اور 21ویں صدی کے تعلیمی تقاضے

ڈنبار امریکا کا پہلا افریقی ہائی اسکول تھا۔ اس جگہ اسکول کی پہلی عمارت1917ء میں تعمیر کی گئی، جسے بعد ازاں منہدم کرکے ایک نئی عمارت بنائی گئی۔ پرانی عمارت کی وسیع تدریسی تاریخ رہی ہے جہاں ڈانس اورتقریبات سمیت کئی سرگرمیوں سے طالب علموں کو اعلیٰ تدریس کے مواقع حاصل تھے۔ لیکن پھر اس عمارت کی تعمیرِ نو اکیسویں صدی کے بدلتے تقاضوں کے مطابق کی گئی۔ ٹاؤن اسکوائر کی طرح اجتماعات کے لیےوسیع ہال بنایا گیا۔ اس وقت عمارت میں جمنازیم سمیت روشنی کا بہترین انتظام ہے۔ ساتھ ہی تعلیم و تدریس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک میڈیا سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاںدیگر تعلیمی اداروں کے ساتھ آن لائن تعلیم کی سہولتیں موجود ہونےکے علاوہ طالب علموں کو بصری و تصویری تعلیم دینے کے لیے اسے جدید طرز تعمیر میں ڈھالا گیا ہے۔ اس عمارت کی تعمیرِ نو میںماحول دوست عمارات میں استعمال کیاجانے والا انتہائی اعلیٰ معیار کاLEED پلاٹینیم استعما ل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایسی عمارت سازی پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی جہاں ’ہائی پرفارمنس لرننگ‘ کے شاندار مواقع ملیں، چاہے وہ نصابی سرگرمیاں ہوں یا غیر نصابی۔ بلڈنگ آرکیٹیکچر طالب علموں کو ایسی کشادگی اور اپنائیت کا احساس دلاتا ہے، جہاں وہ گھر کی طرح کھیل کود سکیں۔ ڈَنبارسینئر ہائی اسکول میں کمروں میں قدرتی روشنی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے، نیز دیواروں کو بھی درجہ حرارت میں کمی بیشی کے مطابق تعمیر کیاگیا ہے، جس کی وجہ سے کمروں کا درجہ حرارت معتد ل رہتا ہے جبکہ چھت پر’ فوٹو وولٹیک ایرے‘ بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ گرمی کی حدت سے بچا جاسکے۔ 

عمارت کے مستحکم اور دیرپا ڈیزائن کو اس لیے اولیت دی گئی ہے تاکہ اعلیٰ کارکردگی پر مبنی درس و تدریس کو یقینی بنایا جاسکے۔ عمارت سازی میں جو مٹیریل استعمال کیاگیا ہے اس میں رتی برابربھی کیمیکل اثرات نہیں ہیں تاکہ طالب علموں کی صحت بہتر رہے اور وہ صحت مند ماحول میں اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس کی باقاعدہ لیبارٹری سے تصدیق بھی کروائی گئی ہے۔ اس آرام دہ ماحول کی وجہ سے بچوں میں تعلیم کا شو ق بھی قائم رہتا ہے اور طالب علم گھریلوماحول میں یہاں کھیل کھیل میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کئی بچے تواس ماحول کے اتنے دیوانے ہوجاتے ہیں کہ ان کا گھر جانے کو جی ہی نہیںچاہتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں