آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میںواقع شاہ فیصل مسجد اپنی سفید دودھیا رنگت کے لحاظ سےپوری دنیا کے لیے اسلام کے آفاقی پیغام امن و محبت،رواداری و بھائی چارےاور احترامِ انسانیت کی علامت ہے۔ اسے جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اپنے انوکھے طرز تعمیر کے باعث یہ تمام مسلم دنیا میں معروف ہے۔

تاریخ

شاہ فیصل مسجد تعمیر کرنے کی تجویز سابق سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے 1966ء میں اپنے دورہ اسلام آباد میں دی۔1969ء میں ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کرایا گیا، جس میں 17ممالک کے43فنِ تعمیر کے ماہرین نے مسجد کے ڈیزائن کے لیےاپنے نمونے پیش کیے۔ چار روزہ مباحثے کے بعد ترکی کے ویدت دالوکے ( Vedat Dalokay)کا پیش کردہ نمونہ منتخب کرلیا گیا۔

مسجد کی تعمیر

ویدت دالوکے کی زیر نگرانی مسجد کی تعمیر کے کام کا آغاز ہوا۔ تعمیر کا ٹھیکہ پاکستانی فرم ’’نیشنل کنسٹرکشن کمپنی‘‘ کو دیا گیا۔ مسجد، قدیم و جدید تعمیر کا حسین امتزاج، ماضی و حال کا لاجواب سنگم، فن تعمیر کا بے مثال نمونہ اور ذوق جمال کا نادر اظہار ہے۔ مسجد کا کام دو مراحل میں مکمل کیا گیا۔ اس کی خشتِ اوّل 12اکتوبر 1976ء کو شاہ خالد بن عبد العزیز کے ہاتھوں رکھی گئی۔ مسجد 146مربع ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ اس کی تعمیر میں بے شمار تعمیری اور تکنیکی خوبیاں موجود ہیں۔ مسجد کے ہال کی پوری چھت کو، جو بغیر کسی سہارے کے بنایا گیا ہے، صرف چار بڑے بڑے لوہے اور کنکریٹ کے شہتیروں کو سہارا دے کر بنایا گیا ہے۔ سعودی حکومت کی مدد سے13کروڑ سعودی ریال سے زائد کی لاگت سے بنے والی اس مسجد کی تعمیر کا آغاز1976ء میں کیا گیا۔ مسجد کے تعمیری اخراجات میں بڑا حصہ دینے پر مسجد اور کراچی کی ایک اہم ترین شاہراہ کو 1975ء میں شاہ فیصل کی وفات کے بعد ان کے نام سے موسوم کردیا گیا۔ فیصل مسجد کا تعمیراتی کام 1986ء میں مکمل ہوا، اس کے احاطے میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بنائی گئی ہے۔

مسجد کا اندرونی منظر

مسجد5ہزار مربع میٹر پر محیط ہے اور بیرونی احاطہ کو شامل کرکے اس میں بیک وقت3لاکھ نمازیوں کی گنجائش بن جاتی ہے۔ یہ دنیا کی بڑی مساجد میں سے ایک اور برصغیر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کا فن تعمیر جدید ہےلیکن ساتھ ہی یہ روایتی عربی فن تعمیر کی نمائندگی کرتا ہے، جو ایک بڑےتکونی خیمے اور چار میناروں پر مشتمل ہے۔ روایتی مساجد کےنمونوں سے مختلف اس میں کوئی گنبد نہیں ہے۔ ایک خیمہ کی طرح مرکزی عبادت گاہ کو چار میناروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ اس کے مینار ترکی فن تعمیر کے عکاس ہیں، جو عام مینار کے مقابلے میں پتلے ہیں۔ مسجد کے اندر مرکز میں ایک بڑا برقی فانوس نصب کیا گیا ہے۔ مشہور زمانہ پاکستانی خطاط صادقین نے دیواروں پر پچی کاری کے ذریعے قرآنی آیات تحریر کی ہیں، جو فن خطاطی کا عظیم شاہکار ہیں۔ پچی کاری مغربی دیوار سے شروع ہوتی ہے، جہاں خط کوفی میں کلمہ لکھا گیا ہے۔مسجد کا فن تعمیر عرصہ دراز سے ہونے والے جنوب ایشیائی مسلم فن تعمیر سے مختلف ہے اور کئی انداز میں روایتی عربی، ترکی اور ہندی طرز تعمیر کا امتزاج ظاہر کرتا ہے۔

محل وقوع

مسجد شاہراہ اسلام آباد کے اختتام پر واقع ہے، جو شہر کے آخری سرے پر مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ یہ اسلام آباد کے لیے ایک مرکز اور شہر کی سب سے مشہور پہچان ہے۔ تکونی خیموں جیسی اس مسجد کا اپنے پس منظر میں ابھرتی پہاڑیوں اور ملحقہ وادیوں کے حسن سے عجیب رابطہ پیدا کیا گیا ہے۔

ہال اورگیلری

ہال میں خواتین کے نماز پڑھنے کے لیے خاصی بڑی گیلری بنائی گئی ہے،جہاں مغلیہ طرز کی جالیاں لگی ہیں۔ اس گنجائش کو مزید بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ یہ مسجد کشادگی کے لحاظ سے بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اس میں روشنی کا بڑا عمدہ انتظام ہے، دُور سے دیکھیں تو یہ روشنی کا منبع لگتی ہے۔ ہال میں تقریباً ساڑھے چھ ٹن وزنی فانوس کے علاوہ دیگر چھوٹی لائٹیں بھی لگائی گئی ہیں۔ ہر لائٹ کے ساتھ آواز پہنچانے کے لیے دو چھوٹے چھوٹےا سپیکر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ وعظ یاتقریر کرنے اور اذان دینے کے لیے ایک اونچا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔ یہاں حسنِ قرأت وغیرہ کے مقابلے بھی منعقد کروائے جاتے ہیں۔

ہال کے چوبی دروازے اور المونیم کی کھڑکیاں بھی بڑی مہارت سے بنائی گئی ہیں۔ اس مسجد کی ایک خوبی اس کی خیمے سے مشابہت بھی ہے۔ اعتکاف کے لیے حجرے بھی بنائے گئے ہیں۔ وضو کے لیے اعلیٰ پائے کی ٹوٹیاں اور اس کے علاوہ غسل خانے بھی بنائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مسجد کے285فٹ اونچے چار مینار اس کی رونق اور حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ میناروں کے193فٹ بلندی پر مشاہداتی گیلریاں بھی بنائی گئی ہیں، جہاں سیڑھیوں کے علاوہ لفٹ کا بھی بندوبست کیا گیاہے ۔ مینار پر لگے سونے کے ہلال سے ان کا حسن اور بھی نکھر جاتا ہے۔ مسجد کی ظاہری شان و شوکت اور حسن و خوبی کے ساتھ ہی اس کی پائیداری پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 

زمین کی تبدیلیوں، زلزلوں اور دیگر ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے جدید سائنسی اصول اور اعلیٰ تکنیکی و تحقیقی مہارتیں بھی اپنائی گئی ہیں۔ نمازیوں کی سہولت کے لیے یہاں سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کے لیے پارکنگ ا سٹینڈز بھی بنائے گئے ہیں۔ اسلامی ریسرچ سینٹر، میوزیم، لائبریری، پرنٹنگ پریس، کیفے ٹیریا، انتظامی دفاتر اور انتظامیہ کی رہائش گاہوں کے علاوہ دیگر عمارتیں بھی مسجد کےاحاطے میں شامل ہیں۔ مسجد کے خوبصورت سبزہ زار ،بنفشی درو دیوار، فوارے، راہ داریاں، برقی قمقمے، سونے کے چاند، میدان اور دالان، دودھ جیسے فرش اور جدید سڑکیں سب مل کر دیکھنے والے کو مسحور کر دیتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں