آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تب ابھی جھولے پڑنے کو باغ میسر تھے۔تب ابھی ٹاہلیاں پیار کی باتوں کی گواہ ہوتی تھیں۔تب ابھی موسم روٹھے نہیں تھے۔تب ابھی بارشیں مہرباں تھیں اور سورج بھی نامہرباں نہ تھا۔تب ابھی راتیں تاروں بھری تھیں۔تب ابھی جگنوجلتی بجھتی روشنی سے من آنگن منور کرتے تھے۔تب ابھی بچوں کوپیچھے بھاگنے کوتتلیاں نظر نوازہوتی تھیں۔تب ابھی زندگی دھواں دھواں نہیں ہوئی تھی۔تب ابھی درختوں کی جگہ کنکریٹ اگنا شروع نہیں ہوا تھا۔درخت کٹنے پرخوش گلو، خوش شکل، زندگی کا پیام دیتے پرندوں کی ہجرت ابھی آغاز ہی ہوئی تھی جب منو بھائی پکارے تھے چڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھو!

مگریہ ہونہ سکا۔زیادہ پرانی بات نہیں نواب شاہ میں اپریل ہی میں درجہ حرارت پچاس سے اوپر چلا گیا۔وادیوں میں رہنے والے اب سامان سمیٹ ،کپڑے اور جوتے پہن کر سوتے ہیں کہ کب سیلاب آجائے اور انھیں بھاگنا پڑ جائے۔موسموں کی چیرہ دستیاں چھ سے چودہ ارب ڈالر سالانہ کا خسارہ مقدر کرتی ہیں اس پر مستزاد ہوا اور پانی کی آلودگی سے ہونے والا اضافی تین ارب ڈالر سالنہ ہونے والا نقصان ہے۔انفرادی غلطیاں اور جرم کبھی کسی ایک شخص کی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ایک درخت جب کٹتا ہے تو ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں نہیں رہتے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی بھی ملک کیلئے جنگلات کے رقبے کے ملک کے کل رقبے کے بارہ فی صدکے کم ازکم معیارسے بہت کم، پاکستان میں درخت صرف تین فی صدرقبے پر پائے جاتے ہیں۔یوں ہم درخت غریب ہیں،بارشوں کی بے یقینی اور سیلاب کی زد میں ہیں، خشک سالی اورزمین کے کٹاو کا شکار ہیں اوربڑھتی حرارت سے سب سے زیادہ متاثرچھ ممالک میں شمارہورہے ہیں۔

انفرادی غلطیاں سدھارنا ہوں تو انفرادی عمل ہی سے ایسا ممکن ہے۔سدھارمیں اجتماعیت خود بخودآجاتی ہے۔ہمارے ہاں بگاڑ اس لیے بھی پیدا ہوا کہ شجرکاری صرف رسم رہی،جذبہ نہیں، تحریک نہیں۔یوں ایسے پودے لگے جو بیرونی دنیا سے لائے جانے کے باعث مہنگے بھی تھے اور ناپائدار بھی۔فیصل آباد کی زرعی یونو رسٹی کے استادطاہر صدیقی سے استفادہ پر مبنی جویریہ صدیق کی ایک تحقیق کے مطابق درخت اپنی افزائش اور ساخت کے اعتبار سے مخصوص آب و ہوا، درجہ حرارت اور بارش ہی میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔کراچی میں لگائے جانے والے کونو کارپس کے درخت کراچی کی آب و ہوا سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتے، شہرمیں پولن الرجی کا باعث ہیںا اور دوسرے درختوں کی افزائش پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیںجب کہ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کیلئے استعمال نہیں کرتے۔بعض ماہرین کے مطابق کونو کارپس بادلوں اور بارش کے سسٹم پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں یوںکراچی میں مون سون کے موسم پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں املتاس، برنا، نیم ، گلمہر، جامن، پپلش، بینیان، ناریل اور اشوکا لگایا جائے۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں پام ٹری اور کھجور لگانا موزوں رہے گا۔ اندرون سندھ میں ککرن، برپی، پھلائی، ون، فراش، سوہانجنا لگانا موزوں رہے گا۔جنوبی پنجاب کی آب و ہوا خشک ہے۔ طاہر صدیقی یہاں کیلئے خشک سالی برداشت کرنے والے درخت بر ی، شریں، سوہانجنا، کیکر، پھلائی، کھجور، ون، جنڈ، فراش اور آم تجویز کرتے ہیں۔ان کے مطابق وسطی پنجاب میں نہری علاقے ہیں لہٰذا وہاں املتاس، شیشم ، جامن، توت، سمبل، پپلن، بکاین، ارجن، اور لسوڑا لگایا جائے۔شمالی پنجاب میں کچنار، پھلائی، کلن، اخروٹ، بادام، دیودار، اوک کے درخت لگائے جائیں۔ کھیت میں کم سایہ دار درخت مفید ہیں جن کی جڑیں بڑی نہ ہوں اور وہ زیادہ پانی استعمال نہ کرتے ہوں۔ سفیدہ صرف وہاں لگایا جائے جہاں زمین خراب ہو، یہ سیم و تھور ختم کر سکتا ہے۔ جہاں زیرزمین پانی کم ہو اور فصلیں ہوں وہاں سفیدہ نہ لگایا جائے۔اسلام آباد اور سطح مرتفع پوٹھو ہار کیلئے موزوں درخت ولو، پاپلر، کچنار، برہی اور چنارہیں۔ اسلام آبادمیں لگے درخت الرجی کا باعث ہیں انھیں ختم کرنا ضروری ہے۔ان کی جگہ مقامی درخت لگائے جائیں۔ زیتون کا درخت بھی یہاں کیلئے موزوں ہے۔صوبہ بلوچستان کیلئے موزوں ترین درخت صنوبر کا ہے۔ زیارت میں صنوبر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے۔باقی بلوچستان خشک پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون کرک ، پھلائی، بڑ، چلغوزہ پائن، اور اولو ایکیکا لگایا جائے۔خیبر پختونخواکیلئے موزوں درخت شیشم، دیودار، کیکر، پاپلر، ملبری، چنار اور پائن ٹری ہیں۔

مقامی درخت نہ صرف پرندوں اور دیگر جانوروں کو پناہ فراہم کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ لازم ہے کہ شجرکاری کے بعد پہلے تین سال پودوں کی حفاظت کی جائے۔ یہ ان کی بقاکے لے اہم ہے۔ ہمارے ہاں مہم شروع ہوئی ہے دس ارب درخت لگانے کی۔یہ جنگ ہماری ہے۔ اپنے لئے، اپنے بچوں کی زندگی کیلئے۔اچھی مثال کہیں سے ملے لے لینے میں بھلا ہے۔ بھوٹان میں شجر کاری بہت عام ہے۔ اسے خوب صورتی، لمبی زندگی اور رحم کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ملک کا 72.3 فی صد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، بھوٹان کے آئین کے مطابق جنگلات کو ملک کے 60 فی صد رقبے سے کسی صورت کم نہیں ہونے دیا جائے گا۔بادشاہ کے پہلے بچے کی پید ائش پر ہزاروں افراد نے جشن منایا اور اس موقع پر 108000 درخت لگائے گئے۔بھوٹان دنیا کا پہلا ’’کاربن نیگیٹو‘‘ ملک ہے یعنی جتنی کاربن ڈائی آکسائڈ یہاں پیداہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ یہاں کے جنگلات جذب کر لیتے ہیں۔بس یہی ہے چڑیا کی آنکھ سے شہر کو دیکھنا۔چڑیا کو کسی درخت پر امان ملے گی تو ہم آپ بھی تو مامون ہوں گے ناں!

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں