آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک پاکستان کی جدوجہد ہو یا کسی آمر کی ڈکٹیٹر شپ ، ہر دور میں پاکستانی خواتین نے اپنی طاقت و صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ خواتین ہماری آبادی کا تقریباً نصف ہیں، مگر اس کے باوجود اُن کے حقوق سے چشم پوشی کی روش عام ہے۔ مُلکی سطح پر خواتین کی ترقّی کے جو اعلانات کیے جاتے ہیں، اُن میں سے نصف پر بھی عمل کی نوبت نہیں آتی،جبکہ ہماری خواتین زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے برابر کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔ان ہی شعبہ جات میں سیاست ایسا شعبہ ہے ،جس میں پاکستانی خواتین کی نمائندگی قابل ذکر ہے۔تقریباًہر سیاسی جماعت میں خواتین نہ صرف اہم ذمے داریاں نبھا رہی ہیں بلکہ حکومتی سطح پر بھی اہم شعبہ جات اوروزارتوں کی مسند پر براجمان ہیں۔

حالیہ عام انتخابات میں بھی خواتین کو نا صرف بڑی تعداد میں پارٹی ٹکٹ دیے گئے بلکہ مؤثر نمائندی بھی دی گئی ،اعدادو شمار کے مطابق انتخابات 2018 میںکل 171 خواتین امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں 105 خواتین امیدواروں نے پارٹی ٹکٹ کے تحت الیکشن لڑا جبکہ 66 نے آزاد امیدوارکے طور پر انتخابات میں حصہ لیا۔ خواتین کو سب سے زیادہ 19 ٹکٹیں پاکستان پیپلز پارٹی نے دیں، متحدہ مجلس عمل نے 14 خواتین کو ٹکٹیں دیں ،جبکہ پی ٹی آئی نے 11 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی 11 خواتین کو پارٹی ٹکٹ دیے۔ 2013 کے انتخابات میں کل 135 خواتین امیدواروں میں سے 61 نے پارٹی ٹکٹ پر اور 76 نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا۔ 2008ء میں کل 72 خواتین میں سے 41 نے پارٹی ٹکٹ پر اور 31 خواتین نے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔گو حالیہ انتخابات کو خواتین کی شمولیت کے حوالے سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن کئی ماہرین عدم اعتماد کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 95 سے 105 ملین ووٹوں میں سے خواتین ووٹوں کی تعداد 46,7 ملین ہے لہذا ان کی نمائندگی بھی اس کے مطابق ہونی چاہیے۔ اسی طرح اس بات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق، ان انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا اور پنجاب کے آٹھ اضلاع میں سیاسی جماعتوں اور عمائدین کے مشترکہ فیصلے کے تحت انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔سیاسی مبصرین اور میڈیا رپورٹوں کے مطابق عام خواتین ووٹروں نے خصوصاًان علاقوں میں گھروں سے نکل کر ووٹ ڈالا، جہاں روایتی پدرسری ثقافتی، سماجی اور مذہبی نفسیات ہمیشہ ان کے حق رائے دہی کے خلاف متحد رہی۔ دیر زیریں، دیر بالا، کوہستان اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں خواتین نے انتخابی عمل میں تاریخی شمولیت کی۔ مثال کے طور پر دیر زیریں اور دیر بالا میں پہلی مرتبہ 40 فیصد خواتین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن کے فراہم کردہ حقائق کے مطابق انتخابات 2013ء میں دیر زیریں میں خواتین کے کل دو لاکھ رجسٹر ووٹوں میں صرف 231 خواتین نے ووٹ ڈالے تھے۔ اسی طرح 2013 میں دیر بالا کے حلقہ پی کے 10 میں خواتیں کے کل 138910 ووٹوں میں سے صرف ایک خاتون نے ووٹ ڈالا تھا۔ یہاں 2015ء میں الیکشن کمیشن نے یہ رجحان دیکھتے ہوئے ایک ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیاتھا۔ اس مرتبہ اس علاقے کی خواتین نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ماہرین کے مطابق یہ ایک غیر معمولی رجحان ہے اور اس حوالے سے انتخابی اصلاحات کے ایکٹ 2017ء کی تعریف کو سراہاگیا ہے، جس کی رو سے سیاسی جماعتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ عام نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹیں خواتین کو دیں اور کسی بھی حلقہ میں اگر خواتین کے دس فیصد ووٹ نہ ڈالے گئے ہوں تو وہ انتخاب کالعدم قرار دیا جائے گا۔

حالیہ انتخابات میں کئی حلقوں میں خواتین نے بھرپور انتخابی مہمیں چلائیں۔ قبائلی علاقوں سے پہلی مرتبہ بزرگ خاتون علی بیگم نے انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے ارادے اور خیالات کی پختگی سے سبھی کو متاثر کیا۔ اےاین پی نے جنوبی پنجاب میں ملتان کے حلقہ این اے 155 سے ایک خاتون وکیل نوشین افشاں کو ٹکٹ دیا، جو موٹر سائیکل پر اپنی انتخابی مہم چلاتی رہیں۔ اسی طرح عوامی ورکرز پارٹی نے اسلام آباد کے حلقہ این اے 54 سے عصمت رضا شاہجہاں کو ٹکٹ دیا۔ پاکستانی صحافی جگنو محسن نے حلقہ این اے 145 سے الیکشن لڑا۔ اسی طرح ڈاکٹر یاسمین راشد، فردوس عاشق اعوان، فریال تالپور، شہلا رضا، عاصمہ ارباب عالمگیر، ثمینہ خالد گھرکی، تہمینہ دولتانہ، سائرہ افضل تارڑ، غلام بی بی بھروانہ، فہمیدہ مرزا، زرتاج گل، عائشہ گلالئی اور سمیرا ملک جیسی کئی معروف خواتین سیاست دانوں کے علاوہ درجنوں غیر معروف خواتین نے عوام میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ہری پور ہزارہ میں گیارہ خواتین نے الیکشن لڑا ، جن میں آٹھ نے قومی اسمبلی کی نشست پر جبکہ تین نے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑا۔ان میں سے منتخب ہو کر ایوان میں آنے والی خواتین میں سے نئی سیاسی خواتین کی تعداد زیادہ نہیں ہے،اس کے ساتھ ہی مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین میں سے بھی زیادہ تر خواتین وہ ہیں جوپہلے بھی قومی و صوبائی اسمبلی کا حصہ رہیں یا کسی اہم عہدے پر خدمات سرانجام دیتیں رہیں۔ان میں زیادہ تعداد ان خواتین کی ہے جو گزشتہ اسمبلی میں بھی دبنگ پرفارمنس دینے میں کامیاب رہیں، تاہم نو منتخب قومی و صوبائی حکومتوں کی کی جانب سے ان میں سے چند کو اعلیٰ عہدوں سے سرفراز کیا گیا ہے،ان میں سے چند اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والی خواتین کا تعارف پیش کیا جارہا ہے:

ڈاکٹر شیریں مزاری

(وفاقی وزیر برائےانسانی حقوق)

ڈاکٹر شیریں مہرالنساء مزاری،معروف سیاست دان ،شیر باز مزاری کی بھتیجی اور سیاست دان اورسابق بیوروکریٹ عاشق محمد خان مزاری کی صاحب ذادی ہیں۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے ’’لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس‘‘ سے بی ایس سی آنرز کیا،بعدازاں اسی ادارے سے ’’ملٹری سائنس اور پالیٹیکل سائنس ‘‘میں ڈبل ایم ایس سی کیا۔اس کے بعد وہ مزید اعلی تعلیم کے حصول کے لیے امریکا روانہ ہو گئیں،جہاں انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ان کے پی ایچ ڈی میں ’’ملٹری ہسٹری،جیو اسٹرٹیجی اورپاکستان کی خارجہ پالیسی ‘‘کے مضامین شامل تھے۔پاکستان واپس آکر انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی میں’’ملٹری سائنس ‘‘کی پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور ساتھ انگریزی اخبار میں ایڈیٹر کی حیثیت سے ذمے داریاں نبھائیں۔ انہوں نے2008 تک انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کی سربراہی سنبھالی اور تھنک ٹینک کے طور پر کام کیا۔اس دوران وہ مختلف اخبارات میں پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے حوالے سےکالم بھی لکھتی رہیں۔ انہیں پاکستانی کی خارجہ پالیسی پر کھل کر تجزیہ کرنے میں ملکہ حاصل ہے۔وہ پاک امریکا تعلقات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔اس کے علاوہ پاک افغان پالیسی کی بھی ناقد رہی ہیں۔انہوں نے ہمیشہ سچ کے لیے آواز اٹھائی۔2008میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔انہوں نے ہر فورم پر پاکستان تحریک انصاف کی پالیسیوں کا دفاع کیا اور ایک بہادر سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔2013 کی اسمبلی میں تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر شیریں مزاری خواتین کی مخصوص نشستوں پررکن قومی اسمبلی بنیں،جہاں انہوں نے اپوزیشن میں بیٹھ کر اپنی جماعت کی ترجمانی کی۔بہ حیثیت رکن قومی اسمبلی بھی ڈاکٹر شیریں مزاری خاصی متحرک نظر آئیں۔2018 کے انتخابات میں ڈاکٹر شیریں مزاری خواتین کی مخصوص نشست پر ایک مرتبہ پھررکن اسمبلی بنیں،تاہم نومنتخب حکومت نے ڈاکٹر شیریں مزاری کووزارت سے سرفراز کیا اور وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میںانہیں انسانی حقوق کی وزارت کا قلم دان سونپا گیا۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

(وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ)

سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پاکستانی کی پہلی خاتون اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے اعزاز کے بعد انتخابات 2018 میںمسلسل پانچویں مرتبہ خاتون رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل کرلیاہے۔وہ ایک ہی حلقے کی جنرل نشست سے مسلسل پانچ بار الیکشن جیتنے والی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1997 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سےکیا تھا۔وہ تین بار مسلسل عام انتخابات میں 1997،2002 اور2008 میں کامیاب ہوئیں اوربدین سندھ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پاکستان پیپلزپارٹی میں بہ حیثیت خاتون رہنما اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا،بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت سے اختلافات کے باعث انہوں نے جون 2018 میںپاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق توڑ کر انتخابات 2018 میں شرکت کے لیے سندھ کی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں سے بننے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) میں شمولیت اختیار کی اور اسی پلیٹ فارم سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا اور جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی۔بعدازاں انہوں نے قومی اسمبلی میں اکثریتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت سازی میں معاون کاکردار ادا کیا اور نومنتخب کابینہ میں وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ کی ذمے داری سنبھالی۔ان کے شوہر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں اور وزارت کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔تاہم قیادت سے اختلافات کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی سے کنارہ کشی اختیا ر کرلی۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر،زرعی و کاروباری ماہر ہیں۔فہمیدہ مرزا کے والدقاضی عبدالمجید عابد صوبہ سند ھ میں کئی وزارتوں کے سربراہ منتخب ہوئے اور وفاقی کابینہ میں بھی شامل رہے۔ان کے چچا قاضی محمد اکبر بھی صوبائی کابینہ میں بطور وزیر داخلہ شامل رہے۔اپنے سیاسی کیرئیر کے دوران ڈاکٹر فہمیدہ مرزا علالت کا شکاربھی رہیں۔انہوں نے کینسر جیسے موضی مرض کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ڈا کٹر زبیدہ جلال

(وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار)

صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی ممتاز ماہر تعلیم اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال 31 اگست 1959ء کو کیچ کے مقام پر ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔بلوچستان یونیورسٹی سے انگریزی میں ماسٹرز کیا۔ انھوں نے اپنے گائوں کی بچیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ایک اسکول کھولا۔بلوچستان میں بچوں کو تعلیم دینے کی ان کی کوششوںکوہر پلیٹ فارم پر سراہا گیا، بعد ازاں ان کا یہی قدم انہیں تعلیم کی وفاقی وزارت تک لے گیا۔ حکومت پاکستان نے 14 اگست 1997ء کوانہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ 4 نومبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے اپنی پہلی کابینہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا، تو زبیدہ جلال کو تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے قلم دان سونپے گئے۔ 2002ء کے عام انتخابات میںق لیگ کی طرف سے وہ قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اور میر ظفر اللہ جمالی اور شوکت عزیز کی کابیناؤں میں وزیر تعلیم کے منصب پر فائز ہوئیں۔ 2008ء کے عام انتخابات میں وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔حالیہ انتخابات 2018 میں زبیدہ جلال کو بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے ضلع کیچ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 70پر نامزد کیا گیا۔زبیدہ جلال بی این پی کے جان محمد دشتی جیسے مضبوط امیدوار کے مدمقابل تھیں،تاہم وہ فتح یاب ہوئیں۔وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں انہیں وزیردفاعی پیداوار کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

ریحانہ لغاری

(ڈپٹی اسپیکربرائےسندھ اسمبلی)

سندھ اسمبلی کی نومنتخب ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ریحانہ لغاری 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوکر سیاسی میدان میں وارد ہوئیں۔باصلاحیت رکن صوبائی اسمبلی ریحانہ لغاری 2016 میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کابینہ میں انسانی حقوق کی مشیر بن کر شامل ہوئیں۔متحرک اور با اعتماد شخصیت کی مالک ریحانہ لغاری نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کارہائے نمایاں انجام دیے۔وہ سندھ کے ترقیاتی کاموں میںپیش پیش رہیں ۔انہوں نےڈسٹرکٹ سجاول کی سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دیہی علاقوں میںپانی اور دیگر اشیاء کی فراہمی کو ممکن بنایا۔ 2018 کے عام انتخابات میں وہ ایک مرتبہ پھر خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوکرسندھ اسمبلی کا حصہ بنیں،بعدازاں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انہیں ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔جہاں وہ پاکستان تحریک انصاف کی نامزد رکن ربیعہ اظفر نظامی کے 59 ووٹوں کے مقابلے میں 98 ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب ہوئیں۔

ڈاکٹرعذرا فضل پیچوہو

(صوبائی وزیر برائے صحت و بہبود آبادی)

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ، سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن اورپاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹوشہید کی نند ہیں۔انہوں نے سیاست میں قدم پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے رکھا،جبکہ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔

عذرا پیچوہو انتخابات 2018میںسندھ کی صوبائی اسمبلی کے لیےپی ایس 39 شہیدبے نظیر آباد (نوابشاہ) سے انتخابی میدان میں اتریں اور کامیاب ہوئیں۔وہ پہلی مرتبہ 2002 میں نواب شاہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔2008 اور 2013 کے عام انتخابات میں بھی عذرا فضل پیچوہونوابشاہ کے حلقے این اے دو سو تیرہ سے کامیاب ہوئیں۔عذرا پیچو،گزشتہ ادوار میں بھی خصوصاً سندھ میں تعلیم کی ترقی کے لیے خاصی متحرک رہی ہیں۔اس مرتبہ انہیںسندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی کابینہ میں وزرات صحت اور بہبود آبادی کی وزارت سے سرفراز کیا گیاہے۔

سیدہ شہلا رضا

(صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں)

سیدہ شہلا رضا نوعمری سے ہی بھٹو خاندان اور بے نظیر بھٹو کی وفادار ساتھی رہی ہیں۔انہوں نے آمرانہ دور کی سختیاں بھی جھیلیں ہیں۔پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد شہلا رضا کے نانا خیر پورکے پہلے پارٹی صدر نامزد ہوئے تھے۔

شہلا رضا نے 1990.91 میں کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پیپلز پارٹی کی طلبہ تنظیم،پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے منسلک رہیں۔1990 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت برطرف کی گئی تواس سیاسی تنظیم کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ کارکنوں کی پکڑدھکڑ کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔شہلا رضاکو بھی مختلف الزامات کے تحت گرفتار کرلیا گیاتھا۔انہیں سی آئی اے سینٹر میں ایک ماہ تک گرفتار رکھا گیا،وہیں سے ہی شہلا رضا نے فائنل ائیر کا امتحان دیا۔انہوں نے اپنی ہمت و حوصلے سے حالات کا مقابلہ کیا۔چوں کہ ان پر الزامات ثابت نہ ہوسکے لہذا انہیں عدالت نے بری کردیا۔2008 میں شہلا رضا پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر سندھ کی صوبائی اسمبلی کا حصہ بنیں اورانہیں پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کے طور پر بھی سرفراز کیا گیا۔2013 میں بھی وہ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئیں۔2018 کے انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکیں اور خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہو کر سندھ اسمبلی کا حصہ بنیں۔انہیں سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ کی کابینہ میں ترقی نسواںکے شعبے کی وزارت کی ذمے داری دی گئی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد

(صوبائی وزیر برائے صحت)

ڈاکٹر یاسمین راشد 21 ستمبر 1950ء کو چکوال میں پیدا ہوائیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ضلع چکوال کے قصبے نیلہ میں حاصل کی، بعدازاں لاہور میں کنوینٹ جیسز اینڈ میری میں زیرتعلیم رہیں۔ انہوں نے ایف ایس سی لاہور کالج فار وویمن یونیورسٹی سے کیا۔ 1978ء میں انہوں نے فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اور 1981ء میں کالج آف فزیشن اینڈ سرجن پاکستان سے ایم سی پی ایس کیا۔ڈاکٹریاسمین راشد نے 1989ء میں رائل کالج آف ابسٹریکٹس اینڈ گائناکالوجی لندن سے ایم آر سی او جی اور 1999ء میں ایف آر سی او جی کیا، جبکہ 2010ء میں ایف سی پی ایس کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے کیا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کی شادی 1972ء میں محمد راشد نبی ملک سے ہوئی۔ 1994ء میں ان کے شوہر محمد راشد تھیلیسیمیا سوسائٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے، جہاں تھیلیسیمیامیں مبتلا کئی بچوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد نے 1996ء سے 1999ء تک راولپنڈی میڈیکل کالج میں جینیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں بطور پروفیسر اینڈ سسٹریکس کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1999ءسے 2003ء تک فاطمہ جناح میڈیکل کالج، جبکہ 2003ء سے 2010ء تک اسی عہدے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں بطور پروفیسر تعینات رہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا شمار لاہور کے مشہور و معروف گائناکالوجسٹ میں ہوتا ہے۔ وہ سینٹرل پارک میڈیکل کالج میں جینیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں بطور پروفیسر اینڈ سسٹریکس کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد 1998ء سے 2000ء تک صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہونے کے ساتھ ساتھ پنجاب میں سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ میں بطور چیئرمین ٹاسک فورس ویمن ڈویلپمنٹ کی ذمہ داریاں بھی نبھا چکی ہیں۔ وہ 2008ء سے 2010ء تک پی ایم اے لاہور کی صدر بھی رہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا سسرال ایک سیاسی گھرانہ ہے۔ ان کے سسر ملک غلام نبی تحریک پاکستان کے کارکن اور ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر تعلیم رہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے سسر ملک غلام نبی کے مشورے کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 2010ء میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوتے ہی پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن میں حصہ لیا۔ وہ الیکشن میں کامیابی کے بعد لاہور چیپٹر کی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئیں۔ڈاکٹریاسمین راشد تحریک انصاف کی کور کمیٹی، اسٹرٹیجک کمیٹی اور سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کی رکن ہیں۔ انہوں نے 2013ء کے انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 120 سے نوازشریف کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور 52 ہزار 321 ووٹ سمیٹنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ اب تک اس حلقے میں نوازشریف کے کسی مدمقابل امیدوار کو ملنے والے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔جولائی 2017ء میں عدالت عظمیٰ پاکستان نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیالہذا حلقہ این اے 120 (لاہور 3) میں ستمبر 2017ء کوضمنی انتخابات ہوئے، پی ٹی آئی نے یاسمین راشد کو امیدوار نامزد کیا اور پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے کلثوم نواز شریف امیدوار نامزد کی گئیں۔ڈاکٹر یاسمین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔انتخابات 2018 میں ایک مرتبہ پھر ڈاکٹر یاسمین راشدنےپاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسی حلقے انتخاب لڑا تاہم اس مرتبہ بھی وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔بعدازاں تحریک انصاف نے یاسمین راشد کو خواتین کی مخصوص نشست دینے اوروزارت صحت بھی دینے کا فیصلہ کیا ۔اس وقت وہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کابینہ میں وزیر صحت ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں