آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کلثوم نواز انتقال کرگئیں، 13 ماہ سے لندن میں زیرعلاج، تین مرتبہ خاتون اول رہیں ، تدفین جمعہ کو لاہور میں نوازشریف،مریم، صفدر جنازے میں شریک ہوں گے

لندن،اسلام آباد،راولپنڈی(نمائندہ جنگ،ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی اہلیہ تین بار خاتون اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز یہاں لندن میں انتقال کر گئی ہیں۔ مرحومہ کی میت پاکستان لے جانے کے لئے ان کے دیور صدر مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف لندن آئیں گے۔ ان کی تدفین جمعے کو لاہور میں کی جائے گی۔ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے اڈیالہ جیل میں قیدنواز شریف، مریم نوازا ور کیپٹن صفدر کو پیرول پر رہا کیا جائے گا۔ کلثوم نواز کی رحلت پر صدر مملکت عارف علوی،وزیر اعظم عمران خان ، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ،سیاسی و مذہبی قیادت نے اظہار تعزیت کیا اورمرحومہ کی سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سابق وزیراعظم پاکستان کو تعزیتی خط ارسال کیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نوازمنگل کو ہارلے سٹریٹ کلینک میں دوران علاج انتقال کرگئیں۔ گلے کے

کینسر کے مرض میں مبتلا 68 سالہ بیگم کلثوم نواز کوبدھ کی شب طبیعت خرابی پر دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا،تاہم ان کی طبعیت بہتر نہ ہوسکی اور منگل کو خالق حقیقی سے جاملیں ۔وہ تقریباً ایک سال 25 دن تک یہاں لندن میں زیر علاج رہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب و صدر مسلم لیگ (ن) میاں شہباز شریف اورمرحومہ کے بیٹے حسین نواز نے بیگم کلثوم نواز کی وفات کی تصدیق کی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق جمعرات کو لندن میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو پاکستان منتقل کیا جائے گا جہاں جاتی امرا لاہورمیں جمعے کو ان کی تدفین کی جائے گی۔بیگم کلثوم نواز کی میت لندن کے ریجنٹ پارک کے علاقے میں واقع مسجد کے سرد خانے منتقل کردی گئی ہے۔ شریف خاندان کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہباز شریف بدھ کو لندن پہنچیں گے۔ میت کے ساتھ 10 افرادپاکستان جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق کلثوم نواز کی میت کی واپسی کیلئے لندن کے پاکستانی ہائی کمیشن نے ایک رابطہ کار افسر مقرر کردیا تاہم اطلاعات کے مطابق شریف فیملی کی میت کی منتقلی کے حوالے سے ہائی کمیشن کی معاونت کی پیش کش کو شکریہ کے ساتھ مسترد کریا۔خاندانی ذرائع کاکہناہے کہ میت کی منتقلی کے تمام انتظام شریف خاندان خود کرے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال کی خبر پر اڈیالہ جیل میں قیدان کے شوہر نوازشریف،بیٹی مریم نواز اورداماد کیپٹن (ر) صفدرغم سے نڈھال ہوگئے ۔ صدر ن لیگ شہباز شریف بھی اڈیالہ جیل پہنچے اورانھیں تسلی دی ۔ انھوں نے میت کی پاکستان منتقلی کے حوالے سے بھی نواز شریف سےمشاورت کی ۔ ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کے لیے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی پیرول پر رہائی کی اجازت دیدی گئی ہے۔ پیرول پر رہائی کیلئے قانونی دستاویزات کی تیاری جاری ہے۔ادھرو زیر اعظم عمران خان نے کلثوم نواز کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہےکہ بیگم کلثوم نواز بہادر خاتون تھیں۔وزیر اعظم نےلواحقین سے اظہار افسوس کیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے بھی اظہار تعزیت کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول زرداری ، شریک چیئر مین آصف زرادی ، مولانافضل الرحمٰن ، سرج الحق، زاہد خان ، محمود اچکزئی آزادکشمیر کے صدرسردارمسعود، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر، مشتاق منہاس نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے اور نوازشریف کو تعزیتی خط بھی ارسال کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں