آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

٭خود کُش یا خودکَش؟

اب تو اللہ کا شکر ہے کہ خود کش حملے ختم ہوگئے ہیں لیکن جب دہشت گردی عروج پر تھی اور ایسی کوئی اندوہ ناک خبر آتی تھی تو دہری اذیت ہوتی تھی ، ایک تو خود کش حملے کی خبر سے اور دوسرے غلط تلفظ سے۔ خبریں پڑھنے والے اور والیاں خود کُش (کاف پر پیش) کی بجاے خود کَش (کاف پر زبر ) بولا کرتے تھے ۔

صحیح تلفظ ’’خود کُش‘‘ (کاف پر پیش ) ہے ۔’’ کُش ‘‘فارسی کے مصدر کُشتن سے ہے ۔ کُشتن کا مطلب ہے جان سے مارنا ۔ کُش کا مطلب ہے جان سے مارنے والا۔ خود کش کے معنی ہیں خود کو مارنے والا، جو خود اپنی جان لے۔ اسی طرح جراثیم کُش( جراثیم کو مارنے والا)، کِرم کُش (کیڑے مارنے والی دواکو کہتے ہیں)، محسن کُش وغیرہ ۔ اسی سے خود کُشی (کاف پر پیش ) بھی ہے اور خود کُشی کا مطلب ہوگا خود کو مارنے کا عمل۔اسی طرح نفس کُشی، گاو کُشی(گاے کاٹنا)، دختر کُشی (بیٹی کو قتل کرنے کی قبیح رسم)وغیرہ اس لاحقے سے بننے والے مرکبات ہیں۔

جبکہ ’’کَش‘‘ (کاف پر زبر )تو فارسی کے مصدر کشیدن یعنی کھینچنا سے ہے۔کش (کاف پر زبر) کے معنی ہیں کھینچنے والا۔ جیسے محنت کش، کیونکہ فارسی میں محنت کرنے کو محنت کشیدن کہتے ہیں۔دل کش میں یہی کش ہے اور معنی ہیں دل کو کھینچنے والایعنی حسین ۔ کَش کے معنی برداشت کرنے والا بھی ہیں ،جیسے جفا کش ۔ اسی کشیدن سے سگریٹ کا کش بھی ہے کیونکہ اس میں سانس کھینچتے ہیں۔ کش مکش میں بھی یہی کش ہے ۔بات نکلی ہے تو بتاتے چلیں کہ کشیدگی ، کشیدہ اور کشیدہ کاری بھی اسی کشیدن (یعنی کھینچنا )سے بنے ہیں۔ کشیدگی کا مطلب ہے کھنچاو۔ کشیدہ کے معنی ہیں کھنچا ہوا۔دراز قد یعنی لمبے آدمی کو کہتے ہیں کشیدہ قامت۔ کشیدہ کاری میں بھی دھاگے کھینچے جاتے ہیں ، یہ بھی کشیدن سے ہے۔ اسی طرح’’ کَشی ‘‘بھی بطور لاحقہ کھینچنے کے معنی میں مستعمل ہے، جیسے رسّاکشی اور تصویر کشی۔

امید کرنا چاہیے کہ کُشتن اور کشیدن کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے ٹی وی کے میزبان خود کُش میں کاف پر پیش بولا کریں گے ورنہ ہم کشیدہ خاطر(یعنی رنجیدہ) رہیں گے اور یہ کشیدگی اچھی نہیں۔

٭منتخَب یا منتخِب ؟

جیسا کہ پہلے بھی ان کالموں میں عرض کیا گیا ہے ، عربی میں زیر اور زبر سے مفہوم بدل جاتا ہے۔ لیکن اس طرح کی اغلاط پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ مثلاً انتخابات کے بعد جو حکومت آتی ہے وہ منتخَب (خے پر زبر ) ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ اسے منتخِب (خے کے نیچے زیر ) بولتے ہیں ۔ حالانکہ اس سے مطلب اُلٹ جاتا ہے۔

منتخَب (خے پر زبر)کے معنی ہیں جس کا انتخاب کیا جائے ، انتخاب کیا ہوا، چُنا ہوا،مثلا ً منتخب نمائندے، منتخب حکومت۔ لیکن منتخِب (خے کے نیچے زیر) کا مطلب ہے جو انتخاب کرے، جو چُنے ، جس نے انتخاب کیا ہو۔ یعنی عوام یا ووٹ دینے والے منتخِب(خ کے نیچے زیر) ہوتے ہیں (انتخاب کرتے ہیں) اور انتخابات میںجیت کر آنے والے نمائندے منتخَب (خے پر زبر ) ہوتے ہیں، ان کو چُنا جاتا ہے۔ گویا ہماری حکومت منتخَب ہے اور ہم منتخِب ہیں۔ لیکن ٹی وی کے میزبانوں کو یہ کون سمجھائے؟نجانے یہ میزبان کیسے منتخَب ہوجاتے ہیں؟

٭دوا یا دوائی ؟

بعض لوگوں کو لفظ ’’دوائی ‘‘ بولتے سنا تھا اب اس طرح کچھ لوگ لکھنے بھی لگے ہیں اور اس کی جمع ’’دوائیاں‘‘بھی بنالی جاتی ہے ، حالانکہ دوائی کوئی لفظ نہیں ۔ صحیح لفظ دوا ہے۔ دوا عربی کا لفظ ہے ۔ عربی میں اس کی جمع ادویہ ہے اور جمع الجمع ادویات ۔ اردو کے لحاظ سے اس کی جمع ’’دوائیں بنے گی‘‘۔ ’’دوا‘‘کہنا کافی ہے۔ اس کے آگے ’’ئی‘‘ لگانے کا کیا جواز ہے؟

(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں