آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍ صفرالمظفّر1441ھ 17؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

افشین ملک

ہمارے معاشرے میں مردانہ تعصب و تسلط پر مبنی سوچ اور رویے موجودہ سماج کے سماجی و ثقافتی رجحانات کا حصہ بن چکے ہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ عورت بظاہر تو با شعور اور اپنا حق چھینتی دکھائی دیتی ہے لیکن اس پر سماج وروایات کا دباؤ کم ہوتا نظر نہیں آرہا۔اس حوالے سےعورتوں پر تشدد اور جنسی تفریق کی روک تھام کرنے والے ہر قانون کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے لیکن بے شمار قانون سازیوں کے باوجود عورتوں، خاص کر محکوم و محنت کش طبقے کی خواتین کی حالتِ زار میں بہتری نہ ہونے کے برابر ہے ۔یہ محنت کش عورتیں دوہرے، بلکہ تہرے جبر کا شکار ہیں۔محنت کش عورتوں کو کام کرنے کی جگہ، معاشرے اور خاندان میں نہ صرف متعصبانہ رویوں کانشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔لہٰذا جنسی استحصال کی سماجی و معاشی وجوہ کو سمجھے بغیر محض جنسی بنیادوں پر خواتین کے رنج و غم کا نہ تو کوئی ازالہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل مرتب کیا جاسکتاہے۔ جنسی و معاشی استحصال سے آزادی کے لئے ہمیں طبقے اور جنس کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہو گا۔

آج پاکستان میں بڑی تعداد میں خواتین سیاست، کاروبار، فنونِ لطیفہ اور دوسرے شعبہ جات میں شہرت کما رہی ہیں لیکن ان میں سے تقریباً تمام کا تعلق حکمران یا درمیانے طبقے سے ہے۔ان کے مسائل، مصائب اورنصب العین، سب کچھ محنت کش عورتوں کے ساتھ متضادہیں۔نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی کوئی عورت اگر معاشی و سماجی طور پر بلند ہوتی بھی ہے تو وہ بالادست طبقے کا حصہ بن کر اپنی اصل طبقاتی بنیادوں سے منحرف ہو جاتی ہے۔آخر مادی و سماجی حالات ہی شعور کا تعین کرتے ہیں نہ کہ اس کا الٹ۔آزاد خیال سوچ کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کو تجارتی مال (commodity)او ر کاروباری تشہیر کے ایک ذریعے سے زیادہ خیال نہیں کرتی۔

اگر مذہبی سوچ عورت کو ذاتی ملکیت اور غلام تصور کرتے ہوئے قید و بند کرتی ہے توآزاد خیال اشرافیہ اسے کاروبار اور منافع کی بڑھوتری کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں،لہٰذا یہ رویے جو سماجی نفسیات میں گہری سرایت کر چکے ہیں دراصل اس سماجی نظام کی پیداوار ہیں جو انہیں پروان چڑھاتا ہے۔یہ رویے تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک ان مادی حالات اور بنیادوں کا خاتمہ نہ کیا جائے جن پر یہ سماجی و اقتصادی نظام کھڑا ہے۔سرمایہ دارانہ نظام میں گھریلو کام کاج اور خواتین کی جانب سے کی جانے والی دوسری کئی طرح کی محنت و مشقت کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا۔گھربار اور اہلِ خاندان کا خیال رکھنا، بچوں کی پرورش اور تربیت اور اس طرح کے دوسرے بے شمار کام یہ نظام عورتوں سے بلا اجرت لیتے ہوئے ان کے سماجی رتبے اور معاشی حالات میں ابتر ی کا باعث بنتا ہے۔لیکن یہ سب ایک ایسے نظام کی پیداوار ہی تو ہے جس میں شرح منافع کو بڑھانے کا سب سے اہم طریقہ اجرتوں میں کٹوتی ہے۔

گھروں میں ملازمت کرنے والی اور محنت کش خواتین کی ضروریات اور مسائل بالکل مختلف ہیں۔گھریلو غلامی کا جال جس نے آج کی عورت کو جکڑ رکھا ہے تب ہی ٹوٹ سکتا ہے جب ذرائع پیداوار پر ملکیت کے رشتے بدلے جائیں۔معاشی طور پر بد حال اس ملک میں عورت کی اصل آزادی تب شروع ہو گی جب گھریلو استعمال کے لئے انتہائی مشقت طلب طریقے سے پانی کی بالٹیاں بھر کر لانے کی بجائے اسے محض گھر میں موجود پانی کی ٹوٹی کھولنی ہوگی۔آج ٹیکنالوجی کی ترقی کے زیرِ اثر گھریلو مشقت کا خاتمہ ممکن ہے۔اشتراکی باورچی خانوں اور چھوٹے بچوں کی تعلیم و پرورش کے مراکز سمیت، عورتوں کو مساوی سماجی رتبہ دینے کے لئے بے شمار اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔

گھریلو تشدد کے زیادہ تر واقعات کا تعلق تلخ معاشی حالات سے ہے لہٰذا قلت اور بے لگام مانگ پر مبنی سماج میں اس کا خاتمہ نا ممکن ہے۔اسی طرح فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی اجرت ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں بھی مردوں سے کم ہے۔عورتوں کے استحصال کو جاری رکھنے کے لئے معاشرے پر جھوٹی اقدار اور اخلاقیات مسلط کی جاتی ہیں جو اس نظام کی ضرورت بھی ہے۔خاندان پر مردانہ تسلط بھی اسی نظام کی ضرورت ہے۔اس نظام کا خاتمہ محنت کش مرد و زن متحد ہو کر ایک طبقاتی جدوجہد کے ذریعے ہی کر سکتے ہیں۔

مڈویک میگزین سے مزید