آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ہم نے آہ کشمیر! کہہ دیا

یوں تو اس دنیا میں کئی مقتل ہیں مگر کشمیر ایک ایسا مقتل ہے کہ جہاں روز و شب 70سال ہو گئے نہتے کشمیریوں سے ان کی اپنی سرزمین پر مسلسل زندگی چھینی جا رہی ہے، ان کے پائوں تلے کی زمین کھینچنے میں ناکامی کے بعد اب غاصبوں نے ان کی نسل کشی شروع کر دی ہے، کہ نہ رہے کشمیری نہ کوئی کشمیر چھیننے سے روکنے والا، یہ تماشائے ستم ایک زمانے سے دنیا بھر کے انسان اور انسانیت پرست دیکھ رہے ہیں، سلام ہے کشمیریوں کو کہ روز مرتے ہیں روز پھر سے زندہ ہو کر زور بازئوئے قاتل سے پنجہ آزما ہوتے ہیں کبھی کسی نے ایسا آواگون بھی دیکھا کہ شہید وطن مر کے پھر جی اٹھتا ہے، اس لئے ستم شعاروں کو یہ نسل کشی بھی خالی دامن ہی رکھے گی، پھولوں کی سرزمین پر ہر روز پھولوں کی فصل کاٹی جاتی ہے، اگلے روز پھر سے نئی فصل تیار ہوتی ہے، بھارت کے عوام اور ان کے نیتائوں کو اب تو سوچنا چاہئے کہ اپنی سرزمین کی خاطر موت کو زندگی جان کر گلے لگانے والوں سے کشمیر نہیں چھینا جا سکتا، ہماری قیادت کو بھارت میں انتخابات کے بعد ایک بار پھر یہ جملہ دہرانا چاہئے کہ بھارت ہماری دعوت پر ایک قدم اٹھائے گا ہم دو قدم اس کی طرف بڑھیں گے، ابھی ان کی سیاسی دکانداری کا سیزن ہے، اسے گزر جانے دیں، البتہ ہماری حکومت کو ہر سفیر یہ تربیت دے کر دنیا میں بھیجنا چاہئے کہ کشمیر کاز کو کس طرح اجاگر کرنا ہے، ان کی ہر کوشش میں کشمیر شامل ہو گا تو اقوام عالم کو کشمیر میں ہونے والے ظلم کی تصویر دیکھنے کو ملے گی، کشمیر کے لئے لابنگ کی صلاحیت ہی سفارت کا میرٹ ہونا چاہئے، آج کی دنیا میں کوئی مسئلہ جنگ سے حل کرنے کی کوشش اپنے اوپر خود کش حملہ ہو گا، اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر ہتھیا لے گا یا کشمیریوں کو ختم کر دے گا تو ایسا ممکن نہیں، اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وادی میں موجود کشمیریوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ کشمیر ی بیرونی دنیا میں اس آرزو کے ساتھ زندہ ہیں کہ؎

مرے وطن تری جنت میں آئیں گے اک دن

کوئی دن نہیں جاتا کہ 9,8کشمیری نوجوانوں کے حلق میں گولیاں نہ اتاری جائیں، کشمیری خواتین کی عصمت دری بھارتی فوج نہ کرے، گھسیٹ گھسیٹ کر کشمیری لڑکیوں کو بھارتی فوجی درندے اپنے کیمپوں میں نہ لے جاتے ہوں، ایسا ظلم ایسی بربریت کی مثال تو پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی اور آخر میں چشم قلم سے ٹپکنے والا یہ خون کا قطرہ کہ مسلم امہ کیوں خاموش ہے؟

٭٭٭٭

ہے خبر کہ خبر غلط ہے

ہم نے اب تک کی تقریباً تمام حکومتوں میں ایک قدر مشترک یہ دیکھی کہ جب بھی ان سے کچھ غلط بات ہو جائے، وہ عام ہو جائے اور لوگوں کا ردعمل منفی آئے تو وہ نہایت معصومیت سے کہہ دیتی ہے کہ خبر ہی غلط ہے ہم نے تو ایسا کچھ کہا ہی نہیں، شاید گیس کے نرخوں اور تنخواہ داروں کے ٹیکس میں اضافے کی خبر بھی ایسی ہی خبر ہو اور ممکن ہے نہ ہو خبر دینے والے سے چوک ہو گئی ہو، یہ تو اب باقاعدہ نیا نظرثانی شدہ بجٹ آئے گا تو معلوم ہو گا کہ خبر کب درست تھی کب غلط، موجودہ حکومت بہت سادہ، کم خرچ بالا نشین بلکہ مسکین ہے، اس کی نیت صحیح ہے اس لئے اگر کبھی کوئی کام غلط ہو جائے تو نیت کو دیکھ کر اسے معاف کر دینا چاہئے، امید ہے کہ گیس بجلی مہنگی ہو گی نہ ہی بیچارے تنخواہ داروں کے ٹیکس میں اضافہ ہو گا، بلکہ پچھلی حکومت نے جو 12 لاکھ سالانہ آمدن والے نجی سرکاری ملازمین کو انکم ٹیکس سے چھوٹ دی تھی وہ بھی یہ حکومت برقرار رکھے گی، کیونکہ ایک لاکھ ماہانہ پانے والا تنخواہ دار بھی غریب ہوتا ہے، بلکہ وہ تو غریبوں کا امیر ہوتا ہے، حکومت وقت نے کہا ہے کہ 3ماہ تک میڈیا اگر تنقید نہ کرے تو مہربانی ہو گی، میڈیا والوں نے بھی سر ہلا کر ہاں کر دی، مگر یہ نگوڑی تنقید ایسی چیز ہے کہ یہ محبت کی طرح کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے، اور دراصل یہ پیار ہی کی ایک تلخ مگر صحت افزا قسم ہے، تنقید برداشت کرنا عظمت کی نشانی ہے، اس کی تلخی کو صرف اچھی کارکردگی ہی دور کر سکتی ہے، تنقید برائے تنقید نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی، تنقید بس تنقید ہوتی ہے اور بے سبب نہیں ہوتی اگرچہ صحافیوں نے وزیراعظم کے کہنے پر اپنی تنقیدیں 3ماہ کے لئے روک رکھی ہیں حالانکہ تنقید روکی نہیں جا سکتی، ویسے تنقید سے حکومت کو فائدہ ہوتا ہے، وہ غلطیاں دہراتی نہیں، خود کو بناتی سنوارتی ہے تاکہ پیا من بھائے، ہر حکومت کی محبوبہ بظاہر عوام ہوتے ہیں، پچھلی دو سیاسی جماعتوں کا تو اچھا خاصا خویش قبیلہ تھا، مگر موجودہ حکومت نے اس کا مداوا یوں کیا کہ کہاں کی اینٹ کہاں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا، بہرحال حکومت، حکومت ہوتی ہے اس کی اگاڑی پچھاڑی سے ذرا فاصلے پر رہنا چاہئے، یہ خود اپنی بھی نہیں ہوتی دوسروں کی کیا بنے گی ہماری حکومت کچھ ایسی ہی ہے۔

٭٭٭٭

ریلوے او ریلوے ! تیرا رنگ کیسا؟

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کہتے ہیں:بھیس بدل کر ٹرینیں چیک کروں گا۔ غالب نے بتائے بغیر پہلے بھیس بدلا تھا بعد میں کارروائی ڈالی تھی پھر یہ شعر کہا تھا

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب

تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں

مگر شیخ صاحب نے تو بھیس بدلنے سے پہلے ہی آن ایئر کر دیا کہ

بنا کر چیکروں کا ہم بھیس شیخ رشید

تماشائے اہل وطن دیکھتے ہیں

ان دنوں بلاشبہ وفاقی وزیر ریلویز بہت محنت کر رہے ہیں، مگر ابھی وہ مقام سابق وزیر ریلوے نہیں پا سکے، ہمیں یاد ہے کہ انہوں نے دھرنوں سے پہلے ایک دفعہ تو پوری ریلویز کو سر پر اٹھا لیا تھا، اور ہر طرف سے تعریف ہو رہی تھی، ہمیں انتظار ہے کہ شیخ رشید بھی ایسا کچھ کر دکھائیں کہ ریلوے کا محکمہ پہچانا ہی نہ جائے، تو ہم بھی ان کی تعریف میں ایک عدد شذرہ لکھ ڈالیں، کیونکہ جس کام سے تھکے ہارے عوام کو کچھ سکون ملے، سستے میں شاہانہ سفر کریں، ٹرینیں بروقت چلیں، ہر کراسنگ پر پھاٹک لگے تھرڈ کلاس پر فرسٹ کلاس کا گمان گزرے، پلیٹ فارموں پر ایک روپے کی چیز 10روپے میں نہ ملے، بوتل جس قیمت پر باہر ملے اس قیمت پر اندر ملے، تو مانیں گے ریلوے کا مسیحا آ گیا اور تاثیر آ گئی آخری بوگی تک مسیحائی کی، ہمارا ایک مشورہ ہے کہ شیخ صاحب بولیں نہیں ان کا کام بولے تو ایک ایسی روایت ہو گی جسے سارے وزیر اپنائیں گے۔ مگر وہ مثال تو قائم کریں، کسی زمانے میں ٹرین پر سفر کو ترجیح دی جاتی تھی، پھر اس کے مقابل ٹرانسپورٹرز کھڑے کر دیئے گئے ٹرینیں رک گئیں اور بسیں چلنے لگیں، اب موجودہ وزیر ریلوے کو بس مافیا سے بھی ٹکر لینا ہو گی، یا وہ ٹکرا کے رہ جائیں گے، ہمیں یقین ہے کہ ہماری تجاویز پر شیخ صاحب بخل سے کام نہیں لیں گے، اس میں عوام کا بھلا ہے ورنہ ہم کون ہوتے ہیں ان کو مشورے دینے والے، بہرحال بادی النظر میں وہ اچھی خاصی محنت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

٭٭٭٭

ایگزیکٹو روحانی غذا

....Oشاہ محمود قریشی:سندھ حکومت تھرپارکر سے متعلق مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اگر مجرمانہ کے بجائے نامحرمانہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو تھرپارکر کا کام بن جاتا۔

....Oپاکستان آنے کی سزا، نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف 20سال پرانا کیس کھل گیا۔

بھارت پر انتہاء پسندوں کا راج ہے، کوئی ایسا کیس بھی نکل سکتا ہے جو ان کی پیدائش سے پہلے کا ہو حیرانی ہے بھارتی سکھ کیوں سدھو کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے؟

....O فاروق ستار نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

رابطہ کمیٹی ان کے انڈر کر دی جائے پھر وہ کبھی میکے نہیں جائیں گے۔

....Oبرطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

وزارت برطانوی نام پاکستانی کیا خوبصورت امتزاج ہے، وہ برطانوی امیگریشن کو بھی تھوڑا سلیس بنا دیں، نواز ش ہو گی؎

برطانیہ کا ویزا پانا لانا ہے جوئے شیر کا

....Oامریکی انتخابات میں مداخلت پر سزا: ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے۔

سزا والے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنا ٹرمپ کی روحانی غذا ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید