آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
45 سال قبل آج ہی کے روز پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔ اگر دیکھا جائے تو ۴۵ سال ایک بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی وہ ددن اور واقعات میرے ذہن میں نقش ہیں۔ میںآ ج بھی اس جذبہ کو محسوس کر سکتا ہوں جوایک نئی پارٹی کی تنظیم سازی کے دوران ہمیں دیکھنے کو ملا، ان امیدوں ، ان خوابوں کو محسوس کر سکتا ہوں جو اس پارٹی کی تشکیل سے جڑے تھے۔ ان دنوں اسکول سے فراغت کے بعد ہم نئے نئے کالج میں گئے تھے، کالج کے دنوں کی بات ویسے بھی کچھ اور ہی ہوتی ہے، پھر اس دور میں تو ایوب خان کے خلاف ایک شورش بھی برپا تھی۔ میں اور میرے دیگر ساتھی ان محفلوں میں شریک ہونا شروع ہو گئے تھے جہاں پاکستان کے مسائل پر بحث ہوتی تھی۔ لاہور کے گورنمنٹ کالج کے ایک طالب علم رہنما امان اللہ خان ہمارے پاس آئے اور ایک نئی سیاسی جماعت کے ظہور پذیر ہونے کی نوید سنائی ۔ انہوں نے ہمیں اس کے لئے کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اس بات کی دعوت دی کہ چند دنوں کے بعد ذوالفقار علی بھٹو لاہور آ رہے ہیں اور وہ ان سے ہماری ملاقات کروائیں گے۔ گورنمنٹ کالج میں تو ویسے ہی امان اللہ خان کا طوطی بولتا تھا مگر شہر کے دیگر کالجز میں بھی ان کا کافی اثرورسوخ تھا۔( امان اللہ خان اگر سیاست کی پرخار وادی میں قدم نہ رکھتے تو بے شک آج وہ

پاکستان کی سول بیوروکریسی میں بہت اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ لیکن وہ سب چھوڑ، سیاست کے ہو گئے اور آج کل لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں) ہم نوجوان لڑکوں کے لئے وہ دن رومانیت سے بھرپورتھے، ایک نئی سیاسی جماعت کے ساتھ ایک نئے آغاز کے لئے کمربستہ ہم نوجوان کچھ بھی کر جانے کے جذبے سے سرشار تھے۔ امان اللہ خان کی دعوت پر میں اور میرا ایک مرحوم دوست ظفر یاب کنونشن میں شرکت کے لئے 30 نومبر 1967 کو ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پہنچے۔ میرے اور ظفریاب کے ذمہ کنونشن والے دن آنے والے مندوبین سے 25,25روپے لے کر ان کے نام اور دیگر معلومات ایک رجسٹر میں درج کرنا تھا۔ میں اور ظفریاب کنونشن کی جگہ داخلی دروازے کے سامنے ٹیبل اور کرسیاں لگا کر بیٹھ گئے اور ہر آنے والے کو روک کر اس کی تفصیلات معلوم کرنے اور مطلوبہ رقم موصول کرنے کے بعد ہی آگے بڑھنے کی اجازت دیتے ، اس سلسلے میں ہم نے شاید کسی کو بھی نہیں بخشا۔ شاید لوگ آج اس بات پر یقین نہ کریں کہ 1967 سے آج تک پاکستان کی سیاست پر چھائی اس سیاسی جماعت کے پہلے کنونشن کے شرکاء میں سے سات آٹھ کے پاس ہی گاڑیاں تھیں۔
اس روز کنونشن کے لئے جو سٹیج بنایا گیا تھا وہ چند سادہ کرسیوں اور ایک میزپرمشتمل تھا۔ سٹیج کے لئے بنایا گیا چوبارہ بھی کوئی خاص مضبوط معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اگر کنونشن کو تیاریوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہ آج کل کے سیاسی اجتماعات کے سامنے کچھ بھی نہیں تھا لیکن اس روز وہاں کچھ ایسا جذبہ ضرور تھا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کو اپنے وجود میں آنے کے چند ہی برس کے عرصے میں عوام نے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔ کنونشن میں شرکت کے لئے ملک بھر سے انقلاب کے دا عی اکٹھے ہوئے تھے جن میں جے اے رحیم ،ڈاکٹر مبشرحسن ، معراج محمد خان، شیخ محمد رشید، چاکڑ علی جونیجو، پیر بخش بھٹو، رسول بخش تالپور، عبدالوحید کٹپر، حیات محمد شیرپاؤ، حق نواز گنڈاپور، ملک حامد سرفراز، ملک اسلم حیات، ملک پرویز اختر، راجہ منور احمد، میاں محمد اسلم، عاشق بھٹو، ملک نوید احمد ، میر حامد حسین، اسلم گرداسپوری، امان اللہ خان، بیگم عباد احمد،مرتضیٰ کھر، فاروق بیدار، آفتاب ربانی شامل تھے ۔ درست تعدادتو مجھے اب یاد نہیں لیکن اس روز ڈیڑھ ، پونے دو سو افراد ڈاکٹر مبشر حسن کے پچھلے لان میں اکٹھے تھے۔ اس روز پہلی اور آخری مرتبہ شاید ڈاکٹر مبشر حسن نے 4 کے گلبرگ کا دوسرا گیٹ کھولا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کے گھر کے لیونگ روم میں جے اے رحیم ، ڈاکٹر مبشر حسن ان تمام دستاویز کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھے جو ایک نئی پارٹی کی تشکیل کے سلسلے میں منظوری کے لئے پیش کی جانی تھیں۔ یہ حیران کن بات ہے کہ اس وقت کے ایم این اے ممتاز بھٹو، غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر اس ساری تیاری میں عملی طور پر موجود نہ تھے ۔ (میں نے اور ظفریاب نے ہر ایک مندوب کے بارے میں رجسٹر میں اندراج کیا تھا، اب معلوم نہیں کہ وہ رجسٹر کہاں ہے۔ ظفریاب بھی اب اس دارفانی سے کوچ کر گیا ۔شاید ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کے پاس وہ رجسٹر ہو جس سے درست تعداد معلوم ہو سکتی ہے)کنونشن میں شریک افراد اگرچہ ملک میں عوامی راج کے جذبے سے سرشارخود کو تبدیلی کے علمبردار سمجھتے تھے لیکن میرا خیال ہے کہ ان میں سے کسی کو اس طرح کے عوامی ردعمل کی توقع نہیں تھی جو پیپلزپارٹی کے وجود میں آنے کے بعد دیکھنے میں آیا۔پارٹی کے اس کنونشن میں ایک دستاویز ” ایک نئی پارٹی کیوں؟“ پیش کی گئی جس میں وہ وجوہات بیان کی گئی تھیں جن کی بناء پر نئی پارٹی کی ضرورت تھی۔اس دستاویز میں تحریر تھا کہ :”ہمارے انداز فکر میں انقلاب آفریں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ اب اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔جب چھوٹا راستہ موجود ہوتو لمبا راستہ اختیار کرنا کوئی خوشگوار کام نہیں ۔ لیکن پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ لمبا راستہ اختیار کیا جائے۔ ہمیں تجربے نے یہ بتا دیا ہے کہ جب ایسے مسائل درپیش ہوں جس سے عوام اور ملک کی تقدیر وابستہ ہو، آسان اور چھوٹا راستہ دراصل منزل سے آشنا نہیں کرتا بلکہ سراب کی نشاندہی کرتا ہے… یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت اور ایک نیا سیاسی لائحہ عمل اور دستور اس قوم اور ملت کے لئے اشد ضروری ہیں۔ موجودہ حا لات میں ایک نئی سیاسی جماعت کی تنظیم اور نشو نما بہت مشکل کام ہے۔ اس سلسلہ میں تمام مجبوریوں اور بندشوں کااحتساب ضروری ہے لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود جو کہ اس قدم کو اٹھانے پر پیش آئیں گی ہماری سیاسی زندگی کی موجودہ صورت اور ہمارے قومی مفاد اس راستے کو اختیار کرنے پر ہمیں دعوت دیتے ہیں۔ چاہے اس کیلئے ہمیں انتہائی قربانی دینا پڑے اور اپنا آپ وقف کرنا پڑے۔ صرف اسی راستے کو اختیار کرنے سے ہی قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے مفادات کو تقویت پہنچائی جا سکتی ہے“۔
پینتالیس سال کے اس عرصے میں پیپلزپارٹی پر بہت سے مشکل ادوار آئے،77 میں ضیاالحق کے مارشل لاء اور بھٹوصاحب کی پھانسی کے بعد اگر کوئی اور جماعت ہوتی تو شاید وہ محض صرف تاریخ کے صفحوں پر لکھی ایک تحریر کی صورت میں باقی رہ جاتی۔ لیکن یہ پیپلزپارٹی ہی تھی جو اس سانحے کے بعد بھی عوام میں اپنی مقبولیت قائم رکھنے میں کامیاب رہی،اسکے کارکن کوڑے کھا کر بھی بھٹوکونہیں بھولے، اسی لئے 88 میں عوام نے پھر اسے اقتدارکے ایوانوں میں پہنچا دیا۔پھردسمبر 2007میں بینظیر بھٹو کی شہادت کا جھٹکا بھی ایک ایسے زلزلے کی مانند تھا کہ جو بڑی بڑی عمارتوں کوگرا دیتا لیکن مشرف دور کے انتخابات میں عوام نے پھر سے پیپلزپارٹی کو حکمرانی کے لئے منتخب کر لیا۔ ان سالوں میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو پیپلز پارٹی چھوڑ گئے، بہت سے ایسے افراد تھے کے جن کے جانے کے بعد پارٹی کو چلانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن ان کے جانے کے بعد بھی پارٹی قائم رہی۔ شاید اسلئے کیوں کہ اس جماعت کی بنیاد رکھنے والوں نے اسکی جڑ عوام میں لگائی تھی اورتمام تر حادثات ، اپنے لیڈروں کو کھونے ، مارشل لا کا سامنے کرنے ، اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدگی کے باوجو د عوام ہی ہیں جنہوں نے اس جماعت کو آج بھی ایک حقیقت کی طرح زندہ رکھا ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید ذوالفقار علی بھٹو کا آمرسے رحم کی بھیک مانگنے کی بجائے ، تختہ دار پر چڑھ جانا بھی ہے۔ آج پینتالیس برس قبل کی پیپلزپارٹی کے شاید ہی چند افراد ہوں جو موجودہ پیپلز پارٹی میں موجود ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں گے انہیں اس بات پر فخر ہو گا کہ انہوں نے اس ملک میں تبدیلی کا آغاز کیا تھا ،وہ تبدیلی کہ جس نے اس ملک کی رعایا کو عوام بنا دیا۔(جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں