آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

زمانۂ قدیم کے7عظیم تعمیراتی شاہکاروں کو7عجائبات عالم کہا جاتا ہے۔ عجائبات کی یہ فہرست 204سے305 قبل مسیح کے دوران ترتیب دی گئی۔ تاہم مذکورہ فہرست زمانے کی دست وبرد کی نذرہو گئی۔ ان7عجائبات کا ذکر 140 قبل مسیح کی ایک نظم میں بھی ملتا ہے۔ ان میں ’’اہرامِ مصر‘‘ تو ابھی تک موجود ہے جبکہ باقی زلزلوں اور آتش زدگی جیسی قدرتی آفات کی نذر ہوگئے۔

ہرم خوفو

مثلث طرزتعمیر کاہرم خوفو، جسے غزہ کا عظیم ہرم یا اہرامِ مصر بھی کہا جاتا ہے،یہ اس جادوئی مثلث پر مبنی ہے کہ جس کے اندر کوئی بھی چیز بوسیدہ نہیں ہوتی ۔یہ ہرم غزہ کے تین بڑے اہرام میں سے سب سے قدیم اور بڑا ہے۔ یہ مصر کے شہر غزہ میں واقع ہے ،جس کی نسبت سے اسے ”غزہ کا عظیم ہرم“ کہتے ہیں۔ ماہرین مصریات کے مطابق یہ ہرم2560سال قبل مسیح میں خوفو فرعون کے مقبرے کے طور پر استعمال ہوا۔ اس کی بلندی146.5میٹر(481 فٹ) ہے۔3800سو سال تک اس عظیم ہرم کا شمار انسانی ہاتھ کی بنائی ہوئی سب سے اونچی تعمیر میں ہوتا تھا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں خوفو بادشاہ کے وزیر حمیونو اس کا معمار تھا۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر تقریباً 2.3 ملین بلاکوں پر مشتمل ہے ۔

 بابل کے معلق باغات

بابل کے معلق باغات (Hanging Gardens of Babylon) دنیا کے سات قدیم عجائبات میں دوسرے نمبر پر شمار ہوتے ہیں اور یہ وہ واحد عجوبہ ہے جس کا اصل مقام ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا - چھٹی صدی قبل از مسیح میں بنو کد نضر ( بخت نصر) کے عہد میں بابل (عراق ) میں کلدانی سلطنت کا احیاء ہوا تو اس نے اپنی ملکہ شاہ بانو کے لیے یہ عظیم الشان باغات تعمیر کرائے، جس نے اپنے وطن کے سبزہ زار اور حسین وادیاں کھو دی تھیں۔ یہ بابل (عراق) شہر میں واقع تھے، جو شاہی باغ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔ ان باغات کی اونچائی 80 فٹ تھی، یہ حقیقتاً معلق نہ تھے ۔

روہوڈز کا مجسمہ

روہوڈز کا مجسمہ (Colossus of Rhodes) یونانی دیو مالا کے ایک سورج دیوتا ہیلیوس کا عظیم مجسمہ تھا، جو رہوڈس شہر میں واقع تھا۔ اس کا شمار قدیم دنیا کے سات عجائبات عالم میں کیا جاتا ہے۔ مجسمے کی بلندی 30 میٹر (98 فٹ) تھی۔یہ مجسمہ اب موجود نہیں تاہم اسی کی طرز پر ہیلیوس کا عظیم مجسمہ کئی مجسمہ سازوں نے بنایا ۔ اسی مجسمے کے باعث مغرب اور یونان میں مجسمہ سازی کے فن کو عروج ملا، جس میں سب سے زیادہ شہرت اٹلی نے نشاط ثانیہ کے دور میں پائی ۔ 

 زیوس کا مجسمہ

یہ مجسمہ اولمپیا میں واقع ہے، جس کی اونچائی 42 فٹ ہے۔ یہ مجسمہ زیوس کی بیٹھی ہوئی شکل کا ہے۔اس کو یونانی سنگتراش فیڈیاس نے 435 ق م میں بنوایا۔ اس مجسمہ کی تیاری میں ہاتھی کے دانت، سونے کی تختیاں اور قیمتی پتھر بھی استعمال کیے گئے۔ یہ مجسمہ یونانی دیوتا زیوس کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کو 5ویں صدی ق م تک قدیم دنیا کے سات عجائبات عالم میں ایک تصور کیا جاتا تھا۔ 5ویں صدی ق م میں یہ نابود ہو گیا۔ایک روایت کے مطابق اولمپس پہاڑی پر فیڈیاس نے زیوس سے ملاقات کی، جس سے متاثر ہوکر فیڈیاس نے یہ مجسمہ بنوایا۔

اسکندریہ کا روشن مینار

حجری میسنری طرزِ تعمیر کایہ لائٹ ہاؤس Pharos، اسکندریہ، مصرمیں واقع ہے،جسے’’ فاروس آف الگزینڈریا ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی تعمیرٹولیمی سلطنت کے دور میں247 تا 280 قائم میں کی گئی۔ اس کی بلندی 393 سے 450 قدم تھی۔ مانا جاتا ہے کہ یہ انسان کی بنائی ہوئی دنیا کی سب سے بلند تعمیر ہے۔ اس کا شمار قدیم دنیا کے عجائبات عالم میں ہوتا ہے۔ تین بڑے زلزلوں کی وجہ سے تباہ شدہ یہ مینار کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے۔واضح رہے کہ مصر کی قدیم پہچان اسکندریہ کا یہ لائٹ ہائوس ہے ۔ 

موسولس کا مزار

دنیا کا یہ تعمیراتی عجوبہ موسولس کے نام سے موسوم ہے، اس کی تعمیر350تا 353 ق م میں قدیم یونانی شہر ہالی کارناسس (جو اب ترکی کا بودروم ہے) کے پاس ہوئی۔ اس کی تعمیر اشیمانید سلطنت کے دوران ہوئی، جو قدیم یونانی طرز کی ہے۔یہ مزار تقریباً 45 میٹر اونچا اور چاروں طرف نقوش اور یونانی طرز تعمیر سے بھرا ہے۔ اس کو قدیم دنیا کے سات عجائبات عالم میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔ یہ12تا15صدی عیسوی میں زلزلہ کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔ اس کا طرزِ تعمیر کلاسیکل ہے۔ اس کا ڈیزائن ماہرینِ تعمیرات سیتی روس اور پرائنے کے پائتھئس ،لیوکیریس ،بریائکس ،اسکو پاس اور ٹموتھیئس نے بنایا۔اس مزار کی تعمیرِ نو کا ایک نمونہ استنبول میں بھی ہے۔

معبد آرتمیس

یہ ایک یونانی دیوی آرتمیس کے لیے وقف کیا گیا معبد تھا، جس کا شمار قدیم دنیا کے سات عجائبات عالم میں ہوتا ہے۔آرتمیس (Artemis) انتہائی معظم یونانی دیوی تھی۔ اس کی طرزِ تعمیر میں یونانی رنگ نمایاں ہے۔ یونانی دیومالا میں شکار کی دیوی آرتمیس اپنی تیر اندازی کی وجہ سے مشہور تھی جو زیوس اورلیٹو کی بیٹی اور اپولو کی جڑواں بہن تھی۔اسے دوشیزگی و پاکیزگی کی علامت بھی مانا جاتا ہے۔اس نے اپنے والد زیوس سے درخواست کی کہ اسے لافانی دوشیزگی عطا کرے۔فن پاروں میں انہیں تیرسے کتے کا شکار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان کا مقدس جانور ہرن ہے۔

تعمیرات سے مزید
سیر و سیاحت سے مزید