آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍صفر المظفّر 1440ھ 21؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران : نجمبر بوزورمبرر

واشنگٹن: کترینہ مینسن

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا پر اسلامی نظام کے خلاف جنگ شورع کرنے کا الزام لگایا ہے،وہ ایران پر ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ریلی کیلئے نیویارک کے دورے کیلئے تیار ہیں۔

ہفتے کے اختتام پرتہران میں مسلح افواج کی پریڈ سے خطاب میں حسن روحانی نے کہا کہ واشنگٹن اب زیادہ عرصے تک مقامی ممالک کے ذریعے اپنے منصوبے مرتب نہیں دے سکے گا جیسا کہ 1980 میں عراق کے ساتھ مل کر اس نے کیا۔ تاہم اس کی بجائے اب وہ ایرانی قوم کے ساتھ براہ راست لڑ رہا ہے۔ امریکا نے اسلامی نظام کو متاثر کرنے کے ارادے کے ساتھ جنگ شروع کی بلکہ اس کے مقابلے میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط کئے لیکن اس میں سے ٹرمپ انتظامیہ باہر نکل گئی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جہوریہ نہیں جھکے گی۔آج مشرقی اور مغربی ممالک ہمارے ساتھ ہیں اور امریکا کی مذمت کررہے ہیں، ہم یقینا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دیں گے۔

ہفتے کے اختتام پر کی جانے والی حسن روحانی کی تقریر جنوبی ایران میں فوجی پریڈ پر عرب علیحدگی پسند گروپ کے دہشتگردی کے حملے سے تھوڑی دیر پہلے کی تھی،حملے میں کم از کم 25 فوجی اور شہری ہلاک ہوئے تھے۔ایران نے امریکا اور سعودی عرب پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہوجانا چاہئے۔ایران نہ صرف اپنے ہتھیار اور میزائل پاس رکھے گا بلکہ دن بہ دن اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کرے گا۔

ہفتے کے اختتام پر ایرانی حکام نے برطانیہ، ڈنمارک اور ہالینڈ سے سفارتکاروں کو طلب کیا اور یورپی اقوام پر دہشتگرد گروپ کے ارکان کو مبینہ طور پر پناہ دینے کا الزام لگایا، جنہوں نے حملہ کیا۔

نیم سرکاری آئی ایس این اے خبررساں ایجنسی کے مطابق امارات کے مشیر کےغیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز بیان پر متحدہ عرب امارات کے ایلچی کو اتوار کو طلب کیا گیا۔

امریکا کی پابندیوں کے ساتھ پہلے ہی ایران کو نقصان پہنچایا گیا ہے، حسن روحانی کے قریبی سیاستدان ان کے اقوام متحدہ کے دورے کو روس،چین، برطانیہ،فرانس اور جرمنی،جو ابھی معاہدے میں شامل ہیں، کے ساتھ تعاون کی مزید حوصلہ افزائی کے ذریعے اقتصادی دباؤ میں کمی کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں وہ منگل کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی چند گھنٹے پہلے جنرل اسمبلی سے خطاب طے ہے۔

ایران میں اصلاح پسند سیاستدان محمد صادق جایودی ہیسر نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کرسکتا ہے،جوہری معاملے پر امریکا کے خلاف ایران کے حق میں بین الاقوامی اتفقا رائے کو مضبوط بنانا ہے۔

حسن روحانی ووٹرز سے جوہری معاہدہ کرنے اور معاشی خوشحالی لانے کے وعدے کے بعد 2013 میں اقتدار میں آئے۔ لیکن مئی میں معاہدے سے امریکا کے نکلنے اور تادیبی پابندیاں جو نومبر میں مکمل طور پرمؤثر ہوں گی ،متعارف کراکے سے ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی نمایاں کامیابی کو خطرے میں ڈال دیا۔

جمعہ کو ٹوئٹر پر اعلان کہ وہ ایران پر اقوام متحدہ کی سلامی کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے،کے ذریعے حسن روحانی کے ساتھ ممکنہ تنازع کو مزید بڑھادیا۔ اگرچہ امریکی حکام نے کہا تھا کہ یہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے وسیع مسئلے پر خطاب ہوگا۔

اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت رکھنے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کو ادارے کے قیادت پر تنہا ہونے کا خطرے ہے جس پرانہوں نے باقاعدگی سے تنقید کی ہے۔

سلامتی کونسل کے سفارتکار نے اصرار کیا کہ ایران کا معاہدہ ابھی برقرار ہے، مزید کہا کہ یہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ تھا۔ تاہم یورپی سفارتکار بے یقینی کا شکار ہیں کہ آیا وہ یورپی کمپنیوں کو پابندیوں کے خطرے کے سامنے کی صورت میں معاہدہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے حکام نے جوہری معاہدے کو بچانے اور امریکی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینے کیلئے فرانس،جرمنی اور برطانیہ پر تنقید کی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ یورپی حکومت کی کوششیں پہلے سے ہی بے کار ہیں کیونکہ امریکی پابندیوں کے خطرے کے پیش نظر یورپی کمپنیاں ایران سے نکل رہی ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نککی ہیلی نے اتوار کو سی بی ایس ٹیلی ویژن کو بتایاکہ یورپین کو فیصلہ کرنا ہے. اور مجھے لگتا ہے کہ فیصلہ پہلے ہی کیا جا رہا ہے، اگر آپ دیکھیں تو وہ ایران میں ہر جگہ سے کاروبار نکال رہے ہیں۔ ایران کی معیشت گررہی ہے اور ایسا اس لئے ہے کیونکہ وہ اس کو برقرار رکھنے کے لئے جاری نہیں رہ سکتے ہیں ہم ایران پر واقعی سختی کریں گے. ہم انہیں بچنے نہیں دے رہے ہیں. "

واشنگٹن نے کہا کہ یہ تہران کے ساتھ ایک معاہدے پر اتفاق کرنا چاہتا ہے جو اس کے میزائل پروگرام کے عزم کو محدود اور وسیع پیمانے پر شکایات کو حل کرنے کیلئے ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی پیشگی شرائط کے بغی ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر اور حتمی فیصلہ ساز آیت اللہ علی خامنائی نے گزشتہ ماہ کہا کہ وہ امریکا کی موجودہ انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی اجازت نہیں دیں گے اور امریکی حکام نے کہا کہ کسی ملاقات کا منصوبہ نہیں ہے۔

تاہم مسٹر خامنائی نے انتہا پسندوں کو روکا جو جوہری معاہدے سے نکل کر امریکی اقدام کے ردعمل کیلئے ایران پر زور دے رہے تھے۔ انہوں نے معاہدے کے اطلاق پر یورپی مالک کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی حمایت کی ہے۔

ایران نے امریکی الزامات سے انکار کیا کہ وہ خطے میں دہشتگردی کو سرمایہ فراہم کررہا ہے یا اس کے میزائل پروگرام کے ذریعے جوہری ہتھیار چاہتا ہے،جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اپنے دفاع کیلئے ان کی ضرورت ہے۔

امریکی پابندیاں پہلے سے ہی اقتصادی پابندیوں کی وجہ بن رہی ہیں،اس نے ایران میں عوامی تنازعات کو روک دیا ہے، رواں سال کرنسی ریال ڈالر کے مقابلے میں تقریبا 70 فیصد نیچے چلا گیا۔ آئل انڈسٹری پر امریکی پابندیاں نومبر میں مؤثر ہورہی ہیں اور واشنگٹن کے حکام نے زور دیا ہے کہ اضافی اقدامات تہران کو مزید تباہ کریں گے۔

اصلاح پسند ایرانی تجزیہ کار نے کہا کہ ایران کے پاس دو انتخاب ہیں، ملک میں انتہا پسند اصلاحات کو فروغ دینے اور عوام کو اپنی طرف رکھیں یا مستقبل قریب میں امریکا کیلئے بڑی رعایتیں دے۔اگر اقتصادی سختی امریکا کے ساتھ مذاکارت کو ناگزیر بنادے، تو انتہا پسند روحانی کو مذاکرات کی اجزات نہیں دیں گے۔

ایرانی عوام مزید پابندیوں کے خوف کے باعث بنیادی اشیائے ضرورت اور دوائیں خرید رہے ہیں۔ وہ ریال کی قدر میں مزید کمی کے خلاف اپنے تحفظ کی خاطر کاروں، سونا اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

انتہا پسندوں کے قریبی ایگزیکٹو نے کہا کہ ایران کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور امریکا کے ساتھ کیا کرے نہیں جانتا، لیکن امریکی دباؤ یقینا ہمیں بنیاد پرستی کی جانب دھکا نہیں دے گا،یہ ہمیں دنیا میں مزید تنہا کرسکتا ہے۔

چند ایرانی رہنماوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ حکومت کی تبدیلی کے لئے دباؤ ڈالنے کیلئے اقتصادی پابندیاں استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں