آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل3؍ربیع الثانی 1440ھ11؍دسمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی قدیم تہذیب کے دامن میں کئی راز پوشیدہ ہیں، تاریخ کے سینے میں محفوظ ان رازوں سے پردہ اٹھتا ہے، تو دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔یہاں پر کہیں ماضی کی پرشکوہ عمارات کے کھنڈرات اس وقت کے حکمرانوں کے جاہ و جلال کی یاد تازہ کرتے ہیں، تو کہیں قدیم ترین شہر، قلعے و دیگر مقامات اس دور میں رہنے والے لوگوں کی تہذیب و شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک شہر حیدرآباد ہے، جو ماضی میں’’نیرون کوٹ‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے، کہ حیدرآباد کی بنیاد کلہوڑوں کے دور حکومت میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی تھی۔ کلہوڑوں کے بزرگوں کو میاں یا شاہ کہا جاتا تھا، اس خاندان کے بزرگ آدم شاہ کلہوڑو نے بہت شہرت پائی۔ سکھر کے قریب آدم شاہ پہاڑی آج بھی ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔ 1701ء میں کلہوڑو سردار میاں یار محمدخان نے طاقت کے زور پر اس علاقے کو مغل قلعے داروں سے حاصل کیا اورخارجی طور پر دہلی کے حکمرانوں کے ماتحت رہتے ہوئے ،اس علاقے پر حکومت کی، پھر نور محمد کلہوڑو ، میاں مراد شاہ، میاں عطر خان، بعد ازاںمیاں غلام شاہ کلہوڑو نےتخت و تاج سنبھالا، جن کے دور میں حیدرآباد کی بنیاد رکھی گئی۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو ایسے حکمران تھے، جنہوں نے اس شہر کے دونوں روپ یعنی کہ نیرون کوٹ اور حیدرآباد دیکھے اور ان پر حکمرانی کی۔ اٹھارویں صدی عیسوی کی ابتداء میں جب مغلیہ سلطنت زوال پزیر ہونے لگی، تو سندھ میں کلہوڑوں نے اپنی حکومت قائم کر لی، کلہوڑو حکمرانوں کو ایک محفوظ اور خوش گوار آب وہوا والی جگہ کی تلاش تھی، تاکہ اپنا پایہ تخت بنا سکیں۔ اس سے پہلے وہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے ہاتھوں پریشان تھے۔ خدا آباد، اللہ آباد، شاہ پور انہوں نےنہ جانے ایسےکتنے شہر بسائے، مگر قدرتی آفات نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنادیا۔ وہ ایسی جگہ کی تلاش میں تھے ،جو قدرتی آفات ہی سے نہیں دشمنوں کی چیرہ دستیوں سے بھی محفوظ ہو۔ تین چار سال کی مسلسل کوششوں کے بعد انہیں نیرون کوٹ ہی ایسا مقام نظر آیا،جس کی انہیں تلاش تھی،یہ جگہ ہر طرح سے محفوظ تھی۔ یہ گنجو ٹکر پہاڑی کی وہ ٹیکری ہے ،جو سطح سمندر سے تقریباً 55 فیٹ بلند ہے، گویا یہ ایسی جگہ تھی، جہاں خطرات کم سے کم تھے، چناں چہ فیصلہ کیا گیاکہ نیرون کوٹ کے مقام پر ایک نیا شہر بسایا جائے، جو کلہوڑو حکومت کا دارلخلافہ ہو۔ حیدرآباد کو اس حوالے سے بھی خاص مقام حاصل ہے ،کہ یہاں کئی عالم اور صوفی درویشوں کی پیدائش ہوئی ، علاوہ ازیںیہاں چوڑیوں کی بہت بڑی صنعت ہے۔ تقریباً 110 کلومیٹر کی دوری پر امری ہے، جہاں ہڑپہ کی ثقافت سے بھی قبل ایک قدیم تہذیب کی دریافت کی گئی ہے۔ میاں غلام شاہ کے آباد کردہ شہروں میں جس شہر کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی ،وہ حیدر آباد ہے، جسے دارالسلطنت کی حیثیت حاصل تھی، یہ شہر کلہوڑوں کے بعد بھی تالپوروں کا دارالسلطنت رہا اور آج بھی اس کا شمار سندھ کے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ میاں غلام شاہ نے اپنے دور میں، حکومت کے مختلف مرکز بدلے، انہیں تعمیرات کا بہت شوق تھا ،آخر میں انہوں نے اپنا دارالحکومت بنانے کے لیے نیرون کوٹ کو پسند کیا۔میاں غلام شاہ نہایت نیک سیرت، بہادر اور علم دوست انسان تھے، انہوں نے کام یاب حکومت کی اور ان کا دور عہدکا شمار زیریں ادوار میںہوتا ہے۔ میاں غلام شاہ کلہوڑو نے حیدرآباد کو بسانے میں اپنا کردار ادا کیا، دور دراز سے ہنر مندوں، کاریگروں اور تاجروں کوقلعے کے باہر آباد کیا۔ ان کے انتقال کے بعد محلاتی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ان کے بیٹے میاں سرفراز نے خدا آباد ہی کو مرکز بنایا، جو ہالا کے نزدیک واقع تھا۔ بعد میں جب میر فتح علی خان تالپور نے کلہوڑوں کو شکست دی، تو انہوں نے دوبارہ حیدرآباد کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ میاں غلام شاہ کلہوڑو کے دور میں شاہی افراد، سردار اور اشرافیہ قلعے کے اندر، جب کہ کمہار ، مزدور باہر رہتے تھے۔ انہوں نے معروف کاریگروں اور مشہور ہنر مندوں کو شہر میں جمع کیا ،لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کے وارثوں نے شہر کو بالکل نظر انداز کردیا ، جس کی وجہ سے اس شہر کی ترقی رک گئی۔ 1783ء میں کلہوڑوں کو جب یہاں سے پسپا ہونا پڑا، تب تالپوروں کا عہد زریں شروع ہوا، یہ بات طے ہے کہ شہر کی اصل بنیاد تو میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی، مگر اسے عروج تالپوروں کے دور میں حاصل ہوا۔

کلہوڑوحکمرانوں کو آپس کی رنجشوں اور ریشہ دوانیوں نے بڑا نقصان پہنچایا، اسی دوران نادر شاہ اور احمد شاہ کی معرکہ آرائیوں نے ان کی طاقت کو کمزور کیا اور معاشی نقصانات پہنچائے، اس طرح کلہوڑوں کی حکومت زوال پزیر ہوئی۔فاتح سندھ میر فتح علی خان نے،خدا آباد کو خدا حافظ کہتے ہوئے حیدرآباد کو دارالسطنت قرار دیا۔ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ میر فتح علی خان نے اپنے بھائیوں کو جمع کر کے کہا کہ خدا آباد میں ہمارے بزرگوں کا خون بہاہے اس لئے ایسی جگہ رہنے کو میرا دل نہیں چاہتا۔ حیدرآباد کا قلعہ نہ صرف خوبصورت ہے، بلکہ مضبوط اور محفوظ بھی ہے۔ ساتھ ہی اس علاقے کی آب و ہوا بہت اچھی ہے،اس لیے تخت گاہ کے لئے یہ جگہ نہایت موزوں ہے۔ سب نے میر فتح علی خان تالپور کے فیصلے کو سراہا اور فیصلہ کرلیا کہ اب نیا پایہ تخت حیدرآباد ہوگا، ان کے دور میں حیدرآباد تیزی سے بسنا شروع ہوا۔ خاص طو رپر خدا آباد کے ہنر مندوں نےاس علاقے کو چھوڑ کر حیدرآباد کی راہ اختیار کی۔ یہاں کے ہندو بھی میروں کے ساتھ حیدرآباد منتقل ہوگئے ، ان لوگوں نے مشہور شاہی بازار کے دونوں طرف رہائش اختیار کی۔ان کی آبادی شاہی بازار کے مغرب میں تھی ۔ مسلمانوں کے محلے مشرق کی طرف زیادہ تھے جو طاہر بازار سے لے کر سرے گھاٹ تک پھیلے ہوئے تھے ۔ میر صاحب کے خاص مصاحبین نے قلعہ کے آس پاس اپنے گوٹھ بسا لئے تھے، جنہیں ٹنڈو کہا جاتا ہے۔ خدا آباد ہی کے ایک ہندو دیوان گدو مل نے دریائی راستے سے حیدرآباد کا سفر کیا ، اتر کر اس نے جس جگہ خشکی پر قدم رکھا ،وہ گدو بندر کے نام سے جانی جاتی تھی، اب اس کا نام حسن آباد رکھ دیا گیا ہے۔میروں ہی کے زمانے میں مرزا خسرو بیگ گرجستان (جارجیا) سے یہاں آکر آباد ہوئےتھے۔ میر صاحب نے ان کی لیاقت، ذہانت اور شراف کو مدنظر رکھتے ہوئے ،اپنا مشیر خاص بنالیا تھا ۔ مرزا شاعری بھی کرتےتھے،ان کا تخلص ’’غلام‘‘ تھا ،انہوں نے حیدرآباد میں وفات پائی اور یہی دفن ہوئے۔میروں کے دور میں حیدرآباد میںبڑھئی کو خدا آباد سے لا کر بسایا گیا ،جس جگہ وہ لوگ رہتے تھے، اس کا نام ’’واڈھوں کا پڑ‘‘ رکھا گیا،اسی طرح مکان بنانے والےمزدوروں کو جنہیں سندھی زبان میں ’’رازے‘‘ کہا جاتا ہے یہاں لاکر ’’رازوں کے پڑ‘‘ میں بسایا گیا،فوجی ضرورت کے لئے تیورا قوم کے لوگوں کو آباد کیا گیا، یہ تلواروں کو چمکانے اور ان کی دھار تیز کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ اسی طرح رتنائیوں کے پڑ میں رتنائیوں کو بسایا گیا۔ یہ لوگ خیمے اور تنبو بناتے تھے۔ گھوڑوں کے نعل لگانے والے نعل بندن گھٹی میں کلہوڑوں کے وقت سے رہ رہے تھے۔ شہر میں گل انداز یا ’’گولہ اندازو‘‘ بھی آکر رہے،یہ لوگ تو پیں اور ان کا بارود بناتے تھے۔ میروں نے حیدرآباد میں ہر قسم کے کاریگرلاکر بسائے ان میں کوری (جولا ہے)، کھنبانی (کپڑے رنگنے والے)، رنگزی، زردوز، پاٹولی (ریشم کا کپڑا بنانے والے) اور قصاب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زرگر (سنار)، کھٹی (دھوبی)، پھنی گر (کنگھیاں بنانے والے)، سراز (جانوروں کی زین بنانے والے)، ٹھاٹھار (برتن بنانے والے)، طبیبوں، آخوندوں ( یہ لوگ مدرسوں میں پڑھاتے تھے،ان سمیت خدمت گاروں اور چھوٹے نوابوں کو بھی بسایا اور انہیں اچھی جگہیں دیں ۔ اس عرصے میں حیدرآباد نہ صرف پھلا ، پھولا بلکہ خوش حال ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ بھی بنا۔ اس کی ترقی اور خوش حالی کے قصے ڈاکٹر جیمز برنس نے جو، میروں کے علاج کے لئے ممبئی سے آیا تھا اپنی کتاب A Visit to the court of Sindh میں تفصیل سے لکھے ہیں۔انگریزاسسٹنٹ سرجن جی ایف ہڈل نے جوکہ 1836ء میں یہاں آیا تھا، لکھتا ہے کہ حیدرآباد اپنی خوبصورتی اور خوشحالی کے لیے مشہور ہے۔

تالپوروں کے دورمیں حیدر آباد قلعے کے دروازے کے سامنے سے شروع ہو کر سرے گھاٹ پر ختم ہوجاتا تھا۔ شاہی بازار کے دونوں طرف محلے آباد تھے۔ میر فتح علی خان نے تالپوروں کی حکومت قائم کی ،ان کے دور میں حیدرآباد کو عروج نصیب ہوا، ان کاانتقال خطرناک پھوڑے کی وجہ سےہوا۔فتح علی خان تالپور کے بعد ان کے بھائی میر غلام علی خان ، بعد میر کرم علی خان تالپور حکمران بنے، جنہوں نے تقریباً15سال حکومت کی۔ اس شہر میں موجود عمارتیں آج بھی قدیم ادوار اور اس دور میں میں یہاں حکمرانی کرنے والے بادشاہوں کے ذوق کی نشان دہی کرتی ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں