آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن فلیٹس،ہمارے خلاف کوئی شہادت نہیں،ہائیکورٹ کا فیصلہ درست،نواز اور مریم کے سپریم کورٹ میں جواب

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) عدالت عظمیٰ کل پیرکو سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نوازاور کیپٹن صفدر کی نیب کے ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سزاکی معطلی/ضمانت کی منظوری کے خلاف دائر کی گئی اپیلو ں کی سماعت کریگی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بنچ دن 2بجے اپیلوں کی سماعت کریگا۔دوسری جانب اسی کیس کے حوالے سے نواز شریف اورانکی صاحبزادی مریم نواز نے ہفتہ کے روز ایک نئی متفرق درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ میں اپنے جوابات جمع کرادیئے ہیں،جواب میں کہاگیاہے کہ ہائیکورٹ کافیصلہ حقائق پرمبنی ہے اورنیب اپناموقف ثابت کرنے میں ناکام رہاہے،ہمارے خلاف کوئی شہادت نہیں، احتساب عدالت کافیصلہ درست نہیں،نیب نے کیس بنایا ، یہ نہیں بتایا ، میری آمدن اور اثاثے کتنے ہیں؟احتساب عدالت کے فیصلے میں قانونی سقم ہیں،نواز شریف نے اپنے جواب میں چیئرمین نیب کی اپیل خارج کرنے کی استدعا

کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ (احتساب عدالت اسلام آباد) نے لندن فلیٹس کی ملکیت کے شواہد کے بغیر ہی ان کے خلاف فیصلہ جاری کیا ہے ،ریکارڈ پر کوئی شواہد نہیں لائے گئے جن سے میری لندن فلیٹس کی ملکیت ثابت ہو، نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ میری آمدن کتنی ہے؟ اور اثاثے کتنے ہیں؟جبکہ ٹرائل کورٹ نے میری آمدن اور اثاثوں کا موازنہ کئے بغیر ہی مجھے سزا سنا دی ہے، اسلئے یہ فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا ، کیونکہ ضمانت منسوخی کے پیرامیٹرز ضمانت ملنے سے مختلف ہوتے ہیں ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ معلوم آمدن والا پورا حصہ مقدمے سے غائب ہے جبکہ استغاثہ نے اثاثوں اور ادائیگیوں سے متعلق جس تجزیاتی چارٹ پر انحصار کیا ہے، اسے قانون شہادت پر نہیں پرکھا گیا ہے اور احتساب عدالت کے فیصلے میں مجھے تاثر کی بنیاد پر لندن فلیٹس کا مالک بنایا گیا ہے ، درخواست گزار نے کہا ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلے میں قانونی سقم ہیں اورقانونی سقم والے کسی فیصلے میں کسی ملزم کو حراست میں رکھنا ’’نامساعد حالات‘‘ ہی کے زمرہ میں آتا ہے، اس نوعیت کے فیصلے سے ملزم کو حراست میں رکھنا آئین میں دی گئی اسکی آزادی اور بنیادی حقوق سے متصادم ہے ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ اگر میں مرکزی مقدمہ میں بری ہوگیا تو میری جیل میں کاٹی گئی سزا کا مداوا کون کریگا؟مریم نواز کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے لندن فلیٹس سے متعلق میرے خلاف کوئی شواہد نہیں،جبکہ میرے والد نوازشریف کی لندن فلیٹس سے متعلق ملکیت ثابت کئے بغیر مجھ پر ارتکاب جرم کا سوال ہی نہیں اٹھایا جاسکتا ،اگر ملکیت ثابت ہو بھی جائے، تب بھی جرم ثابت کرنے کیلئے نیب قانون کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، نیب نے قانونی تقاضے پورے کرنے کیلئے چار اصول وضع کررکھے ہیں، نیب کو ملزم کا پبلک آفیس ہولڈر ہونا ثابت کرنے کا اصول طے شدہ ہے، اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زائد ہیں یا نہیں؟ نیب اس طے شدہ اصول کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا ، نیب نے لندن میں 1993 سے 1996 تک خریدے گئے فلیٹس کی قیمت کے حوالے سے بھی کوئی شواہد پیش نہیں کئے اور لندن فلیٹس کی قیمت پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھایا، درخواست گزار نے کہا ہے کہ لندن فلیٹ کی قیمت اور معلوم آمدن کے درمیان تقابلی جائزہ کے بغیر آمدن سے زائد اثاثوں کا فیصلہ کرنا ناممکن ہے، معلوم آمدن سے زائد اثاثوں کے تعین سے متعلق تین عدالتی نظائر موجود ہیں، بادی النظر میں نیب کورٹ کا فیصلہ درست نہیں، اسلئے میں ضمانت پر رہائی کی حقدار ہوں،نیب کورٹ 1993 سے 1996 کے درمیان خریدے گئے لندن فلیٹس کے حوالے سے کسی قسم کی سازش یا ارتکاب جرم کو ثابت نہیں کرسکی ،فلیٹس خریداری سے متعلق میرے عدالتی بیان کو نواز شریف کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا ، ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق عدالتی فیصلہ خلاف قانون ہے، درخواست گزار نے فاضل عدلت کو مذکورہ بالا حقائق کی وشنی میں چیئرمین نیب کی ضمانت منسوخی کی اپیل کو مسترد کرنے کی استدعا کی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں