السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حق بہ حق دار رسید
تازہ شمارے کا سرِورق دُزدیدہ نگاہی اور ملکوتی مسکراہٹ کے ساتھ جلوہ نما ہوا، قائداعظم کے یومِ وفات کے تناظر میں خواجہ رضی حیدر عرق ریزی سے رقم طراز تھے، تو عمّارہ ارشد کی تحریر بہت دردناک تھی، منور مرزا کا عالمی اُفق گویا حکومت کے لیے امتحان ظفریاب تھا، تو انور شیخ کا مضمون رخشاں وتاباں۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس کے دونوں مضامین معلومات افزا رہے۔ ڈائجسٹ میں ڈاکٹر معین قریشی کی ’’جلیبی ٹیکنالوجی‘‘ سے بھی خاصا محظوظ ہوا۔ انور غازی کا احوالِ استنبول اچھا تھا۔ میری غزل کی اشاعت کا بے حد شکریہ، اور بھی تحریرات بھیج رہا ہوں، ناقابلِ فراموش اس باربڑا عجیب تھا، حالاں کہ 41سال پرانا واقعہ اتنی روانی، تسلسل کے ساتھ یاد نہیں رہتا۔ بہرحال، ریحان نے چھانگا مانگا کی سیر و تفریح سے بھی دل شادمان کردیا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اسماء دمٹر کی چِٹھی واقعی ’’حق بہ حق دار رسید‘‘ کے مترادف تھی۔
(ڈاکٹر اطہر رانا، طارق آباد، فیصل آباد)
اعلیٰ معیار کی بدولت
روزنامہ جنگ اور ’’سنڈے میگزین‘‘ اپنے منفرد انداز، حقیقت نگاری اور اعلیٰ معیار کی بدولت ہر دل عزیز ہیں۔
(سیّد زمرّد شاہ عالم اکبر آبادی، راول پنڈی)
دردِ سری کا فائدہ…؟؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کی اپنی سوچ و نظریات ہوتے ہیں، جو صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی۔ لیکن ہم اگر غلط نظریات کی اصلاح نہیں کریں گے، تو پھرتو پوری نائو ہی ڈوب جائے گی۔ میگزین کی طرف آتے ہیں۔ اس بار ’’ناقابلِ فراموش‘‘ حقیقتاً سچّی کہانیاں لگا۔ کیوں کہ ان میں کوئی اَن ہونی بات نہیں تھی، ورنہ زیادہ تر تو افسانے ہی ہوتے ہیں۔ رائو محمّد شاہد اقبال نے اسلامی کیلنڈر کے حوالے سے جو تجویز دی، یہ وہ خواب ہے، جوہر پاکستانی دیکھتا ہے۔ ڈاکٹر ناظر محمود سے اتنا کہوں گا کہ صرف اٹل بہاری واجپائی ہی نہیں، موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی انتہا پسند ہے، ’’ایوانِ صدر کے مکین‘‘ ایک بیش بہا معلوماتی تحریر تھی۔ سبیتا مشتاق نے ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل کی نشان دہی بہت احسن انداز میں کی اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے بہت اچھی تجاویز بھی دیں۔ ویسے ایک بات تو بتائیں، آپ ہر اتوار یہ سرِورق کس لیے چھاپتی ہیں، آپ کا مقصد تو ملبوسات کی تشہیر ہوتا ہےناں، لیکن کیا کبھی آپ نے نوٹ کیا کہ کوئی قاری ملبوسات پر تبصرہ کرتا ہے، نہ اپنی پسند وناپسند کا اظہار، قارئین نے جب بھی خیال آرائی کی، ملبوسات میں لِپٹی ’’صنفِ نازک ‘‘ ہی پر کی، تو پھر اس دردِ سری کا کیا فائدہ ۔ (عبدالسلام صدیقی، نارتھ کراچی، کراچی)
ج:جی ہاں، بے شک ہر انسان کی اپنی سوچ، نظریات ہوتے ہیں اور وہ صحیح بھی ہوسکتے ہیں، اور غلط بھی، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اُن کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ کون کرےگا، جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں کافی فلسفہ جھاڑا(جو ایڈٹ کیا گیا) وہ یقیناً آپ کے خیال میں صحیح بھی ہوگا، لیکن ہم تو اِس سے قطعاً اتفاق نہیں کرتے۔ آپ لاکھ سر پٹختے رہیں، ہم تو نہیں قائل ہوتے، تو پھر.....؟؟ دوسری بات ہر انسان کی سوچ، نظریات ہی نہیں، بصارت بھی اپنی ہی ہوتی ہے۔ آپ اگرہرچیز اپنی مخصوص عینک سے دیکھیں گے، تو پھر وہ آپ کو ویسی ہی نظر آئےگی، جیسی آپ دیکھنا چاہتےہیں، آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے، ایک آدھ نہیں، متعدد قاری خواتین ہماری ماڈلز کے ملبوسات ہی پر رائے زَنی کرتی ہیں، ہاں حضرات عموماً آپ ہی کی عینک استعمال کرتے دکھائی دیتےہیں، تو اُن پر سوائے افسوس کے، کیا کیا جاسکتا ہے۔
اپنے ہی رنگ و آہنگ
اس ہفتے تو میگزین کے آغاز ہی میں منور راجپوت سندھ کے گورنر ہائوس کے ساتھ موجود تھے۔ بہت اچھی معلوماتی تحریر تھی۔ مختصر مضمون میں گورنر ہائوس کی پوری تاریخ بیان کر کے رکھ دی ’’فیچر‘‘ میں نور خان حسنی نے کوئٹہ کے بدحال ٹریفک نظام کا ذکر کیا۔ پڑھ کے اندازہ ہوا کہ ہم تو کراچی کو ناحق ہی روتے ہیں۔ پولیس آ فیسر کی ریسرچ لائبریری کے بھی کیا ہی کہنے۔ سرِورق پر توقیر ناصر ماڈل کے طور پر بہت اچھے لگ رہے تھے اور اُس پر آپ کی تحریر، گویا سونے پہ سہاگا۔ محمود میاں نجمی نے ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں اولڈ ہائوس سے متعلق منفرد تحریر ہماری نذر کی۔ بہت خوب۔ عرفان جاوید بھی ’’ڈائجسٹ‘‘ میں ذرا مختلف انداز میں جلوہ گر تھے۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے رنگ و آہنگ تو بس اپنے ہی ہیں۔ دوسرے شمارےمیں سید ثقلین علی نقوی کا مضمون پڑھ کر بہت دُکھ ہوا کہ اب تک زلزلہ متاثرین چھت ہی سے محروم ہیں، صد افسوس۔ رئوف ظفر نے گورنر ہائوس پنجاب کا احوال رقم کیا۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کی دونوں کہانیاں بھی پسند آئیں۔ (رونق افروز برقی، دستیگر کالونی، کراچی)
دھیمے سرُوں کی نغمگی
نرجس بٹیا! سدا خوش رہو! میگزین کے سرِورق پر توقیر ناصر کی تصویر بہت بھلی لگی، لیکن ’’شاپنگ لندن سے کرتا ہوں‘‘ اس جملے سے کچھ غرور سا جھلک رہا تھا۔ جن لوگوں کو اس مُلک نے اس قدر مان، عزت، شہرت، نام وَری دی، وہ یہاں سےشاپنگ کرنابھی پسند نہیں کرتے، افسوس کی بات ہے۔ خیر، ویسے تو میگزین کے تمام قارئین تمہاری تحریر کے دیوانے ہیں، مگر وہ تحریر، جو دھیمے سُروں کی نغمگی میں کسی اچھے شاعر کی مسحور کُن غزل سے شروع ہو اور اُسی پر اختتام پزیر، اُس کا جواب نہیں ہوتا۔ میرے دل کو تو تمہارا ایسا ہی اندازِ بیاں زیادہ بھاتا ہے۔ منور راجپوت نےسندھ کے گورنر ہائوس پر مفید معلومات فراہم کیں، شکریہ۔ ویسے کیا گورنر ہائوس کھولنے، بھینسیں بیچنے سے غریب آدمی کا پیٹ بھر جائے گا۔ پولیس افسر کی ریسرچ لائبریری ایک بے حد کارآمد تحریر تھی، معلومات میں اچھا اضافہ ہوا۔ اور ’’کہی اَن کہی‘‘ میں عالیہ کاشف نے بھی اچھے سوالات کیے۔ ’’اولڈ ہائوس، والدین کا ٹھکانہ تو نہیں‘‘ بار بار پڑھی اور ہر بار آنسوئوں کے سمندر نے دل کی دنیا میں ایک تلاطمِ بے کراں سا بپا کیے رکھا۔ تمہارا محمود میاں نجمی کو دیا گیا ٹائٹل ’’ہر فن مولا‘‘ سو فی صد درست ہے۔ بٹیا! تم سے ایک دلی گزارش ہے کہ ’’سرچشمئہ ہدایت‘‘ کا صفحہ کبھی ڈراپ نہ کیا کرو اور آخر میں عرفان جاوید کی خُوب صُورت تحریر کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ شاباش، عرفان بیٹا۔ (پروفیسر سیّد منصور علی خان،کراچی)
ج:مطلب، آپ کو توقیر ناصر پر لکھا ہوا رائٹ اپ پسند نہیں آیا۔ چلیں، ’’چشمِ بدور، دلہن بن کے شباب آتا ہے…‘‘ اور ’’کرے کلام کوئی اپسرا اداسی کی…‘‘ تو ضرور پسند آئے ہوں گے۔
آڈٹ کی سولی
سنڈے میگزین میں میری تحریر ’’موت ایک لاینحل معمّا‘‘ چَھپی تھی، پھر میں نے ایک اور تحریر ’’تساہل پسندی، موجبِ امراض‘‘ بھجوائی، جسے آپ نے آڈٹ کی سولی پرجا لٹکایا اور بھلا آج تک کوئی سولی سے بھی زندہ سلامت واپس لوٹا ہے۔ میں اُسے ’’ناقابلِ اشاعت‘‘ میں بھی تلاش کرتا رہا، لیکن وہاں بھی ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ویسے میں جنگ کا اُس وقت سے فین ہوں، جب یہ کراچی سے انجام کے ساتھ چَھپتا تھا۔ اب تو جنگ کا ہر سُو چرچا ہے، نہ جانے انجام کا کیا انجام ہوا۔ سنڈے میگزین کے ’’سرچشمئہ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی ہی کا طوطی بولتا ہے۔ آپ کی تحریر ’’میرا آنچل ہے، حیا کا پرچم‘‘ کی تعریف نہ کرنا بھی بخیلی ہوگی۔ طاہر حبیب، حافظ محمد ثانی اور قمر عباس کا اندازِ تحریر خُوب ہے۔ دو تحریریں مزید بھجوا رہا ہوں۔ دیکھیں، ان کے ساتھ کیا بیتتی ہے۔
(قلندر حسین سیّد سپرنٹنڈنٹ (ر)،چراغ منزل، محلّہ شکاری،احمد پورشرقیہ)
ج:ہمارے یہاں ہرتحریرکےساتھ وہی سلوک روا رکھا جاتا ہے، جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ ویسے بعض لکھاریوں کی خود ساختہ دانش وَری کا بھرم رکھنے کے لیے ہم دانستہ ان کا نام ’’ناقابلِ اشاعت کی فہرست ‘‘ میں شامل نہیں کرتے۔
دسمبر اور جون کا سنجوگ
اگلے وقتوں کے لوگ (جن میں اپنا شمار کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے) درحقیقت خود، ناقابلِ اصلاح نہ سہی، ماورائے اصلاح ضرور ہوتے تھے، قطع نظر اس کے کہ اُن کا تعلق کاروباری پیشے سے ہے یا شعر و ادب کےمیدان سے۔ اُن کے ساتھ نباہ کرنا نئی نسل کے لیے مشکل سے مشکل تر رہا اور ایسا ہر دَور میں ہوا کہ دسمبر اور جون کا ’’سنجوگ‘‘ نہ کبھی ہوا، نہ ہوگا۔ خیر، اس بار سرِورق پر توقیر ناصر اپنی وارڈروب کے ملبوسات زیب تن کیے دِکھائی دئیے۔ دراصل گریس فُل شخصیت، گریس فُل پہناووں ہی کی رہینِ منّت ہے۔ عرصے بعد ’’میگزین‘‘ کے سرِورق پر ایک باوقار تبدیلی نظروں کو بہت بھلی لگی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ’’شام کی چائے‘‘ کے ’’وائے‘‘ تو بہت ہی مزے دار تھے۔ ’’سندھ کا گورنر ہائوس‘‘ پر منور راجپوت نے اچھی تحقیق کی۔ ’’فیچر‘‘ میں کوئٹہ سے نور خان حسنی ’’کوئٹہ شہر میں ٹریفک کی بدحالی‘‘ لے کر آئے، پہلے تو یقین ہی نہ آیا کہ کوئٹہ جیسےشہرمیں بھی ٹریفک جام ہوسکتاہے،لیکن جب پڑھا،توفیچر نویس کی کوشش پسند آئی۔’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں محمود میاں نجمی نے بھی والدین اور ’’اولڈ ہائوس‘‘ کے کرب کو بڑی مہارت سے بیان کیا۔ عرفان جاوید کی ’’فیروز بے خبر کا ماجرا‘‘ سمجھ کر پڑھنے سے تعلق رکھتی تھی کہ اس طرح کے تجریدی افسانے کا رواج اردو میں ہمیشہ کم رہا۔ کہانی میں ’’مافوق الفطری رنگ‘‘ بھی تھااور’’نثری شاعری‘‘ بھی۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو ماشاء اللہ ہوتا ہی اپنی مثال آپ ہے، اسما سعید تا پروفیسر بابا کے خط اور فہیم مقصود سے ملائکہ اعظم کی برقی میل تک ہر شہ پارہ ’’شاہ پارہ‘‘ لگا۔ نیز، خطوط اور میلز کے جوابات میں پیشہ ورانہ ذمّے داریوں کی شدید تھکن کے باوجود، ادب ، شائستگی، وقار اور دل چسپی کا جو معیار قائم رکھا جاتا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
(پروفیسر ڈاکٹر سیّد مجیب ظفر انوار حمیدی، گل برگ ٹائون، کراچی)
ج: ویسے آپ کی بعض اچھی اچھی باتیں پڑھ کے ہمیں بڑی حیرت ہوتی ہےکہ اگر آپ کو ان باتوں کا ادراک ہے، تو پھر آپ کے اندازِ تحریر سے یہ درک کیوں نہیں جھلکتا۔ اگر خدانخواستہ کبھی ہم آپ کا ’’مَیں نامہ‘‘ بعینہ چھاپنے کی غلطی کر بیٹھے، تو پھر کیا ہوگا۔ آپ کا تو ہمیں نہیں پتا، لیکن بہ خدا ہمیں اپنی عزت و ناموس اپنی جان سے زیادہ پیاری ہے۔ اور اسی لیے آپ کا 90فی صد ایڈیٹڈ خط بھی ہمیں کوئی دس بار تو پڑھنا پڑتا ہی ہے کہ آپ تو خیرسےجوجو کچھ لکھ ڈالتے ہیں، اس کا 10فی صد بھی بمشکل ہی شایع کیا جا سکتاہے۔
قلم کا ساتھ
میرے خیال میں ایک لکھاری کے لیے ’’خط و کتابت‘‘ اس لیے بھی ضروری ہے کہ قلم اُس کا ساتھ دیتا رہے اور وہ قلم کا۔ میگزین حسبِ روایت عمدہ جارہا ہے۔ سب ہی سلسلےجان دار اور شان دار ہیں۔
(شری مرلی چند جی، گوپی چند گھوکلیہ،شکار پور)
ج: بہت آسان باتوں کو بھی گنجلک کرنا تو کوئی سنڈے میگزین کے خطوط نگاروں سے سیکھے۔
فیملی صفحہ
میری تحریریں مسلسل شایع کرنےکا بے حد شکریہ۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو اب صحیح معنوں میں’’فیملی صفحہ‘‘ بن گیا ہے۔ لوگوں کے میٹھے کھٹّے خطوط اور آپ کے پیار اور ڈانٹ بھرے جوابات بہت پسند آتے ہیں۔ (شاہین ولی شاد،کراچی)
ج: یہ غالباً اسی صفحے کا اعجاز ہے کہ لوگوں کا وہ حال ہے کہ بہ قول غالب ؎ گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا۔
’’خوش‘‘ کی وسعت
واہ کیا بات ہے، سبحان اللہ، ماشا اللہ.....یہ شمارہ تو گویا سال 2018ء کے پورے 9ماہ کا نچوڑ ہے۔ کیا خُوب صُورت، منفرد اور ’’ذرا ہٹ کے‘‘ تحریروں کا انتخاب کیا گیا۔ منور راجپوت گورنر ہائوس لے گئے، کوئٹہ کے نور محمّد حسنی نے شہر کے ٹریفک نظام کی بدحالی کی بہترین نقشہ کشی کی۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں عمران اشرف سے ملاقات واجبی سی رہی، لیکن سینٹر اسپریڈ اور ٹائٹل دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ ویسے لفظ ’’خوش‘‘ کی وسعت کو سمجھنا، بس تمہارا ہی خاصّہ ہے۔ توقیر ناصر جیسی فن کار شخصیت کے ساتھ خوش کی اس قدر مناسب اضافتیں ’’خوش خیال، خوش خصال، خوش قامت، خوش پوشاک.....‘‘ تم ہی ٹانک سکتی تھی۔ اُن سے ملاقات اور وارڈ روب دونوں ہی بے حد پسند آئے۔ اس عُمرِ رواں میں بھی اُن کی عمرِ جواں پر رشک آتا ہے۔ محمود میاں نجمی ہمیں اپنے ہم راہ بزرگوں کی اُس ’’رہایش گاہ‘‘ کی طرف لے گئے، جسے ’’اولڈ ہائوس‘‘ کہا جاتا ہے۔ نجمی صاحب نے بہت ہمّت سے کام لیا۔ بہت سے بگڑے اور بچھڑے لوگوں کو دوبارہ ملانے کے سامان کے ساتھ بھرپور کوشش کی۔ عرفان جاوید آج کل کس موڈ میں ہیں، یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس ہفتے وہ ایک ’’بے خبر فیروز‘‘ کو لے آئے۔ دو طویل صفحات پڑھنے کے باوجود سمجھ نہ آیا کہ آخر وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ دیگر سلسلوں میں پیارا گھر اور کچھ توجّہ اِدھر بھی قابلِ توجّہ رہے۔ (چاچا چھکن،گلشن اقبال، کراچی)
ج: لاحقے، سابقے، اضافتیں ٹانک تو کوئی بھی سکتا ہے، ہاں ہم اپنی نفاست پسند طبیعت کی وجہ سے کچھ عُمدگی سے ٹانک لیتے ہیں۔
آنکھیں نم ہوگئیں
اس بار بھی ہمیشہ کی طرح دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ پہلا شمارہ بانئ پاکستان اور دوسرا محرم الحرام کےحوالے سے تھا۔ ’’قائد اعظم اور پاکستانی کی نظریاتی اساس‘‘ ایک بہترین مضمون تھا۔ یادداشتیں میں ہندوستان کے معروف صحافی کلدیپ نیّر کی یادیں، باتیں پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ ’’کہی اَن کہی‘‘ میں جیو نیوز کے اینکر، دانش انیس سے گفتگو خُوب رہی۔ دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی جنگل ’’چھانگا مانگا‘‘ کے بارے میں تصویری رپورٹ بھی خاصی معلوماتی تھی۔ اسلامی کیلنڈر کے آغاز کا احوال زبردست تھا۔ اور سینٹر اسپریڈ میں شہیدِ کربلا، حضرت امام حسینؓ کے مقبرے کی تصاویر دیکھ کر اور مضمون پڑھ کر تو آنکھیں نم ہوگئیں۔
(پرنس افضل شاہین،ڈھاباں بازار، بہاول نگر)
فی امان اللہ
کبھی کبھی مَیں سوچتا ہوں کہ آخر وہ کون لوگ ہیں، جو 10-10صفحات کے’’ضخیم نامے‘‘ ارسال کرتے ہیں۔ سلام ہے اُن پر بھئی، اتنا وافر وقت اور اس قدر عالی دماغ، ہم تو دو صفحات لکھیں، تو آنکھیں تھکی تھکی سی لگنے لگتی ہیں، البتہ مطالعہ چاہے سارا دن کرتے رہیں۔ کسی صاحب نے جنسی ہراسانی کے مضامین پر اعتراض اٹھایا، تو جناب والا عرض ہے کہ جب معاشرے میں درندے، شیطان صفت عناصر بے لگام ہوجائیں، تو لگامیں کھینچنی ہی پڑتی ہیں اور باشعور قلم کاروں کو اس حسّاس معاملے پر قلمی جہاد کرنا ہی چاہیے۔ حالیہ دو تین شماروں میں ’’سرچشمہ ٔ ہدایت‘‘ کی غیر موجودگی بہت کھٹکی کہ دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ اگر یہ ہدایت کی شمع بھی جلتی رہے، تو بہتوں کا بھلا ہوتا رہے۔ سندھ کے گورنر ہائوس پر منور راجپوت کی کاوش ہمیشہ کی طرح منفرد رہی۔ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہائوس اور وزیر اعلیٰ ہائوس بھی عوام کی سیر و تفریح کے لیے کھول دئیے جائیں کہ وہ صرف مخصوص افراد کی ملکیت تو نہیں۔ ’’فیچر‘‘ میں ٹریفک کےمسائل پرنور خان حسنی کی رپورٹ حقیقت پر مبنی تھی۔ واقعی ہر چھوٹے بڑے شہر میں ٹریفک کا دبائو کئی گنا بڑھ گیا ہے، جب کہ شاہراہیں وہی 70سال پرانی ہیں۔ عالمی افق میں منور مرزا مستقبل کی جنگوں کا احوال سُناتے دکھائی دیئے، تو ڈاکٹر عبدالتوحید ماں اور بچّے کی صحت کے حوالے سے اَن مول موتی بکھیر رہے تھے۔ پیارا گھر میں آپ کے’’اعلان‘‘ کے بعد کھانوں کی بہت مزے دار تراکیب آرہی ہیں۔ پڑھ پڑھ کےجی للچاتارہتا ہے۔ توقیر ناصر کی وارڈ روب تو خُوب تھی، لیکن ٹی شرٹ پر واسکٹ کچھ عجیب سی لگی۔ عرفان جاوید کا افسانہ ’’فیروز بے خبر کا ماجرا‘‘ بھی خُوب رہا۔ دیگر مضامین، شاعری اور خطوط بھی مطالعے کا حاصل ثابت ہوئے۔ مہناز علی رضا بٹ کی جڑواں شہزادیوں کے ساتھ اینٹری اور ڈاکٹر کومل عبدالستار عرف ’’کھی کھی کھی‘‘ کی ایل ایم سی، حیدرآباد سے آمد نے بزم کو چار چاند لگادئیے۔ کافی عرصے بعد بہت عُمدہ تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ پچھلے دنوں والدہ کے علاج کے سلسلے میں کراچی آنا ہوا، تو گلستانِ جوہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر دیکھ کر بہت دُکھ ہوا۔ سنڈے میگزین میں اس حوالے سے اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے، لیکن اثر ندارد..... (محمد علی کھوکھر،نزد میمن مسجد، شہداد پور)
ج: اِک ’’گلستانِ جوہر‘‘ ہی پر موقوف نہیں، عملاً پورا شہر ہی کراچی کم ’’کچراچی‘‘ زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اب تو ہم بھی بِین بجا بجا کے تھک گئے اور بہ خدا اس نئی حکومت کے ایک سو دن میں بھی کوئی نام کی بھی بہتری، مثبت تبدیلی نہیں آئی، حقیقی تبدیلی کی تو بات ہی کیا۔ ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتا، یہ جو عوام کی ایک بڑی تعداد سڑکوں، چوراہوں، گلیوں محلّوں میں یک سر فارغ خوش گپّیاں کرتی یاکانوں میں ہینڈز فری ٹھونسے، موبائل فون پیکجز سے مستفید ہوتی دکھائی دیتی ہے، یہ کس کام کی ہے۔ اِن میں سے اگر آدھے لوگ بھی ہاتھوں میں جھاڑو پکڑ کے اپنے ارد گرد ہی کو صاف کرنا شروع کردیں، تو تین نہیں، تو چھے ماہ میں شہر کی شکل نکل آئے۔اور ہاں 10-10صفحات کے ضخیم نامے لکھنے والا بھی کوئی ایک نہیں، اَن گنت ہیں۔
٭ آپ کا میگزین معلوماتی تحریروں کی اشاعت کے اعتبار سے تو اچھا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی جریدہ پڑھنے والے کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اُس میں کچھ نہ کچھ مواد اُس کی پسند کا بھی ضرور شامل ہو۔ جیسا کہ مجھے خواتین کے صفحات درکار ہوتے ہیں، تو چھوٹی بہن کو بچّوں کے۔ میرا شوق تو پھر بھی ڈائجسٹ، ناقابلِ فراموش، پیارا گھر وغیرہ پڑھ کے پورا ہوجاتا ہے، مگر چھوٹی کے لیے آپ کے شمارے میں کچھ نہیں ہوتا۔ خیر، مَیں خود بھی ایک ڈائجسٹ رائٹر ہوں، تو آپ کے میگزین کے لیے کچھ نظمیں، غزلیں، کہانیاں وغیرہ بھیجنا چاہتی ہوں۔ (صباحت رفیق)
ج: جی ضرور بھیج دیں۔ قابلِ اشاعت ہوئیں، تو شایع بھی ہوجائیں گی۔
٭ میگزین ماشاء اللہ بہت اچھا جارہا ہے۔ زیادہ تر سلسلے پسند آرہے ہیں۔ ویسے مجھے آپ کا انٹرویو پڑھنے کا بہت اشتیاق ہے۔ پتا نہیں، میری یہ خواہش کبھی پوری ہوگی بھی یا نہیں۔ ایک تحریر بھیج رہی ہوں، اشاعت کے لائق ہو تو چھاپ دیجیے گا۔ (مدثرہ رضا)
ج: خواہش کا پورا ہونا تو مشکل ہے۔ تحریر معیار کے مطابق ہوئی تو ضرورشامل ہوجائے گی۔
٭ ایک طویل عرصے سے میگزین کی قاریہ ہوں۔ مگر کبھی خط، ای میل وغیرہ نہیں کی۔ میگزین میں ڈاکٹر کومل ستار کی واپسی کی اس قدر خوشی ہوئی کہ میل کیے بِنا نہ رہ سکی۔ سو، ویلکم بیک کومل۔ اب پلیز، آتی جاتی رہیے گا۔ (سوئیٹ ایڈن)
ج: اپنا اصل نام لکھتی، تو شاید ڈاکٹر کومل بھی کچھ خوش ہوجاتی۔
٭ اگر مَیں ایک ’’قابلِ اشاعت‘‘ ناول لکھوں، تو کیا آپ اُسے میگزین میں جگہ دیں گی؟ (اقصیٰ عثمان)
ج: ماشاء اللہ.....اُس نومن تیل کا ابھی کہیں وجود ہی نہیں، جس پر رادھا ناچے گی۔ شیخ چلّی کے سر پہ کم از کم انڈوں کی ٹوکری تو تھی، جب اُس نے پولٹری فارم کا خواب دیکھا۔ آپ کی تو کیا بات ہے، ابھی مُرغی نے انڈا بھی نہیں دیا اور آپ چلی ہیں پولٹری فارم کی لیز کروانے۔
٭ ڈائجسٹ میں سمیع جمال کی غزلیں بہت پسند آتی ہیں۔ (لبنیٰ، کراچی)
٭ مَیں میگزین کے لیے کچھ لکھنا چاہتی ہوں، مگر اردو اِن پیج پر کام نہیں کرسکتی۔ (عریشہ یاسین)
ج: ہاتھ سے لکھ کے پوسٹ تو کرسکتی ہو۔
ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk