آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍رجب المرجب 1440ھ 19؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹس نے ایک دوسرے کے خلاف تعاون نہ کرنیکی شکایات کیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ اسدعمر کی زیر صدارت  ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں مختلف رپورٹس پیش کی گئیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ بینکوں کے سربراہوں کی تعیناتی کا معیار درست نہیں، ایسے افراد کو بینکوں کا سربراہ تعینات کیا جاتا ہے جن کا بینکوں کے کنٹرول کا ریکارڈ درست نہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک کو نجی بینکوں نے 1 ہزار سے زیادہ مشکوک ترسیلات کے کیس بجھوائے جبکہ ایف بی آر منی لانڈرنگ کیس پکڑے جانے پر تحقیقاتی اداروں کو نہیں بھجواتا۔

ذرائع کے مطابق سندھ، پنجاب، کے پی میں 284 جعلی اکاؤنٹس سے مشکوک ترسیلات ہوئیں،تینوں صوبوں میں جعلی اکاؤنٹس سے 218 ارب روپے کی مشکوک ترسیلات کی نشاندہی ہوئی۔

اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹس میں کراچی سے اومنی گروپ نے 235 اکاؤنٹس کے ذریعے 94 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی نشاندہی سامنے آئی۔

دستاویز میں پنجاب میں بڑے کمرشل بینک سے 25 اکاؤنٹس سے 73 ارب 70 کروڑ روپے کی جبکہ کے پی کے سے 25 اکاؤنٹس کے ذریعے 49 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی نشاندہی کی گئی ۔

اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹس میں تجویز دی گئی کہ ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین میں تبدیلیاں لائی جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں