آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ذیقعد 1440ھ22؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی میں پیش آنے والے ہر چیلنج کے پیچھے ایک موقع چھُپا ہوا ہوتا ہے، جو تلاش کیے جانے کا منتظر رہتا ہے۔ کاروباری افراد اور کاروباری ادارے یہ بات اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہیں۔

آج، دنیا کو ایک انتہائی اہم چیلنج کا سامنا ہے: دُنیا کے 1ارب80کروڑ نوجوان، جن کی عمریں10سے24سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے1کروڑ نوجوان، ہر ماہ، پیشہ ورانہ زندگی شروع کرنے کی عمر کوپہنچ کر، پراڈکٹو(پیداواری) زندگی گزارنے کا آغاز کرنے کے لیے پرتولنے لگتے ہیں۔

کیا، ان نوجوانوں کو مطلوبہ تعلیم فراہم کی جارہی ہے؟ جن کو ضروری ہنر(Skills) اور تربیت (Training)چاہیے، کیا انھیں وہ مل رہی ہے؟ یا پھر وہ پیچھے رہ جائیں گے؟

یہ نوجوان طبقہ، دُنیا کو ایک ناقابلِ یقین موقع اور آپ کے کاروبار کو ایک نئی تحریک فراہم کرتا ہے۔ یہ آپ کے مستقبل کے ملازمین اور صارفین ہی نہیں بلکہ یہ کل کے خواب دیکھنے والے، کچھ کرنے کا عزم اور سوچ رکھنے والے لوگ ہیں، درحقیقت یہ کل کے لیڈرز (سربراہان) ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ وہ کیا کچھ تخلیق کرسکتے ہیں، طب میں علاج کی نئی دریافتیں، آمدو رفت کے نئے ذرائع، ابلاغ کے انوکھے طریقے، زیادہ پائیدار معیشتیں اور غالباً زیاہ پُراَمن دنیا۔

ان کی زندگی کا پیشہ ورانہ دور نئی پیش رفتوں، ایجادات اور ترقی سےبھرپور ہوسکتا ہے، جس کا فائدہ، کسی نہ کسی صورت میں، روئے زمین پر موجود تمام ممالک کی معیشتوں کو ہوگا۔

لیکن یہ سارے فوائد کسی بھی صورت ’یقینی‘ نہیں ہوسکتےکیونکہ آج جس دُنیا میں ہم کام کررہے ہیں، وہ ہر لمحے تیزی سے بدل رہی ہے۔ عالمگیریت اور ٹیکنالوجی، عالمی معیشت کے قوانین از سرِ نو مرتب کررہی ہیں اور کام کرنے کے لیے مطلوبہ ہنر بھی تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ آج تعلیم، ہنر اور تربیت کا معیار اور اس کا کارآمد ہونا، پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

دریں اثناء، دنیا بھر کے ممالک اپنے نوجوانوں کو پیشہ ورانہ زندگی کے لیے تیار کررہے ہیں۔ تاہم تشویش کی بات یہ ہے کہ، دنیا میں اس وقت، 19سال کی عمر تک کے20 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ (ان میں سے 2 کروڑ 40 لاکھ بچے صرف پاکستان میں ہیں، جو زندگی میں کبھی اسکول نہیں گئے)۔ عالمی سطح پر ہر 10میں سے 6بچے اور بالغ افراد پڑھنے(Reading)اور ریاضی (میتھس) میں قابلیت کے کم از کم ضروری معیار پر بھی پورا نہیں اُترتے لیکن جو قابلیت رکھتے ہیں، وہ بھی بے یقینی کا شکار اور جاب مارکیٹ کے رحم و کرم پر ہیں، مثلاً اندازہ ہے کہ 2035ء تک صرف افریقا میں45کروڑ نوجوان جاب مارکیٹ میں آئیں گے۔ موجودہ رفتار سے،ان کے لیے صرف 10 کروڑ نوکریاں دستیاب ہوں گی۔ باقی35کروڑ نوجوان کیا کریں گے؟

نوجوان طبقہ خود بھی اس پر تشویش کا شکار ہے کہ وہ جو تعلیم و تربیت حاصل کررہا ہے، وہ اسے جاب مارکیٹ کے لیے تیار نہیں کررہی۔ ان نوجوانوں کو مستقبل کے کام کے لیے مستقبل کا ہنر چاہیے۔ آج کا نوجوان خوفزدہ ہے کہ مستقبل میں ان کے لیے کوئی نوکری دستیاب نہیں ہوگی۔

گلوبل ویلیج کا حصہ ہونے کے ناطے، کاروباری طبقے کے لیے ’جیسا چل رہا ہے، ویسا چلنے دیں‘ رویہ مزید کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ہمیں نوجوان آبادی کے اس چیلنج کو موقعے میں بدلنے کے لیے نئے اور مختلف طریقے اختیار کرنا ہوں گے۔ کاروباری لوگ اور کاروباری طبقہ، نوجوانوں کے مستقبل کو تابناک بنانے میں اپنا کردار کس طرح ادا کرسکتے ہیں، آئیے جانتے ہیں۔

نوجوانوں کو اپنے ’برانڈ‘ کا حصہ بنائیں

ہر کاروبار، نوجوانوں کے ساتھ تعلق جوڑنا چاہتا ہے، کیونکہ آنے والی دہائیوں میں آج کا یہی نوجوان، عالمی برانڈ سے وابستگی اور وفاداری (Brand Affiliation & Loyalty) کا فیصلہ کرے گا۔ آج کے نوجوان کے پاس آن لائن سوشل میڈیا کے ذریعے خبروں اور حالات حاضرہ تک لامحدود رسائی حاصل ہے۔ آج کا نوجوان، ماضی کے مقابلے زیادہ باخبر، زیادہ ذمہ داراور ’گلوبل سٹیزن شپ‘ کے تصور سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔آج کے دور میں وہی کاروبار زیادہ کامیاب رہے گا،جو اس چیلنج کو موقع جان کر اسے اپنے فائدے میں استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہوگا اور بہتر سماجی ذمہ داری کا ثبوت دے گا۔

کمیونٹی سروس کریں

کاروباری اداروں کو کمیونٹیز کی قربانی پر منافع نہیں کمانا چاہیے۔ طویل مدت میں، وہی کاروبار کامیاب رہتے ہیں، جو اپنی متعلقہ کمیونٹیز میں وہاں کے لوگوں(بشمول نوجوان طبقہ) کے لیےکوئی اچھا کام کرتے ہیں جیسے مقامی افراد کی تعلیم، ہنر اور تربیت میں سرمایہ کاری۔

’اسکول‘ سے ’کام کی جگہ‘ منتقلی

کاروباری ادارے، اپنے آپریشنز میں، مقامی نوجوان آبادی( خصوصاً پسماندہ) کیلئے مینٹورشپ اور اَپرنٹس شپ کے ذریعے پیشہ ورانہ تربیت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں، جس میں فوقیت پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو دینی چاہیے۔

صنفی مساوات کو فروغ دیں

یہ یقینی بنائیں کہ اپنے کام کی جگہ پر ایسی پالیسیوں اور عادات کو فروغ دیں، جن کے ذریعے خواتین او ر ماؤں کو سپورٹ مل سکے اور فیصلہ سازی کے ہر مرحلے پر نوجوان خواتین کو شامل کیا جاسکے۔ آج کی نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ، چاہے وہ صارفین ہوں یا ملازمین، صنف اور شناخت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔وہ کاروبار، جو ان معاملات کا تدارک کریں گے، انھیں دیگر پر برتری حاصل ہوگی۔

’اچھا کرنا‘ہمیشہ اچھا کاروبار ثابت ہوتا ہے

ہر مرحلے پر اپنے کاروباری آپریشنز کے نوجوان طبقہ پر اثرات کا جائزہ لیں اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق، ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔جن کمیونٹیز میں آپ کام کررہے ہیں، وہاں بچوں کے لیے خطرات کم کرکے، آپ نہ صرف اپنی کارپوریٹ شناخت کو بہتر بناسکتے ہیں، بلکہ آپ دنیا کو ایک بہتر اورخوبصورت جگہ بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں