آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار16؍رجب المرجب 1440ھ 24؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انڈین پارلیمنٹ پر حملہ ہو، ممبئی کی دہشت گردی ہو یا پھر پٹھان کوٹ واقعہ۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ اُن سب واقعات سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں لیکن ان واقعات کی نوعیت ایسی تھی کہ انہیں گھما پھرا کر، بھارت کسی نہ کسی طرح پاکستان سے جوڑ سکتا تھا، تاہم پلوامہ کے واقعے کی نوعیت یکسر مختلف تھی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا کہ جب ساری دنیا دیکھ رہی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی کشمیر کی سرزمین سے مداخلت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اندھے بھی دیکھ رہے تھے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر تحریک آزادی مقبول ترین اور خالص داخلی عوامی تحریک بن چکی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ فدائی حملہ کرنے والا پہلے دن سے معلوم تھا۔ جو مقبوضہ کشمیر کا رہنے والا ہے اور خود اس کے والد میڈیا پر آکر بتا چکے کہ ان کے بیٹے کیوں اور کس طرح اس راستے پر گامزن ہوئے۔ یوں جب بھارتی حکومت نے راتوں رات پاکستان پر الزام لگایا تو دنیا کا اجتماعی ضمیر اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا اور گواہی دے رہا تھا کہ نریندرمودی کی حکومت سیاسی مقاصد کے لئے ہٹ دھرمی سے کام لے رہی ہے۔ اس لئے نسبتاً پاکستان برتر اخلاقی پوزیشن میں رہا۔

اب کی بار پاکستان نے ماضی کے مقابلے میں روایتی موقف سے ہٹ کر بھارت کی طرف دست تعاون دراز کیا۔ ماضی میں پاکستان بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے بعد بھی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کرتا رہا لیکن اپنی شرائط کے ساتھ۔ تاہم اب کی بار پاکستان نے بغیر کسی شرط کے پلوامہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے غیر مشروط طور پر ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی جس سے بھارت نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اسی طرح پاکستان نے مذاکرات کے حوالے سے بھی اپنے روایتی موقف سے پسپائی اختیار کی۔ ماضی میں پاکستان کشمیر پر بات چیت کا مطالبہ کرتا اور ہندوستان صرف دہشت گردی پرگفتگو پر اصرار کرتا رہا۔ پھر جامع مذاکرات کی صورت میں دونوں نے یہ لچک پیدا کر دی کہ پاکستان دہشت گردی پر جبکہ انڈیا کشمیر پر بات کرنے پر رضا مند ہوا۔ اب کی بار وزیراعظم عمران خان نے پیشکش کی کہ آپ دہشت گردی پر بات کرنا چاہتے ہیں تو چلو پہلے اس پر بات کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کے روایتی موقف سے انحراف تھا اور اگر یہ لچک میاں نواز شریف یا آصف علی زرداری دکھاتے تو شاید ان پر غداری کے الزامات تک لگ جاتے۔ تاہم اب کی بار بھارت نے اس پیشکش کا بھی مثبت جواب نہیں دیا جس کی وجہ سے پاکستان برتر اخلاقی پوزیشن میں رہا۔

پاکستان پر تو مداخلت کا الزام تھا جس کا بھارت کوئی ثبوت دنیا کے سامنے نہ رکھ سکا لیکن اس نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت سے کام لیا۔ اب کی بار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر بھی اکتفا نہیں کیا بلکہ خیبر پختونخوا میں واقع بالاکوٹ پر حملہ کیا جو بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی تھی اور اسے اعلان جنگ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں کارروائی کی۔ یوں پاکستان برتر اخلاقی پوزیشن میں رہا لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ تھی کہ بھارت مسلسل جھوٹا اور پاکستان سچا ثابت ہوتا رہا۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے فضائی حملے میں تین سو سے زائد دہشت گرد مارے لیکن تین کا بھی ثبوت نہ دے سکا۔ وہ دعویٰ کرتا رہا کہ پاکستان نے اس کا کوئی جہاز نہیں گرایا لیکن جب پائلٹ پاکستانی سرزمین سے برآمد ہوا تو اس کا جھوٹ، جھوٹ اور پاکستان کا سچ، سچ ثابت ہو گیا۔ اس نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے بھی پاکستانی جہاز گرایا ہے لیکن کوئی ثبوت سامنے نہ لا سکا اور اس کا یہ جھوٹ بھی واضح ہو گیا۔ اس حوالے سے بھی پاکستان برتر پوزیشن میں رہا کہ پہل بھارت نے کی تھی اور مسلسل مار اُسی کو پڑی۔

پاکستان پر اللہ کا کرم تھا کہ بھارت میں انتخابات سر پر تھے جبکہ پاکستان میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ نریندر مودی نے ساری مہم جوئی چونکہ انتخابات کے تناظر میں کی تھی اس لئے اپوزیشن کے رہنما زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکے اور داخلی محاذ پر بھی ان کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان میں اگرچہ سیاسی پولرائزیشن عروج پر تھی اور شاید اسے دیکھ کر نریندر مودی کو مہم جوئی کا شوق ہوا تھا لیکن چونکہ پاکستان میں انتخابی ماحول نہیں تھا اس لئے خلاف توقع پاکستان کے تمام سیاسی عناصر اپنی افواج اور اسی وجہ سے حکومت کے ساتھ یک آواز ہو گئے۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا پلوامہ سے قبل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا لیکن جب مودی صاحب نے جنگ کا طبل بجا دیا تو پاکستانی میڈیا اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ تاہم انڈین میڈیا کی طرح بیہودہ طریقے سے نہیں بلکہ امن کا داعی بن کر پاکستانی بیانیے کا دفاع کرنے لگا۔ اس حوالے سے بھی اللہ نے پاکستان کو اخلاقی برتری دلوا دی۔

بدقسمتی سے جنرل پرویز مشرف نے ایک طرف امریکہ کو پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کی اجازت دی اور دوسری طرف حکومت پاکستان یہ جھوٹا تاثر دیتی رہی کہ یہ پاکستان کی مرضی کے بغیر ہو رہے ہیں۔ یہ ڈرامہ کئی سال تک جاری رہا۔ اس منافقانہ پالیسی کی وجہ سے بھارت جیسی قوتوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھنے لگی کہ پاکستان تو اپنی سرزمین پر باہر کی کارروائیوں کو برداشت کر لیتا ہے۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے لئے امریکہ کی کارروائی ،اور اس حوالے سے پاکستان کے اس موقف کہ یہ کارروائی بھی پاکستان کی اجازت کے بغیر ہوئی، سے اس ذہنیت کو مزید تقویت ملی اور بھارت کے اندر سے اس طرح کی آوازیں اٹھنے لگیں کہ اس کی افواج کو بھی امریکہ کے نقش قدم پر چل کر پاکستان کے اندر کارروائی کرنا چاہئے۔ یوں پاکستانی افواج کے لئے یہ ایک چیلنج تھا کہ وہ بھارت کو یہ روایت قائم کرنے نہ دے۔ پاکستانی افواج نے جس طرح بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور جس طرح اس کے مقابلے میں اپنی پیشہ ورانہ برتری ثابت کردی اسے دیکھ کر یہ واضح ہو گیا بھارت امریکہ ہے اور نہ پاکستان کبھی اس کو وہ رعایت دے گا جو امریکہ کو دیتا رہا۔ یوں پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے میں سردست سرخرو ہو گیا۔

مذکورہ سب کامیابیاں اپنی جگہ لیکن کیا آزمائش ختم ہوگئی؟۔ نہیں ہر گز نہیں ۔ بلکہ شاید اصل آزمائش اب شروع ہوئی ہے۔ پلوامہ واقعے اور اس کے بعد کے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ پاکستان اور بھارت جیسی دو ایٹمی طاقتوں کے تعلقات کا ریموٹ عملاً چند نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھ میں ہے اور وہ کسی بھی وقت ایک آدھ حرکت سے دونوں ممالک کو راتوں رات جنگ پر مجبور کر سکتے ہیں۔ شکر ہے پلوامہ کے واقعہ میں تو پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن پاکستان کو اب ایسے بہت سارے اقدامات کرنا ہیں کہ جن سے دنیا کو بھی یقین ہو جائے کہ اس کی سرزمین کسی بھی صورت بھارت یا کسی اور پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔ یقینا ًیہ پاکستانی سلامتی کے ذمہ داران کے لئے بہت بڑی آزمائش ہے۔ یہ آزمائش یوں اور گھمبیر ہو گئی ہے کہ بھارت سے اپنی حالیہ سبکی کسی صورت ہضم نہیں ہو سکتی تھی لیکن امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک نے بھارت کو مزید جارحیت سے باز رکھ کر پاکستان سے یہ یقین دہانی لی ہے کہ جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کیا جائے گا۔ اب جو لوگ ان تنظیموں اور موجودہ حکومت کی استعداد سے واقف ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور دوست ممالک کی توقعات کے مطابق یہ مسئلہ حل کرنا کتنا مشکل کام ہے اور ان سے نمٹتے وقت اگر معمولی سی بھی غلطی ہو گئی تو اُس کے کس قدر بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ تبھی تو جاننے والے جانتے ہیں کہ آزمائش ختم نہیں ہوئی بلکہ اصل آزمائش تو اب شروع ہوئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں