• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا ملازمین کو زکوٰۃ کی رقم سے افطاری کروا سکتے ہیں؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میں ایک فیکٹری چلاتا ہوں، وہاں درجنوں مزدور کام کرتے ہیں، رمضان کے مہینے میں دن اور رات دونوں اوقات میں فیکٹر ی کا کام چلتا رہتا ہے، اب رمضان میں ہم فیکٹر ی ملازمین کو افطاری کروانا چاہتے ہیں، اور افطاری زکوٰۃ کی رقم سے کروانا چاہتے ہیں، تو ہمیں یہ بتائیں کہ اس میں کیا صورت شریعت میں درست ہو گی کہ ہماری زکوٰۃ بھی ادا ہو اور ملازمین کو ہم افطاری کروا سکیں۔

جواب: رمضان میں ملازمین کو افطاری اس طرح دینا کہ ہر ملازم کو افطاری کی چیزیں مالک بنا کر دے دی جائیں، مثلاً پیکٹ بنا لیے جائیں اور ہر ملازم کو وہ پیکٹ دے دیے جائیں، تو اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

البتہ جن ملازمین کو افطاری دی جائے ان کا مستحق ہونا ضروری ہے، جو ملازم مستحقِ  زکوٰۃ ہوں، ان کے لیے افطاری کا زکوٰۃ سے مذکورہ طریقے کے مطابق انتظام کرنا درست ہے۔

افطاری دستر خوان پر لگا دینا کہ ملازمین وہاں بیٹھ کر افطاری کر کے چلے جائیں، اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہو گی۔ (فتاویٰ شامی  2/257، ط:سعید-کفایت المفتی 2/274،ط: دارالاشاعت)

خاص رپورٹ سے مزید