• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بحرِ ہند میں امریکی حملے سے ایرانی جنگی جہاز تباہ: بھارت پر سوالات اُٹھ گئے

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

بحرِ ہند میں امریکی آبدوز کے حملے سے ایرانی جنگی جہاز آئرس ڈینا کے ڈوبنے کے بعد بھارت کے اس دعوے پر سوال اٹھنے لگے ہیں کہ وہ خطے میں سلامتی کا ضامن ہے، یہ جہاز بھارتی بحری مشقوں میں شرکت کے بعد واپس ایران جا رہا تھا۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق 4 مارچ کو سری لنکا کے جنوب میں تقریباً 44 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک امریکی آبدوز نے ایرانی فریگیٹ کو ٹارپیڈو سے نشانہ بنایا تھا، حملے میں 80 سے زائد ایرانی عملہ شہید، درجنوں لاپتہ ہو گئے تھے جبکہ سری لنکن بحریہ نے 32 افراد کو زندہ بچا لیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ جہاز بھارت کی میزبانی میں ہونے والی کثیر ملکی بحری مشق ملان نیول مشق 2026ء میں شریک تھا اور 26 فروری کو بھارتی شہر ویشاکاپٹنم سے روانہ ہوا تھا۔

ایران نے اس حملے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائی ایک ’سمندری ظلم‘ ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو اس اقدام کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اس واقعے کے بعد بھارت کی خاموشی بھی تنقید کی زد میں ہے۔ 

واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بحرِ ہند کو بھارتی بحریہ کی نگرانی میں محفوظ قرار دے چکے ہیں تاہم اس واقعے کے بعد بھارتی بحریہ نے 24 گھنٹے سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد مختصر بیان جاری کیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس واقعے کے بعد ایک مشکل صورتحال میں پھنس گیا ہے، اگر اسے امریکی حملے کا پہلے سے علم نہیں تھا تو یہ اس کی سمندری نگرانی کی کمزوری ظاہر کرتا ہے اور اگر علم تھا تو اس سے ایران کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اب بحرِ ہند تک پھیل چکی ہے اور اس سے خطے میں بھارت کے اثر و رسوخ اور سیکیورٹی فراہم کرنے کے دعوے کو بھی دھچکا لگا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید