• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کے اتحادی کہاں ہیں؟ روس اور چین نے جنگ میں براہِ راست مداخلت کیوں نہیں کی؟

----فائل فوٹو
----فائل فوٹو

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جہاں ایک طرف عالمی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ایران کے قریبی سفارتی اتحادی روس اور چین نے سخت بیانات کے باوجود براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قتل کو انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے، دوسری جانب چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گیڈون سار سے گفتگو میں کہا ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوتے اور تمام فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے۔

روس اور چین نے مل کر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا، تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک نے ایران کے حق میں براہِ راست عسکری کارروائی کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔

روس اور ایران اسٹریٹجک شراکت دار مگر فوجی اتحادی نہیں

جنوری 2025ء میں روس اور ایران کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری معاہدہ ہوا تھا جس میں تجارت، دفاعی تعاون، سائنس، ثقافت اور تعلیم سمیت کئی شعبے شامل ہیں، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کو بڑھایا اور ایران کے ذریعے روس کو خلیجی ممالک سے جوڑنے والے ٹرانسپورٹ منصوبوں پر بھی کام کیا۔

تاہم اس معاہدے میں باہمی دفاع کی شق شامل نہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہو تو دوسرا ملک لازمی طور پر جنگ میں شامل ہونے کا پابند نہیں ہو گا۔

روسی ماہرِ خارجہ پالیسی اینڈرے کورٹونوف کے مطابق روس کے پاس شمالی کوریا کے ساتھ 2024ء کا معاہدہ زیادہ مضبوط نوعیت کا ہے، جس کے تحت ماسکو کو کسی بھی تنازع میں پیانگ یانگ کا ساتھ دینا ہو گا، جبکہ ایران کے ساتھ معاہدہ اس سطح کا نہیں ہے۔

ان کے مطابق روس براہِ راست ایران کی حمایت میں فوجی کارروائی سے اس لیے بھی گریز کر سکتا ہے کیونکہ اس سے خطرات بہت زیادہ بڑھ سکتے ہیں اور ماسکو اس وقت یوکرین تنازع میں امریکا کے ساتھ ممکنہ سفارتی عمل کو ترجیح دے رہا ہے۔

چین اور ایران کے مضبوط معاشی تعلقات مگر عسکری حدود

چین اور ایران نے 2021ء میں 25 سالہ تعاون کا معاہدہ کیا تھا جس کے تحت توانائی، سرمایہ کاری اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں ایران کو شامل کیا گیا۔

چینی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور معاشی تعلقات مضبوط ہیں، تاہم چین طویل عرصے سے دوسرے ممالک کے تنازعات میں براہِ راست مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔

چینی تجزیہ کار جوڈی وین کے مطابق بیجنگ کے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے یا جنگ میں شامل ہونے کا امکان کم ہے، چین زیادہ تر سفارت کاری اور بحران کو کم کرنے کی کوششوں پر توجہ دے رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران کی تقریباً 87 فیصد خام تیل کی برآمدات چین کو جاتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین ایران کے لیے ایک اہم معاشی شراکت دار ہے، جبکہ چین کی عالمی تجارت میں ایران کا حصہ نسبتاً کم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور روس اس تنازع میں ایران کی سفارتی حمایت تو جاری رکھ سکتے ہیں، مگر براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاکہ خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان تصادم سے بچا جا سکے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید