• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کا حجم امریکی ریاست الاسکا کے برابر، عرب میڈیا کی خصوصی رپورٹ

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

ایران رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 17 واں بڑا ملک ہے جس کا کُل رقبہ تقریباً 16 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر ہے، یہ رقبہ امریکا کے کل زمینی حصے کے تقریباً 1 چھٹے حصے کے برابر ہے۔

ایران کا حجم امریکی ریاست الاسکا کے برابر ہے جبکہ یہ ٹیکساس سے تقریباً ڈھائی گنا بڑا ہے۔

حالیہ کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں ہفتے کے بعد سے کم از کم 1,045 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جن میں متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکی شہری ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے حامیوں میں حمایت نسبتاً زیادہ ہے جہاں 55 فیصد افراد نے حملوں کی تائید کی، 13 فیصد نے مخالفت جبکہ 32 فیصد غیر یقینی کا شکار ہیں۔ 

دوسری جانب تقریباً 74 فیصد ڈیموکریٹس نے اِن حملوں کی مخالفت کی۔

جغرافیائی اعتبار سے ایران مغربی ایشیاء میں واقع ہے اور اس کی سرحدیں 7 ممالک سے ملتی ہیں جن میں عراق، ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، آذربائیجان، ترکی اور آرمینیا شامل ہیں۔

ایران عراق سے 4 گنا اور اسرائیل سے تقریباً 80 گنا بڑا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ایران میں تقریباً 9 کروڑ 20 لاکھ افراد رہتے ہیں جو امریکا کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی بنتی ہے، ملک کی زیادہ تر آبادی مغربی حصے میں آباد ہے جہاں پہاڑی سلسلے، زرخیز وادیاں اور دریا موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران تیل اور گیس کے ذخائر کے حوالے سے بھی اہم ملک ہے، یہ دنیا کا تیل پیدا کرنے والا نواں بڑا ملک اور قدرتی گیس پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ 

’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کی مجموعی قومی پیداوار تقریباً 375 ارب ڈالرز ہے جبکہ یہاں بے روزگاری کی شرح تقریباً 9.2 فیصد بتائی جاتی ہے۔

دارالحکومت تہران ایران کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں تقریباً 96 لاکھ افراد رہتے ہیں۔

دیگر بڑے ایرانی شہروں میں مشہد (34 لاکھ)، اصفہان (23 لاکھ)، شیراز اور تبریز (17،17 لاکھ)، کرج (16 لاکھ)، قم (14 لاکھ) اور اہواز (13 لاکھ) شامل ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید