آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رائٹ ٹو بائی اسکیم کے تحت حاصل کردہ گھروں کی دوبارہ فروخت سے 6.4 بلین پونڈ منافع

لندن (پی اے) سابق کونسل کرائے داروں نے رائٹ ٹو بائی سکیم کے تحت گھر خریدے اور پھر ان کو دوبارہ فروخت کر کے بھاری منافع کمایا۔ ایک کرائے دار نے 8000پونڈ میں رائٹ ٹو بائی کے تحت گھر خریدا اور پھر نو دن بعد اسے 285000پونڈ میں فروخت کر کے 277000پونڈ منافع کمایا۔ رپورٹ کے مطابق رائٹ ٹو بائی کے تحت کونسل کرائے داروں نے اپنے گھر خرید کر دوبارہ فروخت کئے اور اس طرح سے 6.4بلین پونڈ منافع کمایا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سولی ہل کا خریدار برطانیہ کے ان 140خریداروں میں شامل ہے، جن نے ایک ماہ کے اندر گھر کو دوبارہ فروخت کر کے تین ملین پونڈ منافع کمایا۔ اس سکیم کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے بہت سے لوگوں نے منافع کمایا ہے اور ان کی بڑی سماجی خواہشات ہیں جبکہ اس سکیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کا فنانشل مستقبل محفوظ ہوا ہے۔ چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف ہائوسنگ نے کہا کہ بلیک اینڈ وائٹ میں اتنا زیادہ منافع دیکھ کر شدید حیرت ہوئی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے انگلینڈ میں سکیم پر پابندی عائد کرنے کا

مطالبہ کیا، جنوری میں یہ سکیم ویلز میں روک دی گئی تھی جبکہ سکاٹ لینڈ میں 2016میں روک دی گئی تھی۔ ہائوسنگ کمنٹیٹر ہنری پرائیر کا کہنا ہے کہ بہت سےان لوگوں کیلئے یہ سکیم خاصی منافع بخش ثابت ہوئی ہے، جن کی بہت زیادہ سماجی خواہشات ہیں۔ بی بی سی نے اس پالیسی کے حوالے سے شیئرڈ ڈیٹا حاصل کیا اور اس کا تجزیہ کیا۔ ڈیٹا ایچ ایم لینڈ رجسٹری رجسٹرار آف سکاٹ لینڈ اور ناردرن آئرلینڈ ہائوسنگ ایگزیکیٹیو سے لیا گیا تھا انویسٹی گیشن میں سامنے آیا کہ برطانوی ہوم اونرز نے رائٹ ٹو بائی سکیم کے تحت گھر خرید کر انہیں دوبارہ فروخت کیا اور 2000کے بعد سے 6.4بلین پونڈ کا مجموعی منافع کمایا۔ 92000گھروں کی فروخت کا ڈیٹا فریڈم آف انفارمیشن ریکویسٹ کے رسپانسز میں شائع کیا گیا۔ سکیم کے تحت سابق کرائے داروں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ ڈسکائونٹ پر گھر خرید سکتے ہیں۔ پانچ سال کی مدت کے دوران گھر خرید کر فروخت کرنے والوں میں سولی ہل کا ایک شخص بھی شامل ہے، جس نے تین ملین پونڈ منافع کمایا۔ اس نے گھر خریدنے کے بعد ایک ماہ کے اندر جولائی 2013ء میں دوبارہ فروخت کر دیا تھا۔ ان افراد نے جو ڈسکائونٹ ری پے کیا وہ ڈیٹا میں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں