آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 13؍رمضان المبارک 1440ھ19؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (ٹی وی رپورٹ)تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اراکین پنجاب اسمبلی اور وزیراعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کیخلاف متحد ہوگئے۔ جیوکے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک ‘‘میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان اور وزیراعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ بالکل غلط ہے، کل ایک بین الاقوامی فورم پر دشمن ممالک نے پاکستان پر سفارتی حملہ کیا مناسب ہوتا اس وقت بلاول ایسا بیان نہ دیتے، نیب کی کارروائیوں میں تیزی آتی ہے توا ٹھارہویں ترمیم، سی پیک اور جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے، ماضی کا بگاڑ درست کرنے کیلئے سختی سے گزرنا پڑے گا ۔پیپلز پارٹی کے رہنمامصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا پنجاب حکومت کا اراکین اسمبلی اور وزیراعلیٰ کی تنخواہیں و مراعات بڑھانے کا بل لے آنا وزیراعظم کی نااہلی ہے،بلاول بھٹو نے معیشت اور مہنگائی پر بات کی تو اسد عمر سیخ پا ہوگئے۔ن لیگ کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کب تک پچھلی حکومتوں پر الزام تراشی کرتی رہے گی، نواز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے بعد جیل بھرو تحریک سے متعلق فیصلہ کریں گے، کالعدم تنظیموں سے متعلق ہمیں کھل کر صحیح بات کرنا ہوگی، پنجاب اسمبلی کے ارکان خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب کی تنخواہوں اور

مراعات میں جتنا زیادہ اضافہ کیا گیا اس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا ۔وزیرمملکت حماد اظہر نےکہا کہ مودی سرکار ہمیشہ پاکستان مخالف اور ہندو مسلم فساد پر سیاست کرتی ہے، ہندوستان میں بھی بات ہورہی ہے کہ مودی پاکستان کے معاملہ پر سیاست کھیل رہا ہے،انڈیا کے اندر بیس کے قریب علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں، بھارت پہلے اپنے اندرونی مسائل دیکھے اس کے بعد ہماری فالٹ لائنز پر توجہ دے۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ کل پرسوں ایک بین الاقوامی فورم پر دشمن ممالک نے پاکستان پر سفارتی حملہ کیا مناسب ہوتا اس وقت بلاول یہ بیان نہ دیتے، نیب آزاد ادارہ ہے جو کرپشن کے معاملات کی تحقیقات کررہا ہے، نیب کی کارروائیوں میں تیزی آتی ہے توا ٹھارہویں ترمیم، سی پیک اور جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی وجہ ماضی کا بگاڑ ہے جسے درست کرنے کیلئے سختی سے گزرنا پڑے گا، بجلی اور گیس کا ٹیرف امیروں کیلئے زیادہ عام لوگوں کیلئے کم بڑھایا گیا ہے، اگر ہم یہ ایڈجسٹمنٹ نہ کرتے تو بجلی اور گیس کی کمپنیاں دیوالیہ ہوجاتیں، پچھلے سال گردشی قرضہ 430ارب بڑھاہم 250ارب سے بڑھنے نہیں دیں گے۔ حماد اظہر نے کہا کہ گیس کے بلو ں میں اووربلنگ پر انکوائری ہورہی ہے، اس دفعہ کے گیس بلوں میں ریفنڈ جانا شروع ہوگیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں 11فیصد کمی آگئی ہے،ن لیگ کے دور میں پچھلے پچاس سال میں کم ترین گروتھ ریٹ تھا، ہم بلاواسطہ ٹیکس نہیں لگارہے اس لئے ٹیکس ریونیو نہیں بڑھا، ن لیگ کی حکومت نے چھٹا بجٹ دے کر اخلاقی طور پر غلط کام کیا، ن لیگ بیرونی قرضہ لے کر روپے کی قدر کو مصنوعی طورپر بڑھاتی رہی جس سے ایکسپورٹ تباہ ہوگئی۔حماد اظہر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان اور وزیراعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ بالکل غلط ہے، حکومتی ارکان کا یہ بل لانا اور اپوزیشن کا ساتھ دینا دونوں باتیں غلط ہیں، عمران خان نے اس بل پر تنقید کی ہے باقی جماعتوں کے لیڈر بھی اس پر واضح موقف دیدیں تو اچھا ہوگا، اس وقت پنجاب میں ن لیگ کے محمد زبیر نہیں پی ٹی آئی کے چوہدری سرور گورنر ہیں۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ کالعدم تنظیموں سے متعلق بلاول بھٹو کی باتیں تلخ حقیقتوں کی طرف اشارہ تھیں،بلاول نے تمام باتیں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق کیں جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، کشمیر میں بھی جنگجو تنظیموں کے پیچھے جانے کے بعد سیاسی جدوجہد آزادی اتنی مضبوط ہوگئی ہے کہ انڈین سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے اب وہاں ان تنظیموں کی گنجائش ہی نہیں ہے، کالعدم تنظیموں کے افراد کی مین اسٹریمنگ کیلئے پارلیمنٹ یا اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے، اس مین اسٹریمنگ سے متعلق ہمارے بھی تحفظات ہیں، ایسا ممکن نہیں کہ انتہاپسند تنظیموں کو غیرمسلح کیے بغیر سیاسی پارٹیاں بنادی جائیں۔مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سے مہنگائی کا طوفان آگیا ہے، حکومت ٹیکس اصلاحات یا ریونیو بڑھانے میں ناکام رہی ہے، پاکستان کا واحد سال ہے جس میں تین بجٹ آئے ہیں جبکہ جون میں سالانہ بجٹ آنا ہے، بلاول بھٹو نے معیشت اور مہنگائی پر بات کی تو اسد عمر سیخ پا ہوگئے، بجلی کے بل آئیں گے تولوگوں کے ہوش اڑ جائیں گے، حکومت نے ایک کروڑ نوکری دینے کا دعویٰ کیا تھا اس کے برعکس ہر ادارہ لوگوں کو نکال رہا ہے، حکومت سے عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے معاشی مینجمنٹ نہیں ہوپارہی ہے۔مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب کو وسیم اکرم پلس کہتے رہے ہیں، وزیراعظم کی پنجاب حکومت میں موجودگی بہت زیادہ ہے، وہ ہر ہفتے پنجاب جاکر میٹنگ چیئر کرتے ہیں، اس صورتحال میں حکومت کی طرف سے اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں و مراعات بڑھانے کا بل لے آنا وزیراعظم کی نااہلی ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ عوام مہنگائی کا طوفان سہہ رہے ہوں اور ارکان اسمبلی اپنی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کا قانون پاس کریں تو اچھا تاثر نہیں جاتا ہے۔محمد زبیر نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سندھ میں کریک ڈاؤن کی توقع کررہے ہیں، کالعدم تنظیموں سے متعلق ہمیں کھل کر صحیح بات کرنا ہوگی، ن لیگ کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج نواز شریف کی ضمانت کے حوالے سے ہے، نواز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے بعد جیل بھرو تحریک سے متعلق فیصلہ کریں گے، پی ٹی آئی کب تک پچھلی حکومتوں پر الزام تراشی کرتی رہے گی، اس وقت دونوں گیس کمپنیاں منافع میں ہیں، ن لیگ کے دورِ حکومت کے مقابلہ میں گردشی قرضہ 16گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔محمد زبیر کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال کے اختتام پر مزید چالیس لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے آجائیں گے، بیس سال میں سب سے کم ریونیو گروتھ ہورہی ہے، وزیراعظم عمران خان معاشی کارکردگی پر اتنے مایوس ہوگئے ہیں کہ نیا ایف بی آر بنانے کا اعلان کردیا، پی ٹی آئی نے 3ہزار ارب روپے قرض لئے جو ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہیں، حکومت جس رفتار سے قرضے لے رہی ہے تو پانچ سال میں 26ہزار ارب قرضہ لے چکی ہوگی۔محمد زبیر نے کہا کہ گورنر کے پاس اختیار ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی کے بل پر دستخط کرنے سے انکار کردے، گورنر اپنی آبزرویشنز کے ساتھ بل اسمبلی میں واپس بھیج دیتا ہے، گورنر اگر یہ لکھ کر بل واپس بھیجتے ہیں کہ وزیراعظم کوا س پرا عتراض ہے تو یہ دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوگا، پنجاب اسمبلی کے ارکان خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب کی تنخواہوں اور مراعات میں جتنا زیادہ اضافہ کیا گیا اس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں